نور خان، بھولاری ایئر بیس اور رحیم یار خان ایئرپورٹ پر انڈین حملوں کے بعد عینی شاہدین نے کیا دیکھا تھا؟

سیٹلائٹ تصاویر

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

    • مصنف, شہزاد ملک، روحان احمد اور زبیر اعظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

یہ نو مئی 2025 کی رات تھی اور جنوبی ایشیا کی دو پڑوسی جوہری طاقتوں کے درمیان وہ تنازع سنگین شکل اختیار کر چکا تھا جس کا آغاز تین روز قبل انڈیا کی جانب سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں متعدد مقامات پر میزائل حملوں سے ہوا تھا۔

نو مئی کی تاریخ کیلینڈر پر نمودار ہونے تک بات فضائی اڈوں پر حملوں اور لڑاکا طیارے گرانے کے دعوؤں تک پہنچ چکی تھی۔

تاہم آئندہ آنے والے دنوں میں انڈین فضائیہ کے ایئرمارشل اے کے بھارتی نے طیارے گرانے کے پاکستانی دعوؤں سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ابھی حالتِ جنگ میں ہیں اور نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔۔۔‘ اس موقع پر انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انڈیا نے پاکستان کے ’کچھ طیارے‘ گرائے ہیں، جن کی تعداد کا ’مجھے علم ہے مگر میں ابھی تعداد نہیں بتاؤں گا۔‘

یہ کشیدہ صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب نو اور دس مئی 2025 کی درمیانی رات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے متصل شہر راولپنڈی میں واقع نور خان ایئربیس اور اس سے ملحقہ علاقے شدید دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھے۔ یہ دھماکے اتنے زوردار تھے کہ ان کی آوازیں اسلام آباد کے کئی علاقوں میں بھی سنی گئیں۔

Nur Khan Airbase

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس راولپنڈی میں انڈین حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے نور خان ایئربیس جانے والے راستہ بند کر دیا تھا

کچھ دیر بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرس کی اور بتایا کہ انڈیا نے پاکستان کے تین فضائی اڈوں، جن میں راولپنڈی کی نور خان ایئر بیس، شورکوٹ کی رفیقی ایئربیس اور چکوال کی مرید ایئر بیس شامل ہیں، کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ان میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا گیا اور یہ کہ ان فضائی اڈوں پر موجود پاکستانی فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ رہے ہیں اور انڈیا اب پاکستانی ردعمل کا انتظار کرے۔

مگر بات یہاں تھمی نہیں اور دس مئی کا دن طلوع ہوا تو چند گھنٹے بعد صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں واقع بھولاری ایئربیس اور رات کو رحیم یار خان میں واقع ایئرپورٹ پر بھی انڈین فضائی حملوں کی خبریں سامنے آئیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس جنگ کا ایک برس مکمل ہونے پر بی بی سی اُردو نے حملوں کے وقت اور اس کے فوراً بعد نور خان ایئر بیس، بھولاری ایئربیس اور رحیم یار خان ایئرپورٹ تک رسائی حاصل کرنے والے کچھ افراد سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ نو اور دس مئی 2025 کو ان مقامات پر کیا ہوا تھا۔

بی بی سی نے اس سے متعلق ایک تفصیلی سوالنامہ پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھیجا، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک ان سوالوں کے جواب موصول نہیں ہوئے۔

نور خان ایئربیس

نور خان ایئربیس

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنانڈین حملے کے بعد 10 مئی کو لی گئی نور خان ایئربیس کی سیٹلائٹ تصویر میں نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں

اسلام آباد کے پرانے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے متصل نور خان ایئربیس ماضی میں چکلالہ ایئربیس کے نام سے جانی جاتی تھی اور 2012 میں اسے پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ایئرمارشل نور خان سے منسوب کر دیا گیا۔

سنہ 2018 میں اسلام آباد کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے آپریشنل ہونے کے بعد سے پرانے ایئرپورٹ کا کنٹرول بھی پاکستانی فضائیہ کے پاس ہی ہے اور فوج کے زیر استعمال طیاروں کے علاوہ اب اسے اعلیٰ حکام کے علاوہ اہم غیرملکی شخصیات اور سربراہانِ مملکت کی آمد اور روانگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر اسی ہوائی اڈے کو دونوں ممالک کے وفود کی پروازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

