’پہلے ہی بتا دیں میری ضرورت ہے یا نہیں:‘ کوہلی کی 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش اور شکوہ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
انڈین ٹیم کے سابق کپتان وراٹ کوہلی نے آئندہ برس ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاہم ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اُن کی اہمیت پر سوال اُٹھایا گیا تو وہ وہاں نہیں رہنا چاہیں گے۔
آئی پی ایل فرنچائز رائل چیلنجرز بنگلور کے پوڈ کاسٹ میں وراٹ کوہلی نے کہا کہ ’انڈین ٹیم میں اپنی جگہ کو لے کر میں چیزوں کو مزید پیچیدہ نہیں بنانا چاہتا۔ اگر مجھے مسلسل اپنی اہمیت ثابت کرنا پڑے، تو ایسا ماحول میرے لیے نہیں۔‘
انٹرویو میں کوہلی نے واضح کیا کہ ’مجھے اپنی اہمیت کے بارے میں بار بار بدلتی رائے بالکل پسند نہیں۔‘
خیال رہے کہ دُنیائے کرکٹ کے عظیم بلے بازوں میں شمار ہونے والے کوہلی اب انڈیا کی جانب سے صرف ون ڈے فارمیٹ کھیلتے ہیں۔
آئی پی ایل کے اس سیزن میں وراٹ کوہلی رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کئی بار ان کی بیٹنگ اور فیلڈنگ کی تعریف کی گئی۔
37 سالہ ٹاپ آرڈر بلے باز نے آئی پی ایل 2026 کے 12 میچوں میں 53.77 کی اوسط سے 484 رنز بنائے ہیں۔ وہ اس سیزن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے تیسرے بلے باز ہیں۔
پہلے نمبر پر ہینرک کلاسین (508 رنز) اور دوسرے نمبر پر سائی سدرشن (501) ہیں۔
کوہلی کو اورنج کیپ کا مضبوط دعوے دار سمجھا جا رہا ہے اور وہ آر سی بی پوائنٹس ٹیبل میں 16 پوائنٹس کے ساتھ سرِفہرست ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
کوہلی نے 2027 ورلڈ کپ کے بارے میں مزید کیا کہا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کوہلی نے 2024 میں ٹی 20 انٹرنیشنل اور 2025 میں ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ دی تھی۔ گذشتہ چند برسوں میں ون ڈے میچوں کی تعداد کافی کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ بلیو شرٹ میں کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ اگلے سال ہونے والا ورلڈ کپ کھیلیں گے یا نہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ 2027 ورلڈ کپ میں کھیلنے کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے؟ اس پر کوہلی نے مثبت جواب دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ تیار رہتا ہوں کیونکہ یہی میری روزمرہ زندگی ہے۔ میں ورزش کرتا ہوں، گھر پر اچھا کھانا کھاتا ہوں۔ یہ صرف کرکٹ کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ مجھے اسی طرح جینا پسند ہے۔ تو میں اسی حالت میں ہوں۔ یہ 2027 والی بات چیت اور یہ سبت مجھ سے کئی بار یہ پوچھا گیا۔‘
سابق کپتان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر میں کھیل رہا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں آگے بھی کھیلنا چاہتا ہوں، انڈیا کے لیے ورلڈ کپ کھیلنا شاندار ہے لیکن اس کی اہمیت دونوں جانب ہونی چاہیے۔‘
خیال رہے کہ انڈیا میں بعض کرکٹ ناقدین کا یہ اصرار ہے کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بجائے آئندہ سال ورلڈ کپ میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے تاہم بعض حلقے اب بھی دونوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں ہیں۔
ون ڈے کرکٹ کے عظیم بلے بازوں میں شمار کیے جانے والے کوہلی نے 311 میچوں میں 58.71 کی اوسط سے 14,797 رنز بنائے ہیں۔
