پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات: کیا اپالو چاند مشن کے خلا بازوں نے واقعی کوئی اڑن طشتری دیکھی تھی؟
- مصنف, ساکشی وینکٹ رامن، ریبیکا پیڈر
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پینٹاگون کی جانب سے ’یو ایف اوز‘ سے متعلق ایسی دستاویزات جاری کی گئی ہیں جو اس سے قبل کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔
ان میں زمین پر عام شہریوں کی جانب سے اڑن طشتریاں یا یو ایف اوز کو دیکھے جانے سے متعلق تفصیلات کے ساتھ ساتھ چاند پر موجود خلا بازوں کی جانب سے دیکھی گئی مبینہ جھلکیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کئی دہائیوں پر محیط ان دستاویزات کی خفیہ حیثیت ختم کر کے انھیں جمعہ کے روز آن لائن شائع کیا گیا۔ رواں برس صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’عوام کی غیر معمولی دلچسپی‘ کے پیشِ نظر یہ ریکارڈ جاری کریں گے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں خلا میں ممکنہ زندگی کے آثار کے حوالے سے عوامی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔ 2022 میں کانگریس نے 50 برس بعد پہلی مرتبہ یو ایف اوز سے متعلق سماعتیں کیں جبکہ امریکی فوج نے اس معاملے میں مزید شفافیت لانے کا وعدہ کیا۔
یہ 161 فائلیں امریکی وزارتِ دفاع کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں اور حکام کے مطابق مزید دستاویزات بھی جاری کی جائیں گی۔
اس سے قبل سابق امریکی صدر براک اوباما کے ایک بیان نے اس موضوع میں مزید دلچسپی پیدا کر دی تھی۔ رواں سال فروری میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوقات ’حقیقی ہیں مگر میں نے انھیں نہیں دیکھا۔‘
بعد ازاں براک اوباما نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شماریاتی اعتبار سے کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہونے کے امکانات ضرور ہیں تاہم اپنی دورِ صدارت کے دوران انھیں اس حوالے سے ’کوئی شواہد نظر نہیں آئے۔‘
اُس ہی ماہ کے آخر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ وہ ’خلائی مخلوقات اور ماورائے ارضی حیات، نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پی) اور نامعلوم اُڑن اشیا (یو ایف اوز)‘ سے متعلق فائلوں تک عوام کو رسائی دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو جاری کی جانے والی فائلوں میں کئی دہائیوں پر فوجی یادداشتیں، اپالو چاند مشنوں کی رپورٹس اور ایسے افراد کے بیانات شامل ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے یو ایف او یا نامعلوم اُڑن شے دیکھی تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ان کا تعلق ہماری دنیا سے نہیں۔
اپالو مشن میں شامل خلا بازوں نے کیا دیکھا؟

،تصویر کا ذریعہUS Department of Defense
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پینٹاگون کی جانب سے جاری کی گئی فائلوں میں 1960 اور 1970 کی دہائی میں چاند پر جانے والے اپالو 11، اپالو 12 اور اپالو 13 مشن کی کلاسیفائیڈ یا خفیہ رکھی گئی ٹرانسکرپٹس بھی شامل ہیں۔
اپالو 11 مشن میں شامل مشہور خلا باز بز آلڈرن کا 1969 کا ایک انٹرویو بھی جمعہ کے روز شائع ہونے والے دستاویزات میں شامل ہے۔ بز آلڈرن نے بتایا تھا کہ انھوں نے چاند پر اپنے مشن کے دوران کچھ ایسی چیزیں دیکھی تھیں جن کی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’روشنی کے ایک بہت ہی روشن ذریعہ کا مشاہدہ کیا جسے ہم نے وقتی طور پر کسی ممکنہ لیزر سے منسوب کیا۔‘
