ثنا یوسف کا قتل سے ایک دن پہلے والد سے وعدہ: ’اپنی جان دے دوں گی لیکن آپ کی عزت کا خیال رکھوں گی‘

’میں نے سوچا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو بیٹی کو کیا جواب دوں گی۔ بیٹی مجھے کہے گی کہ ماما انصاف کہاں ہے۔ آپ وہاں سے خالی ہاتھ آ گئے، میرے لیے انصاف بھی نہیں مانگا؟‘
اسلام آباد میں گذشتہ برس قتل ہونے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے والدین نے جہاں اب مقدمے کی تکمیل اور مجرم کو سزا سنائے جانے کے بعد اطمینان کا سانس لیا ہے وہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ وقت گزارنا ان کے لیے بہت مشکل تھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار نازش فیض سے گفتگو کرتے ہوئے ثنا یوسف کی والدہ فرزانہ یوسف کا کہنا تھا کہ ’ثنا کے جانے کے بعد زندگی بہت مشکل رہی ہے۔‘
ان کے مطابق اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا حصول ان کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔ ’اسی وجہ سے میں روز صبح اٹھتی تھی کہ عدالت پہنچیں۔ میں نے خود کو متحرک رکھا کہ بیٹی کے لیے انصاف مانگوں۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت نے ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے میں مجرم عمر حیات کو سزائے موت سنائی ہے اور مجرم کو 20 لاکھ روپے بطور زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ثنا کے جانے کے باوجود ان کے والدین نے ان کے کمرے کو اسی حالت میں محفوظ کیا ہوا ہے۔ میز پر چیزوں سے لے کر الماری میں کپڑوں تک، سبھی موجود ہے۔
فرزانہ کہتی ہیں کہ ثنا کی الماری میں وہی کپڑے موجود ہیں جو انھوں نے خود اپنے پیسوں سے خریدے تھے جبکہ جو کپڑے اسے تشہمیر کے لیے ملتے تھے، ثنا انھیں عطیہ کر دیا کرتی تھیں۔
فرزانہ یوسف اس کیس کی چشم دید گواہ بھی تھیں مگر ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کمرہ عدالت میں وہ مجرم کو نہ ہی دیکھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ ’عدالت جا کر وہاں مجرم کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میرے سے یہ منظر برداشت نہیں ہوتا تھا۔ میں باہر بیٹھ جاتی تھی۔ میں نے ایک، دو بار ہی مجرم کو دیکھا ہو گا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ بندہ مجھے نظر نہ آئے۔‘
مگر اب وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ ان کی بیٹی ’ثنا کو انصاف مل گیا۔‘
ثنا کے والد یوسف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ معاشرے کی فتح ہے۔ یہ کیس ہم اپنی ذات کے لیے نہیں لڑ رہے تھے، ان بچیوں، ماؤں اور بہنوں کے لیے لڑ رہے تھے جو معاشرے میں ایسے جرائم سے متاثر ہوتی ہیں۔ ایسے مجرموں کو سزا ملنے کے بعد ہی جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘

