کیا ہم مرغی کے پنجے کھا سکتے ہیں اور یہ چکن کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خاص کیوں ہیں؟

ਚਿਕਨ ਦੇ ਪੰਜੇ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے
    • مصنف, بی بی سی تامل
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جب ہم مرغی خریدنے جاتے ہیں تو بہت سے لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ کلیجی، گردن، جگر نہیں چاہیے اور لیگ پیس یا سینہ ہی چاہیے لیکن دکاندار سے اس مکالمے میں ہم مرغی کے پنجوں کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ مرغی کے پنجے کتنے فائدہ مند ہیں؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرغی کے پنجے اس کی کھال کی طرح فضول چیز ہیں لیکن سنگا پور میں مرغی کے پنجے چار سنگا پورین ڈالر فی کلو فروخت ہوتے ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں یہ 900 روپے فی کلو بنتے ہیں۔

یہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو میں مرغی کے گوشت سے بھی مہنگے ہیں۔

دنیا بھر میں چکن کے پنجوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ ویتنام، چین اور ازبکستان جیسے ممالک اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں چکن کے پنجے درآمد کرتے ہیں۔ سال 2022 میں امریکہ نے چین کو تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن چکن کے پنجے برآمد کیے تھے۔

چکن کے پنجے، جنھیں اکثر فضول سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے، دنیا کے دوسرے حصوں میں اتنے قیمتی کیوں ہیں؟ ان میں کون کون سے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں؟

چکن کے پنجوں میں پائے جانے والے غذائی اجزا

ਚਿਕਨ ਦੇ ਪੰਜੇ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

اگرچہ کئی ممالک میں چکن کے پنجوں کو فضول سمجھا جاتا ہے لیکن امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

امریکہ میں دنیا کی سب سے بڑی برائلر چکن انڈسٹری ہے، جس کی تقریباً 15 فیصد پیداوار دوسرے ممالک کو برآمد کی جاتی ہے۔ اس میں چکن کے پنجوں کا بھی بڑا حصہ شامل ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مشہور انگلش فٹبالر اینڈروس ٹاؤنسینڈ نے ایک بار بی بی سی کو بتایا تھا ’چکن کے پنجوں کا ذائقہ بالکل چکن ونگز جیسا ہوتا ہے۔ ان میں گوشت کم ہوتا ہے اور یہ ان سے بھی زیادہ لذیذ لگتے ہیں۔ چین، جنوبی افریقہ اور پرتگال جیسے ممالک میں انھیں شوق سے کھایا جاتا ہے اور صرف 20 منٹ میں پکایا جا سکتا ہے۔‘

چکن کے پنجے کھال، ہڈیوں، پٹھوں اور کنیکٹو ٹشو سے بنتے ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق ان کی ساخت میں تقریباً 30 سے 35 فیصد کولیجن ہوتا ہے۔

چکن کے پنجوں میں کیلوریز، پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ ساتھ کیلشیم، فاسفورس، وٹامن اے اور فولیٹ (وٹامن بی 9) جیسے غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔

چنئی کی کلینیکل نیوٹریشنسٹ اور ڈاکٹر سری ودیا بتاتی ہیں کہ چکن کے پنجوں میں موجود کل پروٹین کا تقریباً 70 فیصد حصہ کولیجن پر مشتمل ہوتا ہے۔

کولیجن ایک ایسا پروٹین ہے جو انسانی جسم میں بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ جلد، ہڈیوں، ٹینڈنز، کارٹلیج اور لیگامینٹس میں موجود ہوتا ہے۔

امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق ان میں کئی ضروری غذائی اجزا اور صحت کے لیے فائدہ مند خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

ਚਿਕਨ ਦੇ ਪੰਜੇ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

لیکن جیسے جیسے جسم کی عمر بڑھتی ہے، قدرتی کولیجن کی پیداوار کم ہوتی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سری ودیا کہتی ہیں کہ انسانی جسم چکن کے پنجوں میں موجود کولیجن کو آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔ کولیجن جلد اور ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وہ وضاحت کرتی ہیں کہ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، جسم کم کولیجن بناتا ہے جس کی وجہ سے جلد خشک ہو جاتی ہے اور جھریاں پڑنے لگتی ہیں۔ اس کا اثر جوڑوں اور ہڈیوں کی صحت پر بھی پڑتا ہے۔

ڈاکٹر سری ودیا کے مطابق چکن کے پنجوں میں موجود کولیجن اور جیلاٹن جلد، جوڑوں، ہڈیوں اور آنتوں کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ جوڑوں کے درد کے مریضوں پر کی گئی تحقیق کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ کولیجن لینے سے جوڑوں کی اکڑن میں کمی آتی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’چکن کے پنجوں میں موجود پروٹین، وٹامنز اور منرلز پٹھوں اور بالوں کی نشوونما میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘

انھیں کیسے کھایا جا سکتا ہے؟

ਡਾਕਟਰ ਸ੍ਰੀ ਵਿੱਦਿਆ
،تصویر کا کیپشن ڈاکٹر سری ودیا

ڈاکٹر سری ودیا کا کہنا ہے کہ چکن کے پنجوں کو صحیح طریقے سے صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ وہ خبردار کرتی ہیں کہ چکن کے پنجوں میں مٹی، فضلہ، کھیتوں کا کچرا اور گندگی ہو سکتی ہے۔ انھیں اچھی طرح صاف کیے بغیر چھونے سے بیکٹیریا سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ پنجوں کو صرف اچھی طرح دھونا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی بیرونی کھال ہٹانا اور مناسب درجہ حرارت پر پکانا بھی ضروری ہے۔ جو چکن کے پنجے اچھی طرح نہیں پکائے جاتے، ان میں سالمونیلا اور کیمپائلوبیکٹر جیسے بیکٹیریا ہو سکتے ہیں۔

انڈونیشیا کی آئی پی بی یونیورسٹی کے پروفیسر اونو سپرنو اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ چکن کے پنجوں کو سوپ کے ساتھ کھانا سب سے بہتر ہے، بالکل اسی طرح جیسے بکرے کے پائے کھائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر سری ودیا کہتی ہیں کہ چونکہ چکن کے پنجوں میں موجود کولیجن اور جیلاٹن کو اس طرح پکانا ضروری ہے کہ جسم انھیں آسانی سے جذب کر سکے، اس لیے انھیں سوپ بنا کر کھانا سب سے بہتر ہے۔ انھیں شوربے یا گریوی کی صورت میں بھی کھایا جا سکتا ہے لیکن انھیں تلنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وہ خبردار کرتی ہیں کہ تلے ہوئے چکن کے پنجے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ان میں سیچوریٹڈ فیٹ، ٹرانس فیٹ اور سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو دل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

چکن کری بمقابلہ چکن کے پنجے

ਡਾਕਟਰ ਅਰੁਣ ਕੁਮਾਰ

،تصویر کا ذریعہDoctor Arunkumar/Facebook

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ارون کمار کے مطابق چکن کے پنجوں میں نہ صرف کولیجن اور جیلاٹن ہوتا ہے بلکہ گلائسین اور پرولین جیسے امائنو ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں

تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے غذائی ماہر ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں کہ مرغی کے پنجوں میں عمومی طور پر چکن کے گوشت کے مقابلے میں پروٹین کم ہوتا ہے لیکن ان میں کیلوریز اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ چکن کے پنجوں میں نہ صرف کولیجن اور جیلاٹن ہوتا ہے بلکہ گلائسین اور پرولین جیسے امائنو ایسڈز بھی ہوتے ہیں۔ یہی چیزیں چکن کے پنجوں کو چکن یا گوشت کے دوسرے حصوں سے مختلف بناتی ہیں۔

ڈاکٹر ارون کمار وضاحت کرتے ہیں کہ یہ کولیجن ہمارے جسم میں بننے والے کولیجن کا براہِ راست متبادل نہیں۔ یعنی چکن کے پنجوں سے حاصل ہونے والا کولیجن سیدھا ہمارے پیر یا جوڑ میں نہیں جاتا۔ ہم جو بھی پروٹین کھاتے ہیں، وہ معدے میں جا کر امائنو ایسڈز میں تبدیل ہو جاتا ہے، پھر جسم انہی امائنو ایسڈز سے کولیجن تیار کرتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کولیجن لینے کے ساتھ ساتھ اچھی کوالٹی کے پروٹین کا استعمال بھی ضروری ہے۔

’جسم میں کولیجن کو مضبوط بنانے کے لیے صرف مٹن یا چکن کا سوپ پینا کافی نہیں۔ اس کے لیے وٹامن سی، زنک اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے ساتھ ورزش بھی ضروری ہے۔‘

چکن کے پنجوں کے علاوہ، چکن، بیف یا مچھلی کے سوپ، مچھلی کی کھال اور سر، انڈے کی سفیدی اور چکن کی گردن اور کارٹلیج میں بھی کولیجن پایا جاتا ہے۔

کون کھا سکتا ہے اور کتنی مقدار میں؟

ਚਿਕਨ ਦੇ ਪੰਜੇ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ڈاکٹر سری ودیا کہتی ہیں کہ چکن کے پنجوں میں موجود فولیٹ (وٹامن بی 9) حاملہ خواتین میں جنین کی نشوونما میں مدد دے سکتا ہے لیکن اسے مناسب مقدار میں کھانا ضروری ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ کوئی بھی فرد 100 سے 150 گرام، یعنی 4 سے 5 چکن کے پنجوں کا سوپ یا گریوی لے سکتا ہے۔ یہ اصول سب پر لاگو ہوتا ہے۔

اُن کے بقول جب یہ بچوں کو دیا جائے تو انھیں اچھی طرح چبا کر کھانے کی ہدایت دی جانی چاہیے، جن بچوں کے ابھی دانت نہیں نکلے یا جن بڑوں کے دانت نہیں یا جنھیں نگلنے میں مشکل ہوتی ہے، انھیں یہ نہیں دینا چاہیے۔

’یہ گلے میں اٹک سکتا ہے اور دم گھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس غذا میں چکنائی کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔‘