’ہنتا وائرس‘ کو ایک مریض نے ’زمین پر جہنم‘ کیوں قرار دیا؟

Lorne Warburton and Christian Ege

،تصویر کا ذریعہLorne Warburton and Christian Ege

    • مصنف, وکی وونگ اور یانگ تیان
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بحر اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر ہنتا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے بعد تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہنتا وائرس کے دو کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ ہنتا وائرس کیسز کی ’تفصیلی تحقیقات‘ جاری ہیں جن میں مزید لیبارٹری ٹیسٹنگ بھی شامل ہے۔

یہ پھیلاؤ ایم وی ہونڈیئس کروز شپ پر رپورٹ ہوا جو ارجنٹینا سے کیپ وردے جا رہی تھی۔ ہنتا وائرس پر تفصیل سے بات کرنے سے قبل ان مریضوں سے جان لیتے ہیں جن میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تو پھر ان پر کیا بیتی؟

’بیماری جہنم سے کم نہ تھی‘

لورن واربَرٹن نے تین سال پہلے تک ہنتا وائرس کا نام بھی نہیں سنا تھا، یہاں تک کہ انھیں ہسپتال لے جا کر لائف سپورٹ پر رکھ دیا گیا۔ وہ اس بیماری کو ’تشدد‘ اور ’جہنم جیسا عذاب‘ قرار دیتے ہیں۔

کینیڈین شہری لورن اوربرٹن نے بی بی سی کے پروگرام آؤٹ سائیڈ سورس کو بتایا کہ مارچ 2023 میں انھیں ’کووِڈ جیسی علامات، جسم میں درد، مسلسل سر درد اور شدید تھکن' محسوس ہونا شروع ہوئی۔ ان کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ کہتے ہیں کہ وہ 'پسینے سے بھیگ گئے تھے اور سانس نہیں لے پا رہے تھے۔‘

جب انھیں لائف سپورٹ مشین لگائی گئی تو ڈاکٹروں نے ہنتا وائرس کی تشخیص کی، جس کے بعد وہ تقریباً تین ہفتے ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جس درجے کی بیماری اور تکلیف سے میں گزرا، وہ واقعی جہنم تھا۔ یہ تشدد تھا۔ اس سب سے گزر کر دوبارہ سنبھل پانا ایک بہت بڑا مرحلہ تھا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جرمنی میں، کرسچین ایگے نے بھی مئی 2019 میں کووِڈ جیسی علامات کی شکایت کی۔ ان کے مطابق انھیں تین دن تک معدے کی شدید تکلیف رہی، قے، چکر آنا، اور یہ سب 'ایک عجیب فلو' جیسا محسوس ہو رہا تھا۔

خون کے ٹیسٹ کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انھیں گردوں کی ناکامی اور سیپسس (خون میں شدید انفیکشن) کا سامنا کرنا پڑا۔ چند دن کے لیے انھیں آئی سی یو میں رکھا گیا اور گردوں کے ڈائلیسس کے لیے گردن میں کیتھیٹر یعنی نالی لگائی گئی۔

کرسچین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیماری میں سب سے زیادہ تشویشناک مرحلہ سیپسس تھا۔

انھوں نے کہا ’گردے ٹھیک ہو گئے، لیکن بیکٹیریا اور وائرس دونوں کی شدت ایک ہی وقت میں بڑھ جانا چند دنوں کے لیے واقعی تشویشناک تھا۔‘

لورَن اور کرسچین ان چند خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں جو ہنتا وائرس سے بچ گئے، جبکہ اس کے بعض اقسام کی اموات کی شرح 20 سے 40 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

دونوں افراد نے اپنے تجربات اس وقت شیئر کیے جب ہنتا وائرس کی ایک نایاب قسم نیدرلینڈز کے ایک کروز شپ پر پھیلنے والے مہلک پھیلاؤ سے منسلک مریضوں میں پائی گئی۔

اب تک تین مسافر، کروز شپ ایم وی ہونڈیئس پر مر چکے ہیں۔ یہ جہاز تقریباً ایک ماہ قبل ارجنٹینا سے بحرِ اوقیانوس کے سفر پر روانہ ہوا تھا۔

کروز آپریٹر نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز تین افراد کو علاج کے لیے نیدرلینڈز منتقل کیا گیا۔

ان میں سے ایک برطانوی شہری، جن کی شناخت کئی میڈیا اداروں نے 56 سالہ سابق پولیس افسر مارٹن اینسٹی کے طور پر کی ہے، کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔

ان کی اہلیہ نکولا نے ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ ’چند دن بہت ڈرامائی رہے‘ اور ’ان کی حالت کبھی بہتر، کبھی خراب رہی۔‘

اس کے علاوہ، برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ دو برطانوی شہری ممکنہ ہنتا وائرس کی تشخیص کے بعد اب برطانیہ میں اپنے گھروں میں قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

ہنتا وائرس

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ہنتا وائرس کیا ہے؟

ہنتا وائرس، جس کا نام جنوبی کوریا کے ایک دریا سے لیا گیا ہے، دراصل وائرسز کے ایک خاندان کو کہا جاتا ہے، نہ کہ ایک واحد بیماری۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کے 20 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ وائرس عموماً چوہوں اور دیگر جوندروں کے سوکھے پیشاب اور فضلے سے پھیلتا ہے۔

یہ چوہوں کا پیشاب خشک ہونے کے بعد ان سے اٹھنے والے ذرات سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق انفیکشن عموماً اس وقت ہوتا ہے جب چوہے کے پیشاب یا تھوک سے وائرس فضا میں شامل ہو جائے۔

اگرچہ یہ نایاب ہے تاہم یہ چوہے کے کاٹنے یا خراش کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

اکثر یہ اس وقت ہوتا ہے جب متاثرہ فضلہ یا پیشاب ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو جائے۔ یہ وائرس چوہے کے کاٹنے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

لورَن وار برٹن کا ماننا ہے کہ انھیں یہ وائرس اپنے اٹاری میں قالین جھاڑنے کے دوران چوہے کے فضلے سے لگا۔

کرسچین کے معاملے میں، حکام کی جانب سے مقرر کیے گئے ایک ماہر حیاتیات نے ان کے باغ سے وائرس کا مثبت نمونہ پایا، اور اس سے چند دن پہلے ان کے بیٹے نے باغ میں ایک مردہ چوہا بھی دیکھا تھا۔

یہ وائرس دو سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

پہلی بیماری ہنتا وائرس پلمونری سنڈروم (ایچ پی ایس) ہے۔ اکثر یہ تھکن، بخار اور پٹھوں کے درد سے شروع ہوتی ہے جس کے بعد سر درد، چکر آنا، کپکپی اور پیٹ کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اگر سانس لینے میں دشواری کی علامات پیدا ہو جائیں تو اموات کی شرح تقریباً 38 فیصد ہو جاتی ہے۔

دوسری بیماری ہیموریجک فیور ود رینل سنڈروم (ایچ ایف آر ایس) ہے۔ یہ زیادہ شدید ہوتی ہے اور بنیادی طور پر گردوں کو متاثر کرتی ہے۔ بعد کی علامات میں کم بلڈ پریشر، اندرونی خون بہنا اور شدید گردوں کی ناکامی شامل ہو سکتی ہیں۔

بحالی کا صبر آزما طویل دورانیہ

اس وقت ہنتا وائرس کے لیے کوئی وسیع پیمانے پر دستیاب ویکسین یا مخصوص اینٹی وائرل علاج موجود نہیں۔ علاج کا انحصار علامات پر ہوتا ہے، جیسے ہسپتال میں نگہداشت اور سانس کی معاونت۔

لورَن ہسپتال سے واپس گھر چلے گئے، لیکن انھیں مکمل صحت یابی میں تقریباً ڈیڑھ سال لگا۔ ان کے مطابق بحالی کا عمل 'بہت سست' تھا۔

انھوں نے کہا کہ بحالی بہت سست رو ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال سے واپسی کے بعد انھیں کندھے میں شدید اکڑاؤ کی تکلیف بھی ہو گئی، جو بے حد دردناک تھی۔

کرسچین نے بتایا کہ چار ماہ کی بحالی کے بعد وہ 'مکمل طور پر صحت مند' ہیں اور کوئی مستقل نقصان نہیں ہوا، لیکن ڈائلیسس کا عمل جسم کے لیے بہت سخت تھا، اور طویل بحالی ذہنی طور پر مشکل رہی۔

اگرچہ لورن وار برٹن اب بہتر ہیں، لیکن وہ دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی (ایٹریل فبریلیشن) کا شکار ہیں اور روزانہ دل کی دوا لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا: 'میرا دل مضبوط ہے، لیکن اس کی دھڑکن درست سمت میں نہیں۔'

لورَن نے طبی عملے کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ اب اپنے مقامی ہیلتھ فاؤنڈیشن کے لیے طبی آلات اور تزئین و آرائش کے لیے چندہ جمع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

کرسچین نے اپنے تجربے کو 'عاجزی سکھانے والا' قرار دیا اور کہا کہ 'یہ دن سخت تھے، لیکن بہت سے لوگ مجھ سے کہیں زیادہ تکلیف میں ہیں۔'

انھوں نے بتایا کہ صحت یابی کے بعد وہ ہر ہفتے ایک کتاب پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لورَن کا کہنا ہے کہ وہ اب 'دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں'، کام پر واپس جا چکے ہیں اور بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'آپ زندگی کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو معمولی نہیں سمجھتے۔'

انھوں نے آئی سی یو کے دن یاد کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے دو ہفتے تک پانی نہیں پیا تھا۔ جب پہلی بار صاف پانی کا گھونٹ لیا، وہ زندگی کا سب سے بہترین ذائقہ تھا۔'

کیا ہنتا وائرس کروز شپ کے مسافروں میں پھیلا؟

ایم وی ہونڈیئس اس وقت سپین کے کینری آئلینڈز کی جانب روانہ ہے، اور اس سے قبل یہ جہاز کیپ وردے کے قریب تین دن تک لنگر انداز رہا۔

ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز کی آپریٹر ٹور کمپنی اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے بتایا کہ ایک ڈچ میاں بیوی اور ایک جرمن شہری کی موت ہو چکی ہے تاہم اب تک اموات کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

ڈچ کمپنی کا کہنا ہے کہ 69 سالہ برطانوی شہری کے کیس میں ہنتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وہ اس وقت جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیرِ علاج ہیں۔

ایم وی ہونڈیئس کیپ وردے کے ساحل کے قریب موجود ہے اور اس پر 149 افراد سوار ہیں۔

اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز کے مطابق جہاز پر عملے کے دو ارکان بھی ’شدید سانس کی علامات‘ میں مبتلا ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق بالترتیب برطانیہ اور نیدرلینڈز سے ہے اور دونوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ تاحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان دونوں میں ہنتا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ کسی اور شخص میں علامات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ٹائم لائن کے مطابق ایک مسافر جہاز پر ہی بیمار ہوا اور 11 اپریل کو اس کی موت ہو گئی۔

اس مسافر کی موت کی وجہ معلوم نہ ہو سکی اور 24 اپریل کو جب جہاز سینٹ ہیلینا پر لنگر انداز ہوا تو اس کی لاش جہاز سے اتار لی گئی۔

اس مسافر کی اہلیہ بھی سینٹ ہیلینا پر ہی جہاز سے اتری تھیں اور کمپنی نے کہا کہ اسے بتایا گیا کہ واپسی کے سفر کے دوران وہ بھی بیمار ہو گئیں اور بعد میں ان کی موت ہو گئی۔

کمپنی نے کہا کہ اس وقت یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ دونوں اموات جہاز پر موجود موجودہ طبی صورتِ حال سے جڑی ہوئی ہیں یا نہیں۔

کمپنی کے مطابق 27 اپریل کو ایک اور مسافر، جو برطانوی شہری تھے، شدید بیمار ہو گئے اور انھیں جنوبی افریقہ لے جایا گیا۔

69 سالہ برطانوی شہری کی حالت جوہانسبرگ میں تشویشناک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے جہاں ان میں ہنتا وائرس کی ایک قسم کی تصدیق کی گئی ہے۔

دنیا بھر میں ہنتا وائرس کے کتنے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں؟

نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال ایچ ایف آر ایس کے اندازاً ایک لاکھ پچاس ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن کا زیادہ تر تعلق یورپ اور ایشیا سے ہوتا ہے۔

ان میں سے نصف سے زیادہ کیسز عموماً چین میں سامنے آتے ہیں۔

امریکہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 1993 سے، جب ہنتا وائرس کی نگرانی شروع کی گئی، 2023 تک ملک میں مجموعی طور پر 890 کیسز رپورٹ ہوئے۔

تاہم سیؤول وائرس، جو ہنتا وائرس کی بڑی اقسام میں سے ایک ہے اور نارویجن چوہوں میں پایا جاتا ہے جنھیں براؤن ریٹ بھی کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں موجود ہے اور ان ملکوں میں امریکہ بھی شامل ہے۔

ہنتا وائرس

اس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟

ہنتا وائرس انفیکشنز کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔

سی ڈی سی علامات کے علاج کے لیے معاون نگہداشت کی سفارش کرتا ہے جس میں آکسیجن تھراپی، میکینیکل وینٹی لیشن، اینٹی وائرل ادویات اور حتیٰ کہ ڈائلیسز بھی شامل ہو سکتی ہے۔

شدید علامات والے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں داخل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

سنگین کیسز میں بعض مریضوں کو وینٹی لیٹر پر ڈالنا پڑ سکتا ہے۔

سی ڈی سی وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں اور کام کی جگہوں پر چوہوں سے رابطہ ختم کرنے کی بھی سفارش کرتا ہے۔

ادارہ یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ گھروں میں چوہوں کی آمد ممکن بنانے والی جگہوں، جیسے تہہ خانے یا اٹاری، کو بند کیا جائے۔

چوہوں کی گندگی صاف کرتے وقت حفاظتی لباس پہننے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ آلودہ ہوا کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے بچا جا سکے۔

کیا حالیہ عرصے میں ہنتا وائرس کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں؟

فروری 2025 میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جین ہیکمین کی اہلیہ بیٹسی اراکاوا ہنتا وائرس سے جڑی سانس کی بیماری کے باعث ہلاک ہو گئیں۔

طبی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اراکاوا کو ایچ پی ایس لاحق ہوا جو امریکہ میں سب سے عام قسم ہے اور یہی ان کی موت کا سبب بنا۔

ان کے گھر کے باہر موجود عمارتوں میں چوہوں کے گھونسلے اور کچھ مردہ چوہے پائے گئے جہاں سے ان کی لاش ملی تھی۔

پولیس ریکارڈز سے ظاہر ہوا کہ اراکاوا نے اپنی موت سے چند دن قبل انٹرنیٹ پر فلو اور کووڈ کی علامات کے بارے میں معلومات تلاش کی تھیں۔