آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پس پردہ ملاقاتیں، رابطے اور مولانا فضل الرحمان کی ’ناکام‘ کوشش: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگنے سے پہلے کیا ہوا؟
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
اگرچہ سنیچر (10 اکتوبر) کی شب اٹھائے گئے چند غیرمعمولی اقدامات، اہم ملاقاتوں اور سامنے آنے والے بیانات کے بعد یہ واضح ہو چلا تھا کہ وفاقی حکومت بالآخر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے، مگر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اُس وقت بھی پُرامید تھے کہ اُن کی ثالثی میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے پُرامید ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی وزیر اعظم شہباز شریف اور تحریک انصاف کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے اسلام آباد آنے کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا تھا۔ جبکہ وفاقی حکومت نے بھی ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ مؤخر کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان کے اپنے الفاظ میں فریقین کی جانب سے اس ابتدائی پیش رفت کے بعد وہ یہ سمجھے تھے کہ ’دونوں کسی مفاہمت کے لیے سنجیدہ ہیں۔‘
بی بی سی اُردو نے اس رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کیسے منقطع ہوا، اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات کو ناکامی کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور اہم یہ کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے پہلے کے 48 گھنٹوں کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا ہے۔
اس کی کچھ تفصیل مولانا فضل الرحمان نے خود اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بیان کی ہے، تاہم اس عمل میں شامل حکومتی وزرا اور حکام دوسری کہانی بیان کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان سات اکتوبر (بدھ) کی صبح سعودی عرب میں عمرے کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد پہنچے تھے اور اُسی روز دوپہر کو پاکستان تحریک انصاف کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے اُن سے ملاقات کی تھی۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت نے اس بات کی خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ (مولانا) اس بحران کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ اگرچہ اس وقت بھی وہ سمجھتے تھے کہ ’حکومت نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی‘ مگر پھر اگلی صبح (آٹھ اکتوبر) سپیکر قومی اسمبلی اور چند وفاقی وزرا اُن کے پاس پہنچے اور ’اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فضل الرحمان کا دعویٰ ہے کہ سات اکتوبر کو جب وہ سعودی عرب سے پاکستان پہنچے تھے تو اُن کے پاس اطلاع یہ تھی کہ اگلے روز (آٹھ اکتوبر کو) خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا جائے گا۔
تاہم، اُن کے مطابق، اُن کی مداخلت کے بعد پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ لانے کا اعلان معطل رکھا جبکہ حکومتی وفد نے بھی ایمرجنسی سے متعلق اپنے اقدام کو وقتی طور پر مؤخر کیا جس پر انھیں لگا کہ ’فریقین سنجیدہ ہیں۔‘
فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اس ابتدائی پیش رفت کے بعد نو اکتوبر کو انھیں وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کھانے کی دعوت ملی۔ ’انھوں (شہباز شریف) نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ رات ہم کھانا اکٹھے کھائیں۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں۔ ہم وہاں گئے تو حکومت کا مطالبہ سامنے آیا کہ پہلے لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ ہمیں خان صاحب سے ملنے دیا جائے اور عدالتی فیصلے کے مطابق ان کا علاج معالجہ کیا جائے۔۔۔‘
’کھانے پر میری وزیر اعظم سے تفصیلی گفتگو ہوئی تو میں نے اُن سے یہ کہا کہ میں پہلے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سے بات کر لوں تاکہ اتفاق رائے سے معاملہ طے ہو۔‘
فضل الرحمان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے انھیں یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر اُن کے عمران خان سے ملاقات اور اُن کے علاج معالجے سے متعلق مطالبات تسلیم ہوتے ہیں تو وہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔
اُن کے مطابق اتوار (دس اکتوبر) کی صبح چھ بجے اُن کی دوبارہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ ’میں نے اُن سے کہا کہ اب اگر وہ (پی ٹی آئی) اصولی طور پر لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں، تو آپ بھی میرے ساتھ طے کریں کہ اُن (پی ٹی آئی رہنماؤں) کی ملاقات بھی ہو گی اور عمران خان کو علاج کے لیے بھی لایا جائے گا۔ میں نے کہا کہ اس کے بعد کی بات ہم پر چھوڑیں کہ ہم ان سب یقین دہانیوں پر عمل درآمد کیسے اور کس ترتیب میں کروائیں گے۔‘
