راکٹ فورس، سٹیلتھ طیارے اور میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی: چار روزہ تنازع کے بعد پاکستان اور انڈیا کس دفاعی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں؟

Pakistan, India

،تصویر کا ذریعہGetty Images/ISPR

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور انڈیا نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایک برس کے دوران کئی تبدیلیاں کی ہیں
    • مصنف, روحان احمد، شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ برس ہونے والی چار روزہ لڑائی کا ایک سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک کی جانب سے ناصرف اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے دہرائے جا رہے ہیں بلکہ اِس تنازع کی مناسبت سے دونوں ممالک میں مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اس تنازع کے بعد سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات اپنی کم ترین سطح پر موجود ہیں جبکہ ویزا سروسز اور زیادہ تر تجارتی روابط سخت پابندیوں کے زیر اثر ہیں۔ انڈیا گذشتہ ایک سال سے دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اور دہائیوں پرانے آبی تقسیم کے معاہدے ’سندھ طاس‘ کو بھی یکطرفہ طور پر معطل کیے ہوئے۔

تنازع کا ایک سال مکمل ہونے پر جہاں انڈیا نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ ’آپریشن سندور‘ تاحال جاری ہے وہیں پاکستان نے بھی ’تیار رہنے اور پہلے سے سخت جواب دینے‘ کا عندیہ دیا ہے۔

اس صورتحال میں دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چار روزہ لڑائی کے بعد انڈیا اور پاکستان اپنی اپنی دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ جہاں ایک جانب نئے ہتھیار خریدے جا رہے ہیں وہیں میزائل، ڈرونز، سائبر ٹیکنالوجی، راکٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبوں میں مہارتیں حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

بی بی سی نے دونوں ممالک کے دفاعی ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے دونوں ممالک نے گذشتہ ایک برس کے دوران اپنی دفاعی حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں اور کیا اب بھی دوبارہ لڑائی کا خدشہ موجود ہے؟

'ملٹی ڈومین وار فیئر'

india

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا اور پاکستان کی چار روزہ لڑائی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے پہلی بار کروز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے استعمال کے بھی دعوے کیے گئے تھے۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ گذشتہ ایک برس کے دوران انڈیا نے ہتھیاروں کی ہنگامی خریداری پر تقریباً سات لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا نے حالیہ تنازع کے بعد سے ’ملٹی ڈومین وار فیئر‘ کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جس میں زمین، فضا، سمندر اور سائبر صلاحیت پر زور دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق اس کے تحت نئی ٹیکنالوجی، رفتار اور انٹیگریشن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ’اسے سٹینڈ آف وار کہا جاتا ہے اور بظاہر انڈیا اسی کی تیاری کر رہا ہے۔‘

راہل بیدی کہتے ہیں کہ اسی نئی حکمتِ عملی کے تحت ڈرونز، میزائل سسٹم اور خود کار و جدید طیاروں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

انڈین تجزیہ کار سنجبیب برووا نے ہفتہ وار جریدے ’دی ویک ‘ میں لکھا کہ دونوں ہی ممالک گذشتہ برس کی لڑائی کو ختم نہیں سمجھ رہے ہیں اور یہ لڑائی مستقبل کی جنگ کے لیے ایک ریفرنس پوائنٹ بن گئی ہے۔

اُن کے بقول 88 گھنٹے کی اس لڑائی نے دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ جنوبی ایشیا اب بھی جوہری ٹکراؤ کے دہانے پر بیٹھا ہوا ہے۔

انڈین فوج کا ’انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹر گروپ‘

ِIndia

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈین فوج کے مطابق گذشتہ برس کی جنگ کے بعد فوج کو ازسرِ نو منظم کیا جا رہا ہے اور تینوں مسلح افواج کے مشترکہ ’انٹیگریٹڈ بیٹل تھیٹر گروپ‘ بنائے جا رہے ہیں، جس میں بری، فضائی اور بحریہ کی تین مشترکہ کمانڈز ہو گی۔

