عمران خان کے بیٹوں کی بی بی سی سے گفتگو: ’برطانوی حکومت نے مشورہ دیا تھا کہ والد سے ملنے نہ جائیں‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہSKY SPORTS

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سابق وزیر اعظم عمران خان کے برطانیہ میں مقیم بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کا کسی ’غیرجانبدار ڈاکٹر یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے‘ طبی معائنہ کروایا جائے اور اس کا نتائج کو منظر عام پر لایا جائے۔

جمعرات کو ایک انٹرویو کے دوران عمران خان کے بیٹے سلیمان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت کے دعوے کے مطابق ان کے والد عمران خان کی صحت درست ہے تو ’انھیں ہمیں ثبوت دکھانا چاہیے۔‘

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ کیا چھپا رہے ہیں؟ ان (عمران خان) کا معائنہ کسی غیر جانبدار یا ان کے اپنے ڈاکٹر سے کروایا جانا چاہیے اور انھیں ہمیں اس کے نتائج بھی دکھانے چاہییں۔‘

خیال رہے 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، لیکن حکومت نے اُنھیں پمز لانے کی یہ دلیل پیش کی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا ہسپتال کے راستے اور باہر پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے اُنھیں شفا ہسپتال نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔

حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پمز میں طبی معائنے کے بعد وہ صحت مند پائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی تھی۔ خیال رہے کہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کی تھی۔

تاہم حکومت کے دعوے کے برعکس عمران خان کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی والد کی صحت کی صورتحال ’نازک‘ ہے۔

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’صحت تشویش ناک حد تک نازک‘

بی بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کے بیٹے سلیمان نے دعویٰ کیا کہ ’سچ یہ ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران صورتحال بتدریج خراب ہوتی گئی ہے اور اب یہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں ان (عمران خان) کی صحت تشویش ناک حد تک نازک ہو گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ان کا علاج ایک غیر جانبدار نیوٹرل ہسپتال میں کیا جائے، لیکن انہیں اس کے بجائے انہیں ایک سرکاری ادارے میں لے جایا گیا۔‘

’وہاں صرف ایک معمولی طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔‘

جہاں ایک طرف پاکستانی حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو صحت مند قرار دیا گیا ہے، وہیں سلیمان کا دعوی ہے کہ ’گذشتہ تین برسوں میں ہم نے سنا ہے کہ ان کو بینائی کے مسائل کا سامنا ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی 80 فیصد بینائی تقریباً جا چکی ہے۔‘

’بالکل درست تفصیلات جاننا تو مشکل ہے لیکن جب ہماری آنٹی ان سے ملنے گئیں تو آنکھ پر پٹی پہنے ہوئے تھے، مکمل تنہائی میں رہنے کے سبب اضطراب میں تھے اور ان کا بلڈ پریشر بھی بڑھا ہوا تھا۔‘

Kasim and Suleiman

سلیمان نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ 10 مہینوں میں ان کے والد کو مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی وکلا اور اہلخانہ سے بھی ملاقاتیں نہیں کروائی گئیں۔

اس موقع پر ان کے دوسرے بیٹے قاسم نے کہا کہ ’یہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات ہے کیونکہ میں اور سلیمان ہمیشہ انہیں ایک نہایت مضبوط اور باوقار شخصیت کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ اب ان کے بارے میں یہ کہا جانا کہ وہ ذہنی پریشانی یا اضطراب کا شکار ہیں، ان کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے اور انہیں دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت ہے، یہ ان کی شخصیت کے بالکل برخلاف ہے۔ ہم انتہائی فکر مند ہیں کیونکہ یہ معمول کی بات نہیں ہے۔‘

’سابق برطانوی حکومت نے والد سے ملنے نہ جانے کی گزارش کی‘

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ رواں برس مارچ میں کہہ چکے ہیں کہ قاسم اور سلیمان سمندر پار پاکستانیوں کو جاری کیے جانے والے شناختی کارڈ کا استعمال کر کے پاکستان آ سکتے ہیں اور اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

قاسم نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’کیئر سٹارمر اور ڈیوڈ لیمی کی سابق حکومت نے ہمیں یہ تک مشورہ دیا تھا کہ ہم اپنے والد سے ملنے کے لیے بھی نہ جائیں۔ اس وقت ہمیں اپنے والد سے ملے ہوئے دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔‘

’ہمیں اب سکیورٹی سے متعلق خدشات کی بھی پروا نہیں۔ ہم صرف ان (عمران خان) سے ملنا چاہتے ہیں اور یہ اطمینان کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی حد تک خیریت سے ہیں۔‘

قاسم نے مزید کہا کہ وہ عمران خان کی صحت کے بارے میں اختیار کی جانے والی ’رازداری‘ پر بہت زیادہ تشویش رکھتے ہیں۔

’ہمیں امید ہے کہ نئے سیکریٹری خارجہ شاید ہمیں کسی قسم کا اطمینان دلوا سکیں کہ اگر ہم وہاں (پاکستان) جائیں تو ہمیں کسی نہ کسی نوعیت کی معاونت حاصل ہوگی۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جب عمران خان کے بیٹوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں پاکستانی حکومت نے ان کے والد کو کیوں جیل میں رکھا ہوا ہے، تو سلیمان کا کہنا تھا: ’وہ واضح طور پر ملک کے سب سے مقبول سیاست دان ہیں۔ ان کی مقبولیت سے شدید خوف پایا جاتا ہے اور انہیں خاموش کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘

’انہیں تنہا کیا جا رہا ہے اور ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

’انہیں عوام کی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر وہ صحت مند اور محفوظ ہیں تو پھر انہیں ایک غیر جانبدار ہسپتال میں معائنہ اور علاج کی اجازت دی جانی چاہیے۔‘

یاد رہے کہ اسلام آباد کی ایک عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دسمبر 2025 میں مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سے قبل عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ون کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جسے اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ 2024 میں ایک خصوصی عدالت نے عمران خان کو سائفر کیس میں دس سال قید کی سزا بھی دی تھی۔

سکائی سپورٹس کو دیا گیا انٹرویو اور پی سی بی کی شکایت

پاکستان اور انگلینڈ لارڈر کرکٹ گراؤنڈ میں سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں اور کھیل کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران سکائی سپورٹس نے بھی پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دونوں بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنا تھا۔

تاہم برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ اور کرکٹ کی خبروں کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق قاسم اور سلیمان کا انٹریو نشر کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سکائی سپورٹس کے پاس باقاعدہ شکایت درج کروائی، جس کے بعد یہ انٹرویو تاخیر سے نشر کیا گیا۔

سکائی نیوز نے 18 منٹ پر محیط یہ انٹرویو تاخیر سے نشر کیا۔ تاہم پاکستان میں ٹیسٹ سیریز نشر کرنے والے سرکاری سپورٹس چینل پی ٹی وی نے یہ انٹریو نشر نہیں کیا۔

یہ انٹرویو انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کیا اور اس میں انٹرویو کے دوران بھی قاسم اور سلیمان نے اپنے والد کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

Atherton

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمائیکل ایتھرٹن کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بھی قاسم اور سلیمان نے اپنے والد کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

گذشتہ ہفتے مائیکل ایتھرٹن سمیت 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران کو جیل میں مناسب دیکھ بھال فراہم کی جائے۔

اس خط پر انڈیا، آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے کپتانوں کے دستخط بھی تھے۔