روس سے تین لاکھ ٹن ڈیزل درآمد کرنے کے منصوبے پر ٹرمپ کو مخالفت کا سامنا: ’یہ پوتن کے لیے تحفہ ہے‘

    • مصنف, میڈلین ہالپرٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روس سے ڈیزل درآمد کرنے کے منصوبے پر مخالفت کا سامنا ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں پر جاری ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن ’امریکی اور عالمی منڈی کے لیے‘ فوری طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل جاری کرنے پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے بعد مزید تیل بھی فراہم کیا جائے گا۔

اس اعلان سے چند ہی ہفتے قبل ٹرمپ نے ایسی قانون سازی پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایسے ممالک پر امریکی پابندیاں اور محصولات عائد کرنے کی اجازت دی گئی تھی جو روسی تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔

اس اقدام پر بعض ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون سازوں نے تنقید کی ہے، جن کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

دریں اثنا ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین ’توانائی سے متعلق جنگ بندی‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا جبکہ ماسکو کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ٹرمپ کا اعلان اور تنقید

ابتدائی طور پر تین لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی کے علاوہ، ٹرمپ نے کہا کہ روس نومبر میں پانچ لاکھ ٹن اور اس کے بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا۔

اس کے بعد مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا، جو ’مختصر مدت‘ میں پہنچایا جائے گا۔ تاہم یہ روسی ریفائنریوں کی حالت پر منحصر ہو گا جنھیں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین نے نشانہ بنایا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’امریکیوں، خاص طور پر ہمارے عظیم کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ٹرک ڈرائیوروں کے لیے کم قیمتیں میری سب سے بڑی ترجیح ہیں۔‘

روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے سرکاری خبر رساں ادارے تاس سے گفتگو میں ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں برآمدات کا حجم ماہانہ 30 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس معاہدے کو پوتن کے لیے ایک تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ایسی جنگ میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے جسے ختم ہونا چاہیے۔‘

اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ سات اپریل تک روسی ڈیزل کی برآمدات پر عائد پابندیاں معطل کر رہا ہے، تاہم امریکی بینکوں میں موجود اثاثوں سمیت دیگر اثاثے بدستور منجمد رہیں گے۔

اتوار کو سات سینیٹرز کے ایک گروپ، جن میں چار ریپبلکن اور تین ڈیموکریٹس شامل ہیں، نے کہا کہ یہ معاہدہ ’امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ 'یہ فیصلہ واپس لیں۔‘

قانون سازوں نے کہا کہ روس یوکرینی شہریوں پر حملہ آور ہے اور اس دوران ’پوتن کو مالیاتی لائف لائن فراہم نہیں کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے ’2022 میں روسی توانائی کی درآمدات پر واضح پابندی لگا دی تھی تاکہ امریکی ڈالروں کو یوکرین کے خلاف پوتن کی وحشیانہ جنگ کی مالی اعانت سے روکا جا سکے۔‘

بیان پر ریپبلکن رہنماؤں نے دستخط کیے تھے۔

ٹرمپ روس سے ڈیزل کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

مگر ہر کوئی اس معاہدے کا مخالف نہیں۔ ریپبلکن تھامس میسی، جنھوں نے ٹرمپ کے ساتھ کئی معاملات پر اختلاف کیا ہے، نے کہا کہ امریکہ کو ’تمام پیٹرولیئم مصنوعات پر سے پابندیاں ہٹانی چاہیے۔‘

ٹرمپ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ معاہدہ موجودہ قانونی چینلز کے ذریعے کام کرے گا جس کا مقصد قیمتوں کو کم کرنا ہے اور یہ کہ اگر کانگریس میں کوئی اس سے اتفاق نہیں کرتا تو یہ غلط ہے۔

فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لڑائی نے خام تیل کی سپلائی میں شدید خلل ڈالا ہے جس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دنیا بھر میں بڑھی ہیں۔

اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکیوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن گئی ہیں۔ یہ قیمتیں اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں۔

رائے شماری کے اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت معیشت اور ایران جنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی کو پسند نہیں کرتی۔

جنگ کے اثرات امریکی زرعی ریاستوں میں شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں زرعی مشینری چلانے اور مصنوعات کو منڈی تک پہنچانے کے لیے ڈیزل پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔

امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کے مطابق امریکہ میں اس وقت ڈیزل کی اوسط قیمت 6.28 ڈالر (4.74 پاؤنڈ) فی گیلن ہے، جو ستمبر کے آخر میں ریکارڈ 6.53 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔

تجزیہ کاروں نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا روس اس مقدار میں ڈیزل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ بھی کہ ایسا کرنے سے امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کس حد تک کمی آئے گی۔

امریکہ روزانہ تقریباً 36 لاکھ بیرل ڈیزل استعمال کرتا ہے، لہٰذا اگر روس اس ماہ اپنے وعدے کے مطابق تین لاکھ ٹن ڈیزل بھی فراہم کر دے تو یہ مقدار بھی امریکہ کی یومیہ کھپت کے تقریباً نصف کے برابر بنتی ہے۔

روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کو صرف ملکی سطح پر ہی مخالفت کا سامنا نہیں ہے۔ متعدد عالمی رہنماؤں نے بھی اس پر تنقید کی ہے، جن میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور برطانیہ کے سیکریٹری دفاع ویس سٹریٹنگ شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یوکرین کے دیگر اتحادیوں کو جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