کراچی میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ’پنکی‘ جن کی بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی پر تنازع کھڑا ہوا

،تصویر کا ذریعہX/Video Screengrab
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
کراچی میں منشیات فروشی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والی ایک ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کرنے پر ایک تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس کے بعد سندھ حکومت اور پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی کی پولیس اور ایک سویلین حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں کوکین اور دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھیں اور شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک مبینہ منظم نیٹ ورک کو چلا رہی تھی۔
پولیس کے اعلامیے کے مطابق ملزمہ سے ایک پستول، گولیاں، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ ڈی ایچ اے اور کلفٹن سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں آن لائن آرڈرز پر رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ اپنے نیٹ ورک کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محفوظ رکھنے کے لیے خواتین رائیڈرز بھی استعمال کرتی تھی۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے خریداروں میں طلبہ و طالبات کے علاوہ بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں، جبکہ وہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کرتی تھی۔
پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف تھانہ گارڈن میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات درج ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کو تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سے چرس کے دو پیکٹ اور دیگر نشہ آور مواد برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت پندرہ لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
ملزمہ کی عدالت میں پیشی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس نے عدالت سے ملزمہ کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی کی تھی۔ تاہم اس مقدمے نے اس وقت نیا رُخ اختیار کیا جب ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی لگائے پیش کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزمہ نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا ہے اور چہرے پر دھوپ سے بچنے والا چشمہ بھی لگایا ہوا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب وہ ہاتھ میں پانی کی بوتل اٹھائے عدالت میں داخل ہو رہی تھیں تو ان کے ہاتھ میں ہتھکڑی بھی نہیں تھی۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور پولیس کے رویے پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کی اور شفاف انکوائری کا حکم دے دیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ ملزمہ کو پروٹوکول کیسے دیا گیا اور اس میں کون کون اہلکار ملوث تھے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پروٹوکول فراہم کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور واضح کیا کہ ’ایسا عمل کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ کوئی بھی مجرم قانون سے بالاتر نہیں اور ہر شخص کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہیے۔‘
اس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی نے متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کے لیے انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کے بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیشی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ملزمہ کے خلاف مقدمات
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر دس مقدمات درج ہیں اور وہ کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کی گرفتاری سے شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ایک آڈیو بھی وائرل ہوئی، جسے ملزمہ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ اس آڈیو میں وہ پولیس کو گرفتاری کے لیے چلینج کر رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ: ’پندرہ سال سے میں نے تم لوگوں کی بری حالت کر رکھی ہے اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے منہ اٹھا کر آ جاتے ہیں کہ ’پنکی کو پکڑوں گا، پنکی کو پکڑوں گا۔‘
’پھر دس سال، پانچ سال، چھ سال، سات سال، آٹھ سال، نو سال گزر جاتے ہیں، تم ریٹائر ہو جاتے ہو، پھر خود فون کر کے ہنستے ہو کہ یار اتنے سال پیچھے لگا رہا مگر پکڑ نہ سکا۔‘
بی بی سی اس آڈیو کے اصلی ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
ملزمہ کے خلاف درج ایک ایف آئی آر میں سب انسپیکٹر غازی بشیر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دوران گشت گارڈن ویسٹ کراچی مخبرِ خاص نے اطلاع دی کہ پنکی نامی منشیات فروش خاتون اپنے فلیٹ میں موجود منشیات تیار کر کے فروخت کرتی ہیں، جس کے بعد مذکورہ فلیٹ پر پہنچ کر دستک دی تو ایک خاتون نے دروازہ کھولا اور اپنا نام انمول عرف پنکی دختر مراد بخش بتایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فلیٹ کی تلاشی لینے پر ملزمہ کمرے کے اندر فرش پر منشیات تیار کرتی ہوئی پائی گئیں۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے اس کارروائی کے دوران ملزمہ کے گھر سے کوکین اور منشیات بنانے والے کئی کیمیکلز برآمد کیے ہیں، جبکہ ملزمہ کے گھر سے ایک بیگ سے ایک نائن ایم ایم پستول، ایک گلوک پستول اور دو میگزین بھی ملے ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے گھر سے ایک سکول بیگ بھی ملا ہے، جس میں نہ صرف ایک منشیات کا تھیلا ملا ہے بلکہ ایک ڈبّی بھی ملا ہے جس پر درج تھا: ’کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے۔‘
ایف آئی آر میں مدعی کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے جب اسلحے کا لائسنس طلب کیا گیا تو وہ پیش نہ کر سکی۔ ان کے مطابق برآمدہ منشیات کا کل وزن 1540 گرام اور دیگر خام مال کا وزن 6970 گرام ہے۔
دوسری جانب ملزمہ کے خلاف غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کا الگ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔


