 نور خان ایئربیس

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنانڈین کارروائی کے تقریباً ایک برس بعد 2026 میں نور خان ایئربیس کی سیٹلائٹ تصویر
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان ایئر فورس کے ایک اہلکار کے مطابق نو مئی کی شب نور خان ایئربیس پر انڈین فوج کی جانب سے دو میزائل داغے گئے تھے جنھیں کامیابی سے روکا گیا اور وہ اپنے ممکنہ ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔

اس رات نور خان ایئربیس کے اندر موجود اور وی وی آئی پی روٹ پر تعینات ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’نو اور دس مئی کی رات کو وی وی آئی پی موومنٹ کے لیے نور خان ایئربیس اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر سکیورٹی انتظامات مکمل تھے کہ اچانک روٹ کینسل کر دیا گیا۔‘

’پھر کچھ دیر بعد دو زوردار دھماکے ہوئے جس کے فوراً بعد فوج کے جوانوں نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں ایئربیس کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔‘

روٹ کے لیے اسلام آباد ایکسپریس وے پر تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق نشانہ بنائے گئے انڈین میزائل کے ٹکڑے نور خان ایئر بیس کے ’فنل ایریا‘ میں بھی گرے تھے۔ نور خان ایئربیس کا فنل ایریا اس سے ملحقہ لوئی بھیر کی آبادی سے شروع ہوتا ہے اور دو نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی اس کی حدود میں آتی ہیں۔

اسلام آباد کے تھانہ کورال کی پولیس کے مطابق میزائل کے کچھ حصے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر آباد علاقے میں بھی گرے تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق میزائل کے کچھ حصے نور خان ایئربیس سے ملحقہ فالکن کالونی کے قریب گرے جس سے زمین پر گڑھا پڑ گیا تھا۔

اس علاقے کے ایک رہائشی تبریز عباسی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں اُن کے دو جانور ہلاک ہو گئے تھے جو انھوں نے عیدالاضحی پر قربانی کی غرض سے خرید رکھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں متعدد مکانات کے شیشے بھی ٹوٹ گئے تھے۔

اہلکار کے مطابق میزائل حملہ ناکام بنائے جانے کے کچھ دیر بعد ہی فوج کے جوانوں نے میزائل کا تمام ملبہ اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا جبکہ نور خان ایئربیس کی قریبی آبادیوں کے رہائشیوں کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ گھروں کی چھتوں پر نہ جائیں اور اپنی نقل وحرکت محدود رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود دھماکوں کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہو گئی تھی جنھیں محفوظ مقام پر جانے کے لیے اعلانات بھی کروائے گئے لیکن کوئی بھی شخص وہاں سے جانے کو تیار نہیں تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ نور خان سمیت تمام فضائی اڈوں پر موجود پاکستانی فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ رہے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد کچھ صحافیوں کو نور خان ایئربیس کا دورہ بھی کروایا گیا تھا اور ایک صحافی نے بتایا کہ دورے کے دوران انھیں اس ایئربیس میں واقع رہائشی علاقے میں بھی لے جایا گیا تھا لیکن انھوں نے وہاں پر ایسا کوئی مقام نظر نہیں آیا جو کہ انڈین میزائل کی زد میں آیا ہو۔

تاہم بی بی سی نے میکسر ٹیکنالوجیز اور پلینٹ لیبز کی طرف سے نور خان ایئر بیس کی انڈیا پاکستان جنگ کے بعد لی گئی سیٹیلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جس میں اس ایئربیس پر ایک جانب نقصان پہنچنے کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

بھولاری ایئربیس پر کیا ہوا؟

بھولاری ایئربیس

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے حملے کے بعد 11 مئی 2025 کو سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی بھولاری ایئربیس کی ایک تصویر

پاکستان فضائیہ کی بھولاری ایئربیس سندھ کے ضلع جامشورو کے قریب واقع ہے۔ اس کا افتتاح سنہ 2017 میں کیا گیا تھا اور افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فضائیہ کے اُس وقت کے سربراہ سہیل امان نے کہا تھا کہ فضائیہ کی یہ نئی آپریشنل ایئربیس چائنہ، پاکستان اکنامک کوریڈور یعنی سی پیک منصوبے کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

10 مئی 2025 کو دن گیارہ بجے کے قریب اس اڈے کے قریب واقع آبادیوں کے رہائشیوں نے زوردار دھماکے کی آوازیں سُنی تھیں۔

ابتدائی طور پر حکام کی جانب سے بتایا جا رہا تھا کہ دھماکے کی جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے مگر اسی دوران سوشل میڈیا پر مقامی افراد کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایسی ویڈیوز چلنا شروع ہوئیں، جن میں دیکھا جا سکتا تھا کہ اس ایئربیس کے اندر سے دھویں کے سیاہ بادل اُٹھ رہے ہیں۔

بی بی سی نے میکسر ٹیکنالوجیز اور پلینٹ لیبز کی طرف سے بھولاری ایئر بیس کی اس تنازع سے قبل اور بعد بنائی گئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جس میں اس ایئر بیس کے ایک مقام پر نقصان پہنچنے کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔

بی بی سی اردو نے چند عینی شاہدین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن بھولاری ایئربیس میں کیا ہوا تھا۔

مجاہد شاہ مقامی صحافی ہیں اور ضلع جامشورو کے رہائشی ہیں۔ 10 مئی 2025 کے دن کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے بالکل درست وقت تو اب یاد نہیں ہے لیکن یہ کوئی 10 یا 11 بجے کے آس پاس کا وقت تھا۔ میں اپنے گھر میں چائے پی رہا تھا کہ اچانک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’جنگ کا دور تھا تو مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ کوٹری بیراج ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے، شاید انڈیا کی جانب سے اس پر حملہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک اہم تنصیب ہے۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ابتدائی معلومات کرنے پر انھیں معلوم ہوا کہ بھولاری ایئربیس حملے کی زد میں آئی ہے۔

’دھماکے کی آواز سننے کے بعد لوگ فوراً سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہو گئے تھے۔ جو مقامی افراد بھولاری ایئربیس کے قریب تھے انھوں نے فیس بک پر لائیو سٹریمنگ شروع کر دی تھی۔‘

ایئر بیس پر حملے کے بعد مقامی ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں کو بھی ریسکیو سرگرمیوں کے لیے بیس کے اندر لے جایا گیا تھا۔

بھولاری ایئربیس

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنبھولاری ایئربیس کا متاثرہ علاقہ حملے کے ایک برس بعد کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے

بی بی سی اُردو نے ایمرجنسی سروسز کے دو ایسے اہلکاروں سے بات کی ہے جو ایئربیس کے اندر امدادی کاموں میں شامل تھے۔ معاملے کی حساسیت اور اُن کی درخواست کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر ہمارے علاقے میں ہنگامی حالات نہیں ہوتے، کبھی کبھار ہائے وے پر کسی بڑے حادثے کے نتیجے میں کچھ وقت کے لیے ایمرجنسی صورتحال میں ہماری ضرورت ہوتی ہے لیکن مئی 2025 میں انڈین حملوں کے بعد قومی سطح پر ایمرجنسی نافذ ہو چکی تھی اور اسی سلسلے میں ہماری چھٹیاں منسوخ کر دی گئی تھیں اور سٹیشن پر موجودگی کو ہر حال میں یقینی بنانے کے سخت احکامات تھے۔‘

وہ 10 مئی کی صبح کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ اور اُن کے ساتھی اپنے دفتر میں بیٹھے تھے جب انھیں ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی، جس سے، اُن کے مطابق، اُن کی عمارت بھی لرز گئی۔

’پہلے پہل تو دھماکے کے مقام کا تعین نہیں ہو رہا تھا، لیکن پھر ہمیں اطلاع دی گئی کہ فوری طور پر بھولاری ایئر بیس پہنچیں۔ ابھی ہم جامشورو ٹول پلازہ پر پہنچے ہی تھے کہ نزدیکی علاقوں کے مختلف ہسپتالوں کی ایمبولینسز بھی وہاں جاتی نظر آئیں۔‘

اُن کے مطابق وہ اگلے چند منٹوں میں ایئربیس کے مرکزی دروازے پر تھے جہاں انھیں سکیورٹی پروٹوکولز سے گزار کر ایئربیس کے رن وے کی طرف روانہ کیا گیا تاہم انھیں زخمیوں تک جانے نہیں دیا گیا بلکہ زخمیوں کو ان کے پاس لایا گیا۔

ان کے مطابق: ’فضا میں بارود کی بُو اور شدید دھواں تھا۔ ہمیں ایک محتاط فاصلے پر روک کر زخمیوں کو ریسکیو کروایا گیا، جنھیں ہم نے حیدرآباد میں سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا۔‘

