گرد، شور اور کھدائی کراچی کی یونیورسٹی روڈ کی نئی پہچان: ’یہ منصوبہ شاید 2026 میں مکمل ہو جائے مگر لگتا نہیں‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 14 منٹ
گرد، شور، کھدائی اور بند راستے!
یہ وہ شناخت ہے جو کراچی کی اہم سڑکوں میں شامل یونیورسٹی روڈ کو کچھ عرصے سے مل چکی ہے۔
یہ تقریباً 16 کلومیٹر طویل سڑک ایک عرصے سے جہاں پاکستان کے سوشل میڈیا پر بحث اور میمز کا ایک اہم موضوع ہے وہیں اسے روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے یہ باعثِ زحمت بھی ہے۔
وائرل ہونے والے میمز کے پیچھے دراصل اس سڑک کی ابتر حالت اور جاری تعمیراتی کام ہے جو پایۂ تکمیل تک پہنچ ہی نہیں پا رہا اور کبھی اس کا موازنہ آبنائے ہرمز کے کھلنے کی ٹائم لائن سے کیا جاتا ہے تو کبھی مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے۔
یونیورسٹی روڈ کی اس حالتِ زار کی بنیادی وجہ کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن بس سروس کا وہ ترقیاتی منصوبہ ہے جو لاکھوں شہریوں کے لیے روزانہ کا ایک امتحان بن چکا ہے۔
نمائش چورنگی سے ملیر ہالٹ تک 26 کلومیٹر پر پھیلے منصوبے کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لاٹ ون ایئرپورٹ سگنل سے موسمیات تک پھیلا ہوا ہے جبکہ لاٹ ٹو موسمیات سے لے کر نمائش تک کے حصے پر مشتمل ہے جس کے معاہدے کو معطل کر دیا گیا۔ اب اس صورتحال نے غیر یقینی اور تاخیر کے خدشات کو مزید تقویت بخشی دی ہے۔
صفورا چورنگی پر روڈ کے کنارے قائم اپنے ہوٹل کے باہر کھڑے رحمت علی اب بھی اس حصے کی طرف دیکھتے ہیں جہاں کبھی ان کا کچن اور اے سی ہال ہوا کرتا تھا۔ ’ہمارا تقریباً آدھا ہوٹل ٹوٹ چکا ہے، یہاں کچن تھا، پیچھے اے سی ہال تھا، کاروبار پچھتر فیصد کم ہو گیا، دھول مٹی کی وجہ سے گاہک بھی نہیں آتے۔‘

’کبھی راستہ بند تو کبھی ڈائیورژن‘
بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کو شہر کے ٹرانسپورٹ کا مستقبل قرار دیا گیا تھا مگر اس منصوبے کے اطراف میں رہنے والوں اور اس راستے پر سفر کرنے والوں کے لیے یہ عدم برداشت کی کہانی بن چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد صدیق اسی سڑک پر آٹو رکشہ چلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سڑک ٹوٹی ہوئی ہے جس سے ایک طرف گاڑیوں کو نقصان ہوتا ہے تو دوسری طرف رش کے باعث وقت بہت زیادہ لگتا ہے۔
’کبھی راستہ بند ہوتا ہے اور کبھی اچانک ٹریفک دوسری طرف موڑ دی جاتی ہے، کبھی سڑک بند کر دیتے ہیں تو کبھی کھول دیتے ہیں۔ سفر روزانہ کا عذاب بن گیا ہے۔‘
موسمیات چوک کے رہائشی ستار میمن بتاتے ہیں کہ پہلے چالیس منٹ میں صدر پہنچ جاتے تھے مگر اس سفر میں اب ڈھائی سے تین گھنٹے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ نیپا سے گلستانِ جوہر جانا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
ستار میمن کو یقین نہیں کہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔
’لوگ کہتے ہیں شاید 2026 میں مکمل ہو جائے مگر مجھے نہیں لگتا۔ شاید پانچ سال اور لگ جائیں۔‘

محمد ظفران موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کو سکول سے لاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گھر میں دو دو گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں لیکن انھیں گیٹ سے باہر نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔
’سڑکیں اتنی خراب ہیں کہ کوئی حساب نہیں، گاڑیوں کے سسپنشن خراب ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو سکول چھوڑنے اور نماز کے لیے جانے تک میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ آپ وقت پر کہیں پہنچ ہی نہیں سکتے۔‘
بی آر ٹی منصوبہ کیا ہے؟
کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن تقریبا 27 کلومیٹر طویل کوریڈور ہے جو مزارِ قائد کے سامنے واقع نمائش چورنگی سے شروع ہو کر سینٹرل جیل، پرانی سبزی منڈی، سوک سینٹر، حسن سکوائر، نیپا، کراچی یونیورسٹی، موسمیات، صفورا چورنگی اور ملیر کینٹ سے ہوتی ہوئی ملیر ہالٹ پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔
سرکاری منصوبہ بندی کے مطابق اس روٹ پر تقریباً 29 سٹیشنز تعمیر کیے جانے ہیں۔ اس روٹ پر مخصوص بسوں کی لینز ہوں گی جن پر جدید سٹیشنز، بس ڈپو اور ٹرمینلز بنائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے کہیں ایلیویٹد ویز، کہیں انڈر پاس تو کہیں بائی پاس بنائے جا رہے ہیں۔

