’یہ سواری ایک لحاظ سے مفت ہے‘: الیکٹرک سکوٹی جو پاکستانی خواتین میں تیزی سے مقبول ہوئی

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’مجھے وہ دن یاد ہے جب میرے والد نے مجھے پہلی بار موٹر سائیکل چلانا سکھائی اور موڑ کاٹتے ہوئے میں نے توازن کھو دیا اور گِر گئی۔‘
مگر اس حادثے کے باوجود صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی عرینہ سات سال قبل لیے گئے اپنے اس فیصلے پر انتہائی خوش ہیں کیونکہ اس سے ان کی زندگی بدل گئی۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ ’جب میں پہلی مرتبہ گِری تو میں نے دل برداشتہ ہو کر اپنے والد کو کہا کہ میں نے نہیں سیکھنی۔ اس پر انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’بیٹا جو بھی کام شروع کرو، اسے ہمیشہ پورا کرو۔ اب اگر تم نے موٹر سائیکل سیکھنی شروع کی ہے تو اس کام کو بھی پورا کرو‘۔‘
عرینہ کہتی ہیں کہ والد کی بات پر عمل کرتے ہوئے ’آج مجھے سات سال ہو گئے ہیں اور اس سواری نے مجھے خود مختار بنایا ہے۔ میں کالج موٹر سائیکل پر جاتی تھی، پھر میں نے یونیورسٹی اور باقی روزمرہ کے کام اسی بائیک پر کیے۔ اب میں نوکری پر آنے جانے کے لیے بھی اسے ہی استعمال کرتی ہوں۔‘
اس کے بعد انھوں نے اپنی چھوٹی بہن سمیت دیگر کئی خواتین کو بھی سکوٹی چلانا سکھائی ہے۔
سات سال پہلے جب عرینہ سڑک پر بائیک لے کر نکلتی تھیں تو اس وقت ایک، دو خواتین ہی انھیں موٹر سائیکل چلاتے نظر آتی تھیں۔ مگر اب درجنوں لڑکیاں سکوٹیز چلاتی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس سے ان سمیت کئی لڑکیوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔
پاکستان میں موٹر سائیکلز کی خرید و فروخت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں الیکٹرک سکوٹیز کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اس وقت پاکستان میں تقریبا 47 مختلف برانڈز کی کمپنیاں الیکٹرک سکوٹیز فروخت کر رہی ہیں۔

موٹر سائیکل ڈیٹا ریسرچ کے مطابق پہلے صارفین اگر الیکٹرک سکوٹر استعمال کرنا چاہتے تھے تو انھیں ایسی مصنوعات پاکستان کے باہر سے امپورٹ کرنا پڑتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اب حکومت پاکستان نے ایک قومی حکمت عملی کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن (PAVE) پالیسی کا آغاز کیا جس کے بعد الیکٹرک وہیکل کے استعمال میں اضافہ ہوا۔ اس کا مقصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنا اور برقی نقل و حرکت کی طرف منتقلی کو تیز کرنا تھا۔
اس سکیم کے تحت الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور آٹو رکشوں کی خریداری پر 20 فیصد تک سبسڈی فراہم کی گئی جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لیے بلا سود فنانسنگ کی سہولت دی گئی۔
اس سے مینوفیکچررز اور صارفین دونوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ای وی برانڈز کی بڑھتی ہوئی تعداد، اس کی فروخت اور دستیابی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

