جب شادی سے چند ہفتے قبل خاتون کو منگیتر کے سیرئیل ریپسٹ ہونے کا پتا چلا

- مصنف, میری میک کول
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
اس رپورٹ میں گھریلو تشدد اور جسمانی و نفسیاتی بدسلوکی سے متعلق تفصیلات شامل ہیں، جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
ایمی، فرضی نام، کا کہنا ہے کہ اگر ان کے اہلِ خانہ اور دوست بروقت مداخلت نہ کرتے تو وہ اس شخص سے شادی کر لیتیں جس نے تعلق کے بیشتر عرصے میں انھیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے بقول، اگر یہ شادی ہو جاتی تو انھیں خدشہ ہے کہ وہ انھیں قتل کر دیتا۔
کرسٹوفر میلکم، جنھیں حال ہی میں اپنے جرائم پر قید کی سزا سنائی گئی، نے اپنی سابق منگیتر کو ایسی جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایمی کے مطابق ایک موقع پر انھوں نے ان پر اتنا شدید تشدد کیا کہ ان کا پورا چہرہ نیلا اور سیاہ پڑ گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ فادرز ڈے سے قبل اپنے شدید علیل والد سے ملنے جا رہی تھیں۔
ایمی، جو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے فرضی نام استعمال کر رہی ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ اس رشتے میں رہنا ان کے لیے اکثر تشدد سے بچنے اور اپنی جان محفوظ رکھنے کی حکمتِ عملی بن گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک میلکم آزاد تھا، وہ خود کو اتنا محفوظ محسوس نہیں کرتی تھیں کہ پولیس کو اس کے خلاف رپورٹ درج کرا سکتیں۔
دوسری جانب، ان کے قریبی دوست اور اہلِ خانہ مسلسل بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار تھے۔ کئی مواقع پر انھوں نے سکاٹ لینڈ پولیس کی گھریلو تشدد سے متعلق معلوماتی سکیم کے ذریعے اپنے خدشات رپورٹ کیے اور پولیس کو ایسے شواہد بھی فراہم کیے جن میں ٹیکسٹ پیغامات اور ایمی کی چوٹوں کی تصاویر شامل تھیں۔
ان شواہد کی مدد سے پولیس ایک مضبوط مقدمہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئی، جس کے نتیجے میں میلکم کو ستمبر 2024 میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد ایمی نے ان تمام مبینہ واقعات کی تفصیلی رپورٹ پولیس کو دی جن میں ریپ، جسمانی حملے اور مسلسل بدسلوکی شامل تھی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب ان کی شادی میں صرف چار ہفتے باقی تھے۔
ایمی کی میلکم سے ملاقات اگست 2023 کے آخر میں ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر پر ہوئی تھی۔ پہلی ملاقات میں دونوں کافی پینے اور چہل قدمی کے لیے گئے۔ ایمی کو میلکم ایک خوش مزاج اور مہذب شخص محسوس ہوئے، تاہم تعلق ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھا۔
چند ہی دنوں میں وہ اس کے والدین سے مل چکی تھیں، چند ماہ بعد دونوں ایک ساتھ رہنے لگے اور کرسمس تک ان کی منگنی ہو گئی۔ ایمی کا کہنا ہے کہ اچھے دنوں میں میلکم انھیں اپنا بہترین دوست محسوس ہوتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول، ’رشتے کے آخری دنوں میں وہ میرے جملے مکمل کر لیتے تھے اور انھیں اندازہ ہوتا تھا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔ یہ ایک طرف اچھا لگتا تھا، لیکن دوسری طرف مجھے خوف بھی محسوس ہوتا تھا۔‘
تاہم جلد ہی میلکم نے ان کی زندگی کے معاملات پر دخل اندازی شروع کر دی۔ ایمی کے مطابق انھوں نے اصرار کیا کہ وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیں تاکہ ان کا تعلق صرف دونوں کے درمیان محدود رہے۔
انھوں نے بتایا کہ گھر میں انھیں اپنے خاندان کی فون کالز سننے تک کی آزادی نہیں تھی کیونکہ میلکم کو ان کے رشتہ داروں کا اندازِ گفتگو پسند نہیں تھا۔ بعض اوقات وہ ان کا موبائل فون چھپا دیتے یا چھین لیتے تھے۔