شعبہ صحت کے اہلکار کہتے ہیں کہ انھیں اس دن شدت سے احساس ہوا کہ ’ہمارے سویلین سرکاری محکموں کو جنگ یا کسی اور بڑی ایمرجنسی یا لمبے عرصے تک ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مطلوب جدید تربیت کی اشد ضرورت ہے۔‘

بی بی سی اُردو کو ایمرجنسی سروسز کے ایک اور عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے اہلکاروں کو فون کال پر تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا تھا کہ ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ایئربیس بھیجی جائیں۔

’جب ہم لوکیشن پر پہنچے تو وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ہمارے موبائل فونز اور گیجٹس وغیرہ لے لیے تھے۔ ہم وہاں گئے تو ہینگر میں آگ لگی ہوئی تھی اور اسے بجھانے کی کوششیں جاری تھیں۔‘

ایمرجنسی سروسز کے عہدیدار نے بتایا کہ زخمیوں کو ایمبولینسز میں ڈالا جا رہا تھا جبکہ ’ہر ایمبولینس میں ان کا بندہ (سکیورٹی اہلکار) بیٹھا ہوا تھا۔‘

ان کے مطابق زخمیوں کو پہلے سی ایم ایچ ہسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا اور بعدازاں کچھ افراد کو کراچی بھی منتقل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئربیس پر حملے میں کچھ افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم وہ ان افراد کی شناخت سے واقف نہیں ہیں۔

پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر بھولاری ایئربیس پر ہونے والے اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات تو نہیں دی تھیں لیکن عسکری ذرائع نے اُس وقت بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ ایئربیس پر ہونے والے حملے میں سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

13 مئی 2025 کو ریڈیو پاکستان پر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں انڈیا کے ساتھ تنازع میں پاکستان کی مسلح افواج کے جن ’11 اہلکاروں کی ہلاکت‘ کی تصدیق کی گئی ان میں برّی فوج کے چھ اہلکاروں کے علاوہ فضائیہ کے یہ پانچ اہلکار بھی شامل تھے۔

بعدازاں 14 اگست 2025 کو پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ایئر فورس کے افسران اور اہلکاروں کو انڈیا کے خلاف تنازع میں فضائی کارکردگی دکھانے اعتراف میں قومی اعزازات سے نوازا گیا اور اس موقع پر عثمان یوسف کو بعد از مرگ تمغۂ بسالت جبکہ سینیئر ٹیکنیشن نجیب سلطان، چیف ٹیکنیشین محمد اورنگزیب، سینیئر ٹیکنیشن مبشر جاوید اور کارپورل ٹیکنیشین فاروق احمد کے لواحقین کو امتیازی اسناد دی گئی تھیں۔

رحیم یار خان ایئرپورٹ

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے حملے کے بعد 10 مئی کو رحیم یار خان ایئر پورٹ کی سیٹلائیٹ کی مدد سے لی گئی ایک تصویر

رحیم یار خان ایئرپورٹ

سولہ سالہ احمد اس رات دیر تک جاگ رہے تھے جب، اُن کے مطابق، ایک غیرمعمولی دھماکے کی آواز نے انھیں چونکا دیا۔ کچھ ہی دیر میں احمد اپنے والد کو جگا چکے تھے، جو تمام گھر والوں کے ساتھ اپنے مکان کے تہہ خانے میں منتقل ہو گئے۔

یہ آواز ان کے مکان سے تقریباً سوا چار کلومیٹر دور واقع ایئرپورٹ کی جانب سے آئی تھی۔ صبح ہونے پر انھیں علم ہوا کہ وہاں رات میں انڈیا کی جانب سے داغا جانے والا میزائل گرا تھا۔

دس مئی کی شب ہونے والا یہ حملہ اس کارروائی کا حصہ تھا، جس کے دوران انڈیا نے پاکستان میں مختلف فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

چند دن بعد انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے بیکانیر میں خطاب کیا تو انھوں نے بطور طنز رحیم یار خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں سے کچھ ہی دور سیما پار پاکستان کا رحیم یار خان ایئر بیس ہے۔ پتہ نہیں آگے کب کھلے گا۔ آئی سی یو میں پڑا ہے۔ بھارتی سینا نے اس ایَئربیس کو تہس نہس کر دیا ہے۔‘

تاہم انڈین وزیراعظم کے دعوے کے برعکس رحیم یار خان میں پاکستان کی فضائیہ کی کوئی ایئربیس موجود ہی نہیں بلکہ حملے کا نشانہ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زید کے نام سے منسوب رحیم یار خان کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنا تھا۔

رحیم یار خان کا یہ ایئرپورٹ کسی حساس فضائی اڈے کی طرح اونچی چار دیواری سے گھرا ہوا نہیں ہے بلکہ تقریباً 506 ایکڑ پر محیط اس ایئرپورٹ کے گرد صرف خاردار تار ہی نصب ہے۔ اسی لیے قریب سے گزرنے والی سڑک سے ایئرپورٹ کا رن وے اور عمارت صاف دکھائی دیتی ہے۔

جب اس ایئرپورٹ پر اس رات ہونے والے نقصان کے بارے میں وہاں تعینات ایک سول ایسوی ایشن کے اہلکار سے بات کی تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میزائل گرنے کی وجہ سے ایک گڑھا پڑ گیا تھا جو چھ فٹ تک گہرا اور اتنا ہی چوڑا تھا۔

بی بی سی نے میکسر ٹیکنالوجیز اور پلینٹ لیبز کی طرف سے رحیم یار خان ایئرپورٹ کی اس تنازع کے فوراً بعد بنائی گئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کیں جس میں بظاہر اس ایئرپورٹ کے رن وے کے ایک مقام پر نقصان پہنچنے کے اثرات دکھائی دیتے ہیں اور 2026 کی تصویر میں اس مقام کی مرمت کر دی گئی ہے۔

رحیم یار خان ایئرپورٹ

،تصویر کا ذریعہMaxar/PlanetLabs

،تصویر کا کیپشنرحیم یار خان ایئر پورٹ کے متاثرہ رن وے کی مرمت کے بعد کا منظر

ایک اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ ایئرپورٹ کا لاؤنج بھی دھماکے سے متاثر ہوا تھا، جہاں شیشے ٹوٹنے کے ساتھ کچھ اور نقصان بھی ہوا۔ تاہم اُن کے مطابق اس واقعے میں یہاں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

شیخ زید انٹرنیشنل ایئرپورٹ رحیم یار خان کے مینیجر احمد علی میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جہاں میزائل حملے میں ہونے والے نقصان کی تصدیق کی وہیں یہ بھی بتایا کہ مرمت کا کام قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل کر لیا گیا ہے۔

گذشتہ سال رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر خرم جاوید نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ ایک میزائل اور ڈرون کی مدد سے اسے نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے بتایا تھا کہ اس ایئرپورٹ پر کمرشل فلائٹ آپریشن کافی عرصہ پہلے سے معطل تھا اور اسے صرف متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کی جانب سے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

احمد علی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ایئرپورٹ پر کمرشل فلائٹ آپریشن تقریباً چار سال سے بند ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زید ستر کی دہائی سے قبل سے ہی رحیم یار خان شکار کے لیے آیا کرتے تھے جہاں ان کے نام سے ایک محل بھی مضافات میں واقع ہے اور اب بھی یو اے ای کے حکمران اور شاہی خاندان کے ارکان ہر سال یہاں آتے ہیں۔

احمد علی میمن نے بتایا کہ گذشتہ سال دسمبر میں شاہی خاندان سے متعلقہ پروازیں رحیم یار خان ایئرپورٹ پر ہی اُتری تھیں۔ یاد رہے کہ موجودہ یو اے ای کے صدر نے چند ماہ قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے رحیم یار خان میں ہی ملاقات بھی کی تھی۔

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ایئرپورٹ پر چار پارکنگ بیز ہیں جن میں دو چوڑے یا چار درمیانے جہاز پارک کیے جا سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سول ایوی ایشن کے ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے اپنی موجودگی میں اس ایئرپورٹ پر پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو کبھی نہیں دیکھا۔

اس حوالے سے ایئرپورٹ مینیجر احمد علی نے بتایا کہ کبھی کبھار ایئرفورس کا سی ون تھرٹی طیارہ رحیم یار خان ایئرپورٹ استعمال کرتا ہے۔

پاکستان ایئرفورس کے سابق افسر ریٹائرڈ ایئر کموڈور خالد چشتی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایئر فورس آپریشنل سکیورٹی کی وجہ سے کبھی بھی کسی مقام کے بارے میں یہ نہیں بتانا چاہے گی کہ آیا اسے کسی دفاعی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کو بھی سوالات بھجوائے تاہم ان کی جانب سے اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