بنوں پولیس چوکی پر حملے میں 15 اہلکاروں کی ہلاکت: ’ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چوکی فتح خیل پر سنیچر کی شب شدت پسندوں کے حملے میں 15 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کی شب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کے ساتھ اس چوکی پر حملہ کیا۔
مقامی افراد کے مطابق پہلا دھماکہ انتہائی زور دار تھا اور اس کے بعد مسلسل دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ یہ سلسلہ دو سے ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ ان دھماکوں سے عمارت منہدم ہو گئی اور اس چوکی میں تعینات بیشتر اہلکار ملبے تلے دب گئے تھے۔
تین اہلکاروں کی لاشیں تو رات ملبے کے نیچے سے نکال لی گئی تھیں جبکہ باقی 12 اہلکاروں کی لاشیں اتوار کی صبح نکالی گئیں۔
اس کے علاوہ تین اہلکاروں کو زندہ نکالا گیا، جنھیں زخمی حالت میں ہسپتال منقتل کر دیا گیا۔
بنوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ ایم ٹی آئی کے ترجمان محمد نعمان خان نے بتایا کہ تینوں زحمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انھیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
کالعدم تنظیم ’اتحاد المجاہدین پاکستان‘ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تین تنظیموں کا اتحاد ہے اور ان کی وابستگی طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ ہے۔
ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن بنوں میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنوں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس فرنٹ لائن پر ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حساس علاقہ
فتح خیل پولیس چیک پوسٹ ایک ایسی پولیس چوکی ہے جو مسلح شدت پسندوں کے گڑھ میں قائم ہے اور یہاں آئے روز مسلح افراد کے حملوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، کچھ حملے پسپا کر دیے جاتے ہیں اور کبھی کچھ اہلکار زخمی یا کسی کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
سنیچر کی شب کا حملہ اتنا شدید تھا کہ پوری عمارت ہی منہدم ہو گئی۔
خیبر پختونخوا میں اگرچہ کچھ عرصے سے مسلح شدت پسندوں کے حملوں کا طریقہ کار یہی رہا ہے جس میں ہدف پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا جاتا ہے اور پھر مسلح افراد اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یا وہاں زیادہ نقصان کے لیے کوششیں کرتے ہیں۔
اس طرح کے حملے کیڈٹ کالج وانا جنوبی وزیرستان، ایف سی ہیڈ کوارٹر بنوں اور پشاور میں بھی ہو چکے ہیں۔
بنوں میں پولیس تھانوں، ایف سی ہیڈ کوارٹر، پولیس چوکیوں اور چھاؤنی پر حملوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن فتح خیل چوکی پر سب سے زیادہ حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران فتح خیل اور اس کے قریب 40 کے لگ بھگ حملے ہو چکے ہیں۔
اس پولیس چوکی کے لیے اہلکاروں کی تعداد دیگر تمام چوکیوں سے زیادہ بتائی گئی جو 29 ہے لیکن ان میں کوئی صبح کے اوقات میں ڈیوٹی کرتے ہیں تو کوئی چھٹی پر یا دیگر ڈیوٹی کے لیے چلے جاتے ہیں۔
اس چوکی کی حدود میں سرکاری ملازمین کے اغوا اور انھیں ٹارچر کرنے جیسے واقعات بھی رُونما ہوتے رہے ہیں۔
’ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس پولیس چیک پوسٹ کے قریب کچھ عرصے کے لیے تعینات ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہاں ایک خوف کی صورتحال ہوتی ہے، ہر رات ایسا لگتا تھا کہ آج کچھ ہو گا، تمام اہلکار شام کے بعد سے چوکنا ہو جاتے ہیں اور کئی حملے پسپا بھی کیے گئے ہیں لیکن اُن کے بقول وسائل کی کمی کی وجہ سے ہر وقت دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنا مشکل ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ بنوں کے کچھ علاقوں میں ایسے تھانے اور چوکیاں ہیں جہاں پولیس اہلکار ڈیوٹی نہیں کرنا چاہتے، ان میں فتح خیل پولیس چوکی سرِ فہرست ہے۔
بنوں کے مضافات میں نورڑ روڈ پر دو چوکیاں اور ایک تھانہ چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان میں پہلے کنگری پل چوکی ہے، اس سے دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر فتح خیل چوکی ہے اور اسی طرح اس سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھانہ مریان ہے۔
ان تینوں مقامات پر متعدد حملے ہو چکے ہیں لیکن سب سے زیادہ حملے فتح خیل چوکی پر ہی ہوئے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ سڑک آگے جانی خیل اور پھر شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں سے منسلک ہو جاتی ہے، اس علاقے میں آس پاس بڑی تعداد میں مسلح شدت پسند رہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ بنیادی طور پر یہ چوکی غیر ضروری ہے کیونکہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ نے نوالہ بنا کر شدت پسندوں کے سامنے رکھ دیا ہو وہ جس وقت چاہیں آ کر حملہ کر سکتے ہیں۔
اُن کے بقول یہاں پولیس اہلکاروں کے پاس کوئی بنیادی سہولیات نہیں ہوتیں جن کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔
اس چیک پوسٹ سے کچھ فاصلے پر تھانہ میریان واقع ہے جبکہ اس سے پہلے کنگر پل چوکی ہے۔
یہ علاقہ بنوں کے مضافات میں واقع ہے اور اس علاقے میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں۔ گذشتہ سال لارون حملوں کے حوالے سے ایک رپورٹ کے لیے ہم اس علاقے میں گئے تھے اور یہ بتایا گیا تھا کہ چند ماہ میں تھانہ میریان پر کواڈ کاپٹر سے 19 حملے کیے جا چکے تھے۔
حملوں کا یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا اور اس سال اب تک کی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں تشدد کے سبسے زیادہ واقعات بنوں میں پیش آئے ہیں۔
بنوں میں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں، جہاں آئے روزٹارگٹ کلنگ، سرکاری ملازمین کے اغوا اور پولیس پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
























