لکی مروت: بھائی کی ہلاکت کے بعد ایف سی کی نوکری چھوڑ کر گھر آ جانے والے محمد ریاض جو موت سے نہ بچ پائے

لکی مروت

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، پشاور
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے رہائشی محمد ریاض نے اپنی والدہ کے کہنے پر فرنٹیئر کور کی نوکری اس لیے چھوڑی تھی کیونکہ والدہ کے مطابق اِس نوکری میں اُن کے بیٹے کی جان کو خطرہ رہتا تھا۔

نوکری چھوڑنے کے بعد محمد ریاض نے کچھ عرصہ قبل ہی روزگار کی غرض سے ایک رکشہ خریدا تھا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

جب منگل کے روز لکی مروت میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے نو افراد کی فہرست سامنے آئی تو اُس میں 35 سالہ محمد ریاض کا نام بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں ایک موٹر سائیکل میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے نو افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوئے تھے۔

ضلع پولیس افسر نذیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر دھماکہ خود کش حملہ لگتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ اس حملے میں 10 سے 12 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

بازار میں موجود عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب صبح لگ بھگ ساڑھے دس بجے دھماکہ ہوا تو اس وقت پھاٹک چوک پر کافی رش تھا۔ اس چوک میں ایک جانب بسوں کا اڈا ہے اور دوسری طرف تھری ویلرز یعنی چنگ چی اور رکشوں کا سٹاپ۔ جبکہ ٹریفک کا انتظام سنبھالنے کے لیے یہاں ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی موجود رہتے ہیں۔

تاحال کسی کالعدم شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

’ریاض کو رکشہ چلاتے چند روز ہی ہوئے تھے‘

محمد ریاض

،تصویر کا ذریعہShadiullah Khan

،تصویر کا کیپشنمحمد ریاض نے اپنی والدہ کے کہنے پر ایف سی کی نوکری چھوڑی تھی

محمد ریاض کے رشتہ دار ولی اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاض کے والد پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھے اور کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے۔

ولی اعظم نے بتایا کہ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریاض اور اُن کے چھوٹے بھائی محمد مصطفیٰ فرنٹیئر کانسٹیبلری میں بھرتی ہوئے تھے۔

محمد ریاض کے بھائی محمد مصطفیٰ گذشتہ سال اکتوبر میں میرعلی اور کرم کے درمیان واقع باؤنڈری پر ہوئے شدت پسندوں کے ایک حملے مارے گئے تھے۔

ولی اعظم بتاتے ہیں کہ ریاض کی والدہ اپنے ایک بیٹے کی موت کا غم برداست نہیں کر سکیں اور انھوں نے اپنے دوسرے بیٹے، محد ریاض، پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ یہ سکیورٹی کی نوکری چھوڑ دے۔

ریاض

،تصویر کا ذریعہShadiullah Khan

،تصویر کا کیپشنسفید کپڑوں میں ملبوس ریاض اپنے چھوٹے بھائی محمد مصطفیٰ کی قبر پر پھول رکھ رہے ہیں

نوکری چھوڑنے سے قبل محمد ریاض ایف سی کی جانب سے ضلع کرم میں تعینات تھے۔ ان کے چچا شادی اللہ خان، جو پولیس میں ایس ایچ او ہیں، کا کہنا ہے کہ چھوٹے بھائی کی موت کے بعد جب ریاض چھٹی پر گھر آئے تو اُن کی والدہ نے انھیں واپس ڈیوٹی پر جانے ہی نہیں دیا۔

ان کے مطابق ریاض نے استعفیٰ دیے بغیر ہی نوکری چھوڑ دی تھی۔

ولی اعظم کے مطابق کچھ عرصہ سوچ و بچار کے بعد ریاض نے ایک چنگ چی رکشہ خریدا اور اس پر نورنگ سے گنڈی چوک تک سواریاں لانے لے جانے کا کام شروع کر دیا۔

