فرسٹ رو ٹکٹ، نجی طیارے اور لگژری ہوٹل: ورلڈ کپ کے ’ملٹی ملین ڈالر پیکجز‘ کی دنیا جہاں پیسہ ’وقت‘ بھی خرید سکتا ہے

ایک لگژری سویٹ کا اندرونی منظر جس میں چھوٹے اور بڑے سکرینز ہیں جو نیچے ورلڈ کپ کے فٹبال میدان کو دکھا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہTom Fox/The Dallas Morning News via Getty Images

،تصویر کا کیپشننجی رسائی والے علاقے کسی بھی خصوصی ورلڈ کپ تجربے کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں
    • مصنف, الیسینڈرا کوریہ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ورلڈ کپ کے چھ فرسٹ رو ٹکٹس، جو ہاف وے لائن کے عین سامنے تھے اور جن کے ساتھ ایوارڈز تقریب کے دوران میدان میں جانے کی خصوصی اجازت بھی شامل تھی، خاص طور پر اس لمحے کے لیے جب فاتح ٹیم ٹرافی اٹھاتی ہے، چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں چار ملین ڈالر میں فروخت ہو گئے۔

یہ ایک انتہائی مہنگے اور خصوصی پیکج کا حصہ تھا، جسے ’نائٹس برج سرکل‘ نے فروخت کیا۔ یہ کمپنی بہت امیر لوگوں کو خاص سہولیات فراہم کرتی ہے۔

اس موقع کو ’ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا‘ کہا گیا اور یہ صرف منتخب گاہکوں کو پیش کیا گیا تھا۔ اس کے لیے بھی پہلے ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

نائٹس برج سرکل کے صدر سٹورٹ مک نیل نے بی بی سی برازیل کو بتایا کہ ’یہ پیکج اعلان کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ہمارے ایک رکن نے خرید لیا۔‘

نائٹس برج سرکل اُن کئی کمپنیوں میں شامل ہے جو ورلڈ کپ دیکھنے کے خواہش مند امیر افراد کے لیے لگژری پیکجز فراہم کرتی ہیں۔

اس بار پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور میچز تین ممالک یعنی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلے جا رہے ہیں۔

یہ ٹورنامنٹ 16 شہروں میں ہو گا اور اس میں کل 104 میچز شامل ہیں۔

دوسری طرف عام شائقین کے لیے ورلڈ کپ دیکھنا آسان نہیں رہا۔ انھیں ٹکٹوں اور سفر کے مہنگے اخراجات کے علاوہ امریکی ویزا حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔

ہلکے پس منظر کے خلاف فیفا ورلڈ کپ کے اسٹیڈیم کے ایک اسٹینڈ کی تاریک تصویر، جس کے پیچھے ایک ستون پر ورلڈ کپ لوگو کی نیلی روشنی جھلک رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJetlinerimages via Getty Images

،تصویر کا کیپشننجی طیارے کسی بھی ورلڈ کپ لگژری پیکج کا باقاعدہ حصہ ہوتے ہیں

لیکن بہت کم تعداد میں آنے والے افراد کے لیے تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ میزبان شہروں میں نجی طیاروں پر پہنچتے ہیں، سٹیڈیم تک ہیلی کاپٹر یا لیموزین کے ذریعے جاتے ہیں اور وی آئی پی علاقے میں یقینی جگہ رکھتے ہیں، چاہے انھوں نے یہ سب آخری لمحے میں ہی کیوں نہ طے کیا ہو۔

مک نیل کہتے ہیں کہ ’میں گذشتہ 22 سال سے اس (لگژری) مارکیٹ میں کام کر رہا ہوں اور میرے لیے سب سے بڑی حیرت یہ ہے کہ اس ورلڈ کپ میں پیسہ عملاً ہر چیز خرید سکتا ہے، جو نئی بات ہے۔‘

وہ اور لگژری شعبے کے ماہرین ورلڈ کپ میں دلچسپی رکھنے والے گاہکوں کے نام ظاہر نہیں کرتے لیکن وہ بتاتے ہیں کہ ان میں دنیا بھر سے آنے والی شخصیات، ارب پتی، کمپنی بانی، ٹیکنالوجی ایگزیکٹوز اور کھلاڑی شامل ہیں۔

لاگت

تمام لگژری پیکجز کی قیمت ملین ڈالر نہیں ہوتی لیکن بہت سے حسبِ ضرورت تیار کردہ سفری منصوبے ’آسانی سے چھ ہندسوں‘ کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔

ان میں نجی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے لے کر وی آئی پی ایئرپورٹ سروسز، سکیورٹی ٹیموں اور لگژری ہوٹلوں میں رہائش تک سب کچھ شامل ہوتا ہے۔

میگما گلوبل کی تفریحی ڈویژن کی نائب صدر نکول والچ کے مطابق ایک جوڑے کے لیے سب سے سستے آپشنز، جن میں فائیو سٹار رہائش، ایک میچ کا ٹکٹ، بزنس کلاس پروازیں اور نجی ٹرانسفر شامل ہیں۔۔۔ 25,000 ڈالر سے 75,000 ڈالرز تک کا پیکج ہوتا ہے۔

کچھ گاہک اس سے کہیں زیادہ ادائیگی کرتے ہیں، خاص طور پر جب پروگرام کئی دن اور متعدد میزبان شہروں پر مشتمل ہو۔

کچھ لوگ ورلڈ کپ کے ساتھ دیگر مقامات کے سفر کو بھی شامل کرتے ہیں۔

نکول والچ کا کہنا ہے کہ ’میرے ایسے گاہک ہیں جو لاس اینجلس میں میچ دیکھتے ہیں اور پھر چند راتیں ہوائی میں گزارنے کے لیے پرواز کرتے ہیں۔‘

A dark image of a stand at the FIFA World Cup against a light background with a blue illumination of a World Cup logo on a pillar behind the crowd.

،تصویر کا ذریعہJordan Teller/ISI Photos via Getty Images

فائنل ویک اینڈ کے لیے، نیویارک میں لگژری رہائش کے ساتھ، وہ اندازہ لگاتی ہیں کہ اخراجات آسانی سے چھ ہندسوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

نیویارک میں قائم ایجنسی ’فرسٹ ان سروس ٹریول‘ کی سٹریٹجی ڈائریکٹر جینا گیبارڈ، جو عالمی لگژری نیٹ ورک ’ورچوسو‘ کا حصہ ہے، نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا کہ انتہائی مالدار شائقین کے لیے آپشنز میں وی آئی پی ٹکٹس اور میچ کے دوران شیف کے تیار کردہ کھانوں سے لے کر مزید جامع پیکجز ہوتے ہیں۔

جینا گیبارڈ کہتی ہیں کہ ’ان میں کھلاڑیوں سے خصوصی ملاقاتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔‘

وی آئی پی ٹکٹس، میچ کے لحاظ سے، فی کس 5,000 ڈالر سے شروع ہو سکتے ہیں اور پیکجز کئی لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جب ان میں متعدد میچز اور شہر شامل ہوں۔

رازداری اور رسائی

نکول والچ کے مطابق اس درجے کے صارفین کے لیے سہولت، پرائیویسی اور رسائی قیمت سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔

’وہ اپنے عملے کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور اس نوعیت کے بڑے ایونٹ میں انتہائی ذاتی نوعیت کے تجربے کی توقع رکھتے ہیں۔‘

تاہم کچھ میچز میں سٹیڈیم تک پہنچنے کے سفری وسائل کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے۔

نکول والچ کہتی ہیں کہ طیاروں اور لینڈنگ سائٹس کی تعداد محدود ہوتی ہے۔

اس صورت میں حل ایک نجی ڈرائیور کے ساتھ لگژری کار ہوتی ہے۔ نکلول والچ کے مطابق ایسے گاہک صرف وی آئی پی ٹکٹ سے زیادہ چاہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہر شخص فرنٹ رو میں بیٹھنا نہیں چاہتا۔ بہت سوں کے لیے ترجیح رازداری اور خصوصی خدمات تک رسائی ہوتی ہے۔ وہ مکمل وی آئی پی ماحول چاہتے ہیں۔‘

’جہاں عام شائقین لمبی قطاروں میں وقت ضائع کرتے ہیں اور دن بھر کھانے پینے پر خرچ کرتے ہیں، یہ گاہک عموماً خصوصی داخلہ اور نجی لاؤنجز تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اعلیٰ درجے کا کھانا فراہم ہوتا ہے۔‘

