’واٹس ایپ پر رابطے اور پاکستان میں ادائیگیاں‘: امریکہ کو مطلوب خانیوال کے ’انجینیئر‘ فہیم اکرم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے جعلی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت کے کیس میں پاکستان سے تاحال باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا ہے مگر متعلقہ ادارے اِس مبینہ فراڈ میں ملوث 33 سالہ فہیم اکرم سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے پانچ ستمبر (پیر) کو پاکستان کے شہر خانیوال سے تعلق رکھنے والے ملزم فہیم اکرم کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق 33 سالہ فہیم اکرم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فہیم اکرم نے مبینہ طور پر 50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے گئے جس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔

امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونیز کے مطابق امریکی حکام نے فہیم اکرم کی ویب سائٹ بند کر دی ہے اور اب اسے تلاش کرنے میں حکام کو لوگوں کی مدد درکار ہے۔

اس ضمن میں امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’اُسے (فہیم اکرم) خود سے پکڑنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں کہ وہ کہاں ہے تو امریکی حکام سے رابطہ کریں۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے اس کی گرفتاری اور سزا تک پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کا اعلان کیا ہے۔‘

بی بی سی کی جانب سے رابطہ کرنے پر پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے تاحال ڈاک ٹکٹوں سے متعلق کیس کے حوالے سے پاکستان سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فہیم اکرم کے کیس میں امریکی حکام کی جانب سے تاحال حکومت پاکستان کو کوئی باقاعدہ درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس نوعیت کے کیسز میں باقاعدہ طریقہ کار ہے جس میں غیرملکی حکام اپنے متعلقہ سفارتخانے کو درخواست بھیجتے ہیں اور پھر یہ درخواست حکومت پاکستان کو موصول ہوتی ہے۔‘

بی بی سی نے پولیس حکام اور خانیوال میں مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ فہیم اکرم کون ہیں؟

’پیپلز کالونی کے رہائشی فہیم اکرم سافٹ ویئر انجینیئر ہیں‘

خانیوال سے ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ دنوں انھیں فہیم اکرم اور اُس کے ساتھ اس کاروبار میں منسلک افراد کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کے احکامات ملے تھے۔ انھوں نے کہا اس ضمن میں ابتدائی معلومات وزارت داخلہ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک متعلقہ اہلکار نے ابتدائی معلومات ملنے کی تصدیق کی ہے۔

خانیوال کے پولیس افسر اور وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ابتدائی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ فہیم اکرم خانیوال کے علاقے پیپلز کالونی کے رہائشی ہیں اور انھوں نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق فہیم اکرم کے ایک بھائی بھی مبینہ طور پر اُن کے ساتھ کام کرتے تھے۔

رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں سے اکٹھی کی گئی ان معلومات میں بتایا گیا ہے کہ فہیم اکرم نے تقریباً دو، تین سال قبل امریکہ سے متعلق آن لائن کاروبار کا آغاز کیا تھا۔

ان ابتدائی معلومات کے مطابق کاروبار شروع ہونے کے بعد مختصر عرصہ میں فہیم اکرم کے مالی معاملات میں بہتری آئی جس کے بعد انھوں نے چند مقامی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت داری بھی کی۔

خانیوال پولیس کی جانب سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق اس خاندان نے ماضی میں اس علاقے میں پراپرٹی بھی خریدی۔

رشتہ داروں سے پولیس کو ملنے والی معلومات میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ امریکہ میں شروع ہونے والی قانونی کارروائی کی ابتدا ہی میں فہیم اکرم اور اُن کے بھائی پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ تاہم اس اطلاع کی حتمی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

وزارت داخلہ کو پولیس کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں یہ ذکر بھی کیا گیا ہے کہ فہیم اکرم اپنا کاروبار پاکستان ہی سے چلا رہے تھے اور سنہ 2025 میں وہ سعودی عرب گئے تھے جس کے بعد ایف ائی اے کے ریکارڈ میں اُن کے کسی بھی بیرون ملک سفر کا حوالہ نہیں ہے۔

حبیب الرحمن کا تعلق خانیوال کے علاقے پیپلز کالونی سے ہے۔ بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ تین سال قبل تک فہیم اپنے والد ہی کے ساتھ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک تھے مگر ’بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے جس کے بعد اُن کے حالات کافی بہتر ہوئے۔‘

ان کے مطابق پیپلز کالونی میں شفٹ ہونے سے پہلے فہیم اپنے والدین کے ساتھ کسی دوسرے علاقے میں رہتے تھے۔

خانیوال کے مقامی صحافی احمد رضا کا کہنا ہے کہ ’فہیم اکرم تین چار سال سے آن لائن کاروبار کرتا تھا لیکن ٹکٹوں کا بزنس انھوں نے دو سال پہلے ہی شروع کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ فہیم اکرم اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ پیپلز کالونی میں ہی رہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ فہیم اکرم کا والد پراپرٹی کا کاروبار کرتے جبکہ انھوں نے ایک دوکان کرائے پر لے رکھی تھی جس میں بچوں کے لیے سنوکر گیم رکھی ہوئی تھی۔‘

احمد رضا کا دعویٰ ہے کہ ایک فاسٹ فوڈ چین میں بھی فہیم اکرم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ’فہیم اکرم اور ان کا بھائی روپوش ہیں۔‘

واٹس ایپ پر رابطے اور پاکستان میں بینک اکاؤنٹ پر ادائیگی کا الزام

بی بی سی نے فہیم اکرم کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کی عدالتی دستاویزات تک رسائی حاصل کی ہے۔

