لائیو, فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے: سکیورٹی ذرائع

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران-امریکہ مذاکرات، خطے میں امن کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

خلاصہ

  • وزیر اعظم چین میں ایران امریکہ مذاکرات پر بات کریں گے، فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کی تصدیق نہیں کر سکتے: پاکستانی دفتر خارجہ
  • امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔
  • امریکہ نے ایران جنگ کے باعث تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت مؤخر کر دی
  • ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے اور میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ موادمحض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا، حالانکہ ایک ہفتہ پہلے پینٹاگون نے وہاں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔
  • پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔
  • ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران 'ملبے کے نیچے سے 7,200 سے زائد افراد کو زندہ نکالنے' میں کامیاب رہی

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر روانہ ہو گئے: سکیورٹی ذرائع

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ایران روانہ ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران-امریکہ مذاکرات، خطے میں امن کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر بات چیت کریں گے۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق اپنے دورۂ ایران کے دوران آرمی چیف اہم ایرانی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  2. ایران-امریکہ مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود دو نکات پر تعطل برقرار ہے: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ مثبت اشارے ضرور ملے ہیں، تاہم ایران کے یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول جیسے اہم معاملات پر اب بھی تعطل برقرار ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سلسلہ وار پیغامات میں کہا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود بات چیت کے عمل میں ’محتاط امید‘ پائی جاتی ہے، تاہم ان کے بقول سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے ایک نئی بحری اتھارٹی قائم کی ہے، اور ایک نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات کے قریب واقع سمندری حدود تک اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق مذاکراتی عمل میں دو بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ایک جانب امریکہ فوری طور پر جوہری پروگرام پر بات چیت چاہتا ہے، جبکہ ایران اس سے قبل 30 روزہ اعتماد سازی کا وقت دینے پر زور دے رہا ہے۔

    دوسری جانب آبنائے ہرمز میں فیس یا ٹول سسٹم کے قیام پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کا حتمی مسودہ تیار ہو چکا ہے، تاہم یہ دو بڑے نکات اب بھی کسی حتمی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ان کے مطابق اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے ’واضح مؤقف، سمجھوتہ اور فیصلہ کن اقدامات‘ ضروری ہیں، اور انھوں نے خبردار کیا کہ ان معاملات کو حل نہ کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 جہاز، جن میں آئل ٹینکرز، کنٹینر جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل ہیں، ایرانی حکام کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس عمل کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں منظم کیا گیا، جسے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نظام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے مجوزہ ’ٹول سسٹم‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک کے لیے بھی اس طرح کا اقدام قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

    ان کے مطابق، یہ نظام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے اور اسے غیر قانونی اقدام سمجھا جائے گا۔

  3. پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملوں کی مذمت کی: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ 17 مئی کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملے کیے گئے جن کی پاکستان نے شدید مذمت کی ہے اور دونوں برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات پر حملوں کے حوالے سے پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس میں بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کا چارٹر، اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے اصول شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

  4. پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوششیں جاری ہیں: ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اس ہفتے بھی مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے پرامن حل، مکالمے کے فروغ اور دیرپا استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھی ہیں۔

    اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے دو مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

    ان کے مطابق ان رابطوں میں دوطرفہ تعاون کے علاوہ خطے اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری پیش رفت اور پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی اس سلسلے میں متحرک رہے اور مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

    ان کے مطابق 18 مئی کو اسحاق ڈار نے قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جبکہ 17 مئی کو مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعتی اور 16 مئی کو ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے رابطہ کیا، جن میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس ہفتے ایران کے دو اہم دورے کیے، 16 اور 20 مئی کو، جہاں انھوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی۔

    واضح رہے کہ اس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل دورہ ایران کررہے ہیں یا نہیں، نا اس کی تصدیق کرتے ہیں نا تردید۔‘

  5. نیٹو سربراہ کا پولینڈ میں 5,000 امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا خیرمقدم

    امریکہ۔نیٹو

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے امریکہ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت وہ پولینڈ میں مزید پانچ ہزار فوجی تعینات کرے گا۔

    یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے، جب پینٹاگون نے پولینڈ میں چار ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کر دی تھی۔

    سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ یورپ کا امریکہ پر انحصار کم کرنے کا عمل جاری رہے گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تعاون برقرار رہے گا۔