ایک چاندی رنگ کی لگژری رولز روئس سڑک پر مڑتی ہوئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن دولت مند گاہک پھر بھی آنے جانے میں اعلیٰ درجے کی سہولت کی توقع رکھتے ہیں

نکول والچ کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ وہ بہت خرچ کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ اس کے بدلے بلا تعطل اور بہت وی آئی پی سہولیات چاہتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ انھیں ہجوم سے نہیں گزرنا پڑتا یا شیڈول کی تفصیلات کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔

مک نیل کہتے ہیں کہ ’وہ خصوصی سلوک چاہتے ہیں، وہ انتظار نہیں کرنا چاہتے۔ یہ حقیقی معنی میں ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ ہے اور وہ اس کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہیں۔‘

ان گاہکوں کے ساتھ سفر کرنے والی معاون ٹیموں میں مختلف پیشہ ور افراد شامل ہو سکتے ہیں، جیسے سکیورٹی گارڈز سے لے کر نجی شیف تک۔

جینا گیبارڈ بتاتی ہیں کہ ’بہت سے معاملات میں، ٹریول کنسلٹنٹ براہِ راست گاہک کے ذاتی اسسٹنٹ اور دیگر ٹیم ممبران کے ساتھ مل کر انتظامات کو مربوط کرتا ہے۔‘

آخری لمحے کے فیصلے

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان مسافروں کو عام شائقین سے الگ کرنے والا ایک اور پہلو پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

نکول والچ کہتی ہیں کہ ’وہ اپنے وقت کو پیسے سے کہیں زیادہ اہم سمجھتے ہیں اور اکثر آخری لمحے میں فیصلے کرتے ہیں‘

مک نیل کے مطابق ابتدا میں ان کے گاہکوں کی دلچسپی کم تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’امریکہ سے باہر کے مسافروں میں سیاسی ماحول کے باعث واضح ہچکچاہٹ تھی۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں طلب میں تیزی آئی اور توقع ہے کہ جیسے جیسے ناک آؤٹ مرحلہ قریب آئے گا اور واضح ہو گا کہ کون سی ٹیمیں آگے بڑھیں گی، اس میں مزید اضافہ ہو گا۔

مک نیل کہتے ہیں کہ ’حقیقت میں، ہمارے لیے تو یہ ابھی شروع ہی ہوا ہے کیونکہ ہمارے گاہک اکثر آخری لمحے میں اپنے منصوبے حتمی شکل دیتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’چونکہ بہت سے نجی طیاروں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے تمام میچز میں شرکت آسان ہو جاتی ہے۔‘

نکول والچ کہتی ہیں کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔ ’سچ کہوں تو یہ ہماری توقع سے زیادہ ہے۔‘

مک نیل کے مطابق میچز کے علاوہ دیگر خصوصی تجربات کی بھی بہت طلب ہے، جیسے ان کی کمپنی کی جانب سے سابق ورلڈ کپ کھلاڑیوں کے ساتھ ظہرانوں کا اہتمام، جہاں عالمی فٹبال کے نامور افراد سے قریبی گفتگو کا موقع ملتا ہے۔

کچھ مواقع پر، ستاروں کو قریب سے دیکھنے کے خواہش مند گاہک متعلقہ کھلاڑیوں کی حمایت میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کو عطیہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔

مک نیل کہتے ہیں کہ ’بہت سے کھلاڑی فلاحی کاموں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

’اپنے فارغ دن پر وہ کچھ گاہکوں سے ٹریننگ سینٹر میں ملنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ہمارے گاہک عطیہ دیتے ہیں، اور شاید وہ ان کے ساتھ تصاویر لے سکتے ہیں، گیند کو کِک کر سکتے ہیں یا کچھ اور۔‘

جو لوگ ورلڈ کپ فائنل تک ’انتہائی خصوصی‘ رسائی کے خواہاں تھے لیکن چار ملین ڈالر والا پیکج حاصل نہ کر سکے، ان کے لیے مک نیل یاد دہانی کراتے ہیں کہ نیا موقع موجود ہے، جس میں میدان کے بالکل کنارے دو خصوصی نشستیں شامل ہیں۔

ان میں سے ہر ایک کی قیمت ’صرف‘ 1.5 ملین ڈالر ہوگی۔