اتر پردیش کے روایتی کھانوں میں سے بریانی، قورمہ اور کباب غائب: ’یہ فہرست ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے‘

کھانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتر پردیش کے فوڈ میپ سے گوشت غائب
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

اگر انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے تمام 75 اضلاع کے مخصوص کھانوں کی فہرست تیار کی جائے اور اس میں قورمہ، کباب، بریانی حتیٰ کہ گوشت کا کوئی پکوان نہ ہو تو کیا کسی کے ماتھے پر کوئی بل پڑنا چاہیے؟

ریاست میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے ہر ضلع کے مخصوص کھانوں کی تشہیر اور پیکجنگ کے لیے ’ون ڈسٹرکٹ ون کیوزین‘ پروگرام کے تحت ایک فہرست جاری کی ہے، جس میں کوئی بھی ایسی ڈش شامل نہیں جس میں گوشت موجود ہو۔

ابھی گذشتہ سال ہی عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو نے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ کو اس کے متنوع اودھی کھانے کے لیے ’کریٹو سٹی آف گیسٹرونومی‘ کی فہرست میں شامل کیا تھا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس نئے فوڈ میپ کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اس کا ذکر کیا۔

لیکن تمام اضلاع سے جو 208 ’مخصوص اور لذیذ‘ پکوانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے اس میں گوشت کا شائبہ تک نہیں ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے ایک زمانے سے ویجیٹیرین کھانوں کو فروغ دینے کی کوششں کی جا رہی ہیں۔

چنانچہ سٹیٹ ڈنرز میں بھی اس کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ گذشتہ سال جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انڈیا کا دورہ کیا تھا تو انڈین صدر نے ان کے لیے جو دسترخوان ترتیب دیا تھےاس میں بھی سب وجیٹیرین ڈشز کھانے ہی تھے۔

اس وقت اسے بعض حلقے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ مہمان دعوت سے واپس آنے کے بعد اپنے ہوٹل میں روم سروس کے تحت اپنی پسند کا کھانا منگوا رہے ہیں۔

سینیئر صحافی سہاسنی حیدر نے اسی فروری میں ایک عشائیے کا مینو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا: ’جلے ہوئے انناس کے دہی کا جھاگ اور سیخ پر بھنے کیلے کے پھول؟ دہلی کے سفارتی حلقوں میں یہ باتیں سامنے آنے لگی ہیں کہ آنے والے معززین اب معمول کے مطابق سرکاری ضیافتوں میں ایسے عجیب و غریب کھانوں سے واپس آتے ہیں اور روم سروس سے (دوسرے) انڈین کھانے کا آرڈر دیتے ہیں۔‘

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ صدر دروپدی مرمو نے ویت نام کے صدر کے اعزاز میں جو عشائیے کا اہتمام کیا اس میں سارے وجیٹیرین کھانے تھے۔

کھانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسلمی حسین کا کہنا ہے کہ سبزی پر مبنی فہرست تو تیار کی جا سکتی ہے لیکن وہ جامع نہیں ہوگی

اترپردیش کی فہرست پر تنقید

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہم نے اترپردیش کی تازہ فہرست کے متعلق معروف فوڈ مؤرخ اور دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر پُشپیش پنت سے پوچھا تو انھوں نے اسے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کے اعدادو شمار خود بتاتے ہیں کہ انڈیا میں 67 فیصد سے زیادہ لوگ گوشت کھاتے ہیں، ایسے میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ فہرست کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔

واضح رہے کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس 2019-21) کے مطابق 77 فیصد سے زیادہ انڈینز (تقریباً 83 فیصد مرد اور 15-49 سال کی عمر کی 70 فیصد خواتین) نان ویجیٹیرین کھانا کھاتے ہیں۔

پروفیسر پُشپیش پنت نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ’ہندوؤں کی اعلی ذات میں گوشت کھانے کا رجحان رہا ہے۔ بہت جگہ کے برہمن تک گوشت کھاتے ہیں جن میں کشمیری، میتھلی اور گوا کے سراسوت برہمن شامل ہیں، جبکہ ٹھاکروں کے کھانے پینے میں گوشت کی اہمیت ابتدا سے رہی ہے۔ دلت اور قبائلی ہمیشہ سے گوشت کھاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ منگل کو گوشت نہیں کھاتے، کچھ گھر میں نہیں کھاتے، کچھ کے گھر میں نہیں پکتا لیکن بابر سے منگا کر کھاتے ہیں، کچھ مذہبی تہوار کے زمانے میں نہیں کھاتے ہیں، کسی گھر میں خواتین نہیں کھاتی ہیں، لیکن مرد کھاتے ہیں۔ ایسے میں آپ کھانوں کو کس طرح کسی ایک علاقے تک محدود کر سکتے ہیں۔‘

کباب
،تصویر کا کیپشنلکھنؤکے کھانوں میں کباب کی خاص جگہ ہے لیکن فہرست میں اس کی کوئی جگہ نہیں

انھوں نے مزید کہا: ’اب لکھنؤ ہی کی بات لے لیں تو وہاں کے کباب، بریانی، قورمے کے بغیر بات ہی نہیں بنتی۔ بنارس کے کھانوں پر آپ کو بھوج پور اور متھلا کے کھانوں کے اثرات نظر آئيں گے جبکہ مغربی اترپردیش کے کھانوں پر روہیل کھنڈ کے اثرات۔‘

پروفیسر پنت نے کہا کہ ’اضلاع بنتے رہتے ہیں اور یہ حکومتی نظام میں آسانی کے لیے بنائے جاتے ہیں لیکن آپ کھانوں کو کیسے تقسیم کر سکتے ہیں کہ یہ یہاں کا مخصوص ہے اور وہ وہاں کا نہیں۔‘

معروف فوڈ مورخ سلمی حسین سے ہم نے اس بابت دریافت کیا کہ کیا بغیر گوشت کے کھانوں کی کوئی ایسی فہرست بنائی جا سکتی ہے جو اترپردیش کے تمام اضلاع کی نمائندگی کر سکے تو انھوں نے کہا کہ ’یہ سیاسی فیصلے ہیں اور ہم اس پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

ان کے مطابق ایسی فہرست تیار تو کی جاسکتی ہے جیسا کہ حکومت نے تیار کی ہے لیکن یہ جامع نہیں ہو سکتی اور اودھ کے کھانوں کی جو دھوم رہی ہے ان میں سبزیوں کے ساتھ گوشت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔

لکھنؤ کے فوڈ بلاگر اور معروف داستان گو ہمانشو واجپئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس فہرست سے واضح ہے کہ یہ ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے لیکن میرا یہ سوال ہے کہ جہاں آپ نے ایک ضلع کے لیے ایک سے زیادہ پکوان رکھے ہیں، ایسے میں اگر قورمہ، کباب اور بریانی بھی اس میں شامل ہوتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں بذات خود سبزی خور ہوں لیکن لکھنؤ کے کھانوں کا ذکر ہو اور اس میں کباب، نہاری اور قلچوں کا ذکر نہ ہو تو یہ گراں تو گزرتا ہے۔‘

پان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپروفیسر پنت کا کہنا ہے کہ لوگ پان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں نہیں اور بنارس کی پہچان میں بنارسی پان کو شامل کر دیتے ہیں

فہرست کیا کہتی ہے؟

اترپردیش کے ہر ضلع کے مخصوص پکوان کا خیال سب سے پہلے گذشتہ سال دسمبر میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پیش کیا تھا۔ پھر رواں سال 24 جنوری کو 'اترپردیش ڈے' کے جشن کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ کی موجودگی میں اس کا اعلان کیا گيا۔

لیکن 4 مئی پیر کے روز ریاستی کابینہ نے اس فہرست کو منظور کر لیا، جس کا مقصد ہر ضلع کے روایتی کھانوں کو فروغ دینا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق اس فہرست میں تمام 75 اضلاع اور 18 ڈیویژن کے 208 پکوانوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخر ان کھانوں کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گيا؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر پنت نے کہا کہ ضلعی سطح کے اہلکاروں نے اپنے اعلی افسروں کو خوش کرنے کے لیے ایسی فہرست تیار کی ہے۔

ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ فہرست اتنی ہی خراب ہے جتنی کہ اس کے بنانے والے کی بابوؤں کی کھانا پکانے کی صلاحیت۔‘

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائز کے ریاستی وزیر راکیش سچن نے کہا کہ یہ فہرست حتمی نہیں ہے اور رائے عامہ اور تجاویز کی بنیاد پر اس میں ترمیم و اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ہم یہاں ذکر لکھنؤ کے ان روایتی پکوانوں کا کر رہے ہیں جن کو حکومتی فہرست میں شامل کیا گيا ہے۔ ان میں ریوڑی، چاٹ، ملائی مکھن اور آم کی مصنوعات شامل ہیں۔

اسی طرح آگرہ کے پکوانوں میں پیٹھا، دال موٹ، گجک، آگرے کی طرز کے پراٹھے کو شامل کیا گيا ہے جبکہ وارانسی (یعنی بنارس) کے لیے ترنگا برفی، ٹھنڈ‏ئی، لسی، کچوڑی، بنارسی پان، لونگ لتا نے فہرست میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

لسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک طرح کے پکوان کئی اضلاع سے منسوب ہیں ایسے میں کون یہ فیصلہ کریگا کہ کہاں کی ٹھنڈئی یا لسی بہتر ہے

رام پور کے کھانوں میں حبشی حلوے نے جگہ بنائی ہے جبکہ پریاگ راج یعنی الہ آباد کے لیے سبزی کچوڑی، امرتی اور رسگلہ کے منتخب کیا گيا ہے۔

فہرست لمبی ہے لیکن پروفیسر پشپنت کا سوال ہے کہ اب یہ کون طے کرے گا کہ کہاں کی ریوڑی بہتر ہے یا کہاں کا پیٹھا بہتر ہے؟ الہ آباد کی کچوڑی بہتر ہے یا پھر بنارس کی۔

انھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کسی کو پان کی اقسام معلوم ہی نہیں ہے اور بنارسی پان کا ذکر کرتے ہیں۔ پان کی اقسام ان کے پتوں کی بنیاد پر طے ہوتی ہے اور بنارسی پتا کوئی ہوتا نہیں ہے۔

انھوں نے لکھنؤ کے گلاوٹی کباب کے ساتھ کباب کی دوسری اقسام کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ’کاکوری کباب یا چار مغز کا مرغ روایتی اودھی کھانے ہیں، جو لکھنؤ کے کایستھوں کے گھروں میں بنتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آپ کو مراد آبادی بریانی، لکھنوی بریانی، رام پور کے قورمے کا ذکر ملتا ہے اور وہی وہاں کے کھانوں میں شامل نہیں ہے اور اس سے حکومت کی نیت کا واضح پتا چلتا ہے۔

اترپردیش کے روایتی کھانوں کا ڈکومینٹیشن کرنے والے معروف عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کو اس فہرست کے پس پشت کی سیاست معلوم ہے۔ لیکن اترپردیش کے جن کھانوں کا اس میں ذکر ہے ان سے کہیں زیادہ وہ کھانے مشہور ہیں جن کا اس میں ذکر نہیں ہے۔‘