    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کی انھوں نے گذشتہ برس صدارتی انتخابات میں حمایت کی تھی۔

    تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فوجی پہلے سے منسوخ کیے گئے منصوبے کا حصہ ہیں یا کوئی نئی تعیناتی ہے۔

    یورپ میں امریکی فوجی موجودگی پر سوالات

    وائٹ ہاؤس حالیہ ہفتوں میں یہ اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت یورپ میں مجموعی فوجی تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔

    دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نیٹو اتحادیوں کے رویے سے مایوس ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا ہے۔

    سویڈن کے شہر ہیلسنگبورگ میں ہونے والے اجلاس میں مارکو روبیو نیٹو ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے اور ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈالنے پر زور دیں گے۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کو اپنی عالمی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فوجی تعیناتی کا ازسرِ نو جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یہ کوئی سزا دینے کا عمل نہیں ہے۔‘

    جرمنی سے فوجیوں کی واپسی

    اس سے قبل امریکہ نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ صدر ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرِش مرز کے درمیان ایران کے معاملے پر اختلافات بتائے گئے تھے۔

    تاہم یہ واضح نہیں کہ پولینڈ بھیجے جانے والے فوجی اسی فیصلے کا حصہ ہیں یا کسی الگ منصوبے کے تحت تعینات کیے جا رہے ہیں۔

    پولینڈ نیٹو کا ایک اہم رکن ہے اور روس کے قریب ہونے کی وجہ سے اسے یورپ کے دفاعی انتظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی، جو صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ ہی واحد عالمی رہنما ہیں جو روس-یوکرین جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے یورپ میں فوجی موجودگی کے حوالے سے متضاد اشاروں نے نیٹو کے بعض اتحادیوں میں تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کئی امریکی قانون سازوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ فوجیوں کے انخلا سے روس کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔

    یورپ میں اس وقت امریکہ کے سب سے زیادہ فوجی جرمنی میں تعینات ہیں، جہاں ان کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے، جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں بھی ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں۔

  6. امریکہ نے ایران جنگ کے باعث تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت مؤخر کر دی, کو ایو، بی بی سی نیوز

    USA

    ،تصویر کا ذریعہCQ-Roll Call, Inc via Getty Images

    امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہونگ کاؤ نے کہا ہے کہ امریکہ تائیوان کو 14 ارب ڈالر (تقریباً چار کھرب پاکستانی روپے) کے ہتھیاروں کی فروخت کو عارضی طور پر روک رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے لیے اپنے پاس کافی ہتھیار موجود رکھ سکے۔

    انھوں نے سینیٹ کی ایک سماعت کے دوران اس بات کی تصدیق کی۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد اس معاہدے کے حوالے سے غیر واضح موقف اختیار کیا تھا۔

    تائیوان کے صدارتی دفتر کے ترجمان نے جمعہ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انھیں امریکہ کی جانب سے اس اسلحہ معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت بیجنگ کے لیے ہمیشہ ناراضی کا سبب بنتی رہی ہے کیونکہ چین اس خود مختار جزیرے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اسے طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کے امکان کو رد نہیں کرتا۔

    ہونگ کاؤ نے سماعت کے دوران کہا کہ ’اس وقت ہم وقفہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس ’ایپک فیوری‘ کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے اور ہمارے پاس کافی مقدار میں موجود ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ موجود ہو، اور پھر جب انتظامیہ مناسب سمجھے گی تو غیر ملکی فوجی فروخت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ تائیوانی حکام سے اس تعطل کے بارے میں کیا بات ہوئی ہے، تو کاؤ نے کہا کہ انھوں نے ’تائیوانی حکام سے بات نہیں کی‘۔

    یہ 14 ارب ڈالر کا پیکیج کئی مہینوں سے ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔ اس میں فضائی دفاعی میزائل جیسے لاک ہیڈ مارٹن کے PAC-3 اور دیگر زمین سے فضا میں مار کرنے والے نظام شامل ہیں۔

    ٹرمپ نے ابھی تک اس پیکیج کی حتمی منظوری نہیں دی۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ ’چین کے ساتھ مذاکرات کا ایک بہت اچھا ہتھیار‘ ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ’جلد ہی‘ اس معاہدے پر فیصلہ کریں گے۔