انڈین فوج کے ڈپٹی چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس سٹاف آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل زوبن اے منوال نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ’تھیٹر کمان کی تشکیل کے بارے میں تو حکومت اعلان کرے گی۔ لیکن صرف تھیٹر کمان بنانا مقصد نہیں ہے، اس سے افواج کا جو اشتراک ہوا ہے وہ بہت اہم ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’جس طرح آپریشن سندور کے دوران جوائنٹ آپریشن کنٹرول قائم ہوا، سروسز نے مل کر کام کیا اور مربوط انداز میں فیصلہ سازی کی، یہ تھیٹر کمانڈ کی بنیاد ہے۔‘

راہل بیدی کہتے ہیں کہ اس نئی حکمت عملی کے نتیجے میں دفاعی سازو سامان کی تیاری میں نجی شعبے کی شمولیت بھی بڑھ جائے گی جبکہ دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے (ڈی آر ڈی او) نے بھی نئے ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کا عمل تیز کر دیا ہے۔

اُن کے بقول گذشتہ ہفتے ڈی آر ڈی او نے بیلسٹک میزائل ’اگنی‘ کے ایک اور نئے ورژن کا تجربہ بھی کیا ہے۔

انڈین وزارتِ دفاع کے مطابق انڈیا روس سے مزید پانچ ایس-400 دفاعی نظام خرید رہا ہے جبکہ پرانے ٹینکس کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

وزارت دفاع کے مطابق ’آیک نیا دفاعی سسٹم ’آکاش تیر‘ بنایا گیا ہے۔ اںڈیا نئے ڈرونز خرید رہا ہے۔ وہ اپنے نئے کروز میزائل سسٹم تیار کر رہا ہے اور فضائیہ اور بحریہ کے لیے نئے جنگی جہازوں کی خریداری کی جا رہی ہے۔‘

اس سب کے بیچ ملک میں ایک اور طیارہ بردار جہاز بنانے کی بات چل رہی ہے۔

’انڈیا کی نظر ایران کی دفاعی حکمتِ عملی پر بھی ہے‘

India

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے دفاعی منصوبہ ساز ایران کی جنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

راہل بیدی کا دعویٰ ہے کہ انڈیا ایران کی طرز پر اپنے اہم دفاعی اثاثوں اور ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے زیرِ زمین فوجی ٹھکانے تعمیر کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور حساس اسلحے اور دفاعی نظام کی حفاظت کے لیے سرنگیں بھی بنائی جا رہی ہیں۔

راہل بیدی کے بقول انڈیا میں پہلے ہی محدود پیمانے پر زیر زمین تنصیات بنائی جا چکی ہیں۔

اُن کے بقول اس منصوبے کے تحت سرحدی علاقوں میں ایران کی طرز پر زیر زمین میزائل سٹوریج اور سرنگیں بنائی جائیں گی، جس کا مقصد کم فاصلے تک مار کرنے والے ٹیکٹیکل میزائلوں کو دشمن کے حملوں سے بچانا اور انھیں کم وقت میں نصب کرنا ہے۔

انڈیا شمال مشرقی علاقوں میں اپنی ملٹری تنصیبات کو پہلے سے ہی اپ گریڈ کر رہا ہے۔ اس کے تحت فوجوں کی تیزی سے تعیناتی کے لیے پہاڑوں میں سرنگیں بنائی جا رہی ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی لڑائی میں ڈرونز، جنگی جہاز اور میزائل کسی ملک کی حدود میں کافی اندر تک جا سکتے ہیں اور کافی تباہی مچا سکتے ہیں۔

راہل بیدی کہتے ہیں کہ ایران نے پوری دنیا کو دکھایا ہے کہ اگر آپ اپنے دفاعی اثاثے زیرِ زمین ٹھکانوں پر رکھیں تو وہ جدید ہتھیاروں کی پہنچ سے بڑی حد تک دُور رہ پاتے ہیں۔

اُن کے بقول جوہری آبدوزوں کے لیے بھی زیر سمندر چٹانوں میں سرنگیں بنانے کے منصوبے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دفاعی بجٹ میں اضافہ اور راکٹ فورس کا قیام

اگر گذشتہ برس کی لڑائی کے بعد پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کی بات کریں تو پاکستان نے اس سال اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد کا بڑا اضافہ کیا ہے اور اب یہ 428 ارب روپے کے اضافے کے بعد 2550 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

گذشتہ برس دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان کرتے وقت پاکستانی حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مئی میں انڈیا کے ساتھ چار روزہ تنازع اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے دہشت گرد حملے فوجی صلاحیت بڑھانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) نے گذشتہ ماہ شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ سنہ 2025 کے دوران پاکستان کے دفاعی اخراجات میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ملک کے مجموعی دفاعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