سرکاری اندازوں کے مطابق تکمیل کے بعد یومیہ اس سروس کو ساڑھے تین لاکھ سے زائد مسافر استعمال کیں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے ٹریفک کے دباؤ کم ہوگا، آلودگی میں کمی آئے گی اور حکومت کے اخراجات بھی کم ہوں گے۔
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ لاکھوں شہری روزانہ یونیورسٹی روڈ استعمال کرتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی سمیت شہر کی کئی بڑی بڑی جامعات اسی سڑک پر واقع ہیں جبکہ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی اوجھا کیمپس، میمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور کرن ہسپتال جیسے بڑے اسپتال اسی سڑک کے قرب و جوار میں واقع ہیں۔

زیرِ زمین لائنیں، تاخیر اور ادارہ جاتی بدنظمی
نیپا سے لیکر صفورا تک کئی مقامات پر سیوریج اور ڈریینیج کی لائین ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ ساتھ میں پینے کے پانی اور گیس کی سپلائی لائن بھی موجود ہے۔
رہائشی ستار میمن کہتے ہیں کھدائی کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک بلکہ بنیادی سہولیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔
’گیس کی لائن متاثر ہوتی ہے، بجلی رات کو دو دو بجے چلی جاتی ہے کیونکہ کے الیکٹرک کی زیر زمین کیبل موجود ہے۔ کبھی پینے کے پانی کی لائن توڑ دیتے ہیں۔ بارش میں گڑھوں میں پانی بھر جاتا ہے، پھر ایک مسئلے سے کئی مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔‘
ریڈ لائن منصوبے پر کام کا باقاعدہ آغاز 2022 کے اوائل میں ہوا تھا۔
ابتدائی پلان کے مطابق اسے 2024 کے آخر تک مکمل کیا جانا تھا لیکن اب اس کی تکمیل کی نئی تاریخ 2026 کے وسط یا آخر تک چلی گئی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یونیورسٹی روڈ کے نیچے پانی، گیس اور بجلی کی لائنوں کا ایک پیچیدہ جال بچھا ہوا ہے۔ ان لائنوں کو منتقل کرنے میں توقع سے کہیں زیادہ وقت لگا کیونکہ کئی مقامات پر نقشے دستیاب ہی نہیں تھے۔

شہری منصوبہ بندی کے ماہر بلال خالد کہتے ہیں کہ اگر ہم وسیع تناظر میں دیکھیں تو ان یوٹیلیٹی سروسز کی منتقلی اس منصوبے میں ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ پینے کے پانی اور نکاسی سمیت کم از کم پانچ سے چھ اداروں کی بڑی لائنیں یہاں سے گزرتی ہیں۔ کے الیکٹرک کا بہت بڑا ہائی ٹینشن انفراسٹرکچر یہاں سے گزرتا ہے۔ اسی طرح اس کوریڈور میں گیس سے متعلق انفراسٹرکچر اور ٹیلی کام کا نظام بھی موجود ہے۔
’ہمارے پاس کوئی مکمل ڈیٹا یا نقشے موجود نہیں، اس لیے زیادہ تر کام اندازوں پر ہوتا ہے۔‘
خالد کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان بظاہر اس منصوبے کی تاخیر کی بڑی وجہ بنا۔