’یہ سواری ایک لحاظ سے مفت ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکوٹی چلانے والی زیادہ تر خواتین نے بتایا کہ اس سے ان کی زندگیاں کافی حد تک تبدیل ہوئی ہیں۔
رابعہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سکوٹی چلانا میرے شوہر نے سکھایا ہے۔ ایک تو اسے چلانا اور سیکھنا آسان تھا اور دوسرا میرے شوہر میرے بیٹے کے سکول سے کافی دور نوکری پر جاتے تھے۔ پہلے ہم نے اسے وین لگوا کر دی تھی لیکن کبھی وہ چھٹی کر لیتا تھا تو کبھی لیٹ ہو جاتا تھا جبکہ رکشہ ہمیں خاصا مہنگا پڑتا تھا۔‘
’اس لیے انھوں نے کہا کہ تم سکوٹی لے لو، میں سکھا دوں گا۔ سکوٹی لینے کے بعد ہماری زندگی اچھے انداز میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔‘
ان کے مطابق ’میں نے اپنے بیٹے کو پِک اینڈ ڈراپ کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے کپڑوں کے برانڈ کا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ اس کے لیے دکانوں پر جانا، سارا کام کرنا اور گھر کے بھی کاموں کے لیے میں نے سکوٹی استعمال کرنی شروع کر دی۔ اس سے نہ صرف میں خودمختار ہوئی بلکہ میں نے اپنا کاروبار بھی شروع کر لیا۔‘
رابعہ جیسی سینکڑوں خواتین ہیں جنھوں نے سکوٹی اس لیے خریدی کیونکہ اس سے ان کی زندگی میں سواری کی خودمختاری آئی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زیادہ تر خواتین کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکوٹی خریدنے کو ترجیح اس لیے دی کیونکہ ایک تو یہ باآسانی سیکھی جا سکتی ہے، دوسرا پیٹرول کے خرچے سے بچا جا سکتا ہے۔
’ہم اسے بجلی پر چارج کرتے ہیں اور اب تو زیادہ تر گھروں میں سولر کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس لیے یہ سواری ہمارے لیے ایک لحاظ سے مفت ہی ہے۔‘
آمنہ اور عائشہ نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سکوٹی کا استعمال کالج آنے جانے کے لیے کرتی ہیں جبکہ انھیں اس کا استعمال اس وجہ سے اچھا لگتا ہے کہ ان کے کالج میں آنے والی زیادہ تر لڑکیاں اب سکوٹی کا استعمال کر رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAPP
سکوٹی چلاتی لڑکیوں کو کس قسم کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
لاہور سے تعلق رکھنے والی آصفہ کا کہنا ہے کہ لڑکیاں بڑی تعداد میں سڑکوں پر سکوٹی چلاتے ہوئے نظر آتی ہیں تاہم اس کے باوجود ’مرد اپنے ساتھ سکوٹی چلاتی ہوئی خاتون کو ایک مرتبہ مڑ کر ضرور دیکھتے ہیں۔‘
وہ لڑکیوں کو سڑکوں پر درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جب ہم سکوٹی چلا رہے ہوتے ہیں تو زیادہ تر مردوں کا دھیان اس بات پر ہوتا ہے کہ سڑک پر کوئی لڑکی ہم سے آگے نہ نکل جائے۔‘
ہمنا نے بھی اسی قسم کے رویوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ویسے تو ہمیں چاہیے کہ سڑک پر گاڑی اور موٹر سائیکل چلاتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم صبر نہیں کرتے ہیں۔‘
انھوں نے شکوہ کیا کہ ’ہم عورتوں کے بارے میں آرام سے یہ بات کر دیتے ہیں کہ وہ تو گاڑی ہو یا سکوٹی، خراب ہی چلاتی ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی اشارے پر آپ کھڑے ہیں تو وہاں سب سے زیادہ بے صبری کا مظاہرہ مرد حضرات کرتے ہیں۔ اشارہ بند بھی ہو گا تو بھی وہ فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل چڑھا کر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسی حرکت عورتوں کو کرتے دیکھا ہے؟‘
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ کم عمر ہیں لیکن انھوں نے جووینائل لائسنس کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان کے گھر میں کوئی مرد موجود نہیں ہے جبکہ وہ اپنی تین بڑی بہنوں اور والدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میری بہنیں گھر سے زیادہ نہیں نکلتی ہیں۔ جبکہ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے میری والدہ کو جانا پڑتا تھا یا پھر وہ محلے کے کسی بچے کو کہتی تھیں۔ میں نے اپنی امی کو کہا کہ آپ مجھے سکوٹی لے دیں۔‘
ان کے مطابق ’پہلے تو وہ مان نہیں رہی تھیں لیکن پھر انھوں نے جب دیکھا کہ اب اتنی لڑکیاں سکوٹی چلا رہی ہیں تو وہ مان گئیں اور انھوں نے مجھے سکوٹی لے دی۔ اب گھر کے اور باہر کے سارے کام میں خود جا کر کرتی ہوں اور سکول جانے کے لیے بھی سکوٹی کا ہی استعمال کرتی ہوں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ جب وہ سڑک پر جاتی ہیں تو انھیں کافی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ لیکن وہ ان مسائل کا اپنے گھر میں ذکر نہیں کرتی ہیں۔
’جب میں سکوٹی چلا رہی ہوتی ہوں اکثر لڑکے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ عجیب عجیب جملے کہہ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اچھے کمنٹس بھی کرتے ہیں کہ شاباش بیٹا، تم بہت اچھی بائیک چلاتی ہو۔‘

پنجاب کے مختلف شہروں میں سکوٹی چلانے والی لڑکیاں ریلیاں کیوں نکال رہی ہیں؟
جہاں ایک طرف سکوٹی چلانے والی خواتین کو سڑک پر مختلف قسم کے ردعمل اور رویوں کا سامنا ہوتا ہے، وہیں دوسری جانب انھیں سوشل میڈیا پر بھی ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کئی خواتین نے سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ کے بارے میں بتایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم اپنی کوئی ویڈیو سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں تو کافی منفی کمنٹس آتے ہیں جن سے ہمارا حوصلہ پست ہوتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فرح کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کہا جاتا ہے کہ خواتین کہتی ہیں کہ یہ ویمن امپاورمنٹ ہے۔ یہ کیسی ویمن امپاورمنٹ ہے؟ ایسے سوال پوچھنے والے مردوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں جس طرح عورت کو دبا کر رکھا جاتا ہے، اگر ہم ان کو اتنی اجازت ہی دے دیں اور سکون سے انھیں سڑکوں پر بائیک چلانے دیں تو ہمارے لیے اس سے بڑی امپاورمنٹ کوئی نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ یہ دیکھیں کہ ہمیں کہیں جانے کے لیے کسی کی منت نہیں کرنا پڑتی۔ اور مرد یہ بات کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ یہ سڑکیں جتنی ان کی ہیں اتنی ہی عورتوں کی بھی ہیں۔‘
فرح جیسی تمام خواتین پاکستان کے مختلف شہروں میں دیگر سکوٹی یا بائیک چلانے والی خواتین سے ملتی ہیں اور علامتی طور پر ٹریفک پولیس کے بتائے ہوئے روٹ پر مل کر بڑی تعداد میں ریلی نکالتی ہیں۔
ان ریلیوں کے منتظمین کے مطابق یہ ریلیاں اس لیے نکالی جا رہی ہیں تاکہ ’ہم جیسی بائیک چلانے والی خواتین کا حوصلہ بڑھائیں۔ ہم ایسے میٹ اینڈ گریٹ رکھتے ہیں جو ان خواتین کے مددگار ثابت ہوں جو اپنی خودمختار سواری کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔‘



