    یہ بیانات بیجنگ میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد سامنے آئے جہاں شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں سب سے اہم ہے۔

    بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر شی سے ’تفصیل سے بات کی‘ حالانکہ 1982 کے امریکی وعدے کے مطابق واشنگٹن نے بیجنگ سے اس معاملے پر مشاورت نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر براہ راست تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے سے بات کریں گے، جو سفارتی روایات سے ہٹ کر ہوگا اور چین کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔

    امریکی اور تائیوانی رہنماؤں کے درمیان کئی دہائیوں سے براہ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے تائیوان کی سابق صدر سائی اِنگ وین سے گفتگو کی تھی۔

    گذشتہ دسمبر میں امریکہ کی جانب سے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکیج کی منظوری پر چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے ’آبنائے تائیوان میں خطرناک اور پرتشدد صورتحال پیدا ہو سکتی ہے‘۔

    تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے کا کہنا ہے کہ امریکی اسلحہ فروخت ’خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ‘ ہے۔

    ان کی قیادت میں تائیوان نے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیش نظر اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

  7. زیارت اور چاغی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے: متعدد گاڑیاں تباہ، ایک پولیس آفیسر سمیت چار افراد اغوا کرلیے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے دو اضلاع زیارت اور چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ایک پولیس آفیسر سمیت چار افراد کو اغوا کرلیا ہے۔

    اغوا کا واقعہ ضلع زیارت میں پیش آیا۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ گذشتہ شب شرپسندوں نے زیارت میں کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔

    زیارت میں پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ضلع زیارت میں مانگی کے علاقے میں حملہ کرکے پانچ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ٹرک کوئلے سے لوڈ تھے جو کہ ہرنائی سے پنجاب جارہے تھے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد مانگی پولیس کے ایس ایچ او مسعود پانیزئی سمیت چار افراد کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

    جب فون پر محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں شرپسندوں نے کوئلے سے لوڈ پانچ ٹرکوں کو نذر آتش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز شرپسندوں کے خلاف کاروائی کررہے ہیں۔

    زیارت سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر نورمحمد دومڑ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے گا۔

    ادھر ضلع چاغی میں پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے چہتر کے مقام پر حملہ کرکے آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا۔

    ادھر ضلع نصیر آباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں بم کے ایک دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ڈیرہ مراد جمالی میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا۔

  8. وزیر اعظم چین میں ایران امریکہ مذاکرات پر بات کریں گے، فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کی تصدیق نہیں کر سکتے: پاکستانی دفتر خارجہ

    پاکستان کی وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران ایران امریکہ مذاکرات پر بات ہوسکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور چینی لیڈر شپ کے درمیان مشرق وسطیٰ تنازعے پر بات چیت متوقع ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مشرق وسطیٰ کے معاملے پر پہلے سے اعتماد موجود ہے۔

    خطے میں قیام امن کے حوالے پاکستانی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز نے دو مرتبہ قطری سربراہ حکومت سے بات کی اور خطے میں امن کے حوالے سے بات چیت کی۔

    اسحاق ڈار بھی دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ خطے میں امن آ سکے۔ انھوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستان ک دیگر حکامِ بالا نے بھی قطری حکام سے بات کی۔

    انھوں نے بتایا پاکستانی اعلیٰ حکام نے ازبکستان کے حکام سے بھی خطے کی صوتحال پر مشاروت کی۔

    فیلڈ مارشل کے دورہِ ایران کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’فیلڈ مارشل دورہ ایران کررہے ہیں یا نہیں، نا اس کی تصدیق کرتے ہیں نا تردید۔‘

  9. ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہوں گے: دہلی حکومت کی تنبیہ

    عید

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انّیا مںی دارالحکومت دہلی حکومت کی وزارت ترقی نے عیدالاضحیٰ کے لیے رہنما خطوط جاری کیے ہیں جن کے مطابق ممنوعہ جانوروں کی قربانی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا نے کہا کہ عید پر گائے، بچھڑے، اونٹ اور دیگر ممنوعہ جانوروں کی قربانی مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’عوامی مقامات، گلیوں اور سڑکوں پر قربانی کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

    کپل مشرا نے کہا، ’قربانی کے بعد کچرے کو گٹروں، نالیوں یا عوامی مقامات پر پھینکنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ قربانی صرف مجاز جگہوں پر کی جا سکتی ہے۔‘