سپری کی فہرست میں پاکستان فوجی اخراجات کرنے والے ممالک کی فہرست میں 31 ویں نمبر پر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان لڑائی کے بعد انڈیا کے فوجی اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دفاعی اخراجات میں اس اضافے کی بڑی وجہ مئی میں انڈیا کے ساتھ لڑائی کے بعد پاکستان کی جانب سے چین سے طیاروں اور میزائلوں کی خریداری کے نئے معاہدے ہیں۔

اس کے علاوہ پہلے سے طے شدہ دفاعی سودوں کے لیے کی جانے والی ادائیگیاں بھی پاکستانی دفاعی بجٹ میں اضافے کا باعث بنیں۔

Pakistan, India

،تصویر کا ذریعہISPR

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کی طرف سے حال ہی میں فتح تھری کروز میزائل کی رونمائی کے بعد اس کا موازنہ انڈیا کے براہموس میزائل کے ساتھ کیا جا رہا ہے

انڈیا سے لڑائی کے بعد پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں آنے والی تبدیلی

اس جنگ کے بعد نہ صرف پاکستانی حکومت نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ (اے آر ایس سی) کی بنیاد رکھی بلکہ پاکستانی فوج میں اب ایک ’ڈرون وارفیئر یونٹ‘ بھی موجود ہے، جس نے اپنی پہلی مشق گذشتہ برس دسمبر میں کی تھی۔

اس دوران پاکستان نہ صرف میزائلوں کے تجربات کرتا رہا ہے، بلکہ اس کی بحریہ میں نئے جہازوں اور ’ہنگور کلاس‘ آبدوز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی فضائیہ چینی ساختہ جے ایف 35 سٹیلتھ طیاروں کو بھی اپنے بحری بیڑے میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اتوار (10 مئی) کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ مستقبل کی جنگوں میں جدید ٹیکنالوجی بشمول سائبر وارفیئر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اہم کردار ادا کریں گی۔ ’مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی جس میں جدید ٹیکنالوجی بشمول سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر، ڈرونز، لان رینج ویکٹرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اہم ترین کردار ادا کریں گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس تناظر میں پاکستان میں ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر قائم کر دیا گیا ہے، خلائی پروگرام کو وسعت دی جا رہی ہے اور آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی قائم کی جا چکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستانی فضائیہ کے لیے جدید ترین جنگی جہازوں کا حصول اور فتح میزائل سیریز اسی تسلسل کی چند ایک مثالیں ہیں۔‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عسکری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تمام مسلح افواج اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

دفاعی و عسکری امور کی ماہر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گذشتہ برس مئی کی جنگ کے بعد سے ’پاکستان اپنی سائبر، الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں اور فضائیہ میں جدت لایا ہے۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران جہاں دونوں ممالک کی فضائیہ کا آمنا سامنا ہوا تھا، وہیں وسیع پیمانے پر ڈرونز اور میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں آرمی راکٹس فورس کمانڈ کا قیام انڈیا کے ساتھ چار روزہ تنازع کے بعد لیا گیا سب سے اہم قدم ہے۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق پاکستان اپنی بحری اور فضائی قوت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اُن کے بقول راکٹ فورس کمانڈ اور سٹریٹجک فورس کمانڈ کا قیام ایسے اقدامات ہیں، جس سے پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

’پاکستان کو سبق ملا کہ اسے راکٹس اور لانگ رینج سسٹمز چاہییں‘

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سٹریٹجک ویژن انسٹٹیوٹ (ایس وی آئی) سے منسلک ریسرچ فیلو حماد ولید اس بات سے متفق نظر مستقبل کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مئی کے تنازعے نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ ماضی میں جن ڈاکٹرائنز (نظریوں) پر پاکستان اور انڈیا کی افواج کام کرتی تھیں، اب وہ سودمند نہیں رہے ہیں۔‘

’یہ جنگ اس لیے مخلتف تھی کہ دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آ کر براہ راست نہیں لڑیں بلکہ انھوں نے فضا سے یا زمین پر نصب نظام سے ایک دوسرے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘

حماد ولید کہتے ہیں کہ انڈیا نے اس تنازع کے دوران پاکستان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کا استعمال کیا تھا، جبکہ پاکستان نے بھی اسی طرز پر کارروائی کرتے ہوئے ایئرفورس کے ذریعے ایس 400 دفاعی نظام کو نشانہ بنایا اور فوج نے فتح ون اور فتح ٹو میزائلوں کا استعمال کیا۔

’اس جنگ سے پاکستان نے سبق حاصل کیا ہے کہ اسے راکٹس اور لانگ رینج سسٹمز چاہییں۔ اس سے پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سٹریٹجک پلانز ڈویژن کے پاس تھے، یہ شاہین اور غوری جیسے میزائل ہیں جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

ایس وی آئی سے منسلک ریسرچ فیلو مزید کہتے ہیں: ’ان ہتھیاروں کو آپ روایتی طریقے سے استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے استعمال سے دشمن کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ یہ کوئی جوہری حملہ ہے۔‘

’انڈیا نے اپنے میزائلوں خاص طور پر براہموس کو روایتی استعمال کے لیے ہی رکھا تھا اور وہ ہی اس نے پاکستان پر استعمال کیے۔‘

حماد ولید کے مطابق پاکستان نے اسی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے راکٹ فورس کی بنیاد رکھی ہے۔

’جنگ کے بعد فوج نے سب سے پہلے آرمی راکٹ فورس کمانڈ بنائی، جس نے کچھ تجربات بھی کیے، فتح تھری کا تجربہ کیا گیا اور فتح ٹو کا تجزبہ دوبارہ کیا گیا۔ فتح تھری ایک سُپر سونک میزائل ہے، جو براہموس کی برابری کا ہے۔‘

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنے ڈرون پروگرام پر بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان کہتی ہیں کہ ’پاکستان ماڈرن وارفیئر کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف ڈرون پروگرام پر مسلسل کام کر رہا ہے بلکہ اس نے اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔‘

گذشتہ برس کے آخر میں پاکستانی فوج نے ’میڈان سٹرائیک‘ کے نام سے ڈرونز کی ایک مشق بھی کی تھی، جس کی تفصیلات آئی ایس پی آر نے جاری کی تھیں۔

حماد ولید کہتے ہیں کہ ’پاکستانی فوج نے ڈرونز کو اپنی ڈاکٹرائن میں شامل کیا ہے اور آگے جا کر فوج میں ڈرونز کی بھی ایک الگ کمانڈ ہو سکتی ہے۔‘

Pakistan Army

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی فضائیہ اور بحریہ کیا کر رہی ہیں؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کو اپنے ’خطاب میں پاکستانی فضائیہ کے لیے جدید ترین جنگی جہازوں کے حصول‘ کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔

ایس وی آئی کے ریسرچ فیلو حماد ولید بھی کہتے ہیں کہ ’ایئرفورس اب سٹیلتھ جہازوں کے حصول کی طرف قدم بڑھا رہی ہے اور پاکستان نے جے 35 کے حصول کی کوششوں کو تیز کیا ہے۔‘

جی 35 چینی ساختہ ففتھ جنریشن طیارہ ہے۔

اس حوالے سے ایک پریس کانفرس کے دوران ایئر وائس مارشل طارق غازی نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’جے-35 کے حوالے سے ہمارے ابتدائی تعاون کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔ اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کی ضرورت پڑنے سے قبل ہمارے پاس اس کا آپشن موجود ہوگا اور بہت بہتر ہو گا۔‘

ایس وی آئی کے ریسرچ فیلو حماد ولید کہتے ہیں کہ پاکستانی فضائیہ نے فضا سے لانچ کیے جانے والے تیمور میزائل کا بھی تجربہ کیا ہے، جس کی رینج 600 کلومیٹر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پاکستانی بحریہ نے نہ صرف پانی سے تیمور میزائل لانچ کرنے کا کامیاب تجریہ کیا ہے بلکہ نئے جہاز بھی اس کے بیڑے میں شامل کی گئی ہیں۔

حماد ولید کے مطابق چین میں بنائی گئی ہنگور کلاس آبدوز کو بیڑے میں شامل کر کے پاکستانی بحریہ نے خود کو مزید مضبوط کیا ہے اور اس کے علاوہ اس نے اپنے جہازوں میں نصب ایئر ڈیفینس سسٹمز کو مزید جدید بنایا ہے۔