اس فردِ جرم کے مطابق استغاثہ کا الزام ہے کہ فہیم اکرم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ قائم کی جسے جعلی اور نقلی امریکی ڈاک ٹکٹوں اور پوسٹل لیبلز کی تیاری اور فروخت کے لیے استعمال کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق اس ویب سائٹ کے ذریعے امریکہ بھر میں جعلی پوسٹل لیبلز کی تشہیر کی جاتی تھی اور انھیں فروخت کیا جاتا تھا۔

فردِ جرم کے مطابق فہیم اکرم اور ان کے ساتھی مبینہ طور پر اس ویب سائٹ کے ذریعے امریکی پوسٹل سروس کے لیبلز تقریباً دو ڈالر فی لیبل کی مقررہ قیمت پر فروخت کرتے تھے، چاہے پارسل کا ڈیلیوری ایڈریس، وزن، شپنگ سروس یا دیگر عوامل کی نوعیت کچھ بھی ہو۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں امریکی پوسٹل سروس کی اصل قیمتوں سے بہت کم تھیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد نے مبینہ جعلی لیبلز خریدے جس سے امریکی پوسٹل سروس کو کو نمایاں مالی نقصان اور ملزمان کو غیر قانونی منافع حاصل ہوا۔

فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ گاہکوں سے رابطے کے لیے واٹس ایپ سمیت بین الریاستی اور بین الاقوامی الیکٹرانک مواصلاتی ذرائع استعمال کیے گئے اور ادائیگیاں بھی وائر ٹرانسفرز کے ذریعے وصول کی گئیں۔ استغاثہ کے مطابق جب صارف ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنا کر رقم منتقل کرتے تھے تو وہ ویب سائٹ سے مبینہ جعلی اور نقلی پوسٹل لیبلز ڈاؤن لوڈ کر سکتے تھے اور انھیں امریکہ بھر میں پارسل بھیجنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

استغاثہ کا الزام ہے کہ ان لیبلز کے ذریعے بھیجے جانے والے پارسلوں کی ڈاک فیس امریکی پوسٹل سروس کو ادا نہیں کی جاتی تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ادارے کو آمدنی کا نقصان ہوا بلکہ اسے ایسے پارسلوں کی ترسیل پر اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے جن کے بدلے اسے کوئی رقم موصول نہیں ہوئی۔

فردِ جرم میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سرگرمی نے پوسٹل سروس اور اس کے تفتیشی ادارے کے مالی، لاجسٹک اور آپریشنل وسائل پر بھی بوجھ ڈالا۔

فردِ جرم کے مطابق مبینہ سازش کے دوران 51 لاکھ سے زیادہ جعلی اور نقلی پوسٹل لیبلز 5200 سے زائد افراد کو فروخت کیے گئے، جس سے امریکی پوسٹل سروس کو کو تقریباً 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی آمدنی کا نقصان پہنچا۔

استغاثہ نے بعض واٹس ایپ گفتگوؤں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ فردِ جرم کے مطابق جب ایک گاہک نے اطلاع دی کہ امریکی پوسٹل سروس اس ویب سائٹ کے لیبل قبول نہیں کر رہا تو جواب میں انھیں کہا گیا کہ ’ڈراپ آف پوائنٹ تبدیل کر دیں‘ اور ’انھیں (امریکی پوسٹل سروس) چیک نہ کرنے دیں۔ بس وہاں جائیں اور سکین کریں۔‘

ایک اور مبینہ واٹس ایپ گفتگو میں، جب ایک ممکنہ گاہک نے پوچھا کہ کیا ان لیبلز کے بارے میں کوئی خاص بات جاننے کی ضرورت ہے تو فردِ جرم کے مطابق جواب دیا گیا کہ ’یہ چال پر مبنی لیبلز ہیں جو صحیح کام کرتے ہیں۔ لیکن امریکی پوسٹل سروس کو اس سے کوئی آمدن حاصل نہیں ہوتی۔ وہ صرف تب معلوم کر پائیں گے جب وہ اپنے سسٹم کو گہرائی میں دیکھیں گے۔ سکینر کی حد تک یہ کام کرتے ہیں۔‘

استغاثہ نے اس پیغام کو وائر فراڈ کے الزامات میں شامل کیا ہے۔

فردِ جرم کے مطابق اکتوبر 2025 میں ایک ممکنہ گاہک کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک کرپٹو کرنسی ایکسچینج والیٹ ایڈریس پر ادائیگی کرنے کا مشورہ دیا گیا جو استغاثہ کے مطابق فہیم اکرم کے نام سے منسلک تھا۔ جون 2026 میں ایک اور ممکنہ گاہک کو پاکستان میں واقع ایک مالیاتی ادارے کے ایسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کی گئیں جو فردِ جرم کے مطابق فہیم اکرم کے نام پر تھا۔

فردِ جرم میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ 12 جون 2026 کو ایک ممکنہ گاہک کو ہدایت دی گئی کہ رقم منتقل کرتے وقت مقصد کے خانے میں ’پے فار گڈز لکھیں۔‘ انھیں کسی اور مقصد کا انتخاب نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

امریکی استغاثہ نے فہیم اکرم پر امریکہ اور امریکی پوسٹل سروس کو دھوکہ دینے کی سازش، جعلی اور نقلی امریکی پوسٹل لیبلز بنانے اور فروخت کرنے، اور وائر فراڈ کے متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

فردِ جرم میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقدمے میں سزا کی صورت میں لیبلز بینک ڈاٹ کام کی ڈومین اور مبینہ جرم سے حاصل ہونے والے اثاثے ضبط کیے جائیں۔

نوٹ: امریکی قانون کے تحت فردِ جرم محض الزام ہوتی ہے۔ کسی بھی ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