ایمی کے مطابق میلکم کئی بار ان کی ملازمت کی جگہ پر بھی آ دھمکتے اور مطالبہ کرتے کہ وہ وقت سے پہلے کام چھوڑ دیں۔ اگر وہ انکار کرتیں تو وہ ہنگامہ کھڑا کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جانتی تھیں کہ اگر ان کی بات نہ مانی تو گھر واپس پہنچنے پر ایک اور خوفناک رات ان کی منتظر ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ صورتحال میرے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ میں نے اس شعبے میں آنے کے لیے سخت محنت کی تھی اور اپنی ملازمت سے بے حد محبت کرتی تھی۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اس کنٹرول کے باعث میں اپنی شناخت اور شخصیت کا ایک اہم حصہ کھوتی جا رہی ہوں۔‘
ایمی کے مطابق انھیں یہ احساس بھی ستانے لگا تھا کہ شاید ان کے ماتحت ملازمین ان کا احترام کھو رہے ہیں، کیونکہ باہر سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی اور کو یہ اختیار دے رہی ہیں کہ وہ ان کے کام اور زندگی کے فیصلے کرے، حالانکہ حقیقت میں وہ مسلسل خوف اور دباؤ کے ماحول میں زندگی گزار رہی تھیں۔
تین دن تک ’حملے کی کیفیت‘

،تصویر کا ذریعہPolice Scotland
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایمی کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ان کے تعلقات میں جسمانی تشدد بھی شامل ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں تشدد کے واقعات کبھی کبھار پیش آتے تھے، تاہم بعد میں یہ تقریباً ہر دوسرے ہفتے کا معمول بن گئے۔
انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میلکم مسلسل تین روز تک شدید اشتعال اور جارحیت کی کیفیت میں رہے، اس دوران انھوں نے چاقو سے صوفہ پھاڑ دیا اور خودکشی کی دھمکیاں بھی دیں۔
ایمی کے مطابق متعدد مواقع پر میلکم نے انھیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات ان کے سینے پر بیٹھ جاتے، ان کا گلا دباتے، حملوں کے دوران ان کا مذاق اڑاتے اور مزید تشدد کی دھمکیاں دیتے تھے۔
ایمی کا دعویٰ ہے کہ اس تشدد کے نتیجے میں انھیں مستقل جسمانی نقصان پہنچا۔ ان کے بقول ایک حملے کے دوران میلکم نے ان کی کلائی توڑ دی اور انھیں ہسپتال جانے سے بھی روک دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس چوٹ کے اثرات آج بھی برقرار ہیں اور اب وہ ایک ہاتھ سے کتاب تک نہیں پکڑ سکتیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک جھگڑے کے دوران پیش آیا، جب میلکم مبینہ طور پر یہ کہہ رہے تھے، ’عورتیں ہمیشہ میری زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘
ایمی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ میلکم نے ایک سے زائد مرتبہ ان کا ریپ کیا، جن میں ایک واقعہ ایسا بھی تھا جب گھر میں ایک بچہ موجود تھا۔
ایمی کو بچے کے سامنے فرش پر بٹھایا گیا اور کہا گیا کہ وہ اس خوف کے لیے معذرت کریں جو انھوں نے پیدا کیا تھا۔
بعض اوقات، ان کے مطابق، ایسا لگتا تھا جیسے ان کی شخصیت میں اچانک کوئی ’سوئچ‘ آن ہو گیا ہو۔ دیگر مواقع پر وہ پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جن دنوں وہ برا سلوک کرنے والا ہوتا تھا، ان دنوں صبح چھ بجے ہیوی میٹل موسیقی چلاتا تھا۔‘
’میں نے اسے بتایا تھا کہ یہ مجھے کتنا متاثر کرتی ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک اذیت دینے کا طریقہ ہے، گویا کہہ رہا ہو: ’آج جو ہونے والا ہے، اس کے لیے تیار رہو۔‘
حملوں کے بعد ایمی اس سے بات چیت کے ذریعے معاملہ سمجھانے کی کوشش کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ وہ اس سلوک کی مستحق نہیں۔ مگر وہ گفتگو کو اپنی مشکلات کی طرف موڑ دیتے، جس سے انھیں محسوس ہوتا کہ وہ ’کوئی کام درست نہیں کر سکتیں‘۔
ایمی نے کہا کہ ’آپ آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں کیونکہ آپ کو احساس ہو جاتا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں کیونکہ اگر آپ کسی اور کو بتائیں تو وہ آپ کو تعلق چھوڑنے کا کہیں گے، لیکن آپ خود کو ایسی حالت میں نہیں پاتے کہ چھوڑ سکیں۔‘