    انڈیا میں عید کا تہوار 28 مئی کو منایا جائے گا۔

  10. پاکستان کے وزیر داخلہ کی ایرانی وزیر خارجہ سے دوبارہ ملاقات

    پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تہران میں اسلام آباد کے سفارت خانے نے اطلاع دی ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ دو دنوں میں دوسری بار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ’تنازعے کے حل کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال کے لیے‘ تھی۔

    محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے اور پہلے ہی اسلامی جمہوریہ کے سینئر عہدیداروں سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے تازہ ترین امریکی تجاویز پر غور کر رہا ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ پاکستانی فوج کے کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مدد کے لیے تہران جائیں گے۔

  11. جنگ کے دوران 7,200 سے زائد افراد کو ملبے سے ریسکیو کیا گیا: ایرانی ہلال احمر

    ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران ’ملبے کے نیچے سے 7,200 سے زائد افراد کو زندہ نکالنے‘ میں کامیاب رہی۔

    تنظیم نے سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’رہائشی علاقوں پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے۔۔۔ جنگی قوانین کی بار بار خلاف ورزی اور عام شہریوں بالخصوص بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘

    اس پوسٹ میں ہلال احمر کے امدادی کارکنوں کی جانب سے متاثرین کو ملبے سے نکالنے کی ویڈیو بھی شامل ہے۔

  12. جنوبی لبنان میں طبی مرکز پر اسرائیلی فضائی حملہ، کم از کم چار افراد ہلاک

    اطلاعات ہیں کہ جنوبی لبنان میں طبی مرکز پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ طائر کے علاقے میں حناویہ شہر میں ایک صحت مرکز پر رات بھر کیے گئے فضائی حملوں میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    خبر رساں ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ حملے میں دو امدادی کارکن زخمی بھی ہوئے۔

  13. بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے پر ایکس کو ساڑھے چھ لاکھ ڈالر جرمانہ

    ایلون مسک کی کمپنی ایکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کی ایک عدالت نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عائد جرمانے کو برقرار رکھا ہے، کیونکہ کمپنی نے بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس طرح تین سال سے جاری قانونی تنازع ختم ہو گیا۔

    آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر ای سیفٹی نے 2023 میں یہ جرمانہ لگایا تھا، کیونکہ سوشل میڈیا کمپنی نے اس سوال کا مناسب جواب نہیں دیا تھا کہ وہ بچوں کے آن لائن استحصال کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

    تاہم ایکس کمپنی کا مؤقف تھا کہ اسے اس درخواست پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہ درخواست اس وقت کی گئی تھی جب کمپنی ابھی ٹوئٹر کے نام سے موجود تھی اور بعد میں ایکس میں ضم ہو گئی تھی۔

    جمعرات کو کمپنی نے اپنی غلطی تسلیم کر لی اور عدالت نے اسے 650,000 آسٹریلوی ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جج نے پہلے جرمانے کو بڑھا کر مقرر کیا اور ساتھ ہی کمپنی کو ریگولیٹر کے قانونی اخراجات کے لیے بھی 100,000 ڈالر ادا کرنے کا کہا۔

    جج نے کہا کہ اتنی بڑی کمپنی کے لیے زیادہ جرمانہ ضروری ہے تاکہ یہ واقعی سزا کے طور پر اثر انداز ہو، نہ کہ صرف کاروبار کی لاگت بن کر رہ جائے۔

    آسٹریلیا کا یہ ادارہ اس سے پہلے بھی ایکس سے ٹکرا چکا ہے، جیسے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور سڈنی میں ایک حملے کی ویڈیوز ہٹانے کے معاملے پر اختلاف ہوا تھا۔

    ای سیفٹی کمشنر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے شفافیت بہت ضروری ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب فروری 2023 میں ٹوئٹر سے بچوں کے استحصال سے متعلق مواد روکنے کے اقدامات پر معلومات مانگی گئی تھی، اور بعد میں کمپنی ایکس میں ضم ہو گئی۔ عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی تھی کہ کمپنی کو یہ معلومات فراہم کرنی ہوں گی، اور اب دونوں فریقوں نے جرمانے پر اتفاق کر لیا ہے، جسے 45 دن کے اندر ادا کرنا ہوگا۔

