جنگ میں واپسی کی صورت میں امریکہ کو بہت سے ’سرپرائز‘ ملیں گے: عباس عراقچی کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔‘
عباس عراقچی نے ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیان کے بعد جوابی بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔ ‘
عباس عراقچی کے مطابق ’اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔"
اس پوسٹ کے آخر میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے جو سیکھا اور جو علم ہم نے حاصل کیا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔‘
منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ’ مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘
خیال رہے صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے منگل کو ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر انھوں نے اسے مؤخر کیا۔



