آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ریاض پر حملے: ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کرانے کے لیے ’تیار‘، عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتیں

یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی ہم منصب سے پہلا رابطہ، مذاکرات کے لیے سہولت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے خدشات، قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • گورنر خیبر پختونخوا نے آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا
  • سابق صدر عارف علوی کی ایمرجنسی اور گورنر راج پر تنقید، 'یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے'
  • آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا تھا، محسن نقوی کی وضاحت
  • پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبادلے
  • سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں: حوثی ترجمان

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے گورنر کی صدارت میں اجلاس

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مشیر برائے داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو درکار سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے اور حکومت کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

  2. نقاب پوش افراد رات تین بجے گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو ساتھ لے گئے: اہلیہ فرح اقرار کا دعویٰ

    صحافی اور سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نا معلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’اغوا کر کے لے گئے۔‘

    فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا کہ رات وہ سو رہی تھیں جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔

    ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو ’چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘

    فرح کا کہنا ہے کہ اُن افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ’اقرار کو باہر نکالو۔‘

    فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔

    فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔

    واضح رہے کہ ’این سی سی آئی اے‘ پاکستان کے سرکاری ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کا مخفف ہے۔

    فرح اقرار نے دعویٰ کیا کہ جب ان کے شوہر نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو گھر آنے والے افراد نے انھیں پکڑ لیا اور ’اغوا کر کے لے گئے۔‘

    بی بی سی کی لاہور میں موجود نامہ نگار ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا کہ مذکورہ افراد کے جانے کے بعد وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر بھی گئیں، تاہم انھیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد آئیں۔

    ان کے مطابق، اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست وصول نہیں کی گئی۔

    بی بی سی سے گفتگو میں فرح اقرار نے بتایا کہ درخواست وصول کرنے اور مقدمہ درج کرنے پر اصرار پر پولیس نے انھیں بتایا کہ انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں، اس لیے اس وقت کارروائی ممکن نہیں۔

    ان کے بقول پولیس کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی آفس کی جانب سے انٹرنیٹ بند ہے۔

    فرح اقرار کے مطابق مسلسل اصرار کے بعد پولیس نے ایک رسید پر تحریری طور پر درج کر دیا کہ ’انٹرنیٹ کی بندش کے باعث درخواست کو سسٹم میں ٹیگ نہیں کیا جا سکتا۔‘

    فرح اقرار نے کہا کہ تا حال انھیں یہ معلوم نہیں کہ ’اقرار کہاں ہیں، انھیں کون اپنے ساتھ لے کر گیا اور وہ کس کی تحویل میں ہیں۔‘

    ان کے مطابق اہلِ خانہ کے لیے یہ طے کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ ’گرفتاری کا معاملہ ہے یا اغوا کا، کیونکہ گھر آنے والے افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے اور انھوں نے اپنے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے۔‘

    لاہور میں بی بی سی کی نمائندہ ترہب اصغر سے گفتگو میں فرح اقرار کا کہنا تھا کہ اہلِ خانہ نے بار ہا ان افراد سے پوچھا کہ آیا ان کے پاس گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں اور وہ کس ادارے سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انھوں نے اپنی شناخت ظاہر کی۔

    دوسری جانب اقرارالحسن کے وکیل میاں اشفاق علی نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ اقرارالحسن کو کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اقرارالحسن کے ’اغوا‘ کی ایک درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم حکام نے اسے وصول نہیں کیا۔

  3. ایران نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کر دی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    یہ آمادگی انھوں نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں ظاہر کی۔

    یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی رپورٹ شدہ بات چیت ہے۔

    حوثیوں نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی مرتبہ سعودی عرب کو نشانہ بنایا ہے۔ سنیچر کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔

  4. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے اور خطے میں آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔

    اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ اضافے، یعنی 0.73 فیصد، کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 59 سینٹ اضافے، یعنی 0.64 فیصد، کے بعد 92 ڈالر 44 سینٹ تک پہنچ گئی۔

    ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات بڑھی تھیں، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے عملے برآمدات کا یہ عمل متاثر کر سکتے ہیں۔

    برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جبکہ آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا۔

    اسی دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ پاسداران کے مطابق یہ آئل ٹینکر غیر مجاز راستوں سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔

    پاسدارنِ انقلاب نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ جہاز جو آبنائے ہرمز میں اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کریں گے، انھیں مخالف تصور کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    تیل کی قیمتوں میں اضافہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا۔ سنیچر اور اتوار کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔

  5. ٹرمپ کا روس اور یوکرین میں ’انرجی سیز فائر‘ کا دعویٰ: زیلنسکی کا خیر مقدم، روس خاموش

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین ایک ’انرجی سیز فائر‘ پر متفق ہو گئے ہیں۔ یعنی دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے نہیں کریں گے۔

    کیئو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدام کی حمایت کرے گا، تاہم ماسکو نے تا حال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    امریکی صدر نے اصرار کیا کہ یہ جنگ بندی ’فوری طور پر‘ مؤثر ہو چکی ہے، تاہم انھوں نے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ابتدا میں اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا، لیکن بعد میں کہا کہ اگر ماسکو اس کی حمایت کرتا ہے تو کیئو بھی اس کی حمایت کرے گا۔

    زیلنسکی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں کہا کہ انرجی سیز فائر کی اطلاع ان کے لیے ’خبر‘ تھی، قبل ازیں انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے حکام ’روس کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کی واضح تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘

    انھوں نے کہا: ’یوکرین روسی توانائی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم روس کی جانب سے بھی اسی طرح کی آمادگی کے منتظر ہیں۔‘

