پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسہ کیسے شامل ہو رہا ہے اور یہ ایک سنگین خطرہ کیوں ہے؟

سیسہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

عامر شہزاد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے صنعتی علاقے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے نزدیک کلمہ چوک کے رہائشی اور دیہاڑی دار مزدور ہیں۔

ان کے پانچ بچے اکثر بیمار رہتے ہیں مگر آٹھ سالہ طوبیٰ شہزادی کو گذشتہ ایک سال سے جسمانی صحت کے شدید مسائل کا سامنا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عامر شہزاد کا کہنا تھا کہ طوبیٰ کچھ عرصہ پہلے تک ٹھیک تھی۔ ’یہ ہمارے گھر کی رونق ہے، گذشتہ ایک سال سے پتا نہیں کیا ہوا کہ انتہائی بیمار رہنے لگی ہے۔ نہ کسی سے بات کرتی ہے، نہ ہنستی کھیلتی ہے، پڑھائی بہت دلچسپی سے کرتی تھی مگر وہ سلسلہ بھی رک گیا۔‘

’ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کی دماغی نشونما رک گئی ہے۔ انھوں نے دوائیں دی ہیں اور کہا ہے کہ اس کو صاف پانی پلائیں، ایسی خوراک اور پانی دیں جس میں آلودگی اور سیسہ نہ ہو۔‘

عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ ’کیا پتا کس پانی اور خوراک میں سیسہ یا آلودگی ہے۔ سرکاری نل کا پانی پیتے ہیں اور بازار سے سبزیاں خریدتے ہیں۔‘

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے بچوں کی فلاح و بہبود کے ادارے یونیسف اور پاکستان کی وفاقی وزارت صحت کی جانب سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی جس کے مطابق پاکستان کے صنعتی علاقوں میں رہنے والے بچوں میں سیسے کی بلند سطح پائی جاتی ہے جو صحت کا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

سیسہ

،تصویر کا ذریعہunicef

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صنعتی علاقوں میں رہنے والے بچوں میں سیسے کی بلند سطح پائی جاتی ہے

رپورٹ کے مطابق ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے میں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ شرح بہت کم ہے۔

اس رپورٹ پر خیبر پختونخواہ میں ماحولیاتی تحفظ کے ادارے انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) کے ڈائریکٹر محمد افسر کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد انھوں نے پشاور سے ایک تحقیقاتی ٹیم مقرر کی گئی ہے جو حطار جا کر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ ان کے مطابق یہ ٹیم مختلف ٹیسٹ بھی کرے گی۔

ہری پور کے ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر محسن رضا ترابی کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اور یونیسیف کی اس تحقیق کا مقصد مستقبل کی پالیسیاں مرتب کرنا ہے۔

ان کے مطابق ابھی ایک اور تحقیقاتی رپورٹ بھی تیار کی جائے گی جس کا مقصد ذریعے صنعتی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو سیسے سمیت دیگر آلودگیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پالیساں مرتب کرنے میں مدد دینا ہے۔

یونیسف اور وزارت صحت کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یونیسف اور وزارتِ قومی صحت نے پاکستان میں بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کو خطرہ قرار دیا ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والی دونوں اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سات بڑے شہروں کے ہائی رسک ایریاز میں رہنے والے 12 سے 36 ماہ کی عمر کے تقریباً ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں سیسے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

اس تحقیق کے تحت اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی اور ہری پور کے صنعتی علاقوں میں رہنے والے 2,100 سے زائد بچوں کے خون کے نمونے حاصل کیے گئے۔

رپوٹ میں مختلف علاقوں کے بچوں میں سیسے کی موجودگی کی شرح میں واضح فرق پایا گیا۔ نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کا حطار صنعتی علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ یہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی۔ اس کے مقابلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان شہروں اور ان کے صنعتی یا زیادہ خطروں والے علاقوں کا انتخاب صوبوں کے محکمہ صحت کی سفارشات اور پہلے سے موجود شواہد کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر ان علاقوں پر توجہ دی گئی جو صنعتوں، گاڑیوں کے دھوئیں اور ماحولیاتی آلودگی کے قریب واقع تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیسہ بچوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ دماغ اور اعصابی نظام کی نشونما کو متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں بچوں کی ذہانت (آئی کیو) اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی کے علاوہ ان میں توجہ دینے میں مشکل، یادداشت کی کمزوری اور رویے کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یونیسف کے مطابق بالغ افراد کے مقابلے میں بچے سیسہ زیادہ جذب کرتے ہیں۔ ان کے جسم میں اس کی کوئی محفوظ سطح موجود نہیں اور بہت کم مقدار بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

فیکٹری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیونیسف کے مطابق بالغ افراد کے مقابلے میں بچے سیسہ زیادہ جذب کرتے ہیں

سیسے کی آلودگی کے ممکنہ ذرائع میں صنعتی فضلہ، بیٹریوں کی غیر رسمی ری سائیکلنگ، سیسے پر مبنی پینٹ، آلودہ مصالحے اور خوراک، اور بعض روایتی کاسمیٹکس شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیسے کی آلودگی صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو چھ سے آٹھ فیصد تک کا نقصان پہنچ سکتا ہے، جو سالانہ اربوں ڈالر کے برابر ہے۔

پاکستانی حکومت نے اس مسئلے کو قومی صحت کی ترجیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بچوں کو سیسے کے خطرے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان اقدامات میں نگرانی، قانون سازی اور صحت کے پروگراموں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

یونیسف نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ ایک قومی ایکشن پلان بنایا جائے، سیسے کے ذرائع پر سخت کنٹرول کیا جائے، بچوں کے خون میں سیسے کی باقاعدہ جانچ کا نظام قائم کیا جائے، اور عوام میں آگاہی بڑھائی جائے تاکہ بچوں کو اس خطرناک زہر سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ڈاکٹر محسن رضا ترابی کا کہنا ہے کہ حطار کے علاقے میں 77 بچوں کے نمونے حاصل کیے گئے۔ اُن کے مطابق ان میں سے صرف دو بچے شدید بیمار تھے جن کو علاج معالجہ فراہم کردیا گیا ہے جبکہ قومی ایکشن پلان یہ ہے کہ 2040 تک پاکستان اور صنعتی علاقوں کو سیسے سے پاک کیا جائے گا۔ اس کے لیے ایک تجویز صنعتی علاقوں میں موجود لیبر کالونیوں کو صنعتی علاقوں سے باہر منتقل کرنا ہے۔

ان کا دعوی ہے کہ بچوں میں سیسہ پھیلنے کی ایک بڑی وجہ صنعتی اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کام کے بعد ان ہی کپڑوں میں اپنے گھر واپس جانا ہے۔

گندا پانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران خون کے نمونوں کی جانچ کے ساتھ ساتھ بچوں کے قد اور وزن کی پیمائش، ابتدائی عمر کی ذہنی و جسمانی نشونما کا جائزہ، خوراک اور سماجی و معاشی حالات کے سروے، اور پانی کے نمونوں کی جانچ بھی کی گئی۔ نتائج سے پتا چلا کہ مختلف علاقوں اور شہروں کے اندر سیسے کی مقدار میں واضح فرق موجود ہے۔

سب سے زیادہ اوسط مقدار ہری پور کے حطار علاقے میں ریکارڈ کی گئی جہاں 88 فیصد بچوں میں سیسے کی مقدار 5 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ تھی۔ اس کے بعد سب سے زیادہ سیسے کی مقدار کراچی میں پائی گئی جہاں اوسط مقدار 4.1 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر رہی۔ کراچی میں تقریباً 30.6 فیصد بچوں میں یہ سطح 5 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں بچوں میں سیسے کی اوسط مقدار 3.2 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر ریکارڈ کی گئی اور 24 فیصد بچوں کے خون میں 5 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ سیسہ ملا۔ لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں یہ مقدار نسبتاً کم رہی، جو تقریباً 1.1 سے 1.9 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان تھی جبکہ اسلام آباد میں سب سے کم سطح اوسطاً 0.11 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 28.9 فیصد بچے شدید غذائی کمی کا شکار تھے جبکہ 39.4 فیصد بچوں کی نشوونما رکی ہوئی تھی اور 35.6 فیصد بچے کم وزن تھے۔

تقریباً 55.7 فیصد بچوں میں خون کی کمی پائی گئی۔ کراچی اور لاہور میں اس کی شرح سب سے زیادہ تھی یعنی بالترتیب 63 فیصد اور 66 فیصد۔ جن بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار 1 مائیکروگرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ تھی ان میں کم وزن اور نشوونما کی کمی کی شرح واضح طور پر زیادہ دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سیسہ بچوں کی دماغی نشوونما اور رویے پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔

بچوں کے خون میں سیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟

عامر شہزاد کہتے ہیں کہ ان کے گھر کے قریب بڑی فیکڑیاں ہیں جس میں سمینٹ، بیڑیوں کے کارخانے اور دیگر شامل ہیں۔ ’ہماری پانی کی پائپ لائن ان فیکڑیوں سے گزر کر آتی ہے جس کی کئی مرتبہ شکایات کی گئی ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق سیسے کی آلودگی کے کئی مختلف ذرائع ہیں جس میں سب سے بڑا صنعتی ذریعہ غیر محفوظ اور غیر رسمی طریقے سے سیسے والی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ تھا۔ یہ خاص طور پر ہری پور اور کراچی میں زیادہ دیکھی گئی۔

پانی کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ہری پور میں حطار صنعتی علاقے کی لیبر کالونی نمبر 600 سے لیے گئے پانی کے ایک نمونے میں سیسے کی مقدار 50 مائیکروگرام فی لیٹر تھی جو کہ جدید حفاظتی معیار سے کہیں زیادہ ہے۔

سیسے کے دیگر کئی بھی ذرائع سامنے آئے ہیں جن میں سیسے والے پینٹ کا استعمال، ایلومینیم کے برتن، بچوں کے لیے استعمال ہونے والے چمکدار رنگوں والے پلاسٹک کے برتن اور ہلدی جیسے مصالحے جن میں سیسے کی آمیزش کا امکان پایا گیا۔

اس کے علاوہ صنعتی علاقوں اور زیادہ ٹریفک والی سڑکوں کے قریب رہائش تمام شہروں میں ایک مستقل خطرے کے عنصر کے طور پر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راولپنڈی، ہری پور اور کراچی میں 88 سے 97 فیصد بچے ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو کسی بڑے سیسے کے آلودگی کے ذریعہ سے صرف ایک سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھے۔

حطار کے علاقے میں سیسے اور دیگر بھاری دھاتوں کی موجودگی

پانی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیسے اور دیگر بھاری دھاتوں سے متعلق کی گئی مختلف سائنسی تحقیقات اور ریسرچ جرنلز کے مطابق وہاں ماحولیاتی آلودگی ایک حقیقی اور دستاویزی مسئلہ ہے۔

پاکستان کے اس صنعتی زون پر کی گئی ایک اہم تحقیق میں مٹی کے مختلف نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ صنعتی فضلے خاص طور پر ٹیکسٹائل و دیگر صنعتوں کے اخراجات کی وجہ سے مٹی میں سیسے سمیت کئی بھاری دھاتوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ آلودگی زیادہ تر ان علاقوں میں دیکھی گئی جہاں صنعتی فضلہ یا گندے پانی کی آبپاشی ہوتی ہے جبکہ فیکٹریوں سے نسبتاً دور علاقے میں یہ سطح کم پائی گئی۔

اسی طرح ایک اور سائنسی مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ حطار صنعتی اسٹیٹ کے آس پاس پانی اور مٹی میں موجود بھاری دھاتیں انسانی صحت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ صنعتی اخراج اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے غیر معیاری طریقوں کا استعمال ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مقامات پر یہ دھاتیں ماحولیاتی اور صحت کے خطرے کی حدوں تک پہنچ سکتی ہیں۔

ایک حالیہ ریسرچ میں یہ سامنے آیا ہے کہ حطار کے آس پاس کھیتوں میں استعمال ہونے والے آلودہ پانی کے ذریعے بھاری دھاتیں فصلوں میں منتقل ہو رہی ہیں، اور ان میں سیسے سمیت کئی عناصر شامل ہیں۔ یہ صورتحال خوراک کی چین کے ذریعے انسانی صحت تک رسائی کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔

’ڈاکٹروں کے پاس سیسے کی موجودگی کا پتا لگانے کی سہولت نہیں‘

عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ ’ہم غریب لوگ ہیں، ہمارے علاقے میں کئی اور بچے ہیں جو سست اور کمزور ہیں۔‘

’ڈاکٹروں کے پاس جانے کے لیے ہمارے پاس وقت اور پیسے نہیں ہوتے، صورتحال ایسی ہے جو میں بیان نہیں کرسکتا۔‘

آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر برائے پبلک ہیلتھ پروفسیر ڈاکٹر ظفر فاطمی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں ڈاکٹروں کے پاس عام طور بچوں میں سیسے کی موجودگی کا پتا لگانے کی سہولت دستیاب نہیں۔‘

ان کے مطابق کچھ مخصوص لیبارٹیز ہی ایسے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر فاطمی کا کہنا ہے کہ ’بچوں میں سیسے کی موجودگی کا پتہ صرف کمییائی تجزیے کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے اور اس ہی وجہ سے عموما معالج یہ نہیں جان پاتے کہ بچوں میں خون کی کمی، دماغی نشرونما اور دیگر مسائل کی وجوہات کیا ہیں۔ وہ صرف علامات کی بنیاد پر علاج معالجہ فراہم کرتے ہیں جو کہ دیر پا نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بچوں میں سیسہ داخل ہونے کے چھ، سات سال تک کوئی علامات سامنے نہیں آتیں۔ ’یہ خون سے ہوتا ہوا ہڈیوں میں داخل ہوجاتا ہے اور اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس کا علاج ممکن ہی نہیں ہوتا تاہم اس کو معالج مینج کرتے ہیں یا اس کا انتظام کرتے ہیں اور اس دوران بچے کی روز بروز حالت خراب ہوتی جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر فاطمی کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ’دنیا میں ہر سال دس لاکھ بچے سیسے کی وجہ سے اموات کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں اس بارے میں اب تک کوئی اعدادوشمار دستیاب نہیں جس کی مدد سے یہ بتایا جا سکے کہ ملک میں کتنے بچے اس کی وجہ سے اموات کا شکار ہوتے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وقت مختلف تحقیقات جاری ہیں جس میں وفاقی ادارہ صحت معاونت کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں شاید کچھ اعدادوشمار سامنے آ سکیں۔

ڈاکٹر فاطمی کا مزید کہنا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں میں سیسے کے مقدار کو کنٹرول کرلیا گیا ہے اور اب یہ مسائل پاکستان جیسے ترقی یافتہ ممالک تک محدود ہیں۔

’اس کا واحد اور مستقبل حل یہ ہے کہ سیسہ کے استعمال پر قابو پاجائے اور اسے اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس سے نقصاں نہ پہنچ سکے جس کے لیے مختلف قوانین متعارف کروانے اور ان پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔

سیسہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیپ پاکستان کے سربراہ عابد حسین کے مطابق اس وقت پورے ملک میں وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے مہم شروع کی گئی ہے اور سیسہ پیدا کرنے والی صنعت میں شعور پیدا کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق اب تک پینٹ بنانے کی صنعت میں کافی حد تک سیسے کا استعمال ختم کردیا گیا ہے جبکہ باقی صنعتوں میں بھی یہ کوشش جاری ہے۔

سیسہ ایک زہریلی بھاری دھات ہے جو مختلف صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی مصنوعات اور عمل کے دوران پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر بیٹریوں کی تیاری اور ری سائیکلنگ، سیسے پر مبنی پینٹ، سیمنٹ اور تعمیراتی صنعت، دھاتوں کو پگھلانے اور بعض کیمیکل و کیبل فیکٹریوں سے خارج ہونے والے فضلے کے ذریعے ماحول میں شامل ہوتا ہے۔

غیر رسمی یا غیر محفوظ صنعتی طریقوں میں یہ دھواں، گردوغبار، گندے پانی اور ٹھوس فضلے کی شکل میں مٹی اور پانی کو آلودہ کر دیتا ہے۔ یہ آلودگی جب انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے، خاص طور پر بچوں میں، تو دماغی نشوونما، یادداشت اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