ایسے ہی ایک تحریری ریکارڈ کے مطابق اپالو 12 میں شامل خلاباز ایلن بین جنھوں نے 1969 میں چاند پر قدم رکھا تھا، نے بتایا تھا کہ انھوں نے مشن کے دوران کچھ ذرات اور روشنیوں کو چاند سے خلا کی جانب جاتے دیکھا تھا۔ ان کے مطابق ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ چاند سے بھاگ رہے تھَے۔
1972 میں اپالو 17 مشن میں شامل خلابازوں نے بھی خلا میں چمکیلی روشنیاں دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔
خلاباز جیک شمٹ نے کہا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے آتش بازی ہو رہی ہو۔
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عین ممکن ہے کہ یہ برف کے ٹکڑوں پر پڑنے والی روشنی کا عکس ہو۔
جمعہ کے روز جاری کی جانے والی ایک اور فائل میں 1965 میں خلا میں جانے والی جمینائی 7 کی کمیونیکیشن کی ایک آڈیو فائل بھی شامل ہے۔ یہ آڈیو خلاباز فرینک بومین اور زمین پر موجود مشن سپورٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ہے۔
گفتگو کے دوران بومین نے ناسا مشن کنٹرول کو بتایا کہ انھوں نے ایک یو ایف او دیکھا اور اپنے خلائی جہاز کے بائیں جانب چھوٹے چھوٹے لاکھوں ٹکڑے دیکھے تھے۔
فضا میں روشنی سے نمودار ہوتی اشیا
پینٹاگون کی جانب سے جاری دستاویز مِں درجنوں افراد کی جانب سے نامعلوم فضائی مظاہر دیکھے جانے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
1957 میں ایک شخص نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ انھوں نے بڑی سی طشتری کی شکل کی ایک شے کو زمین سے اوپر اٹھتے دیکھا تھا۔
ان دستاویزات میں ستمبراور اکتوبر 2023 میں امریکی شہریوں کی جانب سے تیز روشنی میں سے دھاتی شے کو فضا میں اڑتے دیکھنے کے دعوے بھی شامل ہں۔
شام، عراق اور متحدہ عرب امارات میں بنائی گئی ویڈیوز
ان فائلز میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کی جانب سے 2022 میں فلمائی گئی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
عراق، شام اور متحدہ عرب امارات میں بنائی گئی ان فوٹیجز میں دکھائی دینے والے مناظر کو پینٹاگون کی ویب سائٹ پر ’غیر حل شدہ نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ قرار دیا گیا۔
2022 میں مشرقِ وسطیٰ میں کسی نامعلوم مقام پر ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں بیضوی شکل کی ایک شے کو بائیں سے دائیں جانب انتہائی تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ موجود رپورٹ میں اسے ’ممکنہ میزائل‘ قرار دیا گیا۔
’صحیح سمت میں بہت بڑا قدم‘
ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے رپبلکن رکنِ کانگریس ٹم برچیٹ یو ایف او مشاہدات کے بارے میں حکومتی شفافیت بڑھانے کے حامی رہے ہیں۔ انھوں نے پینٹاگون کی جانب سے فائلوں کے اجرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں اسے ’ایک شاندار آغاز‘ قرار دیا۔
فلوریڈا سے رپبلکن رکنِ کانگریس اینا پالینا لونا بھی اس معاملے میں شفافیت کی وکالت کرتی ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے ان دستاویزات کے اجرا کو ’صحیح سمت میں بہت بڑا پہلا قدم‘ قرار دیا۔
تاہم سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین کا کہنا ہے کہ یہ فائلیں جاری کر کے امریکی عوام کی مہنگائی اور ایران جنگ جیسے زیادہ سنگین مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ ٹیلر گرین کسی زمانے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اتحادی رہی ہیں لیکن بعد میں ان سے اختلافات کے بعد انھوں نے کانگریس چھوڑ دی۔
انھوں نے ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’میں اس ’چمکتی ہوئی چیز کو دیکھو‘ والے پروپیگنڈا سے تنگ آ چکی ہوں۔‘



