مولانا فضل الرحمان کے مطابق ’اس پر انھوں (وزیر اعظم) نے کہا کہ ٹھیک ہے اور یہ بھی بتایا کہ آج کابینہ کا اجلاس ہے۔ یہ تجویز بھی آئی کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت اتوار کی صبح کے بجائے شام کو کابینہ کر لے گی۔‘
فضل الرحمان کے مطابق یہ بھی طے پایا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو آن بورڈ لینے کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے دو، دو نمائندوں کی موجودگی میں ان سب باتوں کا اعلان کیا جائے گا۔
فضل الرحمان کے مطابق اس بات پر اتفاق کے بعد وہ گھر آئے اور تھوڑی دیر کے لیے لیٹ گئے مگر ساڑھے نو بجے انھیں وزیر اعظم نے فون کر کے اٹھایا اور بتایا کہ اُن (فضل الرحمان) کی تجاویز کابینہ کے سامنے پیش کر کے اس کی منظوری لی جائے گی۔
فضل الرحمان کے مطابق ’میں نے اس کو مثبت لیا کہ شاید وہ کابینہ کے اراکین میں یہ تشویش پیدا نہیں کرنا چاہتے کہ عین وقت پر اجلاس کیوں ملتوی کر دیا گیا۔ مجھے امید تھی کہ کابینہ کے اجلاس کے بعد مجھے ایک اچھا جواب ملے گا۔‘
’لیکن تھوڑی دیر بعد ساڑھے دس بجے اسحاق ڈار صاحب کا فون آیا اور انھوں نے کہا کہ کابینہ کی رائے ہے کہ گورنر راج نافذ کیا جائے اور ایمرجنسی لگائی جائے۔ اس پر میں نے اُن سے یہ کہا کہ خیبرپختونخوا میں کس بنیاد پر گورنر راج یا ایمرجنسی؟‘
’انھوں (اسحاق ڈار) نے کہا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف کام نہیں کر رہے۔ تو میں نے کہا کہ کیا دہشتگردی کے حوالے سے بلوچستان حکومت ناکام نہیں ہے، اگر اس بنیاد پر آپ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا چاہتے ہیں یا ایمرجنسی، تو کیا یہی حالات بلوچستان میں نہیں ہیں، وہاں پر اس کی ضرورت کیوں نہیں ہے اور یہاں اس کی ضرورت کیوں ہے۔۔۔‘
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ’میں گواہ ہوں اس بات کا کہ حکومت نے بات ماننے کے باوجود اس سے بیک آؤٹ کیا ہے۔۔۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا مزید کہنا تھا وہ ’کچھ چیزیں آنے والے مستقبل کے لیے چھوڑتے ہیں۔۔۔ ہم بھی جانتے ہیں کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جمہوریت اور عوام کے حق پر شب خون‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس کے خلاف نہ صرف عوام میں جائیں گے، پارلیمنٹ میں کردار ادا کرے گی بلکہ عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔
’ابھی بھی موقع ہے اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں‘
تاہم مولانا فضل الرحمان کے بیان کے برعکس مذاکراتی عمل میں شامل وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے بھی اس معاملے پر گفتگو کی ہے۔
اتوار کو وفاقی وزرا کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے ساتھ چار مرتبہ ڈرافٹ تیار کیے گئے اور آخری ڈرافٹ پر بھی تجاویز طلب کی گئیں۔
ان کے مطابق ڈرافٹ کے پیراگراف چار پر پی ٹی آئی کو اعتراضات تھے، جس پر حکومتی ٹیم نے ان سے متبادل سفارشات مانگی تھیں۔
محسن نقوی نے کہا ’کل (سنیچر) رات پونے 12 بجے تک میرا پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ جو تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ بتا دیں، ہم اس پر بات کر لیتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’میں نے آخری کال پونے 12 بجے کی اور کہا کہ ابھی بھی موقع ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچ سکتے ہیں، تاکہ صبح ہونے والے اقدام (ایمرجنسی اور گورنر راج) سے گریز کیا جا سکے۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق وفاقی حکومت مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو یہ بتاتی رہی کہ ’ہمیں دھرنے سے مسئلہ نہیں، ہمیں دہشت گردی سے مسئلہ ہے۔‘
تاہم اُن کے مطابق ان تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں صوبائی حکومت سے کوئی جواب نہ ملا جس پر یہ اقدام اٹھایا گیا۔
معاملہ فضل الرحمان کی ثالثی کی جانب کیسے آیا؟
بی بی سی نے اس مذاکراتی عمل میں شامل چند اہم شخصیات سے بات کی ہے جس کے نتیجے میں یہ سامنے آتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات میں تعطل چند روز قبل اُس وقت سامنے آیا تھا جب قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے دفتر میں حکومتی اور تحریک انصاف کے وفد کی ایک ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر ہونے والے مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفاق میں موجود رہنماؤں کی جانب سے حکومت کو بتایا گیا تھا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اختیار اُن کے پاس نہیں ہے اور یہ کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف اور صرف عمران خان سے متعلقہ معاملات پر ہی ہوں گے۔
