امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ عوام سابق امریکی فوجی افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت دیکھ سکیں گے۔
محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے ندال حسن ملک کی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں پہلی عوامی پھانسی ہوگی۔
سزائے موت پانے والے قیدیوں کے مقدمات پر کام کرنے والے وکیل جان ملز کا کہنا ہے ہ سزائے موت کی کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کے فیصلہ کی جدید دور میں مثال نہیں ملتی اور قانونی اعتبار سے غیر واضح نکتے پر لیا گیا اقدام ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، کہ یہ عوامی ہو۔‘
’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘
ہیگستھ نے قدامت پسند ٹی وی ’ریئل امریکا'ز وائس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو ’فوجیوں کے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘
پینٹاگون نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حسن کو سزائے موت دی جائے گی، جو 60 برس سے زیادہ عرصے میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
امریکی فوج کے میجر اور معالج نِڈال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
سوموار کے روز پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سزا کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔
یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی پہلی فوجی سزائے موت ہو گی۔
حسن کو 13 افراد کے قتلِ عمد اور 32 افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات میں فوجی افسران پر مشتمل 13 رکنی جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر انھیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