  14. آبنائے ہرمز میں ٹول لینے کے نظام ہوا تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: روبیو

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول (فیس) لینے کا نظام نافذ کرتا ہے تو امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔

    روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی اس طرح کے نظام کے حق میں نہیں ہے اور یہ ناقابلِ قبول ہوگا۔

    خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اگر ایران اس راستے پر چلتا رہا تو یہ نہ صرف معاہدے کو مشکل بنا دے گا بلکہ عالمی سطح پر خطرہ بھی بن جائے گا اور یہ مکمل طور پر غیرقانونی عمل ہوگا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

    روبیو نے مزید کہا کہ کچھ مثبت اشارے ضرور نظر آ رہے ہیں، لیکن وہ زیادہ پُرامید ہونے سے گریز کر رہے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

  15. امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا: ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

    امریکی فوجی، فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ پولینڈ میں مزید 5000 فوجی بھیجے گا، حالانکہ ایک ہفتہ پہلے پینٹاگون نے وہاں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کی انھوں نے گذشتہ برس انتخابات میں حمایت کی تھی۔

    امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اضافی فوجی پہلے والے منصوبے کا حصہ ہیں یا کوئی نیا آپریشن ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں وائٹ ہاؤس یہ اشارہ دے چکا ہے کہ وہ اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت یورپ میں فوجیوں کی مجموعی تعداد کم کرنا چاہتا ہے۔ اسی مہینے امریکہ نے جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کا بھی اعلان کیا تھا، جو ایران کے معاملے پر جرمن چانسلر کے ساتھ اختلاف کے بعد کیا گیا۔

    یہ واضح نہیں کہ پولینڈ بھیجے جانے والے اضافی فوجی جرمنی سے واپس آنے والوں میں سے ہیں یا کوئی الگ دستہ ہے۔

    ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے۔

    یہ اعلان اس کے ایک ہفتے بعد آیا جب امریکی محکمہ دفاع نے اچانک پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عارضی تاخیر تھی اور امریکہ پولینڈ میں اپنی مضبوط فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

    پولینڈ کے صدر ناوروکی ٹرمپ کے قریبی حامی مانے جاتے ہیں اور ٹرمپ نے ان کی انتخابی مہم میں بھی حمایت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ دنیا کے واحد لیڈر ہیں جو روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو روک سکتے ہیں اور یوکرین کی جنگ ختم کرا سکتے ہیں۔

    اگرچہ ٹرمپ پہلے نیٹو اور یورپی ممالک پر تنقید کرتے رہے ہیں، لیکن ناوروکی کا کہنا ہے کہ یورپ کی سلامتی کے لیے امریکہ اب بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    کچھ امریکی سیاستدانوں نے جرمنی سے فوج نکالنے کے فیصلے پر تنقید بھی کی ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس سے روس کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں امریکہ کے 36 ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں، جبکہ اٹلی اور برطانیہ میں یہ تعداد نسبتاً کم ہے۔

  16. انڈیا امریکہ کا ’اہم اتحادی اور پارٹنر‘ ہے، یہ دورہ اہم ہے: مارکو روبیو

    انڈیا کے دورے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انڈیا امریکہ کا ’اہم اتحادی اور پارٹنر‘ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے ساتھ ’بہت سے معاملات پر کام کرنا ہے۔‘

    مارکو روبیو چار روزہ دورے پر 23 مئی کو انڈیا پہنچ رہے ہیں ان کا دورہ 26 مئی تک جاری رہے گا۔ وہ اس دوران دہلی، جے پور، کولکتہ اور آگرہ کا دورہ کریں گے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا ، ’ہم انھیں (انڈیا کب) اتنی توانائی بیچنا چاہتے ہیں جتنی وہ خریدنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اس وقت پیداوار اور برآمدات کی تاریخی سطح پر ہے۔ ہم اسے مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا، ’اس حوالے سے انڈیا کے ساتھ بات چیت پہلے سے ہی چل رہی تھی اور ہم چاہتے ہیں کہ انڈیا کے توانائی کے پورٹ فولیو میں ہمارا حصہ زیادہ ہو۔‘

    آبنائے ہرمز کے ذریعے مفت نیویگیشن کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی کا بحران جاری ہے۔ انڈیا بھی واضح طور پر متاثر ہوا ہے، حالانکہ انڈین حکومت مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ملک کے پاس کافی ایندھن موجود ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان کا آئندہ دورہ انڈیا اہم ہے۔

