عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حکم سے متعلق عدالتی ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت طلب

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق تمام عدالتی ریکارڈ سپریم کورٹ سے طلب کر لیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ حکم راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں پر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ مسترد کر چکی ہے۔ اڈیالہ جیل کے اِن قیدیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ان تین قیدیوں کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے۔ ان کے بقول اس کا اختیار ’نہ کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس۔‘

خیال رہے کہ ان درخواستوں میں اڈیالہ جیل کے قیدیوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ انھیں بھی سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرح نجی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔

منگل کو وفاقی آئینی عدالت نے تمام صوبوں سے اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم کی بہن عظمیٰ خان کی درخواست پر علاج معالجے کی غرض سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس درخواست کی اگلی سماعت یعنی 16 ستمبر تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔ تاہم حکومت نے سکیورٹی کو وجہ بناتے ہوئے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے پمز لے گئی جہاں چار گھنٹے تک ان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انھیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

’وفاقی آئینی عدالت جیل رولز کا جائزہ لے سکتی ہے‘

چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے ان تین قیدیوں کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ان درخواستوں کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت ملک کی کسی بھی عدالت سے کسی بھی مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان تین قیدیوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں بھی نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔

بینچ میں موجود جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے بارے میں فیصلہ دیا تھا تو کیا اس پر انھوں نے اعتراض کیا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا، جبکہ اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار کے سوال کو طے کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے کیس لا ریکارڈ منگوایا جائے اور آئینی عدالت کے پاس کیس کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئینی عدالت ریکارڈ منگوا کر پہلے عدالتی دائرہ اختیار طے کرے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی قیدی تحویل میں ہے تو اس کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا قیدیوں سے متعلق رولز تمام معاملات کا احاطہ کرتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت دائرہ اختیار کے ساتھ بنیادی حقوق اور جیل رولز کا جائزہ لے سکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال میں علاج جیل مینیوئل کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نجی ہسپتال کیوں؟ پمز یا پولی کلینک میں علاج کیوں نہیں ہو سکتا؟‘ انھوں نے کہا کہ ’جیل مینیوئل میں بالکل واضح ہے کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ قیدی کا علاج معالجہ بنیادی حقوق میں آتا ہے اور زندگی کا حق بھی بنیادی حق ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہیے۔

کیا عمران خان کا کیس اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جائے گا؟

بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئینی عدالت کی طرف سے عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ طلب کرنے کے بعد سپریم کورٹ سابق وزیر اعظم کی شفا انٹرنیشنل میں منتقلی کا کیس نہیں سن سکے گی۔

پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے اور اس کا اختیار نہ کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کا معائنہ کرنے والی ٹیم نے سابق وزیر اعظم کو ’فِٹ‘ قرار دیا جس کے بعد انھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

قانونی ماہر معیز جعفری نے بی بی سی کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کسی بھی ماتحت عدالت سے ریکارڈ طلب کر لے تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ سماعت ماتحت عدالت میں نہیں ہو سکتی۔

انھوں نے کہ ان تین قیدیوں کی درخواستوں میں معاملہ جیل مینیوئل کا ہے کہ آیا انھیں علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وہ ججز جنھوں نے عمران خان کو علاج معالجے کے لیے نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، وہ اگر چاہیں تو توہین عدالت سے متعلق عمران خان کی بہن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کر سکتے ہیں۔