اُنھوں نے اپنے ون ڈے کریئر میں 54 سنچریاں اور 77 نصف سنچریاں سکور کیں۔ دباؤ میں اپنی شاندار کارکردگی کے لیے انھیں ’چیز ماسٹر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
انڈیا کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے اب تک کوہلی اور روہت شرما کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی۔
آئی پی ایل 2026 کے آغاز سے پہلے گوتم گمبھیر نے انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’2027 کے ورلڈ کپ کی تیاری آئی پی ایل کے بعد شروع ہو گی۔ ہمیں ورلڈ کپ سے پہلے 25 سے 30 ون ڈے میچ کھیلنے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنا آسان نہیں۔ ہم اپنا ٹیم کمبینیشن دیکھیں گے اور ان کھلاڑیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے جو وہاں کے حالات میں بہتر کھیل سکتے ہیں۔ سلیکٹرز اور کوچ یہ کام کریں گے۔ آئی پی ایل 2026 ختم ہونے کے بعد ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے بارے میں ہماری تصویر واضح ہو گی۔‘
واضح رہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ آئندہ سال اکتوبر اور نومبر میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا۔
کوہلی نے زور دے کر کہا کہ ’میرا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے۔ اگر اس ماحول میں میری اہمیت ہے جس کا میں حصہ ہوں اور وہ ماحول بھی محسوس کرتا ہے کہ میں ٹیم کے لیے اچھا کر سکتا ہوں، تو میں وہاں رہوں گا۔ اگر مجھے یہ محسوس کروایا جائے کہ مجھے اپنی اہمیت ثابت کرنی ہے، تو میں اس جگہ پر نہیں رہوں گا۔‘
تاہم امکان ہے کہ وہ اگلی بار 14 جولائی سے 19 جولائی تک انگلینڈ کے خلاف ہونے والی تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں کھیلتے نظر آئیں گے۔
’جب تک ٹیم چاہے گی کھیلتا رہوں گے‘
کوہلی کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی تیاری کے حوالے سے ایماندار ہوں، میں کھیل کو جس طرح اپناتا ہوں اس کے حوالے سے ایماندار ہوں۔ میں سر جھکا کر محنت کرتا ہوں۔ جب میں کھیلنے آتا ہوں تو میں کسی بھی دوسرے کھلاڑی جتنی یا اس سے زیادہ محنت کرتا ہوں۔‘
کوہلی کا کہنا تھا کہ ’میں اس بات کے لیے تیار رہتا ہوں کہ مجھے 50 اوورز فیلڈنگ کرنی ہو گی۔ اس طرح کام کرنے کے بعد بھی اگر مجھے اپنی قدر اور اہمیت ثابت کرنی پڑے، تو وہ جگہ میرے لیے نہیں۔‘
یاد رہے کہ اسی سال جنوری میں نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں وراٹ کوہلی انٹرنیشنل کرکٹ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بنے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’چیزوں کو مشکل مت بنائیں‘
کوہلی نے مزید کہا کہ ’مجھے کھیلنے میں خوشی ملتی ہے لیکن ایسے ماحول میں نہیں جہاں سلیکشن کے بعد بھی سوال اٹھائے جائیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’جس لمحے مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ لوگ میرے لیے چیزوں کو مشکل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر مگر کی بات کر رہے ہیں تو یا تو وہ سیدھی بات کریں یا پھر خاموش رہیں اور مجھے کھیلنے دیں۔‘
’اگر آپ کسی کام کی جگہ پر جائیں اور لوگ کہیں کہ انھیں آپ کی صلاحیت پر بھروسہ ہے اور ایک ہفتے بعد وہی لوگ آپ کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھانے لگیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ کیوں؟‘
اُنھوں نے کہا یا تو پہلے دن ہی بتا دیں کہ میں اچھا نہیں ہوں یا میری ضرورت نہیں لیکن اگر آپ نے کہا ہے کہ میں اچھا ہوں اور آپ کچھ نہیں سوچ رہے تو پھر خاموش رہیں۔


