    روبیو نے کہا، ’انڈیا کے ساتھ بہت سے معاملات پر کام کرنا ہے۔ وہ ایک اہم اتحادی اور پارٹنر ہیں۔ ہم ان کے ساتھ بہت اچھا کام کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ دورہ اہم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم یہ دورہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہاں ہم کواڈ ممالک کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے۔

  17. کیوبا امریکہ کے لیے خطرہ ہے: مارکو روبیو

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کیوبا امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے ایک دن پہلے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر 1996 میں دو طیارے گرانے اور امریکی شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا۔

    روبیو نے کہا کہ امریکہ اب بھی مسئلے کا حل سفارتی طریقے سے چاہتا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ملک کو کسی بھی خطرے سے بچانے کا حق حاصل ہے۔

    دوسری طرف، کیوبا اس وقت ایندھن کی کمی کا شکار ہے، جس کی ایک بڑی وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ اس کے باعث وہاں بجلی کی طویل بندش اور خوراک کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔

    روبیو نے یہ بھی کہا کہ کیوبا نے امریکہ کی جانب سے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد قبول کر لی ہے۔ اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ مسلسل کیوبا پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اس کی کمیونسٹ حکومت کو ختم کرنے کی بات بھی کر رہی ہے۔

    امریکہ کی جانب سے سابق صدر پر مقدمہ چلانے کو کچھ لوگ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی کارروائی سے بھی ملا رہے ہیں۔

    ادھر کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے روبیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ کیوبا نے کبھی امریکہ کے لیے خطرہ پیدا نہیں کیا۔

    روبیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری اب بھی ترجیح ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس کے امکانات کم ہیں۔

    انھوں نے کیوبا پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جسے کیوبا نے سختی سے رد کر دیا۔

    کیوبا کے وزیر خارجہ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ فوجی جارحیت کو ہوا دے رہا ہے اور مسلسل ان کے ملک کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

  18. مذاکرات صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہیں اور یورینیئم کے ذخائر پر کوئی بات نہیں ہوئی: ایرانی وزارت خارجہ

    اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس مرحلے پر مذاکرات کا مرکز صرف لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر ہے‘۔

    انھوں نے واضح کیا کہ جوہری مسائل کے بارے میں میڈیا میں کیے جانے والے دعوے، بشمول افزودہ مواد یا افزودگی کی بحث، محض میڈیا کی قیاس آرائیاں ہیں اور ان میں خام خیالی ہے۔‘

    اسماعیل بقائی ان قیاس آرائیوں کا حوالہ دے رہے ہیں جو جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔

    بقائی نے واضح کیا، ’مذاکرات کی تفصیلات کے بارے میں درست معلومات مجاز حکام اور مذاکراتی ٹیم کے ترجمان فراہم کریں گے۔‘

    امریکی صدر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’ہمیں یہ مل جائے گا، ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہمیں یہ نہیں چاہیے۔ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد شاید اسے تباہ بھی کر دیں گے، لیکن ہم انھیں حاصل نہیں کرنے دیں گے۔‘

  19. ایران سے افزودہ یورینیئم لے کر تباہ کر دیں گے، جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیئم لے کر اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے پاس موجود یورینیئم کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وہ (یورینیم) لے لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں وہ نہیں چاہیے، ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ افزودہ یورینیئم ایران کے پاس نہیں رہنے دیں گے۔

    امریکی صدر نے اس بات چیت کے دوران اپنے مؤقف دُہرایا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صورت میں ’آپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری جنگ دیکھیں جو کہ یہاں (امریکہ) آ سکتی ہے، یورپ بھی آ سکتی ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

  20. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے ’کچھ مثبت اشارے‘ موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام کے تہران کے دورے سے پیش رفت میں مدد ملے گی۔
    • پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
    • چین کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سنیچر یعنی 23 مئی سے بیجنگ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ پاکستان اور چین دونوں مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں میں ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
    • آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان خیبر پختونخوا میں مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔
    • متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ برسوں کے بعض طرزِ عمل کے باعث خلیج فارس کے ممالک کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
    • خلیج فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک نگرانی زون (سرویلنس ایریا) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتھارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی اور نگرانی کے علاقے کا تعین کر دیا ہے۔