ایمی کے لیے مکمل تنہائی کا شکار ہونے سے بچانے والی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کے دوستوں اور اہلِ خانہ نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے خدشات کا اظہار کیا، تاہم انھوں نے ایسا دباؤ ڈالنے یا حکم دینے کے انداز میں نہیں بلکہ محبت اور ہمدردی کے ساتھ کیا۔
ایمی کے مطابق ان کے قریبی لوگ مسلسل انھیں یہ احساس دلاتے رہے کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی سلامتی اور بھلائی چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی واضح کرتے تھے کہ ان کی نظر میں میلکم ایک اچھا شخص نہیں، لیکن اس کے باوجود حتمی فیصلہ ایمی کو خود ہی کرنا تھا۔
اس دوران ان کی بہن نے انھیں ایک جذباتی خط بھی لکھا، جس میں وضاحت کی گئی کہ وہ شادی میں کیوں شریک نہیں ہو سکتیں۔ خط میں اپنی بہن کے مستقبل سے متعلق گہری تشویش، خوفناک خوابوں اور اس اندیشے کا ذکر تھا کہ شاید وہ انھیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں۔
خط کے اختتام پر ان کی بہن نے لکھا کہ ’براہِ کرم یہ جان لو کہ اگر تم آخری لمحے میں شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرو تو بس اپنی گاڑی میں بیٹھو اور وہاں سے نکل آؤ۔ اگر ضرورت ہو تو سیدھا میرے پاس آ جانا۔ میرا دروازہ ہمیشہ تمھارے لیے کھلا رہے گا۔‘
ایمی کا کہنا ہے کہ ایسے پیغامات اور اہلِ خانہ کی غیر مشروط حمایت نے انھیں یہ احساس دلایا کہ مشکل ترین حالات میں بھی وہ تنہا نہیں ہیں اور اگر وہ اس رشتے سے نکلنے کا فیصلہ کریں تو ان کے پاس واپس جانے کے لیے محفوظ جگہ اور سہارا موجود ہے۔

ایمی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ چار مختلف افراد نے الگ الگ مواقع پر پولیس کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ پہلی شکایت موصول ہونے کے بعد کرسٹوفر میلکم کو گرفتار کر کے ضمانت پر رہا کر دیا گیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ شواہد میں اضافہ ہوتا رہا، جس کے بعد پولیس نے ایمی سے باضابطہ بیان دینے کی درخواست کی۔
ایمی کے مطابق پولیس افسران نے اس بار ان سے انتہائی واضح اور دوٹوک انداز میں بات کی۔
انھوں نے بتایا کہ ’انھوں نے مجھ سے کہا: اگر تم بیان نہیں دو گی تو ممکن ہے ہم ایک دن تمھیں سڑک کنارے کسی کھائی میں مردہ پائیں۔‘
ایمی کا کہنا ہے کہ اس جملے نے انھیں گہرائی سے جھنجھوڑ دیا، کیونکہ اس سے پہلے کسی نے صورتحال کی سنگینی اس قدر کھل کر ان کے سامنے بیان نہیں کی تھی۔ ان کے بقول، وہ خود بھی جانتی تھیں کہ اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار سکتا تھا۔
اب 30 سالہ ایمی نے اپنی کہانی بی بی سی کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے خاندان، دوستوں اور اس مقدمے پر کام کرنے والے پولیس افسران نے مل کر بالآخر ان کی جان بچائی۔ ان کے مطابق، ’میرے معاملے میں نظام نے کام کیا۔‘
سکاٹ لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے ایسے مقدمات میں، جہاں متاثرہ فرد شکایت درج کرانے یا بیان دینے سے ہچکچاتا ہو، تفتیش کار ایسے شواہد اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو صرف متاثرہ شخص کے بیان پر منحصر نہ ہوں۔
ان شواہد میں باڈی کیم فوٹیج، موبائل فون کا فارنزک تجزیہ، زخموں کی تصاویر، طبی رپورٹس، ماضی کے واقعات کا ریکارڈ اور سابق ساتھیوں یا دیگر گواہوں کے بیانات شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسے شواہد کی بنیاد پر مقدمات کو اس وقت بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے جب سزا کے معقول امکانات موجود ہوں۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایمی کے اہلِ خانہ اور دوستوں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات اس مقدمے میں ’انتہائی اہم‘ ثابت ہوئیں، کیونکہ انھی کی مدد سے تفتیش کار میلکم کے مبینہ جرائم کی مکمل تصویر سامنے لانے میں کامیاب ہوئے۔
56 گواہوں پر مشتمل طویل سماعت کے بعد 37 سالہ کرسٹوفر میلکم کو لوتھیان اور مورے کے علاقوں میں چار خواتین کے خلاف متعدد جرائم کا مجرم قرار دیا گیا، جن میں ایمی بھی شامل تھیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ان جرائم کی تاریخ 2008 تک جا پہنچتی تھی، جب میلکم ابھی نوعمری کے دور میں تھے۔
میلکم کو حال ہی میں 16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاہم انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل بھی دائر کر رکھی ہے۔

ایمی کا ماننا ہے کہ کرسٹوفر میلکم کی خواتین کے خلاف نفرت اور پُرتشدد رویے کی ایک طویل تاریخ ہے، جس سے ان کے نزدیک یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی اصلاح ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی جانب سے دائر کی گئی اپیل مسترد کر دی جانی چاہیے۔
تاہم عدالتی کارروائی کے باوجود ایمی کے خدشات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین، جیسے سٹیسی ہنٹر اور وِکی سولومن، سے متعلق خبروں نے ان کی آئندہ سلامتی کے بارے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر اس امکان کے پیشِ نظر کہ حکومتی تجاویز کے تحت میلکم کو سزا مکمل ہونے سے پہلے رہائی مل سکتی ہے۔
اسی ہفتے سکاٹ لینڈ کے اعلیٰ ترین ججوں نے ان تجاویز پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پُرتشدد جرائم اور جنسی حملوں میں ملوث افراد کو قبل از وقت کمیونٹیز میں واپس بھیجنا عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
خواتین کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز رویوں سے نمٹنا سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انھوں نے پارلیمانی مدت کے دوران خواتین دشمنی کو باقاعدہ جرم قرار دینے اور متاثرہ خواتین کے لیے معاونتی خدمات کی مالی مدد بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم ریپ کرائسس سکاٹ لینڈ سمیت متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے واضح حکمتِ عملی، قابلِ عمل وعدے اور مقررہ ٹائم لائنز درکار ہیں۔
ان تمام تلخ تجربات کے باوجود ایمی اب اپنی زندگی کو نئے سرے سے آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ مختلف اداروں نے ان کی مدد کی، انھوں نے نفسیاتی مشاورت حاصل کی، نئی گاڑی اور گھر خریدا اور اب مستقبل میں خاندان شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے بھی ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر موجود رنجش کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔ وہ خاص طور پر ان دوستوں، رشتہ داروں اور پیشہ ور افراد کی شکر گزار ہیں جنھوں نے مشکل ترین وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
ایمی کے بقول، ’میرے خیال میں خاندان اور دوستوں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں جس کے بارے میں آپ کو خدشہ ہو تو یہ ایک اہم اور مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کے دوست اور اہلِ خانہ کو خوف تھا کہ شاید وہ ان کی مداخلت کو ناپسند کریں یا ان سے تعلق ختم کر لیں، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔
’میں نے ان کے لیے صرف سکون، محبت اور شکرگزاری محسوس کی۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنے لوگ میری فکر کرتے ہیں۔ جب مجھے یہ احساس ہوا تو میں بے حد ممنون تھی۔‘
ایمی کی کہانی اس بات کی یاددہانی ہے کہ گھریلو تشدد کا شکار افراد کے لیے خاندان، دوستوں، برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت مداخلت زندگی بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔



