لاگت میں اضافہ اور معاہدے کی منسوخی
کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ دار ٹرانس کراچی کی ویب سائیٹ کے مطابق اس منصوبے کی کل مالیت 50 کروڑ ڈالر ہے جس میں سے 23.5 کروڑ ایشیائی ترقیاتی بینک کا قرضہ ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہر بلال خالد بتاتے ہیں کہ ابتدا میں اس منصوبے کی لاگت تقریباً 49 کروڑ ڈالر تھی جو پاکستانی روپے میں تقریباً 77 سے 80 ارب روپے بنتی تھی۔ بعد میں کنٹریکٹس میں تبدیلیوں اور مہنگائی کے باعث تقریباً 10 سے 15 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
’اصل مسئلہ روپے کی قدر میں کمی تھی۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً دوگنی حد تک گر گئی، جس سے منصوبے کی لاگت پر بہت اثر پڑا۔ کچھ اعداد و شمار کے مطابق منصوبہ 78 ارب روپے سے بڑھ کر 103 یا 104 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔‘
’میرا ذاتی خیال ہے کہ جب یہ منصوبہ مکمل طور پر آپریشنل مرحلے تک پہنچے گا اور بسوں سمیت باقی سامان خریدا جائے گا، تو اس کی لاگت ڈیڑھ سو ارب روپے تک جا سکتی ہے۔‘
قیمتوں میں اضافہ بھی کام میں تاخیر کی ایک وجہ بنا۔ کمپنی کے مطابق جب منصوبہ شروع ہوا تو سٹیل کی قیمت 90 ہزار روپے فی ٹن تھی جو چار گنا تک بڑھ چکی ہے۔ اسی طرح سیمینٹ اور تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپریل کے آخری ہفتے میں بی آر ٹی لاٹ ٹو کا معاہدہ منسوخ کردیا اور اس کی وجہ کنٹریکٹر کی سست روی کو قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی کنٹریکٹر کی مشینری کو سرکاری تحویل میں لے کر اس کے دفتر کو سیل کر دیا گیا۔
کنٹریکٹر نے سندھ ہائی کورٹ میں بیرسٹر صلاح الدین کی معرفت سے درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ریڈ لائن لاٹ ٹو کا معاہدہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کو دیا گیا تھا اور منصوبے میں تاخیر دونوں فریقوں کے درمیان اہم تنازع رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کا ڈیزائن کافی تاخیر سے فراہم کیا گیا جبکہ تعمیراتی مقام بھی کنٹریکٹر کے حوالے تقریباً 30 ماہ بعد کیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق تنازعات کے حل کے بورڈ نے پہلے ہی حکومت کو تاخیر کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کنٹریکٹر کو اضافی اخراجات کی مد میں 3.7 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ حکام نے بغیر قانونی نوٹس کے دفتر اور سائٹ کو سیل کیا جو اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔
میئر مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ منصوبے میں کام کی رفتار سست تھی، متعدد چیلنجز تھے اور اسی وجہ سے لوگ حکومت پر تنقید کرتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹر کو کئی مرتبہ کہا گیا کہ وہ صورتحال بہتر کرے لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ سنجیدہ نہیں۔ پھر فیصلہ کیا گیا کہ اس کنٹریکٹ کو ختم کر دیا جائے۔
مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ عوام اس وقت تکلیف میں ہیں، اس لیے فوری ریلیف دینا ضروری ہے۔

ایف ڈبلیو او کو کام کی منتقلی اور نئی ڈیڈ لائن
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یونیورسٹی روڈ کے تعمیری کام میں تاخیر کی وجہ سے شہریوں سے معذرت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مکسڈ ٹریفک لین تین ماہ کے اندر بحال کردی جائے گی۔ انھوں نے یہ منصوبہ پاکستان فوج کے زیر انتظام ادارے ایف ڈبلیو او کے حوالے کر دیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے دو حصے ہیں ایک بی آر ٹی لین جس پر ریڈ لائن کی بسیں چلیں گی اور دوسری عام ٹریفک لین جہاں موٹر سائیکل، گاڑیاں، رکشے اور دیگر بسیں چلتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا خیال تھا کہ عام آدمی کے زیرِ استعمال سڑک کو فوری طور پر بہتر کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوں۔
’جب کسی کام کو فوری کرنا ہوتا ہے تو اس کے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اخبار میں اشتہار دیا جائے اور مکمل پروکیورمنٹ کا عمل کیا جائے، جس میں وقت لگتا ہے۔ دوسرا یہ کہ قانون آپ کو اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ کسی سرکاری ادارے کے ساتھ کام کریں تو اس کے لیے روایتی پروکیورمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
’اسی لیے سندھ حکومت نے فوری ریلیف کے لیے فیصلہ کیا کہ مکسڈ ٹریفک لین اور ڈرینیج کا کام ایف ڈبلیو او کردیا جائے۔‘
میئر کراچی کہتے ہیں کہ ہمارا ہدف 31 جولائی ہے، اس وقت تک یہ تمام کام مکمل کر لیا جائے گا۔