    بی بی سی نے مزید تفصیلات کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

  6. سابق صدر عارف علوی کی ایمرجنسی اور گورنر راج پر تنقید، ’یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ہے‘

    پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ’جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل‘ قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں عارف علوی نے کہا کہ جس صوبے کے ’دو تہائی مینڈیٹ کو چرایا نہ جا سکا‘، اسے اسلام آباد کی ’غیر نمائندہ اور جعلی حکومت‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا حق صرف خیبر پختونخوا کے عوام کو حاصل تھا۔

    سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ تمام اطلاعات کے مطابق اس بحران کی واحد وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات تھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے پیغام کو عوام تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ذاتی عناد ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    عارف علوی نے اپنے بیان میں ملک میں سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ منتخب پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی کمزور پڑ رہی ہے۔

    انھوں نے بلوچستان اور کشمیر کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی اب خیبر پختونخوا تک پھیلائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اس کے حامی پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    سابق صدر نے کہا کہ عمران خان تشدد کے خلاف ہیں اور ان کی جماعت ہر صورت آئینی اور پرامن راستہ اختیار کرے گی۔ اپنے پیغام کے اختتام پر انھوں نے حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان اور ان کے حامی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

  7. گورنر خیبر پختونخوا نے آج اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا

    گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سکیورٹی چیلنجز اور انتظامی امور کا جائزہ لینے کے لیے آج (پیر کو) اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    گورنر ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سکیورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور حکومتی رٹ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

    یہ اجلاس ایسے وقت طلب کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    اپیکس کمیٹی صوبے میں سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے کا اہم فورم سمجھی جاتی ہے اور اس کے اجلاسوں میں امن و امان، انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی سے متعلق امور پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

  8. آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ناگزیر ہو گیا تھا، محسن نقوی کی وضاحت

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست مذاکرات اور پسِ پردہ سفارت کاری سمیت تمام ممکنہ ذرائع آزمائے، تاہم تعاون کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے صوبوں میں شامل رہا ہے، جہاں سکیورٹی فورسز اور شہریوں نے امن کے قیام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول ایسے حالات میں تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کوئی سیاسی فیصلہ یا آسان قدم نہیں تھا، بلکہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر ایک مشکل آئینی اقدام تھا۔ محسن نقوی کے مطابق جب تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور پاکستان کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہو جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے اپنے بیان کے اختتام پر پاکستان کے لیے امن و استحکام کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو محفوظ رکھے اور قوم کو پائیدار امن سے نوازے۔

  9. پی ٹی آئی کا وزیراعلیٰ سمیت متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کا دعویٰ، خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبادلے, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن جلد سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ صوبائی صدر پہلے ہی اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

    اجلاس کے دوران گورنر کو صوبے میں امن و امان، انسداد دہشت گردی اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھے جائیں گے۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی تاکہ معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو سکیں۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

    صوبے میں انتظامی تبدیلیاں

    دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے ایک درجن سے زیادہ ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    تبادلوں کی زد میں آنے والے افسران میں واصف رحمان (مردان)، طارق اللہ (صوابی)، مقبول حسین (چترال لوئر)، منظور آفریدی (دیر اپر)، عبداللہ شاہ (شانگلہ)، فیاض شیرپاؤ (ملاکنڈ)، سلیم جان (سوات)، سہیل احمد (اپر سوات)، محمد شعیب (بٹگرام)، خالد اقبال (مانسہرہ)، سرمد سلیم (ایبٹ آباد)، اصلاح الدین (ہری پور)، کیپٹن ثناء اللہ (پشاور)، فضل رحیم (چارسدہ)، محمد فہیم (بنوں)، حمیداللہ (لکی مروت) اور اسد سرور (کرک) شامل ہیں۔

    حکومت کی جانب سے متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو چترال لوئر، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو دیر اپر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔

  10. سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں: حوثی ترجمان

    یمن کے حوثی گروہ نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور اپنی اس تنبیہ کو دہرایا ہے کہ لوگ سعودی عرب کے ایئرپورٹس کا استعمال نہ کریں۔

    حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر کہا کہ یہ کارروائی ’ہمارے ملک اور ہمارے عوام کے خلاف سعودی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے زیرِ کنٹرول یمنی علاقوں پر 124 فضائی حملے کیے۔

    سریع کے مطابق حوثیوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار کارروائیاں کیں، جن میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تین مراحل میں حملے، شُگدم گیس فیسلٹی پر حملہ، آرامکو کی تنجیب آئل ریفائنری پر حملہ اور دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ شامل ہیں۔

    حوثیوں کے ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’ہم تمام بین الاقوامی کمپنیوں، ماہرین، ملازمین، کارکنوں اور دنیا بھر سے سفر کرنے والوں کے لیے اپنی تنبیہ دوبارہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں نہ چلائیں کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں، سوائے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے ہوائی اڈوں اور فضائی حدود کے۔‘

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
    • پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید ردعمل دیا جا رہا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے جنوبی ریجن کے صدر شاہد خٹک نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’کوئی کسی لیڈر کا انتظار نہ کرے نکلو پشاور کی طرف۔‘
    • پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان اب بھی برقرار ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
    • وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انھیں پی ٹی آئی نے بتایا تھا کہ مطالبات پورے ہونے کی صورت میں وہ اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار ہیں۔
    • پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے‘ کی مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس میں چھ پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض پر کیے گئے حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت پر غور کر سکتے ہیں۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