موٹر سائیکل پر سوار خاتون کو ٹکر مارنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کار ڈرائیور گرفتار

،تصویر کا ذریعہSia/Instagram
- مصنف, زویا متین
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
سوشل میڈیا پر دو دنوں سے ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے قریب واقع شہر گروگرام میں بظاہر ایک کار کو ایک خاتون موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا اور اب پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے والی کار کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے۔
یہ واقعہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب شیوانی چوہان موٹر سائیکل سواروں کے ایک گروپ کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔
ان کی موٹر سائیکل پر نصب ایک کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں بظاہر ایک سفید رنگ کی کار کو قریب آ کر ان کی موٹر سائیکل سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹکر کے نتیجے میں چوہان سڑک پر گر جاتی ہیں جبکہ ان کی موٹر سائیکل پھسلتے ہوئے دور چلی جاتی ہے اور کار اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔
انسٹاگرام پر چوہان کی جانب سے شیئر کی گئی اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
کار کے ڈرائیور، جن کی شناخت کلیان بینسلا کے نام سے ہوئی ہے، کا کہنا ہے کہ انھوں نے جان بوجھ کر چوہان کو گاڑی سے ٹکر نہیں ماری تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کے روز گروگرام پولیس کے ترجمان سندیپ کمار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ کلیان بینسلا، جو ہریانہ کے ضلع پلوَل میں ایک جم کے مالک ہیں، کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ کار ان کی ملکیت نہیں تھی بلکہ وہ کسی اور کی گاڑی چلا رہے تھے۔
ابتدائی طور پر مقدمہ لاپرواہی سے گاڑی چلانے اور انسانی جان یا ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، تاہم بعد میں پولیس نے اس میں ’اقدامِ قتل‘ کی دفعہ بھی شامل کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آج تک نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بینسلا نے دعویٰ کیا کہ موٹر سائیکل سواروں کے گروپ کے ارکان بار بار ان کی گاڑی کو اوورٹیک کر رہے تھے اور پھر اس کے سامنے آ کر رفتار کم کر دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک یو ٹرن کے قریب شیوانی چوہان کی موٹر سائیکل سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی گاڑی بے قابو ہو گئی۔
بینسلا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابتدا میں انھیں معلوم نہیں تھا کہ موٹر سائیکل ایک خاتون چلا رہی ہیں۔ انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انھوں نے چوہان اور ایک دوسرے موٹر سائیکل سوار سے رفتار کم کرنے کے لیے کہا تھا۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کا دعویٰ تھا کہ وہ موقع سے اس لیے چلے گئے کیونکہ موٹر سائیکل سوار انھیں گالیاں دے رہے تھے اور انھیں خدشہ تھا کہ ان پر اور ان کے رشتہ داروں پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’اگر میں اُس وقت رک جاتا تو وہ لوگ ہمیں مار پیٹ کا نشانہ بنا دیتے۔‘
شیوانی چوہان نے اس کار ڈرائیور کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ان کا موٹر سائیکل سواروں کا گروپ جیسے ہی نکلا کچھ ہی دیر بعد مذکورہ کار ان کا پیچھا کرنے لگی تھی۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب انھوں نے کار کے ڈرائیور سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کو کہا تو گاڑی میں موجود افراد نے جارحانہ رویہ اختیار کیا اور انھیں رکنے کے لیے کہا۔
چوہان کے مطابق انھوں نے اپنی سواری جاری رکھی کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ کار ان کا راستہ روک سکتی ہے، جبکہ ان کے پیچھے موٹر سائیکل پر سوار ایک دوست ان کی موٹر سائیکل کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کار میں موجود افراد بظاہر نشے کی حالت میں تھے۔ تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان افراد کے الکحل ٹیسٹ کیے گئے تھے یا نہیں۔
تاہم بینسلا کے وکیل نوین بینسلا نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ ان کا مؤکل نشے کی حالت میں نہیں تھا اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔
انھوں نے واقعے کو جان بوجھ کر کی گئی ’ہِٹ اینڈ رن‘ قرار دینے کو بھی مسترد کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ دانستہ حملے کا نہیں بلکہ لاپرواہ ڈرائیونگ کا معاملہ ہے۔
دوسری جانب بینسلا کی جانب سے جان بوجھ کر ٹکر مارنے کی تردید کے بعد چوہان نے پیر کی شب ایک اور ویڈیو جاری کی جس میں انھوں نے ان کے مؤقف کو چیلنج کیا۔
انھوں نے کہا کہ ویڈیو فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ کون سی گاڑی دوسری جانب بڑھ رہی تھی۔ انھوں نے بینسلا کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک خاتون ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چوہان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بینسلا حادثے کے بعد ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے کیوں نہیں رکے؟
انھوں نے کہا ’مجھے شدید چوٹ لگ سکتی تھی یا میری ہڈیاں ٹوٹ سکتی تھیں۔ میں موقع پر ہی جان بھی گنوا سکتی تھی۔‘
اطلاعات کے مطابق چوہان کو معمولی چوٹیں آئیں۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے حفاظتی لباس اور دیگر حفاظتی سامان نے انھیں زیادہ سنگین نقصان سے بچا لیا۔
اس واقعے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انڈیا کی سڑکوں پر خواتین موٹر سائیکل سواروں کو درپیش ہراسانی اور مخالف رویوں کے بارے میں بھی ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔
متعدد خواتین رائیڈرز نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اکثر سڑکوں پر تعاقب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنائی جاتی ہیں یا انھیں ریس لگانے کے چیلنج دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب وہ طاقتور موٹر سائیکلیں چلا رہی ہوں۔
رائیڈنگ کوچ دیویا سندھو، جو ایک دہائی قبل ایک ایسے ہی تصادم کا شکار ہوئی تھیں، نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ اس عرصے میں رویوں میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔
انھوں نے کہا ’خواتین کی ڈرائیونگ صلاحیتوں کا مذاق اڑانا ایک بہت عام بات ہے۔‘
ایک اور موٹر سائیکل سوار پلوی سنگھ نے کہا کہ بعض خواتین سڑک پر اپنی شناخت ظاہر ہونے اور ہراسانی سے بچنے کے لیے اپنے بال مکمل طور پر ڈھانپ لیتی ہیں اور مکمل حفاظتی لباس پہنتی ہیں۔



