’ابھی بہت کام باقی ہے، وقت لگے گا‘
بی آر ٹی کی لاٹ ٹو پر ابھی نیپا پر بائی پاس زیر تعمیر ہے جبکہ صفورا چورنگی پر بھی بائی پاس مکمل ہونے میں وقت درکار ہے۔ اسی طرح لاٹ ون میں ملیر کینٹ تک لائن کا گرے اسٹریکچر بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ ابھی بس سٹینڈز کی تعمیر ابھی باقی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے سابق کنٹریکٹر کا معاہدہ تو بحال نہیں کیا تاہم عدالت نے اپنے تحریری حکم نامے میں لکھا ہے کہ چونکہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار کمپنی کا معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور کراچی کے عوام یونیورسٹی روڈ کی خراب صورتحال کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے حکومتِ سندھ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس حکم کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر یونیورسٹی روڈ کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کی روانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ رہے۔
بی آر ٹی کی تکمیل کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ عدالت توقع کرتی ہے کہ دی گئی ٹائم لائن، یعنی اکتوبر 2027، کے مطابق بی آر ٹی کو فعال کر دیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ بی آر ٹی کی تعمیر کے نتیجے میں یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ جہاں تک اصل بی آر ٹی کا تعلق ہے، صفورا کی طرف جو کنٹریکٹر کام کر رہا تھا اس نے اپنا کام تیز کر دیا ہے۔ جبکہ جس دوسرے کنٹریکٹر کا معاہدہ ختم کیا گیا ہے اس کے لیے دوبارہ پروکیورمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اخبارات میں اشتہار دیے جائیں گے اور جو کامیاب بولی دے گا اسے باقی کا کام سونپا جائے گا۔
’بی آر ٹی میں ابھی بہت کام باقی ہے۔ بسیں آئیں گی، مختلف مراحل مکمل ہوں گے، اس میں وقت لگے گا۔‘

بلال خالد کہتے ہیں کہ اس منصوبے کی کم از کم دو سے تین پرتیں ہیں۔ ’ایک انفراسٹرکچر ہے، جس میں ڈیزائن اور پھر اس کی عملی تعمیر شامل ہے، اس کے بعد آپریشنز کا پورا نظام آتا ہے، جس میں بسیں، سٹیشنز کے آلات، آئی ٹی ایس سسٹم اور پھر انسانی وسائل شامل ہیں۔ اس وقت ہم صرف پہلی سطح یعنی سول ورکس اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کی تاخیر کی بات کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اگر ہم یہ فرض کریں کہ کنٹریکٹ کے مسائل حل ہو جاتے ہیں، اگلے ایک سے دو سال میں سول ورکس مکمل ہو جاتا ہے تب سٹیشنز سمیت پورا کوریڈور مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔‘
بلال خالد کے مطابق اس کے بعد مزید انفراسٹرکچر بننا ہے جس میں باغِ کراچی میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی تعمیر شامل ہے۔
’فرض کریں کہ یہ سب دو سے ڈھائی سال میں مکمل ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد بسوں کی خریداری، عملے کی تربیت، ٹیسٹنگ اور ٹرائل کا مرحلہ ہوگا۔ پھر بسیں چلانے والی کمپنیوں کی بھرتی اور ٹریننگ کا عمل آئے گا۔‘
بلال خالد کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے میں مزید کم از کم تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔

سی این جی ہائبرڈ بسوں کی جگہ الیکٹرک بسوں کا انتخاب
بی آر ٹی ریڈ لائن کی تشہیر ایک ماحول دوست ماس ٹرانزٹ منصوبے کے طور کی گئی تھی۔
بی آر ٹی کی ویب سائیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ریڈ لائن پاکستان کا پہلا ایسا ٹرانسپورٹ منصوبہ ہے جسے ’زیرو سبسڈی‘ ماڈل کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے ڈیزائن میں بائیو گیس کا جزو شامل کیا گیا جس کے تحت بھینس کالونی سے حاصل ہونے والے گوبر کو بسوں کے ایندھن کے لیے بائیو گیس بنانے میں استعمال کیا جانا ہے۔
اس مقصد کے لیے لانڈھی میں ایک بائیو گیس پلانٹ قائم کیا جا رہا ہے جو مقامی طور پر ماحول دوست ایندھن فراہم کرے گا۔ حکام کے مطابق اس سے پیٹرولیم مصنوعات پر خرچ ہونے والے لاکھوں روپے کی بچت ممکن ہو سکے گی۔
منصوبے کے تحت کوریڈور کے اطراف پچاس ہزار سے زائد پھل دار درخت لگانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہر بلال خالد کہتے ہیں کہ ابتدا میں منصوبہ یہ تھا کہ بسوں کو سی این جی ہائبرڈ نظام کے تحت چلایا جائے گا اور ان بسوں کو بائیو گیس فراہم کی جائے گی لیکن اب چونکہ الیکٹرک بسوں کی بات ہو رہی ہے، اس لیے بائیو گیس منصوبے کا کردار بدل گیا ہے۔
’اب اس سے یہ بسوں کو گیس فراہم نہیں کی جائے گی بلکہ بھینس کالونی میں گوبر سے توانائی پیدا کی جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس منصوبے کی لاگت کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔‘
یونیورسٹی روڈ پر رہنے والو ں اور سفر کرنے والے شہریوں کے لیے اس وقت سب سے بڑا سوال ماحول دوست بسیں نہیں بلکہ یہ ہے کہ آخر یہ سڑک کب مکمل ہوگی، ٹریفک کب معمول پر آئے گی اور روزانہ کی یہ اذیت کب ختم ہوگی۔


























