سڈنی سوینی کے اشتہار میں برہنہ ہونے پر خواتین کھلاڑی سیخ پا: ’یہ ہر عورت کی توہین ہے‘

سڈنی سوینی

،تصویر کا ذریعہNovig

،تصویر کا کیپشنسڈنی سوینی کا یہ اشتہار آن لائن وائرل ہوا
    • مصنف, فیون وین
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

عالمی سطح پر خواتین کھلاڑیوں نے امریکی اداکارہ سڈنی سوینی کے جوئے کی ایپ سے متعلق متنازع اشتہار کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

یہ اشتہار آن لائن وائرل ہو گیا ہے اور اس میں امریکی اداکارہ سوینی کو برہنہ دکھایا گیا ہے۔ تاہم وہ کھیلوں کے مختلف سامان کے ذریعے اپنے جسم کے بعض حصے ڈھانپے ہوئے ہیں۔

اس اشتہار پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کئی خواتین کھلاڑیوں نے کھیلوں میں خواتین کو جنسی انداز میں پیش کرنے اور ان کی بطور کھلاڑی کامیابیوں کے بجائے ان کی ظاہری شکل کے ذریعے ان کی تعریف کیے جانے پر تنقید کی ہے۔

چار بار یورپی چیمپیئن بننے والی ایمی ہنٹ نے اتوار کو بوڈاپیسٹ میں الٹیمیٹ چیمپیئن شپ کے 200 میٹر فائنل میں سیزن کی 22.10 سیکنڈ کی دوڑ لگا کر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ انھوں نے بھی اس اشتہار کا حوالہ دیا ہے۔

اپنی ریس کے بعد ہنٹ نے بی بی سی سپورٹ سے انٹرویو کے دوران کہا ’سڈنی سوینی، کھیلوں میں خواتین ایسی دکھائی دیتی ہیں!‘

میلیسا جیفرسن ووڈن کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’21.4 سیکنڈ کا ریکارڈ۔ پٹھے۔ سخت محنت، خون، پسینہ، آنسو۔ یہ ایک خوبصورت شام ہے۔‘

29 سالہ امریکی اداکارہ سوینی نے ٹیلی وژن سیریز ’یوفوریا‘ میں کردار ادا کیا تھا اور ان کی فلموں میں ’اینی ون بٹ یو‘ اور ’دی ہاؤس میڈ‘ شامل ہیں۔

اشتہار پر اعتراضات کیوں؟

اس اشتہار کے ردعمل میں مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر کھلاڑی بھی شامل ہیں جنھوں نے مقابلوں اور تربیت کے دوران اپنی ویڈیوز پوسٹ کیں اور اپنے کیریئر کے دوران پیش آنے والی مایوسیوں اور مشکلات کا ذکر کیا۔

اس رجحان کا آغاز امریکی جمناسٹ گریسی کریمر نے کیا، جنھوں نے اپنی تربیت کی جھلکیوں پر مشتمل ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’مجھے نہیں معلوم سڈنی سوینی کیا کر رہی تھیں، لیکن کھیلوں میں خواتین ایسی دکھائی دیتی ہیں۔‘

کریمر نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوشاور کو بتایا کہ انھیں اپنی پوسٹ پر ردعمل کی ’توقع نہیں تھی‘ اور وہ ’صرف خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی تھیں اور انھیں یہ یاد دلانا چاہتی تھیں کہ آپ اس قسم کے اشتہارات دیکھ سکتی ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ صرف یہی چیز اہم نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ دیکھنا بہت اچھا تھا‘ کہ ’تمام شاندار کھلاڑی اس رجحان میں شامل ہو رہی ہیں، اپنی اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بطور جمناسٹ لیوٹارڈ پہن کر مقابلہ کرنے کی وجہ سے وہ مردوں کی جانب سے ’بہت توہین آمیز‘ پیغامات موصول ہونے کی عادی تھیں۔

کریمر نے مزید کہا ’بدقسمتی سے تقریباً اپنے پورے کیریئر میں ایسے تجربے نے مجھے اتنا مضبوط بنا دیا کہ میں اس بارے میں پوسٹ کر سکوں اور ان خواتین کے لیے آواز اٹھا سکوں۔‘

سڈنی سوینی

،تصویر کا ذریعہHBO

،تصویر کا کیپشن29 سالہ امریکی اداکارہ سڈنی سوینی ٹی وی سیریز ’یوفوریا‘ میں بھی نظر آئی تھیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آسٹریلیا کی چار مرتبہ اولمپک سوئمنگ چیمپیئن آریان ٹٹمس نے کہا ’یہ نہ صرف ہر اس عورت کے لیے ایک توہین ہے جس نے اپنے فن کو کامل بنانے کے لیے زندگی وقف کر دی، بلکہ ہر اس عورت کے لیے بھی جو کھیلوں سے ان کی حقیقی شکل میں لطف اندوز ہوتی ہے۔