ان کے مطابق ’منگل (12 مئی) کی صبح بھی ریاض حسب معمول نورنگ کے پھاٹک چوک پر واقع رکشوں کے اڈے پر موجود تھے۔ اس مقام پر آس پاس کے دیہاتوں اور دیگر علاقوں سے روزگار اور خریداری کے لیے آنے والوں کا کافی رش ہوتا ہے۔‘

ولی اعظم بتاتے ہیں کہ اسی دوران ہونے والے دھماکے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ ’اگرچہ والدہ کے کہنے پر اس نے فرنٹیئر کانسٹبلری کی نوکری تو چھوڑ دی تھی لیکن موت کا کیا بھروسہ کس وقت، کس جگہ آ جائے۔‘

انھوں نے بتایا کہ جب دھماکے کے بعد گھر والوں نے ریاض کا پتہ کرنے کی کوشش کی تو اُن کا فون نہیں مل رہا تھا جس پر اُن کی والدہ انھیں ڈھونڈنے کے لیے خود ہی گھر سے نکل پڑیں۔

ولی کے مطابق والدہ کو ہسپتال پہنچ کر پتا چلا کہ اُن کا دوسرا بیٹا بھی مارا جا چکا ہے۔

’ریاض کی والدہ کی حالت خود ہم سے نہیں دیکھی جا رہی، انھیں ڈاکٹروں کی جانب سے سکون کے انجیکشن دیے جا رہے ہیں۔‘

ولی اعظم نے بتایا کہ ریاض شادی شدہ تھے اور ان کے دو بچے ہیں۔

lki mrwt

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنلکی مروت دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں

یہ صرف محمد ریاض کی کہانی نہیں ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں شدت پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں، سرکاری ملازمین کو بالخصوص نشانے بنانے اور دھمکیوں کے واقعات کی وجہ سے بیشتر لوگ اپنی ملازمت کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

چند روز قبل لکی مروت میں شدت پسندوں نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے ایک اہلکار کو اغوا کرنے کے بعد فائرنگ کر کے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔ شدت پسندوں نے اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

اس کے بعد کرک جیل کے ایک اہلکار کو بھی اغوا کیا گیا تھا جن کی اگلے روز لاش ملی تھی۔ وہ بھی اپنے ماں، باپ کے اکلوتے بیٹے تھے۔

اسی طرح ماضی میں بھی شدت پسندوں کی جانب سے سرکاری ملازمین کو اغوا کرنے اور بعدازاں انھیں قتل کیے جانے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کون تھے؟

لوگ دھماکے میں مارے جانے والے پولیس کانسٹیبل راحات اللہ کے تابوت پر پھول رکھ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

،تصویر کا کیپشنلوگ دھماکے میں مارے جانے والے ٹریفک پولیس کانسٹیبل راحت اللہ کے تابوت پر پھول رکھ رہے ہیں

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں مارے جانے والوں مِں ایک مرغی فروش اور ایک کولڈ ڈرنک کی دکان چلانے والا شخص بھی شامل ہیں۔

اِن دونوں کے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں پڑوسی تھے اور بازار میں ایک ہی ساتھ کاروبار کرتے تھے۔ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مرغی فروش وحیداللہ کا بیٹا بھی زخمی ہوا ہے۔

دیگر مارے جانے والوں میں وہاں ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دھماکے کے بعد موقع پر موجود لوگ زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ایک ایمبولینس میں ایک خاتون کو بنوں ہسپتال منتقل کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں خاتون کے چہرے پر زخم نظر آتے ہیں۔ بعدازاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نورنگ ہسپتال نے انھیں بنوں ریفر کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی طرح صحافیوں کی جانب سے بنائی گئی چند ویڈیوز میں ہسپتالوں میں برقعوں میں ملبوس خواتین مختلف وارڈز میں اپنے رشتہ داروں اور اہلخانہ کو تلاش کرتی نظر آئیں۔