وہ بیٹا جس نے ماں کی لاش تین سال فریزر میں چھپائے رکھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کولیٹ ہیو، اولیور سلو
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
تقریباً تین برس تک ماں کی لاش فریزر میں رکھنے اور پنشن سمیت دیگر مالی فوائد حاصل کرنے کے جرم میں برطانیہ کی ایک عدالت نے بیٹے کو قید کی سزا سنائی ہے۔
اس سال فروری میں برجینڈ کاؤنٹی کے پورثکاول میں پاپلر کریسنٹ کے ایک گھر سے 89 سالہ سلویا فلپس کی لاش ملنے کے بعد 60 سالہ کرسٹوفر فلپس کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سلویا فلپس کی وفات مارچ 2023 میں ہوئی تھی۔
کرسٹوفر فلپس نے ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ وہ ’اپنی ماں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا‘ اور اسے ’ماں کے ساتھ مزید وقت گزارنا تھا۔‘
فلپس نے تین جرائم کا اعتراف کیا، جن میں اپنی والدہ کی تدفین قانونی اور باعزت طریقے سے نہ کرنا، ہاؤسنگ بینیفٹ حاصل کرنا، اور ونٹر فیول الاؤنس و پنشن کی رقم کا دعویٰ کرنا شامل تھا۔
کرسٹوفر کی عمر دو سال تھی جب سلویا نے انھیں گود لیا تھا۔
مرتھر ٹڈفل کراؤن کورٹ میں پیش کیے گئے دلائل کے مطابق کرسٹوفر اپنی ماں کے بہت قریب تھے۔ وہ ان کی واحد سرپرست بھی تھیں۔ کرسٹوفر کے سوا ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی اور نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہSouth Wales Police
لاش تین سال فریزر میں رکھی
عدالت کو بتایا گیا کہ اپنی ماں کی موت کے اگلے روز کرسٹوفر نے انھیں گود میں لیا اور کہا تھا کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کی وفات کے دو دن بعد فلپس نے ایک ویب سائٹ سے ایک چیسٹ فریزر خریدا اور اسے کھانے کے کمرے میں رکھا۔
لاش اس وقت تک وہیں رہی جب تک جنرل پریکٹشنر کی درخواست پر پولیس نے گھر آ کر تفتیش نہیں کی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مقامی ڈاکٹر بار بار ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کرسٹوفر نے نہ تو انھیں گھر آنے دیا اور نہ ہی رابطہ قائم کرنے دیا۔

جب پولیس گھر پہنچی تو کرسٹوفر نے کہا کہ ان کی ماں لندن منتقل ہو گئی ہیں اور وہ طبی معائنہ نہیں کروانا چاہتیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فلپس کو کانپتے اور گھبرائے ہوئے انداز میں حرکت کرتے دیکھ کر افسران کو شک ہوا۔
شک ہونے پر وہ اوپر کی منزل کی طرف بھاگے اور بعد میں انھیں اپنی گرل فرینڈ سے فون پر بات کرتے سنا گیا۔
وہ کہہ رہا تھا: ’پولیس مجھے گرفتار کرنے والی ہے، وصیت تمھارے حوالے کر دی گئی ہے۔‘
جب افسران نے فریزر کھولا تو انھیں بزرگ خاتون کی لاش ملی۔
لاش مکمل طور پر منجمد ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم میں وقت لگا۔
ڈاکٹر موت کی درست وجہ کا تعین نہ کر سکے، تاہم ان کی موت کو مشتبہ نہیں قرار دیا گیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق کرسٹوفر اپنی ماں کی لاش کے قریب جا کر سوتا تھا۔
بعض اوقات وہ فریزر کھول کر ان کا ہاتھ پکڑتا تھا۔
ڈاکٹروں کو شک کیسے ہوا؟
سلویا نے 2021 میں اپنے مقامی ڈاکٹر کے پاس 26 مرتبہ اور 2022 میں چھ مرتبہ رجوع کیا۔
اس کے بعد سے ان کا ڈاکٹروں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ انھیں آخری مرتبہ 24 ستمبر 2022 کو حادثات و ایمرجنسی شعبے میں دیکھا گیا تھا اور ان کے جنرل پریکٹشنر نے 26 ستمبر کو گھر کا دورہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ان کا بیٹا اس کے بعد بھی باقاعدگی سے ان کی ادویات حاصل کرتا رہا۔
سلویا فلپس کو ہسپتال کی جانب سے معائنے کے لیے بلایا گیا تھا، مگر ان کے بیٹے نے بتایا کہ وہ ہسپتال نہیں آئیں گی اور انھیں خون کے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہے۔
کرسٹوفر فلپس کو ریاستی پنشن، پنشن کریڈٹ، اٹینڈنس الاؤنس، ونٹر فیول الاؤنس، مہنگائی الاؤنس اور ہاؤسنگ بینیفٹ کی مد میں مجموعی طور پر 78,190.92 پاؤنڈ موصول ہوئے۔
اگر انھیں مردہ قرار دے دیا جاتا تو یہ ادائیگیاں بند ہو جاتیں۔
2008 سے کرسٹوفر ان کی دیکھ بھال کرنے والا بنیادی فرد تھا۔
سلویا کی صحت مسلسل خراب ہونے کے باعث اس نے 2022 کے آخر میں اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ دونوں تقریباً تنہا زندگی گزار رہے تھے۔
’میں ماں کی موت قبول نہیں کر سکا‘
دفاعی وکیل روتھ سمتھ نے کہا کہ فلپس نے پولیس کو بتایا تھا: ’میں بنیادی طور پر انھیں جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔‘
روتھ سمتھ نے کہا: ’وہ ان سے ایسے بات کرتا تھا جیسے وہ اب بھی زندہ ہوں۔ وہ ان کے پاس بیٹھتا تھا اور ٹی وی پروگرام ’کورونیشن سٹریٹ‘، گھڑ دوڑ اور دیگر باتوں پر گفتگو کرتا تھا۔ وہ ان سے ویسے ہی بات کرتا تھا جیسے پہلے کیا کرتا تھا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کرسٹوفر ایک ’حد سے زیادہ حساس شخص‘ تھا۔
جب سمتھ نے کہا کہ کرسٹوفر ’اپنی ماں کے انتہائی قریب تھا‘ اور ان کی وفات کے بعد ’شدید غم میں مبتلا‘ تھا تو وہ عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
انھوں نے کہا کہ کرسٹوفر نے اپنی ماں کی موت کو قبول ہی نہیں کیا اور ’تقریباً ایک جھوٹا تصور بنا لیا تھا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔‘
عدالت نے کیا کہا؟
تمام دلائل سننے کے بعد جج لائیڈ کلارک نے کرسٹوفر کو 28 ماہ قید کی سزا سنائی۔
اس سزا کا 40 فیصد حصہ جیل میں اور باقی حصہ لائسنس پر گزارنا ہو گا۔
جج لائیڈ کلارک نے کہا کہ انھوں نے اپنی ماں کی موت کو ’جان بوجھ کر چھپایا‘ اور ’یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جج نے مزید کہا: ’آپ ان کی ادویات حاصل کرتے رہے اور طبی ماہرین اور بالآخر پولیس سے جھوٹ بولتے رہے۔‘
’حکام کو اطلاع دے کر ان کی قانونی تدفین کا انتظام کرنے کے بجائے، آپ نے 10 مارچ کو ایک چیسٹ فریزر خریدا اور ان کی لاش اس میں چھپا دی۔‘
لائیڈ کلارک نے مزید کہا کہ ضبطی کی کارروائی سے متعلق وقت کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔



















