یمن کے حوثی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

یمن میں کشیدگی کے اثرات سرحد پار بھی نظر آ رہے ہیں اور سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے دو روز کے دوران مملکت کے دو بڑے ہوائی اڈوں، ریاض اور ابہا، کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جن میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حوثی بین الاقوامی ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کے بارے میں ’آخری وارننگ‘ جاری کر چکے ہیں۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ السریع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فضائی حدود اب ’ان کی فوجی کارروائیوں کا مرکز‘ بن چکی ہیں، جبکہ انھوں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل حملے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

یمن میں شدت اختیار کرتی جنگ کے دوران پہلے بھی سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جنھیں خود یمنی حوثی سعودی فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب نے مزید جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں محاذوں پر لڑائی تیز ہو رہی ہے اور دونوں فریق تنازع کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں دو افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے ہیں۔

ایک علیحدہ واقعے میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

گاکا کے مطابق یمن کی سرحد کے قریب ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر کی شہریت رکھنے والی دو خواتین ہلاک ہوئیں جبکہ شاہ خالد ایئرپورٹ پر سوڈانی شہریت رکھنے والا ایک مرد رہائشی ہلاک ہوا۔

ملک کے سول ایوی ایشن ادارے نے حملوں کے ذمہ دار کا نام نہیں لیا، تاہم حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی مسلح افواج نے دونوں سعودی ہوائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں نے بدھ کے روز یمن کے عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا۔

یہ ہوائی اڈہ حوثیوں کے کنٹرول سے باہر یمن کے علاقوں کے لیے ایک اہم بین الاقوامی داخلی راستہ ہے اور ملک میں جب بھی لڑائی شدت اختیار کرتی ہے اسے بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

سریع نے کہا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر کیے گئے دونوں حملے ’ہمارے ملک کے خلاف سعودی جارحیت کے جواب میں کیے گئے، جس کے نتیجے میں ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 60 فضائی اور میزائل حملے‘ ہوئے۔

تو حوثی سعودی ہوائی اڈوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ فوجی اڈوں، تیل کی تنصیبات یا دیگر اہم انفراسٹرکچر کے مقابلے میں ہوائی اڈے ان کے لیے اتنا اہم اور مؤثر ہدف کیوں ہیں؟

حوثی ہوائی اڈوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ، ایران اور یمن کے امور پر نظر رکھنے والے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز (INSS) کے سینئر محقق ڈینی (ڈینس) سیٹرینووِچ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا محض فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نفسیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے وہ حوثیوں کے اس ابتدائی بیان کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’اگر ہمارے طیارے صنعا ایئرپورٹ پر نہیں اتر سکتے تو پھر کسی شہری فضائی کمپنی کے طیارے کو بھی سعودی عرب میں نہیں اترنا چاہیے۔‘

ڈینی سیٹرینووِچ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ ان کے بقول وہ سعودی عرب کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ’اگر یمن محاصرے کا شکار ہے تو سعودی عرب بھی خود کو اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔۔۔ یعنی اگر صنعا ایئرپورٹ پر پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈے بھی معمول کے مطابق کام نہیں کر سکیں گے۔‘

ڈینی کے مطابق ہوائی اڈوں پر حملے دراصل اسی ’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘ کی سوچ کا حصہ ہیں۔

’اسی لیے وہ ہوائی اڈوں پر حملے کر رہے ہیں اور فی الحال ان حملوں کے رکنے کے آثار نظر نہیں آتے۔ یہ پہلی اور بنیادی وجہ ہے۔‘

سیٹرینووِچ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد صرف فضائی آمدورفت کو متاثر کرنا نہیں بلکہ سعودی عوام کے حوصلے اور نفسیات پر اثر ڈالنا بھی ہے۔

ان کے بقول بعض اوقات حوثی فوجی یا دوہری نوعیت کے ہوائی اڈوں، یعنی ایسے ہوائی اڈوں جو شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہوں، کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں تاکہ سعودی عرب کی عسکری کارروائی کی صلاحیت کو متاثر کیا جا سکے یا اس پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

تاہم ان کے مطابق بنیادی تصور پھر بھی ’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘ ہی ہے۔

کچھ ایسے ہی خیالات احمد ناجی کے بھی ہیں، جو تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں سینیئر تجزیہ کار برائے یمن ہیں۔

