آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ہم کلمہ پڑھ رہے تھے، ہمیں لگا آخری وقت آ گیا ہے‘: ’ایم ٹی آنر 25‘ کے اغوا، قید اور بازیابی آپریشن کی کہانی پاکستانی رُکن کی زبانی
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
’گولیاں ہمارے کانوں اور سروں کے قریب سے گزر رہی تھیں۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے معافیاں مانگ رہے تھے اور کلمہ پڑھ رہے تھے کیونکہ ہمیں لگ رہا تھا کہ ہماری زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔‘
یہ کہنا ہے یاسر خان کا، جو ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی اُس بحری جہاز پر موجود تھے جو لگ بھگ پانچ ماہ تک صومالی قزاقوں نے یرغمال بنائے رکھا۔ اس جہاز کو بازیاب کروانے کی مسلح کارروائی کے دوران یاسر زخمی تو ہوئے مگر اُن کی زندگی بچ گئی اور اب وہ پاکستان پہنچ چکے ہیں۔
اس جہاز پر سوار 17 رکنی عملے میں سے 10 کا تعلق پاکستان سے تھا۔ 29 ستمبر کو اس آئل ٹینکر کی بازیابی کے آپریشن کے دوران عملے کے تین پاکستانی اراکین سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ یاسر سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔
یاسر خان نے پاکستان پہنچنے پر بی بی سی اُردو سے خصوصی گفتگو میں مکمل تفصیل فراہم کی ہے کہ کیسے اُن کا جہاز یرغمال بنا، یرغمال بنائے جانے کے پانچ ماہ کے دوران کیا کچھ ہوتا رہا، اور بازیابی کے آپریشن کے دوران اُن پر کیا گزری۔
’کلاشنکوف سے مسلح چھ افراد جہاز کے دائیں اور چھ بائیں جانب موجود تھے‘
یاسر نے بتایا کہ وہ سنہ 2008 سے بحری جہازوں پر کام کر رہے ہیں اور ’ایم ٹی آنر 25‘ کے آخری سفر میں وہ بطور ڈیزل مکینک تعینات تھے۔ انھوں نے اس آئل ٹینکر کو 17 جنوری 2026 کو جوائن کیا تھا۔
ان کے مطابق ’ایم ٹی آنر 25‘ ٹینکر جہاز پر تقریباً 2700 ٹن ڈیزل لدا ہوا تھا جسے صومالیہ پہنچانا تھا۔ بوساسو اور بربرا میں دو کھیپیں کامیابی سے پہنچانے کے بعد جہاز اپنے تیسرے سفر پر موغادیشو کی جانب بڑھ رہا تھا۔ خلیج عدن عبور کرتے ہوئے سکوترا جزیرے کے بعد صورتحال اچانک بدل گئی۔'
یاسر کے مطابق جس روز جہاز اغوا ہوا وہ اضافی ڈیوٹی کے بعد اپنے کیبن میں آرام کرنے آئے تھے جب انھیں فائرنگ کی آواز سنائی دی جس پر پہلے انھیں لگا کہ شاید جہاز کے اوپری حصے پر کوئی کام ہو رہا ہے۔
’میں نے پورٹ ہول سے سر نکال کر دیکھا تو سامنے اے کے 47 (کلاشنکوف) لیے چھ لوگ جہاز کی دائیں جانب اور چھ بائیں جانب موجود تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’قزاق جہاز پر سوار ہوئے تو انھوں نے فائرنگ کی، جہاز کا انجن بند کروایا اور عملے کو برج پر جمع کر لیا اور پھر تمام عملے کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے۔‘
یاسر کے مطابق کچھ دیر بعد قزاقوں کو ایک کال موصول ہوئی اور جہاز کی سمت تبدیل کر دی گئی۔ ’تقریباً پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد جہاز ایک نامعلوم مقام پر لنگر انداز ہو گیا۔‘
’قزاقوں نے عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔ واش روم جانے کے لیے بھی اجازت لینا پڑتی تھی اور کھانے کے لیے ایک وقت میں صرف دو افراد کو نیچے جانے دیا جاتا۔‘
یاسر کے مطابق جہاز پر کئی ماہ کے لیے کافی خوراک اور پانی کا ذخیرہ موجود تھا، لیکن قزاقوں نے مزید تقریباً 40 افراد کو وہاں بُلا لیا۔ یوں جہاز پر قزاقوں اور عملے سمیت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔
’وہ لوگ بہت بھوکے تھے۔ انھوں نے ہمارے فریج کھولے اور کھانا پینا شروع کیا۔ ہمارے کیبنز میں داخل ہوئے اور چاکلیٹس، ڈرائی فروٹس اور جو کچھ ملا لے گئے۔ یہاں تک کہ ہمارے کپڑے، جوتے اور شرٹس بھی لے گئے۔‘
پانچ ماہ کی قید: ’تاریخ کا اندازہ نہیں رہتا تھا‘