’ہم ایسی دنیا میں کیسے رہ رہے ہیں جہاں ایک عورت کے جسم سے مالی فائدہ اٹھانا اور خواتین کے کھیلوں کو جنسی انداز میں پیش کرنا اب بھی رائج ہے؟‘

برطانوی سائیکلسٹ اور اولمپک چیمپیئن سوفی کیپویل ایم بی ای، رگبی کھلاڑی لیزا نیومن اور ایلی بوٹمین، اور آسٹریلوی واٹر پولو اولمپین ٹلی کیرنز نے بھی اپنی کہانیاں شیئر کیں۔

کیپویل نے اپنی پوسٹ پر توجہ ملنے کے بعد بی بی سی سپورٹ کو بتایا ’میرے خیال میں یہ کافی طاقتور بات ہے کہ اتنی زیادہ خواتین سامنے آ کر کچھ کہہ رہی ہیں۔

’یہ کھیلوں کے تناظر میں خواتین کی ایک بہت مخصوص تصویر پیش کر رہا ہے اور میرے خیال میں یہی مشکل بات ہے۔ کھیلوں سے وابستہ مہم کے لیے یہی چہرہ کیوں منتخب کیا گیا ہے؟

’اور آپ ایک عورت کو اسی انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں، بجائے اس کے کہ معلوم نہیں، کوئی کھلاڑی ہو یا کوئی اور چیز جو کھیلوں کے زیادہ قریب ہو؟

’ضروری نہیں کہ لوگ کسی شخص کے اپنے اختیار پر ناراض ہوں، مسئلہ یہ ہے کہ یہی واحد بیانیہ دکھائی دیتا ہے جو کھیلوں میں خواتین کے گرد گھومتا ہے، یا یہی چیز زیادہ مقبولیت حاصل کرتی ہے۔‘

انگلینڈ کی خواتین رگبی کھلاڑی الیکس میتھیوز نے کہا کہ سوینی جیسے اشتہارات نوجوان خواتین کو یہ یقین نہیں دلانے چاہییں کہ جسم کی صرف 'ایک ہی مناسب ساخت' ہوتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا’'آپ کو وہ مثالی اور کامل جسم نہیں ملتا۔

’خاص طور پر رگبی میں، ورنہ آپ کے پاس کوئی ٹیم ہی نہ ہوتی۔ ہر جسمانی ساخت کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔‘

میتھیوز، جنھوں نے ٹوکیو 2020 میں رگبی سیونز میں گریٹ برطانیہ کی نمائندگی کی تھی، نے کہا کہ اولمپک ولیج میں ہونے کا ایک ’سب سے متاثر کن‘ پہلو یہ تھا کہ وہاں ’بڑی عمر کی نسلیں، نوجوان نسلیں، لمبے قد والے افراد، اور نسبتاً بھاری جسم والے افراد بھی موجود تھے، مگر وہ سب اپنے شعبے میں بہترین تھے۔‘

سڈنی سوینی جو ماضی میں بھی تنازعات کی زد میں رہیں

سوینی نے اس ردعمل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم انھوں نے سوشل میڈیا پر دیگر کھلاڑیوں کی برہنہ یا محدود لباس میں تصاویر کی ایک سیریز پوسٹ کی، جس سے بظاہر یہ اشارہ ملتا تھا کہ ردعمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ان تصاویر میں ای ایس پی این کے سرورق شامل تھے جن پر ٹینس سٹار سرینا ولیمز اور ایم ایم اے فائٹر اور ریسلر رونڈا روزی سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں، جبکہ مرد کھلاڑیوں میں این ایف ایل کے کھلاڑی مائلز گیریٹ اور باسکٹ بال کے کھلاڑی کارل انتھونی ٹاؤنز شامل تھے۔

سوینی گذشتہ سال بھی ایک متنازع اشتہار میں شامل تھیں جس میں انھوں نے امریکن ایگل کے لیے جینز کی تشہیر کی تھی اور اس کا نعرہ تھا ’سڈنی سوینی کی جینز بہت اچھی ہیں۔‘

اس اشتہار پر بھی سوشل میڈیا پر بعض افراد کی جانب سے تنقید کی گئی تھی، جہاں ’جینز‘ اور ’جینز (وراثتی خصوصیات)‘ کے الفاظ پر مبنی کھیل کو نسل اور حسن کے معیارات سے متعلق بحث کا سبب قرار دیا گیا تھا۔