ان کے مطابق سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کے لیے حوثی کشیدگی میں مرحلہ وار اضافہ کر رہے ہیں، ابتدا میں انھوں نے سعودی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے بحری ناکہ بندی کی اور اب وہ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا کر سعودی عرب کی فضائی نقل و حمل میں خلل ڈال رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے احمد ناجی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے عزائم کے لیے ہوائی اڈے ایک ’پُر کشش ہدف‘ ہیں کیوں کہ یہاں حملوں سے یا حملوں کی دھمکیوں سے نہ صرف حکام پر اثر پڑتا ہے بلکہ عام سعودی شہری اور بین الاقوامی مسافر بھی متاثر ہوتے ہیں۔

’اس سے پروازوں میں خلل پڑ سکتا ہے، غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور میڈیا کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

احمد کے بقول کسی ہوائی اڈے پر حملے کی دھمکی دینا یا اس کے معمولات کو متاثر کرنا ’سرخیوں پر چھا جاتا ہے اور لوگوں کی روز مرہ زندگی پر اثر ڈال سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہی پہلو حوثیوں کی نظر میں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ’سعودی عرب پر بڑھتا ہوا دباؤ بالآخر ریاض کو اس بات پر آمادہ کر سکتا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے والی یمنی حکومتی افواج کی حمایت پر نظر ثانی کرے۔‘

کیا ہوائی اڈوں پر حملے کشیدگی میں اضافے کی علامت ہیں؟

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ حملے تنازع میں شدت کی نشاندہی کرتے ہیں اور آئندہ کے لیے یہ حوثیوں کی صلاحیتوں اور ارادوں کے بارے میں ہمیں کیا بتاتے ہیں، ڈینس سیٹرینووِچ کہتے ہیں کہ صورتِ حال یقیناً شدت اختیار کر رہی ہے۔

سیٹرینووِچ کا کہنا ہے کہ یہ حملے اہداف کے اعتبار سے نئے نہیں کیونکہ حوثی ماضی میں بھی سعودی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں، تاہم حملوں کی رفتار اور تسلسل میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

’حوثی اب روزانہ اور رات کے وقت مسلسل حملے کر رہے ہیں‘ اور ان کے مطابق اس نوعیت کے مسلسل حملے یقیناً کشیدگی میں اضافے کی علامت ہیں۔

وہ آرمکو کی تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور ینبع جیسی بندرگاہوں سمیت اہم تزویراتی مقامات پر حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک بار پھر اس کے پیچھے ’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘ کی سوچ کارفرما ہے، جبکہ ایک مقصد سعودی عرب کی تیل برآمدات کو متاثر کرنا بھی ہے۔

ڈینس سیٹرینووِچ کا ماننا ہے کہ یہ یقینی طور پر تنازع میں ایک نئی شدت کی علامت ہے اور حوثیوں کے حملے رکنے کا امکان نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سعودی عرب خود بھی اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

ان کے بقول حوثیوں کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی قائم کرنا مشکل ہے کیونکہ ’جب بھی ان کے خلاف دباؤ بڑھایا جاتا ہے، وہ اس کا جواب مزید شدت سے دیتے ہیں۔‘

ڈینی کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ حوثی اس وقت تک رکنے والے نہیں جب تک ان کے بنیادی مطالبات پورے نہیں ہوتے، جن میں یمن پر عائد پابندیوں اور محاصرے کا خاتمہ شامل ہے۔ ’اس لیے اگر میدانِ جنگ میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ آئی تو یہ حملے جاری رہنے کا امکان ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں فریق اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ’سعودی عرب کو ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ فضائی دفاعی نظام موجود ہونے کے باوجود وہ تمام میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔‘

’حالیہ حملوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ حوثیوں کے پاس اب بھی ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اہم اور تزویراتی تنصیبات کو نشانہ بنا سکیں۔‘

احمد ناجی بھی یہی سمجھتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں حوثیوں کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم وہ اس صلاحیت کے برقرار رہنے کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حوثی جدید ڈرونز، میزائل اور دیگر فوجی ساز و سامان حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم، احمد کے بقول، کشیدگی برقرار رکھنے کے لیے حوثیوں کی صلاحیت ’لا محدود‘ نہیں ہے، ’سعودی عرب کے خلاف مسلسل حملے بالآخر ان کے (عسکری ساز و سامان کے) ذخائر کو کم کر سکتے ہیں۔‘

احمد ناجی اسرائیل کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی مثال دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ایک مرحلے پر حوثیوں نے (اسرائیل کے خلاف) اپنے حملوں کی تعداد بڑھا دی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس رفتار میں کمی آ گئی کیوں کہ اس نوعیت کے حملے جاری رکھنے کی ان کی صلاحیت کم ہوتی گئی۔