29 مئی کو سالگرہ کے بعد دو جون کو قتل: اس دوران کیا ہوا تھا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ثنا یوسف کا قتل دو جون 2025 کو ہوا تھا۔
اس روز والدہ کے بقول انھوں نے صبح ثنا کو ناشتے میں سینڈوچ اور چائے دی اور پھر ثنا کے اسی کمرے میں ان کے ساتھ وقت گزارا تھا جہاں ان کا قتل ہوا تھا۔
اس دوران انھوں نے ثنا کو تشہیر کے لیے ملنے والے کپڑے بھی پیک کیے تھے۔ جب شام ہوئی تو ثنا کے والد کو گاڑی لے کر ورکشاپ جانا پڑا۔
فرزانہ یوسف یاد کرتی ہیں کہ ’درمیانے قد کا حملہ آور قریب شام پانچ بجے گھر میں داخل ہوا اور آتے ہی ثنا کے کمرے میں آ کر اس پر گولی چلا دی۔‘
’میں ٹی وی لاؤنج میں موجود تھی، ثنا کی پھپھو بھی گھر پر موجود تھیں۔ ثنا اپنے کمرے میں تھی، اسے دو گولیاں ماری گئیں۔‘
وہ ہمیں ثنا کے بیڈ پر موجود نشانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہی وہ گولیوں کے نشان ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ حملہ آور کے جانے کے بعد انھوں نے ’ثنا کو ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن وہ ہوش میں نہیں آئی۔ وہ بہت کمزور تھی، کیا پتا وہ یہیں ختم ہو چکی تھی۔‘
’میں نے ثنا کو گاڑی میں ڈالا اور شوہر کو راستے میں کال کی، فون پر بتایا کہ ثنا کو کسی نے گولی مار دی ہے۔ ہم ہسپتال پہنچے، مجھے امید تھی کہ وہ زندہ ہے۔ میں اسے بار بار ہلا کر دیکھتی رہی۔‘
اس دوران ثنا کے والد بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ثنا کو ’سٹریچر پر لٹا کر اندر داخل ہوئے مگر ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ایکسپائر ہو چکی ہیں۔ عملے نے بتایا کہ یہ پولیس کیس ہے۔ ہمیں پمز جانے کا کہا گیا۔‘
یوسف حسن کا کہنا تھا کہ ’اولاد کے بغیر ماں باپ کی زندگی ادھوری ہوتی ہے۔ اسی کی یادیں ہمارے ساتھ ہماری قبر تک جائیں گی۔‘
تو کیا ثنا نے کبھی اپنے والدین سے عمر حیات کا ذکر کیا تھا؟
اس بارے میں فرزانہ کہتی ہیں کہ وہ ثنا کے کام کے سلسلے میں بیوٹی پارلرز، ریستورانوں اور برانڈز کے سبھی لڑکے اور لڑکیوں سے ملتی رہتی تھیں مگر ان کے بقول ثنا نے کبھی بھی عمر حیات کا ذکر نہیں کیا تھا۔
ثنا کے والد یوسف کہتے ہیں کہ عمر حیات نے 29 مئی 2025 کو، یعنی ثنا کی سالگرہ کے روز، انھیں کال کی مگر ثنا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ’وہ کیک اور جعلی ڈالروں کا ہار لایا تھا جنھیں وہ گھر کے گیٹ کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔ کسی نے بھی یہ تحائف ریسیو نہیں کیے اور نہ ہی ان سے بات کی۔‘
یوسف کہتے ہیں کہ یہ معاملہ لڑکے کی انا کا مسئلہ بن چکا تھا۔ ’ثنا نے شاید اسے بچپنا سمجھا اور اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ ثنا کو (واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغامات میں) کوئی دھمکی بھی نہیں ملی تھی۔‘
ان کے مطابق ثنا کو کی گئی کال بھی اٹینڈ نہیں ہوئی تھی، ایک دو میسجز بھی بھیجے گئے جن میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ ثنا نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ثنا کی طرف سے جواب نہ دینا ہی ’اس کی سزا تھی۔ آئی جی اسلام آباد نے بھی اسی جانب اشارہ کیا تھا کہ یہ ریپیٹڈ ریجیکشن کا کیس ہے۔‘
فرزانہ کہتی ہیں کہ مداح آتے رہتے تھے اور ثنا نے نامعلوم کالرز کے نمبر بھی بلاک کر رکھے تھے۔ ’ثنا کا انکار ہی شاید اس کی موت کا وجہ بنا۔ ثنا ایسی بچی نہیں تھی جو پورے دن کسی سے بات کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram
پہلی ریل وائرل ہونے کی کہانی اور والد سے کیا گیا وعدہ
چترال سے تعلق رکھنے والی ثنا یوسف کی پہلی انسٹاگرام ریل اکتوبر 2023 میں وائرل ہوئی تھی جس میں وہ مزاحیہ انداز میں اپنی والدہ سے کہتی ہیں کہ ’پڑھائی ایک نشہ ہے اور ہم شریف لوگ ہیں، ہم نشہ نہیں کرتے۔‘
فرزانہ یوسف بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ اپنی بیٹی کو منع کرتی تھیں اور والد سے پوچھنے کا کہتی تھیں۔
مگر اس پہلی وائرل ریل کی کہانی یہ تھی کہ اس وقت ثنا یوسف کے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات چل رہے تھے۔ فرزانہ کہتی ہیں کہ ’اس نے رات بھر پڑھائی کی تھی۔ پڑھ پڑھ کو بور ہو گئی تو اس کے ذہن میں پڑھائی ایک نشہ ہے کا آئیڈیا آیا۔‘
’اس نے وہ ویڈیو بنائی اور پوچھا کہ کیا میں اسے پبلک کر دوں۔ اس نے وہ ویڈیو لگائی جو وائرل ہو گئی۔‘
ان کے مطابق امتحانات کے بعد ثنا کے والد نے انھیں ویڈیوز لگانے کی اجازت دی تھی۔
ثنا کے والد یوسف حسن نے بتایا کہ ’ہم اسے تربیت دیا کرتے تھے، یہی بتاتے تھے کہ سوشل میڈیا کا کوئی سر پیر نہیں۔ گاؤں اور شہر کی دشمنی میں فرق ہے۔‘

’وہ چھوٹی بھی تھی اور جذباتی بھی۔ وہ کہتی تھی کہ پاپا کچھ نہیں ہو گا۔‘
یوسف کہتے ہیں کہ مرنے سے ایک دن پہلے ثنا نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ’اپنی جان دے دوں گی لیکن آپ کی عزت کا خیال رکھوں گی۔‘
’اس نے کہا تھا کہ پاپا آپ کو سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ نہیں۔ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو آپ کو سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ ہو گا۔‘
ثنا کے والد انھیں سی ایس ایس افسر بننے کا مشورہ دیتے تھے مگر وہ خود ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔
فرزانہ کہتی ہیں کہ ثنا نے والد سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر کام کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کریں گی۔
