یاسر پانچ ماہ کی اس قید کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’اس دوران جہاز پر موجود لوگ ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، اور چونکہ کسی کے پاس موبائل فون نہیں ہوتا تھا، اس لیے تاریخ کا اندازہ بھی نہیں رہتا تھا۔‘
’قزاق آپس میں صومالی زبان میں گفتگو کرتے تھے اور ابتدائی دنوں میں عملے کے لیے اُن سے بات چیت کرنا بھی مشکل تھا۔ یرغمال بنائے جانے کے پانچ دن بعد نیروبی سے ایک شخص کو مترجم کے طور پر لایا گیا جو انگریزی بول سکتا تھا۔‘
یاسر نے بتایا کہ بعدازاں قزاقوں کے سربراہ نے عملے کو موبائل فون واپس کیے اور ہر شخص کو گھر والوں سے بات کرنے کے لیے محدود وقت دیا گیا۔ ’قزاق عملے کے اہلخانہ سے براہِ راست رقم نہیں مانگ رہے تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ کمپنی یا جہاز کے مالک سے پیسے دلوائے جائیں۔‘
ان کے مطابق کھلے سمندر میں کئی ہفتوں اور مہینوں تک ’ایم ٹی آنر 25‘ کا عملہ اِسی امید میں رہا کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور وہ واپس گھر پہنچ جائیں گے۔
یاسر کہتے ہیں کہ قید کے دوران سب سے مشکل چیز انتظار تھا۔ ’صبح سے رات تک ہم بیٹھے رہتے، آپس میں باتیں کرتے اور گھر والوں کو یاد کرتے۔ ہم سوچتے تھے کہ جب یہاں سے نکلیں گے تو یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ ہمارے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ اِتنا وقت لگ جائے گا۔‘
جب یاسر سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی اُن کے دل میں فرار ہونے کا خیال آیا، تو اُن کا جواب تھا کہ وہاں سے فرار ہونے کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔ ’جہاز کے چاروں طرف سمندر تھا اور ساحل تک پہنچنے کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔‘
یاسر نے بتایا کہ ایک روز عملے کو بتایا گیا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور انھیں بندر بیلا لے جایا جا رہا ہے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔ پھر انھیں گرات لے جانے کی بات ہوئی، جہاں مبینہ طور پر برطانیہ سے آیا ہوا ایک مذاکرات کار موجود تھا، لیکن گرات پہنچنے سے پہلے ہی صورتحال بدل گئی۔
یاسر کا کہنا ہے کہ دراصل قزاقوں کو اطلاع ملی تھی کہ ’سیبو ون‘ نامی یرغمال بنائے گئے ایک دوسرے جہاز پر قزاقوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جس کے باعث انھیں خدشہ ہوا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے، چنانچہ جہاز کو واپس موڑ دیا گیا۔
بازیابی کا آپریشن
پھر 29 ستمبر کی رات آئی جب فیصلہ کُن کارروائی کی گئی۔
یاسر بتاتے ہیں کہ رات تقریباً دو بجے قزاقوں نے عملے کے ارکان کو نیند سے جگایا اور جہاز کے اگلے حصے میں لے جا کر بٹھا دیا، قریب سے ایک ٹینکر گزر رہا تھا جس پر پنٹ لینڈ فورسز کے اہلکار موجود تھے۔
ٹینکر کے گزر جانے کے بعد انھیں واپس سونے کے لیے بھیج دیا گیا، لیکن صبح سات بجے دوبارہ جگایا گیا اور اس مرتبہ اُن کی شرٹس اتار دی گئیں، ہاتھ پیچھے کر کے رسیوں سے باندھے گئے اور انھیں ایک قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔
’جہاز کا انجن چل رہا تھا، کچھ افراد انجن روم میں تھے جبکہ چند لوگ برج پر نیویگیشن کر رہے تھے اس کے بعد اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔‘
یاسر کے مطابق فائرنگ سے جہاز کا سٹیئرنگ متاثر ہوا اور جہاز بے قابو ہو کر سمندر میں 360 ڈگری میں گردش کرنے لگا۔ ’اسی دوران خشکی کی جانب سے بھی فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ گولیاں ہمارے کانوں اور سروں کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ کچھ جہاز پر لگ رہی تھیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ فائرنگ سے انجن روم اور اس کے قریب موجود حصے میں سوراخ ہو گئے اور سمندر کا پانی جہاز کے اندر داخل ہونے لگا، بظاہر ڈیزل ٹینک بھی متاثر ہوئے اور ایندھن لیک ہونے لگا۔
