ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے مجرم عمر حیات کو موت کی سزا

،تصویر کا ذریعہInstagram/SanaYousaf
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
اسلام آباد کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے میں مجرم عمر حیات کو موت کی سزا سنا دی ہے۔
منگل کو اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر حیات کو مقتولہ کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے بطور زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
اس کے علاوہ ثنا یوسف کے گھر پر ڈکیتی کے جرم سمیت متعدد دفعات کے تحت عمر حیات کو مجموعی طور پر 21 برس قید بامشقت کی سزا بھی سنائی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق مجرم پر دیگر دفعات کے تحت مزید پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے مقدمے کا فیصلہ مجرم عمر حیات کی موجودگی میں سنایا۔
پولیس کے مطابق ثنا یوسف کو دو جون سنہ 2025 کو قتل کیا گیا، جس کے دو روز بعد ملزم عمر حیات کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس نے اس کیس میں آلہ قتل کے علاوہ ملزم سے ثنا یوسف کا آئی فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے اس کیس میں اہم ثبوت سمجھا گیا، جبکہ پراسیکیوشن نے دو چشم دید گواہان کے بیانات بھی عدالت میں قلمبند کروائے جن میں ثنا یوسف کی والدہ اور پھپھو شامل تھیں۔
جج افضل مجوکا کی عدالت میں حتمی دلائل کے دوران استغاثہ نے عدالتی سماعت کے دوران ملزم کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی، جبکہ ملزم کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ ’اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
استغاثہ اور ملزم کے وکلا کے حتمی دلائل
ثنا یوسف قتل کیس میں استغاثہ نے اپنے حتمی دلائل میں عدالت سے ملزم عمر حیات کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔
سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ پراسیکیوشن نے 27 گواہان کو عدالت میں پیش کیا جن میں دو چشم دید گواہ یعنی ثنا یوسف کی والدہ فرزانہ یوسف اور پھپھو لطیفہ شاہ بھی شامل ہیں۔ ’چشم دید گواہان نے بتایا کہ انھوں نے (اڈیالہ جیل میں) شناخت پریڈ سے پہلے ملزم کی تصویر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں گھر کے نمبر کی غلطی کی تصحیح کی جا چکی ہے۔
انھوں نے ڈاکٹرز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کو گولیاں لگنے سے ’سیریئس انجریز تھیں (یعنی) قتل کے ارادے سے ہی فائر کیے گئے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ان کا کہنا تھا کہ ملزم سے برآمد کیے گئے ثنا یوسف کے آئی فون سے ملزم عمر حیات عرف کاکا کا نمبر ملا۔ راجہ نوید حسین کیانی کا کہنا تھا کہ ’ملزم ثنا یوسف کا موبائل ساتھ لے گیا تاکہ ریجیکشن سمیت دیگر چیزوں کے ثبوت ختم کرے۔‘
دوسری طرف ملزم عمرحیات کے وکیل نے حتمی دلائل میں کہا کہ ’پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہی دینی ہے، یہ زیادتی ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ملزم کو فیئر ٹرائل کا آئینی حق ملنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر وکیل اور جج کے درمیان رنجش پیدا ہوتی ہے تو ملزم کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔‘
اس موقع پر جج افضل مجوکا نے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میرے سامنے میڈیا ٹاک نہ کریں۔‘
وکیل ملزم کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے سٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے دو درخواستیں ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔ جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ ’200 درخواستیں ہائیکورٹ میں زیر التوا ہوں تو بھی مجھے کوئی خوف نہیں۔ عدالت کو گمراہ نہ کریں۔‘
ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ ’کیس کو خواتین پر مبنی معاشرتی بحث کی طرف نہ لے جائیں۔۔۔ اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی۔‘
’لڑکا ثنا کے کمرے سے نکل کر باہر آیا اور میری بہن پر پستول تانی‘
گذشتہ سال اس قتل کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ عمر حیات نے مبینہ طور پر ثنا یوسف کی جانب سے خود کو بار بار مسترد کیے جانے پر ان کے گھر میں گھس کر انھیں دو گولیاں ماری تھیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ کیس رپیٹیٹو ریجکشن کا تھا۔‘
’ملزم نے ثنا یوسف کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بار بار ثنا سے رابطہ کر رہا تھا اور وہ اس کو منع کر رہی تھی۔ وہ گذشتہ کئی دنوں سے ثنا یوسف سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور دو جون کو بھی اس نے ثنا یوسف کے گھر آ کر سات آٹھ گھنٹے انتظار کیا اور جب ثنا نے اس دن بھی اس سے ملنے سے انکار کیا تو اس نے پلاننگ کی اور اس واردات کو انجام دیا۔‘
ثنا یوسف کے والد یوسف حسن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ قتل کے روز گھر سے باہر تھے اور انھیں گھر کی نچلی منزل پر رہنے والی خاتون رشتہ دار کی کال آئی کہ ’کوئی ڈاکو آیا ہے اور اس طرح سے آپ کی بیٹی کو گولی مار کر چلا گیا ہے اور موبائل بھی ساتھ لے گیا ہے۔‘
یوسف حسن کہتے ہیں ’یہ لڑکا کیسے گھر میں داخل ہوا، شاید اس نے ریکی کی ہوگی، مجھے نہیں معلوم۔ میری چھوٹی بہن گھر کے اندر موجود تھیں اور یہ لڑکا سیدھا کمرے میں گیا اور میری بہن کو آواز آئی کہ شاید کوئی غبارہ پھٹا ہے اور وہ یہ دیکھنے کے لیے کیا معاملہ ہوا ہے، بیٹی کے کمرے کی طرف گئی ہیں۔‘
’اسی وقت یہ لڑکا ثنا کے کمرے سے نکل کر باہر آیا اور میری بہن پر پستول تانی مگر اس سے فائر نہیں ہوا۔ اس نے فائر کرنے کی کوشش کی پھر وہ بھاگ کر نیچے چلا گیا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’میری بہن نے نیچے والوں کو آواز دی، گلی میں جا کر آواز دی کہ ڈاکو آیا ہے اور میرے پر پستول تان کر گیا ہے۔‘
یوسف حسن کہتے ہیں کہ اس وقت گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ ’میری بہن گلی میں بھاگتی جا رہی تھی اس وقت تک اسے پتا نہیں چلا کہ وہ لڑکا میری بھتیجی کو گولی مار کر گیا ہے، وہ گلی سے کچھ بندوں کو اور نیچے والی بہن کو لے کر اندر گئی اور ثنا کو دیکھا تو لوگوں کو آواز دی اور اسے گاڑی میں ڈالا۔‘
یوسف حسن کے مطابق ’اتنی دیر میں ثنا کی ماں بھی پہنچ گئیں جنھیں بیٹی نے خود مارکیٹ بھیجا تھا کہ جاؤ سرف لے کر آؤ عید آ رہی ہے کچھ کپڑے دھونے ہیں۔‘
ثنا کے والد کہتے ہیں کہ ’قاتل نے اسی موقع سے فائدہ اٹھایا اور اندر آ کر ثنا کو مار کر چلا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram/SanaYousaf
ثنا یوسف کون ہیں اور ان کے قتل کے بارے میں ہمیں کیا معلوم ہے؟
ثنا یوسف کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے تھا اور وہ اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ اسلام آباد میں رہائش پذیر تھیں۔
قتل کے روز ثنا یوسف کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ان کی سالگرہ کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی، جس میں انھیں اپنے دوستوں کے ساتھ سالگرہ مناتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد کے تھانہ سمبل میں ان کی والدہ فرزانہ ثنا یوسف کی مدعیت میں درج مقدمے میں بتایا گیا تھا کہ 'ایک شخص اچانک ہمارے گھر میں داخل ہوا اور اس نے میری بیٹی ثنا یوسف پر سیدھے فائر کیے جن میں سے دو ان کے سینے پر لگے۔'
واقعے کے دو دن بعد ہی پولیس نے ملزم عمر حیات کو ضلع فیصل آباد سے حراست میں لے لیا تھا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکس پر ایک پیغام میں ثنا یوسف کے قتل کیس میں ملزم اور آلہ قتل کا '20 گھنٹوں کے اندر' سراغ لگانے پر اسلام آباد پولیس کو داد دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے قتل کے ایک روز بعد ملزم کے پاس سے پستول کے ساتھ ساتھ مقتولہ کا آئی فون برآمد کیا جبکہ ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کیا تھا۔
جون میں ہی مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملزم عمر حیات نے مجسٹریٹ سعد نذیر کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ ثنا یوسف کا ملاقات سے مسلسل انکار ان کے قتل کی وجہ بنا تھا۔
پولیس اہلکار کے مطابق ملزم عمرحیات نے عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ ثنا نے 'پہلی مرتبہ ملاقات کے لیے بلایا، سارا دن انتظار کیا لیکن نہیں ملی۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'میں ثنا یوسف کی سالگرہ پر تحفہ لایا جو اس نے نہیں لیا۔۔۔۔ دو جون کو ثنا یوسف نے دوبارہ ملاقات کے لیے بلایا لیکن پھر بھی نہیں ملی۔'
پولیس اہلکار کے بقول ملزم نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ 'مجھے ثنا یوسف کے ملاقات نہ کرنے پر سخت رنج تھا اور غصے میں آ کر اس کے گھر جا کر اسے قتل کر دیا۔'
ملزم کا عدالت میں یہ بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق عمومی طور پر پولیس کی تحویل میں ملزم کی طرف سے دیے گئے اعترافی بیان کو اہمیت نہیں دی جاتی کیونکہ پولیس کی تحویل سے آزاد ہونے کے بعد ملزمان پولیس کو دیے گئے بیان سے منحرف ہو جاتے ہیں لیکن دفعہ 164 کے تحت ملزم اپنے مرضی سے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتا ہے جو کہ کسی بھی مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔






