ایک حکومتی وزیر کے مطابق اس پیش رفت کے بعد فریقین نے ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ نہیں کیا بلکہ اُن کا رخ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب ہو گیا اور فریقین کے نمائندہ وفود نے مولانا کو انگیج کیا کہ وہ معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کریں، تاہم آخری وقت تک اس ضمن میں کی جانے والی کوششیں ناکام رہیں۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے بقول جب صوبائی حکومت شدت پسندی کے واقعات کو روکنے اور بالخصوص جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کُرم کے قریب پاکستان اور افغانستان بارڈر کے قریب شدت پسندوں نے پاکستان میں گھسنے کی کوشش کی اور فورسز نے 12 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا تو پھر اس کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ اب صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔
سنیچر کو وزیر اعظم شہباز شریف چند وفاقی وزرا کے ساتھ ایوان صدر پہنچے تھے اور وہاں پر انھوں نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں تمام صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اس کے علاوہ اُسی روز وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اور اجلاس بھی ہوا جس میں سکیورٹی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے علاوہ دیگر معاملات زیر بحث آئے اور وزیر اعظم کو بریفنگز دی گئیں۔
ابھی یہ میٹنگ ختم ہی ہوئی تھی کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے اور انھوں نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی بجائے معاملہ افہام تفہیم سے طے کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر زور دیا۔
وزیر اعظم ہاؤس میں اس ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان گھر پہنچے ہی تھے کہ بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر دوبارہ مولانا فضل الرحمان سے ملنے پہنچے، جب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو حکومتی مؤقف کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو وہ اٹھ کر چلے گئے اور اس کے بعد پی ٹی آئی نے اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں ایک طرف معاملے کو افہام تفہیم سے حل کرنے کی بات کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع کیے گئے لانگ مارچ کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
دوسری جانب ایوان صدر میں ہونے والی وزیر اعظم اور صدر کی ملاقات کے بعد صدر مملکت نے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو ملاقات کے لیے طلب کیا اور اُن سے صوبے میں امن و امان کے حوالے سے بریفنگ لی گئی۔
’پی ٹی آئی قیادت نے شدت پسندی کے معاملے پر مثبت ردعمل نہیں دیا‘
پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نے صدر سے ملاقات کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کو دوبارہ پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرنے کو کہا اور انھوں نے پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کیا بھی۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومت کا صرف اس بات پر اصرار تھا کہ شدت پسندی کے خاتمے میں صوبائی حکومت بھی وفاق کے ساتھ آن بورڈ رہے، لیکن اُن کے بقول آخری وقت تک پی ٹی آئی کی قیادت نے اس بارے میں کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر علی محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کے حکومت کے ساتھ بلواسطہ یا بلاواسطہ جو مذاکرات ہوئے ہیں اس میں صرف عمران خان کی صحت اور ان کے علاج معالجے جیسے معاملات پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔
علی محمد خان کے بقول حکومتی نمائندہ وفد اس پر بضد تھا کہ سکیورٹی کے معاملے کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی نمائندوں کی ’ہٹ دھرمی کی وجہ سے‘ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے بھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئیں، اس میں بھی یہ واضح کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی صحت اور ان کی رہائی سے ہی متعلق تھے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کی جانب سے کابینہ کے ارکان کو صوبے کی صورتحال اور وہاں کی حکومت کی طرف سے شدت پسندی کے واقعات کے روکنے میں عدم دلچسپی کے بارے میں آگاہ کیا۔
اُن کے مطابق اس اجلاس میں وقفے کے دوران بھی وزیر اعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرنے کا کہا اور انھیں بتایا گیا کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ ’کیا انھیں حکومت کی طرف سے پیش کردہ تجاویز منظور ہیں؟‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس موقع پر پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے مولانا کو ’حوصلہ افزا جواب نہ ملنے کے بعد‘ وفاقی کابینہ نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافد کرنے کی سمری کی منظوری دے دی۔