صاف، تیز رفتار اور خاموش: انڈیا کی جدید نئی سلیپر ٹرین میں سفر کا تجربہ کیسا رہا؟

- مصنف, جیمی فلرٹن
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
کولکتہ کے ہاوڑہ جنکشن سٹیشن کے اوپر بجلی چمک رہی تھی جبکہ بارش پلیٹ فارم نمبر چھ پر برس رہی تھی تاہم، انتظار کرنے والے مسافروں نے جیسے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ وہ ایک دوسرے کو دھکیلتے اور اپنے فون سے سیلفیاں لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
انڈین ریلوے کی توجہ کا مرکز ’وندے بھارت ایکسپریس‘ سلیپر ٹرین تھی جو چمکدار نارنجی، سیاہ اور سرمئی رنگوں سے سجی تھی۔
جنوری 2026 میں شروع کی گئی، یہ وندے بھارت نیم تیز رفتار بیڑے کی پہلی سلیپر ٹرین ہے، جو قومی فخر کا باعث بن چکی ہے۔
سلیپر کے اولین سفرکی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں اور جب میں تین ماہ بعد کولکتہ گیا، تو اس کی دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی اور اس کی 823 برتھس اب بھی ہفتوں پہلے ہی بک ہو رہی تھیں۔
انڈیا کی علامت
وندے بھارت کا مطلب سنسکرت میں ’بھارت کو سلام‘ ہے۔
انڈیا میں ڈیزائن اور تیار کی گئی، اس ٹرین کو ملک کی پرانی طویل فاصلے کی ٹرینوں کے مقابلے میں زیادہ صاف اور جدید اپ گریڈ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں ہوا دار اگلے حصے، خودکار سلائیڈنگ دروازے اور آرام دہ اندرونی حصے شامل ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا نے سلیپر کوچز کو ’حیرت انگیز‘ اور ’شاندار‘ قرار دیا، ایسے الفاظ جو عموماً انڈین طویل فاصلے کی ٹرینوں کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی وندے بھارت ٹرینوں کا خود افتتاح کیا، جس سے عوامی دلچسپی میں اضافہ ہوا اور انھیں انڈیا کی امنگوں کی علامت بنانے میں مدد ملی۔

نئی سلیپر سروس ہر سمت میں ہفتے میں چھ دن مغربی بنگال کے کولکتہ اور آسام کے گوہاٹی کے درمیان چلتی ہے، جو 14 گھنٹے کا سفر ہے (جبکہ پرانی ٹرینوں میں یہ سفر 18 گھنٹے تک لگتا تھا)۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً 21,000 روپے ہونے کے باعث، سب سے سستا کرایہ بھی بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سلیپر ٹرین زیادہ تر کاروباری مسافروں کے لیے بنائی گئی، جو دو بڑے تجارتی مراکز کے درمیان ہوائی سفر کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ متبادل فراہم کرتی ہے۔
لیکن اس راستے کی کشش وسیع بھی ہے۔ گوہاٹی پہاڑی کے اوپر واقع کاماکھیا مندر کا گھر ہے، جو انڈیا کے اہم ترین ہندو زیارتی مقامات میں سے ایک ہے اور مسافروں کے لیے، یہ ٹرین نیو جلپائی گڑی جنکشن پر بھی رُکتی ہے، جو دارجلنگ کے مشہور چائے کے باغات کا دروازہ ہے۔
گوہاٹی سے، سیاح شیلانگ جا سکتے ہیں، جو آبشاروں سے بھرپور پہاڑی مقام ہے اور جسے ’مشرق کا سکاٹ لینڈ‘ کہا جاتا ہے، اسی طرح پوبيتورا وائلڈ لائف سینکچری بھی جا سکتے ہیں، جہاں جیپ سفاری کے ذریعے ایک سینگ والے گینڈوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
اس راستے کی کشش اور انڈین سلیپر ٹرین سفر کے اس بہت زیادہ مشہور نئے دور کا تجربہ کرنے کے موقعے سے متاثر ہو کرمیں نے خود اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔

صاف، تیز رفتار اور خاموشی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہاوڑہ جنکشن پر سوار ہونے کے بعد، مجھے یہ دیکھ کر سکون ملا کہ میری برتھ اتنی ہی صاف اور ترتیب میں تھی جیسا کہ وزیر اعظم کے معائنے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا تھا۔
میرے پاس پلگ ساکٹ، ریڈنگ لائٹ، یو ایس بی اور یو ایس بی سی چارجنگ پوائنٹس، صاف چادریں، کمبل اور تکیہ موجود تھے۔ میں خوشی سے جرابیں پہن کر کوچ میں گھومتا رہا ایک ایسا قدم جو ماضی میں میرے لیے کچھ پرانی انڈین سلیپر ٹرینوں میں ناقابلِ تصور تھا۔
شام چھ بج کر 20 منٹ پر پر ٹرین بالکل وقت پر روانہ ہوئی۔ میں نے اپنے قریب ترین برتھ پر موجود ساتھی مسافر سے مصافحہ کیا، جو حال ہی میں ریٹائر ہونے والے انڈین ریلوے کے انسپکٹر تھے اور جامنی رنگ کی نفیس قمیص پہنے ہوئے تھے۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ’صرف ایک نیا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اس نئی ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ یہاں بہت سی نئی چیزیں ہیں۔‘
انھوں نے اپنے بستر کی چادروں کے پیکٹ کو کھولا اور اس پر بنے نارتھ فرنٹیئر ریلوے کے لوگو کی تصویر لی، جو پھولوں کے ڈیزائن میں بُنا گیا تھا۔ ہمارے اردگرد، مسافر خاموشی سے بیٹھ گئے اور ٹرین کی ہلکی سی گونج پس منظر میں چلتی رہی۔
انڈین سلیپر ٹرینوں نے طویل عرصے سے لوگوں میں محبت اور خوف دونوں جذبات پیدا کیے ہیں۔ ایک طرف مہماتی سست سفر کی علامت اور دوسری طرف ہنگامہ خیز کوچز اور مشکل واش رومز کا تجربہ۔
وندے بھارت سلیپر کے آغاز کے بعد، ایک ریلوے ملازم کی یہ پوسٹ کہ اس میں سفر صرف وہی کریں ’جنھوں نے ٹوائلٹ کے آداب سیکھے ہوں‘ نے بحث چھیڑ دی جبکہ ایک ویڈیو جس میں کوچ میں کوڑا پھیلا ہوا دکھایا گیا، جس پر آن لائن شدید ردعمل پیدا کیا۔
میرے سفر کے دوران، کروم سے بنے ٹوائلٹس (مغربی اور روایتی دونوں طرز کے) پورے وقت چمکتے رہے اور عملہ بظاہر آن لائن مباحثوں سے بخوبی آگاہ تھا۔
روانگی کے فوراً بعد، ایک صفائی کرنے والا ملازم بغیر تار کے ویکیوم کے ساتھ میری برتھ کے پاس سے گزرا، شام کی پہلی دھول تلاش کرتے ہوئے۔ اس نے اپنا نام راجو ناتھ بتایا، پھر مجھے اپنے ’پسندیدہ واش روم‘ کا دورہ کروانے کی دعوت دی۔
مسکراتے ہوئے اس نے صاف ستھرے مغربی طرز کے ٹوائلٹ اور ترتیب سے لٹکے شاور پردے کی طرف اشارہ کیا، پھر ایک ڈسپنسر دبایا جس سے خوشبو کی مہک پھیل گئی۔
قریب ہی ایک اور ملازم فیس ماسک پہن کر احتیاط سے چائے کے کپ بھر رہا تھا۔ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ، وندے بھارت ٹرینوں کو انڈین جدت اور امنگ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ٹرین کے اندر، فخر ان چھوٹے چھوٹے منظم اور توجہ بھرے کاموں میں بھی نظر آتا ہے۔
ناتھ نے کہا، ’اچھی اور صاف ٹرین ہے‘ اور اپنے نیون پیلے ویسٹ کوٹ پر لگے لوگو کی طرف اشارہ کیا، جس میں ایک مسکراتا ہوا صفائی کرنے والا جھاڑو اور بالٹی پکڑے ہوئے تھا۔
یہ ٹرین ان دیگر انڈین سلیپر ٹرینوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ خاموش اور ہموار بھی تھی، جن میں، میں نے پہلے سفر کیا تھا، جہاں زور دار جھٹکے اور آوازیں سفر کا حصہ ہوتی تھیں۔ حکومت نے ان ٹرینوں کو ’انڈیا کی اعلیٰ معیار کی مسافر ریل سروسز کے ایک نئے مرحلے‘ کے طور پر بیان کیا اور انھیں 2047 تک انڈیا کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے وسیع تر ہدف سے جوڑا۔ مقصد یہ ہے کہ 2030 تک 800 وندے بھارت ٹرین سیٹس فعال ہوں اور 2047 تک یہ تعداد 4,500 تک پہنچ جائے۔

