یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی پرچم: ’نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا‘

چکوال

،تصویر کا ذریعہNabeel Dhaku

    • مصنف, نبیل انور ڈھکو
    • عہدہ, صحافی، چکوال
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’اگر ڈرامے میں ابلیس کا کردار ہو تو کیا اسے نبھانے والے فرد کو ابلیس سمجھ کر اس پر چڑھائی کی جائے گی؟ بجائے اس کے کہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا جاتا، الٹا ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔‘

یہ خیال یونیورسٹی آف چکوال کے ایک پروفیسر کا تھا جو حال ہی میں وہاں ایک کانفرنس کے دوران ہال کے باہر اسرائیلی پرچم کی موجودگی کے معاملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم پر بی بی سی سے بات کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر چند صارفین اس پرچم کو لے کر یہ تاثر پیش کرتے دکھائی دیے کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی اسرائیلی لابی ہے جبکہ تنقید کے بعد اب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

پرچم کا تنازع سامنے کیسے آیا؟

یہ پرچم یونیورسٹی آف چکوال کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب سے ایران کی امریکہ اور اسرائیل سے حالیہ جنگ کے تناظر میں عالمی سیاست، سلامتی، سفارت کاری اور جدید جنگی حکمتِ عملی کے حوالے سے ’تسلسل سے جاری رہنے والے تنازعات کے دور میں سلامتی کے خطرات و حکمت عملی کے تغیرات‘ کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے موقع پر لگایا گیا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسی کانفرنس کی مناسبت سے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ نے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا جس کا موضوع ’سٹریٹیجک سٹینڈرڈز‘ تھا اور اس میں شامل طلبا کے گروپس نے پاکستان، انڈیا، چین، روس، جاپان، امریکہ اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی نمائندگی کی اور اس حوالے سے معلوماتی سٹالز بھی لگائے جن میں ہر ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، معاشی صورتحال، عالمی سیاست میں کردار، علاقائی اثر و رسوخ، کلچر، زبان کے بارے میں معلومات کے علاوہ ان کے پرچم بھی پیش کیے گئے۔

انتظامیہ کے مطابق اسی نمائش میں اسرائیل کی صلاحیتوں کو ایک حریف قوت کے طور پر اُس کی سٹریٹجک طاقت کا جائزہ پیش کیا گیا اور دوسرے ممالک کی طرح اسرائیل سے متعلق تمام معلومات کے ساتھ اسرائیل کا جھنڈا بھی لگایا گیا۔

خیال رہے کہ یہ تنازع جس تقریب کے حوالے سے ہے اس کا انعقاد 11 اور 12 مئی کو ہوا تھا لیکن ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ’یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیل کا جھنڈا لہرانے‘ کے دعووں نے اسے بحث کا موضوع بنا دیا۔

اس بحث کے بعد 20 مئی کو یونیورسٹی آف چکوال کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ’مذکورہ کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کا موجود ہونا ہرگز اسرائیل کے تشخص کو اجاگر کرنا یا اس کی تائید کرنا نہیں تھا بلکہ طلبہ و طالبات کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ اسرائیل امت مسلمہ کے لیے، بالخصوص پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور وہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر سنگین ظلم و جبر کر رہا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’کانفرنس کا بنیادی مقصد طلبہ میں شعور اجاگر کرنا اور انھیں موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کی درست تناظر میں سمجھ بوجھ فراہم کرنا تھا‘ اور یہ کہ ’سوشل میڈیا پر اس سے متعلق گردش کردہ خبریں حقائق سے لاعلمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں‘ اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے درست حقائق کو عوام کے علم میں لا رہی ہے۔

یونیورسٹی

،تصویر کا ذریعہNabeel Dhaku

تحقیقات کا حکم، 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب یونیورسٹی کی طرف سے دی گئی وضاحت سے بھی معاملہ سوشل میڈیا پر نہ تھما تو بدھ کی شام یونیورسٹی کے رجسٹرار کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مراسلے میں معاملے کی تحقیقات کروانے اور 48 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا اعلان سامنے آیا۔

اس مراسلے میں کہا گیا کہ ’مجاز اتھارٹی کے نوٹس میں یہ بات آئی ہے کہ یونیورسٹی کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ممنوعہ غیر ملکی پرچم کی نمائش کا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے نہ صرف عوام میں تشویش پیدا ہوئی بلکہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اس واقعہ نے توجہ حاصل کی۔ وائس چانسلر نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے شعبۂ الیکٹرانکس انجینیئرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر محسن ممتاز تارڑ کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے اور انھیں 48 گھنٹے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔‘

اس حوالے سے یونیورسٹی رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالماجد نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا و طالبات بھی پاکستانی ہیں اور اسرائیل سے متعلق ان کے جذبات بھی وہی ہیں جو باقی پاکستانیوں کے ہیں تاہم حالیہ واقعے کی تحقیقات میں اگر کوئی قصور وار نکلا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

’نان ایشو کو ایشو بنا دیا گیا‘

اس کانفرنس میں شریک نمل یونیورسٹی کے پروفیسر طاہر نعیم ملک نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے جہالت ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے جس کی وجہ سے علمی بحث و مباحثہ کی گنجائش سکڑ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود مشرقِ وسطیٰ کا موضوغ پڑھاتا ہوں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اسرائیل کو حذف کر کے مشرقِ وسطی پڑھائیں؟ اسرائیل کیسے وجود میں آیا، اسرائیل کی خارجہ پالیسی کیا ہے، نظامِ حکومت کیا ہے اور اسرائیلی حکومت کا فاشزم کس حد تک عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا، یہ سب میں پڑھاتا ہوں اور ملک کی دوسری بڑی جامعات میں بھی اسرائیل کو پڑھایا جاتا ہے۔‘

چکوال یونیورسٹی میں پرچم کے تنازعے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر طاہر ملک نے کہا کہ ہر اچھے تعلیمی ادارے میں اقوامِ متحدہ کے فرضی اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں جن میں طلبا اسرائیل سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور طلبا کے آگے اس ملک کا جھنڈا ہوتا ہے جس ملک کی وہ نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہوتا ہے۔

چکوال یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک نان ایشو کو ایشو بنا دیا گیا اور اس کی وجہ سے طلبا کی محنت پیچھے چلی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’انگریزی ادب کے نصاب میں کرسٹوفر مارلو کا ڈرامہ ڈاکٹر فاسٹس شامل ہے جس کے کرداروں میں ایک کردار ابلیس کا بھی ہے۔ یہ ڈرامہ جب سٹیج پر پیش کیا جاتا ہے تو کسی نے ابلیس کا کردار بھی نبھانا ہوتا ہے تو اس بنیاد پر وہ کردار نبھانے والے کو کیا سچ میں ابلیس سمجھ کر اس پر چڑھائی کر دی جائے گی؟‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’بجائے اس کے کہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کو سراہا جاتا، الٹا ایک نان ایشو کو ایشو بنا کر طلبہ کی محنت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔‘