’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘: امریکہ میں سٹریمنگ کمپنی پر جاسوسی کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لیو میکمین
- عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ٹیکساس میں نیٹ فلکس کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں اس پر الزام ہے کہ وہ امریکی ریاست میں بچوں اور بڑوں کا ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر جمع کرتا ہے اور صارفین کو مسلسل مصروف رکھنے کے لیے ’لت لگانے والی‘ سٹریٹیجی کا استعمال کرتا ہے۔
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے سٹریمنگ کمپنی پر شہریوں کی ’جاسوسی‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر صارفین کے رویّے سے متعلق معلومات کے ’اربوں ٹکڑوں کو ریکارڈ کرتا ہے اور منافع کماتا ہے۔‘
اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پلیٹ فارم پر ہر قسم کی سرگرمی ایک ڈیٹا پوائنٹ بن جاتی تھی، جو صارف کے بارے میں معلومات ظاہر کرتی ہے۔‘
خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں نیٹ فلکس نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت میں ان کو چیلنج کرے گا۔
نیٹ فلکس کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ٹیکساس اور اٹارنی جنرل پیکسٹن کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن یہ مقدمہ بے بنیاد، غلط اور مسخ شدہ معلومات پر مبنی ہے۔‘
’نیٹ فلکس اپنے صارفین کی پرائیویسی کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور جہاں بھی ہم کام کرتے ہیں وہاں رازداری اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہیں۔‘
بی بی سی نے بھی اس معاملے پر تبصرے کے لیے نیٹ فلکس سے رابطہ کیا ہے۔
ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر کردہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس بھی آپ کو دیکھتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شکایت کے مطابق نیٹ فلکس نے خود کو دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں سے مختلف قرار دیا ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کو کیسے پروسیس کرتی ہے اور انہیں اشتہارات کیسے دکھاتی ہے۔
شکایت میں کمپنی کے سابق سربراہ ریڈ ہیسٹنگز کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کمپنی صارفین کا ڈیٹا، مثلاً اشتہارات فروخت کرنے کے لیے، نہ جمع کرتی ہے اور نہ ہی اس سے منافع کماتی ہے۔
لیکن درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیٹ فلکس نے ’لت ڈالنے والے‘ ڈیزائن، جیسے خودکار طریقے سے چلنے والے مواد اور صارفین کی سرگرمیوں کی ’لاگنگ‘، کا استعمال کیا تاکہ لوگوں کو پلیٹ فارم پر برقرار رکھا جا سکے۔
نیٹ فلکس کے خلاف فائلنگ میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی جو سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں ان میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ کن چیزوں پر کلک کرتے ہیں اور کن چیزوں پر کتنی دیر تک ٹھہرتے ہیں۔
نیٹ فلکس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ سنہ 2022 میں کمپنی نے ’بچوں اور خاندانوں کے ڈیٹا کے اس ڈھیر سے فائدہ اُٹھایا جو اس نے خاموشی سے حاصل کیا تھا‘ اور پھر اسے کمرشل ڈیٹا بروکرز کے ساتھ شیئر کیا گیا تاکہ اربوں ڈالر کی آمدنی بڑھانے میں مدد مل سکے۔
’مختصراً، نیٹ فلکس نے اپنے پروگراموں کی سبسکرپشن کو بگ ٹیک کی نگرانی سے بچنے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا: ماہانہ ادائیگی کریں اور ٹریکنگ سے بچیں۔‘
نیٹ فلکس کے خلاف شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکساس کے لوگوں نے اس پر بھروسہ کیا لیکن کمپنی نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹارنی جنرل پیکسٹن کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ کمپنی نے ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، خاص طور پر ٹیکساس ڈیسیپٹو ٹریڈ پریکٹسز ایکٹ کی، جو ’تجارت اور کاروبار کے دوران جھوٹے، فریبی یا گمراہ کن اقدامات اور طریقوں‘ کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
اٹارنی جنرل ان افراد کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، ان اقدامات میں سزائیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
تاہم اس مقدمے میں اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ نیٹ فلکس کو حکم دیا جائے کہ وہ ٹیکساس کے رہائشیوں سے ’فریب سے حاصل کیا گیا‘ ڈیٹا حذف کرے، ان کے ڈیٹا کو اشتہارات کے لیے استعمال کرنا بند کرے اور بچوں کی پروفائلز پر آٹو پلے کو بند کر دے۔
یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف پلیٹ فارمز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ آٹو پلے اور لامتناہی سکرول جیسی خصوصیات کو غیر فعال کریں، کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ طریقے صارفین کو غیر صحت مند طریقے سے مسلسل مواد میں الجھا کر رکھتے ہیں۔


























