’شدید بے چینی‘ کی تشخیص اور آنکھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ: سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا ہے؟

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسابق وزیرِ اعظم عمران خان تین برس سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان میں بے چینی اور گھبراہٹ کی ’شدید‘ علامات پائی گئی ہیں۔

میڈیکل بورڈ نے سابق وزیر اعظم کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی اور کچھ دیر ذہنی سکون کی سرگرمیاں تجویز کی ہیں۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے مختلف تفصیلات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔

اس درخواست میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں خدشات اور ان سے ملاقات پر لگائی جانے پابندیوں کا بھی ذکر ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ منگل کے روز اس درخواست پر سماعت کرے گا جبکہ جسٹس نعیم افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔

سابق وزیراعظم عمران خان تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انھیں 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس کے مقدمے سمیت مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں جمع کروائی گئی ہے جب حال ہی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اُن کے اہلخانہ اور ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے کی صورت میں احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

پیر کے روز پی ٹی آئی کے دیگر سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی غیرآئینی، غیرقانونی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور اہلخانہ کی موجودگی میں بہتر ہسپتال میں علاج ہو۔۔۔ اور اگر ملاقات کروائی جاتی ہے تو گارنٹی دیتے ہیں کہ باہر آ کر کوئی بھی شخص سیاسی بات نہیں کرے گا۔‘

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رپورٹ میں مزید کیا ہے؟

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں اینزائٹی (بے چینی) کا لیول تھری پلس بیان کیا گیا ہے، جو انتہائی شدید سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا آخری مرتبہ طبی معائنہ 10 اگست 2026 کو میڈیکل بورڈ نے کیا تھا اور اس میڈیکل بورڈ میں آنکھوں، امراضِ قلب اور میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرز شامل تھے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کی عمر تقریباً 73 سال ہے اور طبی معائنے کے دوران عمران خان کا بلڈ پریشر 140/80 جبکہ نبض 54 فی منٹ ریکارڈ ہوئی۔ اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کی ای سی جی نارمل، سینہ صاف اور دل کے والوز و چیمبرز نارمل قرار دیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سر میں بوجھل پن اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے کی شکایت کی، تاہم میڈیکل رپورٹ کے مطابق سینے میں درد، بھاری پن یا سانس پھولنے کی شکایت نہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی پر قابو پانے کے لیے ادویات تجویز کی ہیں۔

Imran Khan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رپورٹ میں عمران خان کو میگزین، اخبارات، ٹی وی اور مطالعے کی کتابیں فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے اورمیڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلِخانہ اور شریکِ حیات سے ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی سفارش کی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق خاندانی میل جول بڑھانے سے عمران خان کی بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ درخواست گزار نے اسی قسم کی درخواست کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں قائم ہونے والا بینچ اس درخواست کو نمٹا چکا ہے۔

’سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عمران خان سے ملاقات کے بعد جیل کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اس ضمن میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم سے جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا گیا۔

اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور رپورٹ کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ کی اب تک 84 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بھی 10 فروری اور چار اپریل 2026 کو سابق وزیر اعظم سے ملاقات کر چکے ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میڈیکل افسران عمران حان کا دن میں تین مرتبہ کھانے پینے کی جانچ اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کا چیک اپ متعدد سرکاری معالجین بھی کرتے رہے جس کا ریکارڈ موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ماہر امراض چشم سے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے۔

جیل حکام کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی اس رپورٹ میں عمران خان کی چار نومبر 2023 سے لے کر 10 اگست 2026 تک 39 مختلف طبی ماہرین کے طبی معائنوں کی سمری بھی شامل کی گئی ہے۔ جیل حکام کی جانب سے سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس درخواست کو نمٹا دے۔

اینزائٹی لیول تھری پلس کیا ہے اور اس کا کیا علاج ہے؟

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ریاض بھٹی نے بی بی سی کے اسد صہیب کو بتایا کہ تھری پلس اینزائٹی ’شدید بے چینی اور اضطراب کی کیفیت‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے کہ مذکورہ شخص اپنے اردگرد کے ماحول کی وجہ سے بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔‘

’یہ اضطرابی کیفیت زیادہ دیر تک تنہائی میں رہنا، کسی سے میل جول نہ ہونا سے بڑھ جاتی ہے اور مریض اس کی وجہ سے مایوسی اور ڈپریشن میں بھی جا سکتا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس کا علاج تو یہی ہے کہ مذکورہ شخص سے میل جول کی اجازت دی جائے اور جس جگہ وہ موجود ہے وہاں کے حالات اس کے لیے سازگار بنائے جائیں۔

ڈاکٹر ریاض بھٹی کے بقول میل ملاقاتوں اور چہل قدمی اور ورزش سے بھی بے چینی اور گھبراہٹ کی علامات کم ہوتی ہیں۔