لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز: ایران جنگ میں امریکہ کے فضائی نقصانات سے متعلق کانگریس کی رپورٹ میں کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی کانگریس کی جانب سے ایران جنگ کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اس لڑائی کے دوران امریکہ کے 42 طیارے تباہ ہوئے یا اُنھیں نقصان پہنچا۔
یہ رپورٹ امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) نے مرتب کی ہے اور یہ امریکی کانگریس کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔
سی آر ایس پارٹی وابستگی سے قطع نظر امریکی کانگریس کے دونوں ایوان کے ارکان کو پالیسی معاملات پر تجزیے فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور نیوز آرٹیکلز کا حوالہ دیا گیا جن کے مطابق جن طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے ان میں بغیر پائلٹ کے طیارے، لڑاکا طیارے اور ڈرون طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ میں پینٹاگون کے ایک عہدے دار جولس ڈبلیو ہرسٹ کی کانگریس میں حالیہ پیشی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق ایران جنگ میں محکمہ دفاع کے اخراجات 29 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکے ہیں جن میں ان طیاروں کی مرمت اور بحالی کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چار ایف-15 ای سٹرائیگ ایگل طیارے
رپورٹ کے مطابق دو مارچ 2026 کو سینٹکام نے تصدیق کی کہ امریکہ کے دو ایف-15 ای سٹرائیک ایگل طیارے کویت میں ’فرینڈلی فائر‘ کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گئے۔ اس واقعے میں دونوں طیاروں سے عملے کے چھ افراد بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
پانچ اپریل 2026 کو سینٹکام نے بتایا کہ امریکہ کا ایک ایف-15 ای طیارہ ایران میں ایک فضائی کارروائی کے دوران گر کر تباہ ہو گیا جس کے دونوں پائلٹس کو ایک الگ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران وہاں سے نکال لیا گیا۔
رپورٹ میں 19 مارچ کے ایک نیوز آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہر جنگی کارروائیوں کے دوران ایرانی زمینی فائر نے ایک ایف-35 اے طیارے کو نقصان پہنچایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی تھی کہ ایک امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو ایران کی فضائی حدود میں جنگی مشن کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’جہاز بحفاظت طریقے سے اُتر گیا تھا اور پائلٹ کی حالت بھی مستحکم ہے۔‘
سینٹرل کمانڈ کی طرف سے واقعے کی مزید تفصیلات تو نہیں دی گئیں لیکن امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جہاز کو مبینہ طور پر ایران نے ہدف بنایا تھا۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ اپریل 2026 کو ایک نیوز کانفرنس میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا تھا کہ تین اپریل کو ’دشمن کی فائرنگ سے ایک A-10 نشانہ بنا جو بعد میں گر کر تباہ ہو گیا اس سے پہلے پائلٹ باہر نکلا اور بحفاظت نکال لیا گیا۔‘
کے سی-135 ٹینکر طیارے
رپورٹ کے مطابق 12 مارچ 2026 کو سینٹکام نے اطلاع دی کہ دو کے سی-135 ٹینکر طیاروں کے درمیان عراق کی فضائی حدود میں ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جبکہ ایک بحفاظت لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
گرنے والے طیارے میں عملے تمام چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارے فضا میں لڑاکا طیاروں کی فیولنگ کے کام آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 14 مارچ کو ایک نیوز آرٹیکل میں بتایا گیا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر زمین پر موجود پانچ KC-135 طیاروں کو نقصان پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ای-تھری سنٹری ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم ایئر کرافٹ
رپورٹ کے مطابق 28 مارچ کو ایک نیوز آرٹیکل میں بتایا گیا کہ ایک ای-تھری طیارہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر تباہ ہو گیا۔
سات مئی کو بتایا گیا کہ یہ طیارہ ایک غیر محفوظ ٹیکسی سے پر کھڑا تھا۔
اُس وقت سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے کی بعض مصدقہ تصاویر میں امریکی فضائیہ کا ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ تباہ شدہ حالت میں دیکھا جا سکتا تھا۔
یہ تصاویر سب سے پہلے امریکی فوج کی خبروں سے متعلق ایک فیس بُک پیج پر شیئر کی گئی تھیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ’ای تھری سینٹری‘ نامی طیارہ دو ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی تھی کہ یہ تصاویر سعودی دارالحکومت ریاض سے 100 کلو میٹر شہزادہ سلطان ایئر بیس پر کھینچی گئی تھی۔ تصاویر میں موجود تعمیرات جیسے کھمبے، سٹوریج یونٹس اور سائن بورڈز سیٹلائٹ تصاویر سے مطابقت رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
ایم سی 130 جے کمانڈو سپیشل آپریشنز طیارہ
پانچ اپریل 2026 کو ایک نیوز آرٹیکل میں بتایا گیا کہ دو ایم-سی 130 جے طیاروں کو جان بوجھ کر ناکارہ کیا گیا جو تباہ ہونے والے ایف-15 ای طیارے کی تلاش اور ریسکیو کی کارروائیوں میں معاونت کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ طیارے بروقت اُڑان نہیں بھر سکے تھے جس پر اںھیں زمین پر ہی ناکارہ بنا دیا گیا، تاہم عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایران نے امریکہ کے ایک ایف-15 ای طیارے کو مار گرایا تھا اور اس طیارے کا ایک کریو ممبر ایران میں لاپتا ہو گیا تھا جس کی تلاش کے لیے امریکہ نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کی تھیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے رُکن کو ریسکیو کرنے کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا بھی ہوا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے بہت بڑا جنگی مشن قرار دیا تھا جس میں امریکہ کے درجنوں طیاروں نے حصہ لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر
رپورٹ کے مطابق چھ اپریل کو جنرل ڈین کین نے ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ پانچ اپریل کو امریکہ کے ایک ایچ ایچ 60 ڈبلیو ہیلی کاپٹر کو ایک ریسکیو مشن کے دوران نقصان پہنچا۔
اُن کا اشارہ امریکی پائلٹ کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ریسکیو مشن کی جانب ہی تھا، ایران کی جانب سے گرائے گئے ایف-15 ای طیارے کے لاپتا کریو ممبر کے لیے کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈرونز
کانگریس کی رپورٹ میں نو اپریل کے ایک نیوز آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکہ کے 24 ڈرونز طیارے تباہ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اس میں کم اور زیادہ بلندی پر پرواز کرنے والے ’ایم کیو نائن‘ ریپرز شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس لڑائی کے دوران ایک زیادہ بلندی پر پرواز کرنے والا ایم کیو 4 سی ڈرون طیارے بھی تباہ ہوا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام ایران جنگ کے دوران اپنے ’زیادہ تر مقاصد‘ حاصل کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کی فضاِئیہ اس کی فوج اور نیوی کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کیں اور اب بھی اس کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔























