دفاعی تعاون کا معاہدہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری: نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا کچھ ہوا؟

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جمعہ کو ابوظہبی میں وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا

،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے جمعہ کو ابوظہبی میں وزیر اعظم نریندر مودی کا استقبال کیا
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک، انٹیلی جنس تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دیں گے۔

یہ معاہدہ جمعے کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران طے پایا جو پانچ ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں ابو ظہبی پہنچے تھے۔

انڈین وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے بعد چار یورپی ممالک کے دوروں پر بھی روانہ ہوں گے۔

وزیرِ اعظم مودی نے جمعے کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ انڈیا مغربی ایشیا میں امن لانے کے لیے ہر ممکن تعاون دینے کو تیار ہے۔

مودی اور النہیان کی ملاقات وزیر اعظم کے خلیجی ملک پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی۔

صدر کے ساتھ ملاقات کے دوران انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘

متحدہ عرب امارات میں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے اور جنگ کے دوران ایران نے متعدد بار اسے نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’جس طرح متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا گیا، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جس تحمل کے ساتھ اس نے موجودہ صورتحال کو سنبھالا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔‘

دفاعی تعاون پر معاہدہ

 وزیر اعظم نریندر مودی کو جمعے کو ابوظہبی پہنچنے پر ’گارڈ آف آنر‘ دیا گیا

،تصویر کا ذریعہ@MohamedBinZayed

،تصویر کا کیپشن وزیر اعظم نریندر مودی کو جمعے کو ابوظہبی پہنچنے پر ’گارڈ آف آنر‘ دیا گیا

اماراتی صدر سے ملاقات کے بعد انڈین وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’وزیرِ اعظم نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور وہاں کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

بیان کے مطابق وزیر اعظم نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ اور جہازوں کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے انڈیا کے واضح موقف کو بھی سامنے رکھا اور کہا کہ یہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ توانائی اور خوراک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

انڈین وزیرِ اعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا کے تنازع کا اثر پوری دُنیا میں محسوس کیا جا رہا ہے اور انڈیا اس خطے میں قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم کا ہوائی اڈے پر النہیان نے استقبال کیا اور اُنھیں گارڈ آف آنر بھی دیا گیا۔ خصوصی اعزاز کے طور پر ان کے طیارے کو یو اے ای کے فوجی لڑاکا طیاروں نے اسکارٹ کیا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں مودی نے ابوظہبی ہوائی اڈے پر استقبال کرنے کے لیے یو اے ای کے صدر کے ’پرتپاک رویے‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس دوران انڈیا اور امارات کے درمیان سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے اشتراک، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’دونوں رہنماؤں نے انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مسلسل مضبوط ہوتے ہوئے دوطرفہ دفاعی تعاون کو جامع سٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ اُنھوں نے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر دستخطوں کا خیر مقدم کیا۔‘

اس معاہدے کے تحت دونوں فریق دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت، فوجی مشقیں، بحری سلامتی، سائبر دفاع اور محفوظ مواصلات کو بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر کبیر تنجا نے خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ پی ٹی آئی کو ’ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس میں ایل پی جی سے لے کر پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات ہے اور ان میں ایک سٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ میرے خیال میں یہ معاہدہ انڈیا کی امارات کے ساتھ موجود سٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھائے گا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا دورہ مجموعی طور پر متحدہ عرب امارات کی حمایت کے لیے ہے کیونکہ ایران جنگ کے دوران اس پر سب سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے ہوئے ہیں۔

ساتھ ہی انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہوتی ہے اور امارات خلیج میں انڈیا کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔

انڈیا اور یو اے ای کے درمیان ایل پی جی کی سپلائی پر معاہدہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

،تصویر کا کیپشنانڈیا اور یو اے ای کے درمیان ایل پی جی کی سپلائی پر معاہدہ ہوا ہے

تیل اور گیس سے متعلق معاہدے

دورے کے دوران انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر پر مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد خام تیل کی غیر مستحکم منڈی اور علاقائی تناؤ سے جڑی سپلائی میں رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے انڈیا کی توانائی سلامتی کو مضبوط کرنا ہے۔

خیال رہے کہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) انڈیا کے زیرِ زمین ذخائر میں تیل رکھنے والی واحد غیر ملکی کمپنی ہے۔ اس معاہدے سے انڈیا کو توانائی کی رسائی یقینی ہو گی جبکہ امارات کو اپنے اضافی خام تیل کے لیے انڈیا جیسی بڑی منڈی ملے گی۔

دونوں فریقوں نے ایل پی جی کی فراہمی پر بھی معاہدہ کیا۔ عالمی منڈی میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھارتی صارفین پر بھی پڑتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے اس اثر کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ معاہدہ انڈین آئل کارپوریشن (IOCL) اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے درمیان ہوا ہے۔ اس کے تحت امارات سے ترجیحی بنیادوں پر ایندھن کی فراہمی یقینی ہوگی۔ انڈیا کی مقامی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد حصہ متحدہ عرب امارات سے آتا ہے۔

اس کے علاوہ گجرات کے وادینار میں شپ ریپیئر کلسٹر بنانے کے لیے بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں انڈیا کے سفیر دیپک مِتّل نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم معاہدہ سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو بڑھانے سے متعلق ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’سب سے اہم پہلو انڈیا کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو بڑھانا ہے۔ اسے تقریباً 55 لاکھ بیرل سے بڑھا کر تین کروڑ بیرل تک لے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس کے تحت نئی جگہوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن میں اڈیشہ کا چندیکھول بھی شامل ہے۔‘

اُن کے بقول دوسرا پہلو یہ ہے کہ فجیرہ میں بھی انڈیا کے پیٹرولیم ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تیار کی جائے۔ تیسرا پہلو یہ تھا کہ محض خام تیل تک محدود نہ رہتے ہوئے پہلی بار گیس یعنی ایل این جی اور ایل پی جی کے لیے نئے اسٹریٹجک ذخائر تیار کیے جائیں۔

’چوتھا پہلو دونوں ممالک کے درمیان ایل این جی کی طویل مدتی سپلائی کے انتظام پر کام کرنا تھا۔ یہ تمام اقدامات انڈیا کی توانائی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔‘

مودی

،تصویر کا ذریعہ@narendramodi

پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے یو اے ای کے اداروں کی جانب سے انڈیا میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ اس کے تحت امارات این بی ڈی کی جانب سے انڈیا کے آر بی ایل بینک میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ساتھ ہی ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (ADIA) انڈیا کے نیشنل انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ فنڈ (NIIF) کے ساتھ مل کر انڈیا کے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

اس کے علاوہ انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی انڈیا کی سمان کیپیٹل میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ سرمایہ کاری انڈیا کے ترقیاتی سفر کے لیے یو اے ای کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں اور دوطرفہ سٹریٹجک سرمایہ کاری شراکت داری کو بھی مضبوط بناتی ہے۔‘

وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جمعے کی بات چیت بنیادی طور پر ’توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری، بلیو اکانومی، فن ٹیک سمیت ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط‘ جیسے امور پر مرکوز رہی۔