انڈین ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی اجازت: ’یہ اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین ریاست کرناٹک کی کانگریس حکومت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے 2022 کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے سکول اور کالج کے طلبہ کو حجاب، پگڑی، شیو مالا اور رودراکش پہننے کی اجازت دے دی ہے۔
سرکاری حکم میں تمام سرکاری، امداد یافتہ اور نجی تعلیمی اداروں میں مقررہ یونیفارم کے ساتھ ’عقیدے پر مبنی علامات‘ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ نیا اصول آئندہ تعلیمی سال سے نافذ ہو گا۔
حجاب تنازع دسمبر 2021 کے آخر میں کرناٹک کے شہر اڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی گرلز کالج سے شروع ہوا تھا۔
تب چھ مسلم طالبات کو نئی یونیفارم پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ اُس وقت ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی۔
سابق وزیر اعلیٰ بسوراج بومما ئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے حجاب پر پابندی لگا دی تھی۔
اس کے بعد حکومت کے حکم کو کرناٹک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن تین ججوں کی بینچ نے حکومت کے حکم کو برقرار رکھا۔ بعد میں یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں یہ اب بھی زیر التوا ہے۔
لیکن اب کانگریس حکومت کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے ایسی روایتی اور رسم و رواج پر مبنی علامات یونیفارم کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہیے اور اس سے یونیفارم کی بنیادی روح یا مقصد کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے نظم و ضبط، سلامتی اور طالب علم کی شناخت میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابتدائی و ثانوی تعلیم کے وزیر مدھو بنگارپا نے صحافیوں سے سے گفتگو میں بتایا کہ گذشتہ برسوں سے کئی واقعات رونما ہو رہے تھے جن میں طلبہ کو اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے سے روکا گیا۔ اُن کے بقول ہمارے بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں آںی چاہیے اور اس طرح کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔
ریاست کرناٹک کے شہر اڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی گرلز کالج سے شروع ہونے والا حجاب تنازع فروری 2022 میں کرناٹک اور ملک کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سبب بھی بنا تھا۔
یہ فیصلہ کیوں گیا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کانگریس کا یہ اقدام ایسے وقت میں آیا، جب بنگلورو کے ایک کالج نے میڈیکل اور انجینئرنگ داخلے کے لیے منعقد سی ای ٹی امتحان میں دھاگہ پہن کر آنے والے طلبہ کو داخلہ دینے سے روک دیا تھا۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ حکم اس وقت آیا ہے، جب داونگیرے اسمبلی ضمنی انتخاب میں مسلم ووٹرز کی طرف سے کانگریس امیدوار سمرت شمنور ملیکارجن کی حمایت نہ کرنے سے پارٹی کو دھچکا لگا تھا۔
برادری کا مطالبہ تھا کہ نشست پر مسلم امیدوار اتارا جائے کیونکہ وہاں 60 فیصد سے زیادہ ووٹر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے لیکن کانگریس قیادت نے سمرت شمنور کے حق میں فیصلہ کیا۔
یہ نشست سمرت کے دادا اور کانگریس کے سینئر رہنما شمنور شیوشنکرپا کے پاس تھی۔
سمرت کے والد ایس ایس ملیکارجن سدارامیا حکومت میں وزیر ہیں اور ان کی والدہ لوک سبھا کی رکن ہیں۔
اس تنازع کے بعد پارٹی نے اقلیتی شعبے کے سربراہ اور ایم ایل سی عبدالجبار کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں خارج کر دیا تھا۔ وہیں وزیر اعلیٰ نے اپنے سیاسی مشیر اور ایم ایل سی نصیر احمد کو بھی ہٹا دیا۔
سمرت نے پانچ ہزار 708 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی، اس ضمنی انتخاب نے مسلم برادری کے اندر کافی بحث چھیڑ دی تھی۔
کرناٹک میں یہ ایک انتخابی مسئلہ بھی بن گیا تھا اور اس حوالے سے کئی مقامات پر مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حجاب تنازع
حجاب تنازع دسمبر 2021 کے آخر میں اڈپی کے سرکاری پری یونیورسٹی گرلز کالج سے شروع ہوا تھا۔
تب چھ مسلم طالبات کو نئی یونیفارم پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حجاب پہننے کی وجہ سے کلاس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔ دو طالبات کو حجاب پہننے پر کلاس چھوڑنے کو کہا گیا۔
12 طالبات نے احتجاج کیا لیکن آخرکار چار طالبات نئی پالیسی کے مطابق چلنے پر آمادہ ہو گئیں۔
چکّمگلورو ضلع کے کوپل سرکاری فرسٹ گریڈ کالج میں بھی ایسی ہی صورت حال پیدا ہوئی لیکن وہاں یہ احتجاج کی صورت میں سامنے آیا۔ تب لڑکے زعفرانی شال پہن کر کالج پہنچے تھے۔
تاہم کالج نے مسلم مذہبی رہنماؤں، والدین اور دیگر مقامی رہنماؤں کی میٹنگ بلا کر معاملہ حل کر لیا۔
دوسری جانب حجاب اور زعفرانی شال دونوں پر پابندی لگا دی گئی جبکہ لڑکیوں کو یونیفارم سے میل کھاتا دوپٹہ یا سکارف سے سر ڈھانپنے کی اجازت دی گئی۔
لیکن یہ مسئلہ آہستہ آہستہ ریاست کے کئی دیگر اضلاع میں پھیل گیا۔
منڈیا ضلع میں حجاب پہنے طالبہ مسکان خان کے ساتھ نعرے بازی اور احتجاج کا واقعہ پیش آیا۔ ان کے مذہبی نعرے لگانے کے بعد کئی علاقوں میں احتجاج اور جوابی احتجاج شروع ہو گئے جس کے باعث کچھ دنوں کے لیے سکول بند کرنے پڑے۔

،تصویر کا ذریعہVideo Grab
حجاب پر کانگریس حکومت کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے بی جے پی رہنما آر اشوک نے کہا کہ ’کرناٹک کی کانگریس حکومت داونگیرے ضمنی انتخاب کے نتائج اور اپنے اقلیتی ووٹ بینک میں بڑھتی بے چینی سے گھبرا گئی۔‘
’اپنی گرتی ہوئی ووٹ بینک کی سیاست کو بچانے اور ڈیمیج کنٹرول کرنے کی مایوس کوشش میں حکومت نے ایک بار پھر حجاب تنازع کو زندہ کر دیا۔ یہ کانگریس کی پرانی حکمت عملی ہے، جب حکمرانی میں ناکام ہو جاؤ تو پولرائزیشن کا سہارا لو۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’اس حکومت میں حجاب کو آزادی کے نام پر اجازت دی جاتی ہے جبکہ زعفرانی شال پر فوراً پابندی لگا دی جاتی ہے۔‘
اُن کے بقول یہ امتیازی پالیسی جس میں ایک مذہب کی شناخت کو حق اور دوسرے کی شناخت کو قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس کے لیے ’سیکولرازم‘ صرف ہندوؤں کو نشانہ بنانے اور اقلیتوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔


