رات کا کھانا، شور مچاتے فون اور ایک اچھی نیند
میری ٹکٹ میں رات کا کھانا شامل تھا جو میری برتھ تک پہنچایا گیا، کھانے میں چکن کری، دال، چاول، آلو اور بروکلی، روٹی اور دودھ کی مٹھائی شامل تھی۔
یہ آسام کی مخصوص تھالی کا گھٹنوں پر رکھا ہوا انداز تھا، جو ٹرین کی منزل کی روایتی کئی پکوانوں والی خوراک ہے۔۔۔ ذائقہ دار، اگرچہ ہلکی سی نیم گرم تھی۔
جب میں پہلی بار لیٹا تو نیند آنا مشکل ثابت ہوا، تاہم اس کی وجہ برتھ کا ڈیزائن نہیں تھا۔ اصل مسئلہ میرے کوچ کے ساتھی مسافروں کے فون تھے، جو رات گئے تک بجتے رہے۔ رات 02:00 بجے کے قریب پیغامات کی بارش آخرکار تھم گئی اور میں ٹرین کے نرم پہیوں والے ہلکے سے ہوائی جہاز جیسے شور کے ساتھ سو گیا۔
چھ فٹ 2 انچ قد ہونے کے باعث، میں عام طور پر ٹرین میں گھٹنوں کو تھوڑا موڑ کر سوتا ہوں، مگر یہاں میں مکمل طور پر پھیل کر سو سکا، بغیر اس فکر کے کہ گزرنے والے مسافر میرے پاؤں سے ٹکرا جائیں گے۔
صبح 06:30 تک میں نچلی برتھ پر بیٹھا چائے ہاتھ میں لیے، باہر دیکھ رہا تھا جہاں کنکریٹ کے فارم ہاؤس، ٹین کی چھتیں، بھیگی ہوئی دھان کی کھیتیاں اور کبھی کبھار کوئی اکیلی گائے بادلوں سے ڈھکے آسمان کے نیچے گزرتی جا رہی تھیں۔ ہماری ٹرین 08:20 پر گوہاٹی پہنچی۔۔۔ بالکل وقت پر۔
شہر سے باہر گینڈوں اور دھندلے پہاڑوں کی تلاش میں نکلنے سے پہلے، میں نے گوہاٹی کی ویلاگر انوشیا شرما سے ملاقات کی، جن کی انسٹاگرام ویڈیو نے وندے بھارت سلیپر ٹرین کے بارے میں جوش و خروش بڑھانے میں مدد کی تھی۔
شرما نے کہا ’مجھے یہ ٹرین واقعی پسند آئی۔ میں دیکھ سکتی تھی کہ لوگ حقیقت میں چیزوں کا خیال رکھ رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ یہ عام ٹرین سے تھوڑی مہنگی تھی۔‘

مجھے بھی یہ ٹرین پسند آئی، جزوی طور پر اس لیے کہ ہموار سفر نے سونا ممکن بنا دیا لیکن زیادہ تر انہی وجوہات کی بنا پر کہ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی گئی تھی۔ اس کے سلیپر کوچز کی ترتیب پرانی انڈین ٹرینوں کے ڈیزائن سے بہت زیادہ مختلف نہیں لیکن صفائی تجربے کو بدل دیتی ہے۔
جب ہم نے اس وائرل ویڈیو پر بات کی جس میں کوچ میں کوڑا پھیلا ہوا دکھایا گیا تھا، تو میں نے شرما سے پوچھا کہ کیا وہ دوبارہ اس ٹرین میں سفر کرنا چاہیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے سفر میں سب کچھ صاف اور ترتیب میں تھا لیکن میں جا کر بالکل یہی دیکھنا چاہوں گی کہ چھ ماہ بعد اس کی حالت کیا ہو گی۔ حکومت نے یہ ٹرین بنانے اور یہ سروس فراہم کرنے میں بہت اچھا کام کیا لیکن اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے برقرار رکھتے ہیں۔‘
میں نے راجو ناتھ کے بارے میں سوچا اور امید کی کہ چند ماہ بعد بھی وہ اسی فخر کے ساتھ اپنے پسندیدہ کوچ کے واش روم کو دکھا رہے ہوں گے۔ اصل امتحان شاید یہ نہیں کہ آیا انڈیا ایک اعلیٰ معیار کی سلیپر ٹرین بنا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ اسے نئی جیسا برقرار رکھ سکتا ہے۔

























