’اس کا مطلب ہے وہ جنگ چاہتے ہیں‘: خلیج فارس اتھارٹی کا ایرانی نقشہ جسے متحدہ عرب امارات نے ’خواب کا ٹکڑا‘ قرار دیا

UAE Iran

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفجیرہ کا شمار متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں میں ہوتا ہے
    • مصنف, تھامس کوپلینڈ
    • مصنف, پال براؤن
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے آگے کی سمندری حدود پر بھی اپنے کنٹرول کے دعوے پر متحدہ عرب امارات نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے محض ’خواب کا ایک ٹکڑا‘ قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی نئی قائم کی گئی ’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘ میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ 22 ہزار مربع کلو میٹر سے زائد کی سمندری حدود میں ایرانی مسلح افواج کی نگرانی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ اور عمان کی سمندری حدود بھی شامل ہیں۔

ایران نے کہا ہے کہ نئی اتھارٹی کے تحت آبنائے سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو ’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘ کی اجازت درکار ہو گی۔

خیال رہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر بھی ایرانی دعوے کو تسلیم نہیں کرتے اور اب ایران کی جانب سے اس اتھارٹی کے قیام کے بعد متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

امریکہ کا اصرار رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز ایرانی کی جانب سے لاگو کیے گئے قواعد کی تعمیل نہ کریں۔

A map showing the area of claimed Iranian "oversight"
،تصویر کا کیپشنایران کی جانب سے جاری کیے گئے نقشے میں متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کا علاقہ بھی شامل ہے

متحدہ عرب امارات کا ردِعمل

متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے ایران کی جانب سے جاری کیے گئے اس نقشے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ایران کی واضح فوجی شکست کی علامت ہے، لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے یا متحدہ عرب امارات کی سمندری خود مختاری میں مداخلت کی کوششیں خوابوں کے ٹکروں کے سوا کچھ نہیں ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے تحت جہازوں کو دوسرے ملک کے پانیوں سے محفوظ گزر کی ضمانت حاصل ہوتی ہے، تاہم ایران نے اس کنونشن کی توثیق نہیں کی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک میڈیا نے اس ہفتے ویڈیو جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے میں ایک ٹینکر پر’سزا‘ کے طور پر حملہ کیا گیا۔

بی بی سی ویریفائی کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ فوٹیج میں دکھائے گئے جہاز کی اہم خصوصیات براکا نامی لائبیریا کے پرچم تلے رجسٹرڈ ٹینکر سے مطابقت رکھتی ہیں جس پر جہاز کے آپریٹرز کے مطابق مئی کے آغاز میں سے حملہ کیا گیا تھا۔

آبنائے ہرمز کے اطراف کے علاقے پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایران کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میرینز بدھ کے روز ایران جانے والے ایک تیل بردار جہاز پر اُترے تھے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ کے مطابق اس جہاز پر ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا شبہ تھا۔

سینٹکام کی جاری کردہ فوٹیج میں امریکی میرینز کو ایک ہیلی کاپٹر سے جہاز کے عرشے پر اُترتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ تیل بردار جہاز Celestial Sea ہے، جو خلیج عمان میں موجود تھا۔

سمندری خطرات کے انتظام کی کمپنی وینگارڈ کے مطابق تلاشی لینے اور عملے کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کے بعد امریکی میرینز جہاز واپس چلے گئے۔

Celestial Sea کو اس سے پہلے اس کے سابقہ نام کے تحت ایران سے روابط کے باعث امریکی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

میرین ٹریفک کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز اب عمان کی بندرگاہ دقم کو اپنی منزل ظاہر کر رہا ہے۔

سینٹکام نے جمعرات کو کہا کہ 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے اس نے 94 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے اور چار جہازوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر اگلے روز کے لیے منصوبہ بند فوجی حملہ روک رہے ہیں کیونکہ ’اب سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔‘

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے ایسا کرنے کی درخواست کی تھی۔

ایران کی جانب سے یہ نقشہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکہ کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ تہران کو نئے معاہدے پر رضامندی کے لیے چند دن دے سکتے ہیں، لیکن وہ ملک پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

نیا ایرانی نقشہ اور سوشل میڈیا پر ردِعمل

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنٹرول میں توسیع پر مبنی نئے نقشے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف کے مطابق ایران کا خیال ہے کہ وہ یہ جنگ جیت چکا ہے اور اب وہ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کو مزید وسعت دے کر دیگر ممالک کے علاقوں پر بھی اپنا کٹرول بڑھانا چاہتا ہے۔

ایکس پرتھنک ٹینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے کوہ مبارک سے لے کر متحدہ عرب امارات کے جنوبی علاقے فوجا جبکہ جزیرہ جزیرہ گھشم سے مغرب میں متحدہ عرب امارات میں ام القیون تک۔ یہ تبدیلی متحدہ عرب امارات اور عمان کے علاقائی پانیوں پر کنٹرول کا واضح دعویٰ کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو سے منسلک امریکی پروفیسر رابرٹ اے پیپ نے ایکس پر لکھا کہ ایران نے نئے نقشے میں متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کو بھی اپنے زیر اثر دکھایا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فجیرہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے پائپ لائن منصوبے کے لیے بہت اہم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایران جنگ سے پہلے والی حالت پر واپس جانے کے لیے کسی ڈیل کے بجائے مزید اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرق وسطی اُمور کے ماہر لوئے الشریف نے ایکس پر لکھا کہ اس نئے نقشے کا مطلب ہے کہ ایرانی رجیم جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔ ان کا نام نہاد منصوبہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ تک پھیلا ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ لوگ خوش فہمی کا شکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

امیر جعفر نامی صارف نے لکھا کہ اگر ایران کی اس خواہش نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو اس سے ایران آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف کو کنٹرول کر سکتا ہے، علاقائی تجارت کو نئی شکل دے سکتا ہے اور اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔

Iran UAE

،تصویر کا ذریعہX/@lalshareef

فجیرہ متحدہ عرب امارات کے لیے کتنی اہم ہے؟

فجیرہ بندرگاہ خلیجِ عمان پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 70 سمندری میل کے فاصلے پر ہے۔ چونکہ آبنائے ہرمز ایران جنگ کے باعث عملاً بند ہے، تو اس صورتحال میں عالمی منڈی کے لیے فجیرہ سے ہونے والی ترسیلات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ابوظہبی میں تیل کی تنصیبات سے خام تیل کو فجیرہ تک ابوظبی کروڈ آئل پائپ لائن (اے ڈی سی او پی) کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے جسے حبشان–فجیرہ پائپ لائن بھی کہا جاتا ہے۔

اس بندرگاہ سے یو اے ای گریڈ کا خام تیل ’مربان‘ مختلف ٹینکروں میں لوڈ کیا جاتا ہے اور یہ ٹینکر زیادہ تر ایشیائی ملکوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق فجیرہ نے گذشتہ سال اوسطاً یومیہ 17 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل اور ریفائن شدہ ایندھن برآمد کیا جو عالمی یومیہ طلب کا تقریباً 1.7 فیصد بنتا ہے۔

Iran UAE

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن14 مارچ کی اس تصویر میں فجیرہ آئل انڈسٹری زون سے اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ایک تباہ شدہ ایرانی ڈرون کا ملبہ گرنے سے آگ لگی تھی

آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کے بعد سے متبادل راستے محدود رہے ہیں۔ کپلر کے مطابق سعودی عرب میں بحیرۂ احمر کی طرف واقع ینبع بندرگاہ یومیہ 40 سے 45 لاکھ بیرل برآمد کر رہی ہے جبکہ فجیرہ سے تقریباً 15 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کیے جا رہے ہیں۔

مگر اندازوں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے یومیہ 80 لاکھ بیرل کی ترسیل نہیں ہو پا رہی۔

سنہ 2025 میں یہاں 74 لاکھ مکعب میٹر بحری ایندھن فروخت ہوا۔ یعنی یہ اس کے لیے سنگاپور، روٹرڈیم اور چین کے ژوشان کے بعد دنیا کی چوتھی بڑی بندرگاہ ہے۔

متحدہ عرب امارات جنگ سے قبل یومیہ 34 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل پیدا کرتا تھا۔ اس کے پاس 15 لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی پائپ لائن ہے، جو کچھ مقدار میں خام تیل کو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے منتقل کر سکتی ہے۔