’سعودی عرب کے خلاف حملوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے میں آ سکتی ہے۔‘

احمد کا ماننا ہے کہ ’حوثی ایک جوا کھیل رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق حوثیوں کا اندازہ بظاہر یہ ہے کہ ’مسلسل دباؤ بالآخر سعودی عرب کو یمنی حکومت کی حمایت کم کرنے پر مجبور کر دے گا۔ لیکن اگر ریاض پسپائی اختیار نہیں کرتا تو یہ محاذ آرائی حوثیوں کے لیے ایک طویل تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔‘

بی بی سی اردو سے گفتگو میں احمد کا کہنا تھا کہ اگر لڑائی طول پکڑتی ہے تو حوثیوں کو بڑی مقدار میں میزائل اور ڈرون استعمال کرنا پڑیں گے، ’جس سے وقت کے ساتھ ان کی عسکری پوزیشن ممکنہ طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔‘

انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں سینیئر تجزیہ کار برائے یمن، احمد ناجی کے خیال میں حوثیوں کے حملے جہاں سعودی عرب کے خلاف عسکری کارروائیاں کرنے کی ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں یہ سوال بھی پیدا کرتے ہیں کہ کیا حوثی طویل عرصے تک اسی شدت کی جنگ لڑ سکتے ہیں؟

یمن میں کشیدگی کیوں شدت اختیار کرتی جا رہی ہے؟

یمن میں خانہ جنگی حالیہ ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر گئی ہے، جب ملک کے شمال مغربی حصے کے بیشتر علاقوں پر قابض حوثیوں نے تیز رفتار کارروائی کے دوران بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے کے تزویراتی لحاظ سے اہم حصوں پر قبضہ کر لیا۔

ان میں باب المندب آبنائے پر واقع بندرگاہ مخا بھی شامل ہے، جو بحیرہ احمر کا سب سے تنگ مقام اور عالمی بحری جہاز رانی کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

تاہم سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے بعد ازاں کہا کہ انھوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع باب المندب آبنائے کو ’محفوظ‘ بنا لیا ہے۔

انھوں نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے تحت مکمل جنگ کا بھی اعلان کیا۔

بدھ کی رات جاری کیے گئے ایک بیان میں سعودی قیادت والے اتحاد کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ سعودی اتحاد نے صعدہ، الحدیدہ، الجوف اور مأرب کے صوبوں میں حوثیوں کے 80 سے زیادہ فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

دریں اثنا سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے خلاف دھمکیوں اور حالیہ حملوں کے پیش نظر امریکی شہری غیر معمولی احتیاط برتیں۔

سفارت خانے نے خبردار کیا کہ مسافروں کو پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری منصوبوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی شہریوں کو یمن کی سرحد کے قریب سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

حملوں کے اثرات فضائی ٹریفک پر بھی پڑتے دکھائی دیے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 نے جمعرات کو ایک پوسٹ میں کہا کہ اگرچہ ریاض کا ہوائی اڈہ دوبارہ فعال ہو چکا ہے، تاہم اس وقت وہ دنیا بھر میں ان ہوائی اڈوں میں سرفہرست ہے جہاں پروازوں میں سب سے زیادہ خلل پیدا ہو رہا ہے۔

ویب سائٹ نے اس سے قبل ایک اور پوسٹ میں کہا تھا کہ ریاض جانے والی پروازیں ایک مرتبہ پھر فضا میں انتظار (holding pattern) کر رہی ہیں، جبکہ آخری طیارہ تقریباً 30 منٹ قبل اترا تھا۔

ایک دہائی پر محیط تنازع

سعودی قیادت والا اتحاد 2015 میں اس وقت تشکیل دیا گیا تھا جب عرب ممالک نے یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو معزول کرنے سے حوثیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ کارروائی کی۔

2022 میں ایک عارضی جنگ بندی کرائی گئی تھی، اس سے قبل کئی برسوں تک جاری فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کے ساتھ دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک نے جنم لیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سعودی عرب پر ’حوثیوں کے مسلسل سرحد پار حملوں‘ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ’لڑائی میں تیزی سے ہونے والے اضافے پر گہری تشویش‘ رکھتے ہیں۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد دونوں جانب سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ نے بدھ کے روز کہا کہ اس شدت اختیار کرتی صورتِ حال کے باعث دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