یاسر کہتے ہیں کہ اس وقت قزاق خود خوفزدہ ہو کر نیچے چھپ گئے تھے لیکن پھر ایک قزاق باہر نکلا، اس نے اپنی اے کے 47 لوڈ کی، اور اُن ساتھیوں کو روکنے کی کوشش کی جو کشتیوں کے ذریعے فرار ہونا چاہتے تھے۔
’اُس قزاق نے سب سے پہلے ایک انڈونیشین ملازم کو گولی ماری جو فرار کی غرض سے کرین کی مدد سے قزاقوں کی کشتیاں پانی میں اُتار رہا تھا۔ اس کے بعد تھرڈ انجیینئر محمود احمد انصاری کو رسی سے آزاد کر کے کرین چلانے کے لیے لایا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ وہ انجن روم کے ماہر ہیں اور کرین چلانا نہیں جانتے۔‘
یاسر کے مطابق اس پر انھیں دوبارہ باندھ دیا گیا اور پھر فائرنگ شروع ہوئی۔
یاسر کے مطابق ’پہلی گولی ہمارے سیکنڈ آفیسر کاشف کو لگی، پھر رفیع اللہ کو اور پھر محمود صاحب کو۔‘ اسی دوران نیچے موجود ایک قزاق کے چہرے پر بھی گولی لگی، جس سے اس کا جبڑا بری طرح زخمی ہو گیا اور اس نے غصے میں اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ شروع کر دی۔
یاسر کے مطابق اب ٹینکر کا عملہ دو جانب سے ہونے والی فائرنگ کے بیچ میں تھا۔ ’ہم بیچ میں تھے اور وہ آپس میں آمنے سامنے لڑ رہے تھے۔ جتنی اموات ہوئیں اور جو گولیاں یا فریگمنٹس ہمیں لگے، وہ اسی فائرنگ کے نتیجے میں لگے۔‘
یاسر کے مطابق اس دوران انھوں نے اپنے ہاتھوں پر بندھی رسی کھولی اور بھاگ کر پہلے انجن روم اور پھر برج کی طرف گئے، جہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اُس وقت برج پر وی ایچ ایف ریڈیو سے مسلسل ایک آواز آ رہی تھی، ’اونر 25، کم اِن‘ یہ ریسکیو کے لیے آنے والے ٹینکر کی کال تھی۔
یاسر کے مطابق انھوں نے ریڈیو پر جواب دیا کہ وہ محفوظ ہیں اور انھیں عملے کی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں بتایا اور یوں قزاقوں کے مکمل طور پر نکل جانے کے بعد ریسکیو ٹیم جہاز پر پہنچی۔
یاسر کے مطابق تقریباً چھ سے آٹھ اہلکار جہاز پر آئے اور سب سے پہلے زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی۔ ’جہاز کا انجن بند تھا اور سٹیئرنگ بھی کام نہیں کر رہا تھا، اس لیے اسے رسیوں اور مورنگ ونچز کی مدد سے کھینچ کر بندر بیلا لے جایا گیا۔‘
بندر بیلا پہنچنے کے بعد زخمیوں کو مقامی سرکاری نوعیت کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یاسر اور دو دیگر زخمیوں کو ایک دوسری کشتی کے ذریعے ساحل تک پہنچایا گیا۔
لیکن یہاں بھی ان کے لیے ایک پابندی موجود تھی کیونکہ آرمی اہلکاروں نے عملے کے موبائل فون دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیے۔ یاسر کے مطابق انھیں بتایا گیا کہ جہاز کی لوکیشن، زخمیوں اور ہلاکتوں سے متعلق معلومات باہر نہیں جانی چاہییں۔
رات ہسپتال میں گزارنے کے بعد عملے کو سڑک کے ذریعے گروے منتقل کیا گیا۔ یاسر کے مطابق یہ سفر تقریباً 12 گھنٹے کے دشوار گزار راستے پر مشتمل تھا، جہاں پہنچ کر مقامی پاکستانی کمیونٹی نے ان کی مدد کی اور بہتر طبی سہولتیں فراہم کی گئیں اور چند دن بعد انھیں ایتھوپیا منتقل کیا گیا، جہاں اُن کا مزید علاج ہوا اور وہیں سے وہ پاکستان پہنچے۔
یاسر نے بتایا کہ جو جہاز صومالیہ جاتا ہے کہ اس کے لیے خصوصی ایس او پی ہوتی ہے جس کے تحت سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں، خاردار تاریں لگائی جاتی ہیں اور تربیت یافتہ مسلح گارڈز جہاز پر تعینات کیے جاتے ہیں لیکن اُن کے جہاز میں ایسا نہیں کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق ان کے جہاز کا کپتان ساحل کے قریب سے جہاز لے کر جا رہا تھا جہاں قزاق آسانی سے پہنچ سکتے تھے اور یہ کہ اگر وہ گہرے سمندر سے راستہ اپناتا تو ایسا نہیں ہوتا۔