وینزویلا میں زلزلے کے شدید جھٹکوں اور تباہی کے مناظر: ’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گِر جائے گی‘

،تصویر کا ذریعہBBC, Getty Images
- مصنف, ٹفنی ٹرنبل، کیلی این جی، لیئرے وینتاس
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
جب بدھ کی شام وینزویلا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے جانے لگے تو ویرونیکا کو لگا کہ ان کے اپارٹمنٹ کی دیواریں انھی پر آ گریں گی۔
انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’مجھے لگا میں مر جاؤں گی۔‘
وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک سرکاری تعطیل منا رہی تھیں جب شہر میں زلزلوں کے دو شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر سکیل پر پہلے زلزلے کی شدت 7.2 اور دوسرے کی 7.5 بتائی گئی ہے۔
اب تک 160 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ لگانے کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس کی سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے جبکہ امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
وینزویلا کے دیگر متاثرہ حصوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش نے افراتفری بڑھا دی ہے۔
شام ڈھلتے ہی بہت سے مقامی لوگ عملی طور پر بے گھر ہو چکے تھے۔ وہ سڑکوں پر گھومتے رہے اور اپنے گھروں یا عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویرونیکا بی بی سی منڈو کی نامہ نگار ویلنٹینا اوروپیزا کی بہن ہیں۔ صحافی نے زلزلوں کے بعد کئی گھنٹے اپنے خاندان کا سراغ لگانے میں گزارے۔
ویلنٹینا کے فون پر ویرونیکا کا ایک گھبرایا ہوا وائس نوٹ موصول ہوا جس میں وہ حقیقی وقت میں ’خوفناک‘ جھٹکوں کی تفصیل بیان کر رہی تھیں جبکہ پس منظر میں ان کی والدہ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خوف زدہ ویلنٹینا نے اپنے رابطوں سے مدد مانگنا شروع کر دی کیونکہ ان کے فون پر ان کی گلی میں تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر آنے لگی تھیں۔
جب وہ آخرکار ان سے رابطہ کر سکیں تو ویرونیکا نے تصدیق کی کہ وہ اور ان کی والدہ محفوظ ہیں۔ لیکن کہا کہ غالباً ان کا گھر تباہ ہو چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔‘
یہ پہلا موقع نہیں جب وییزویلا کے دارالحکومت کو کسی بڑے زلزلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
1967 کے دوران کاراکس میں 6.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ویلنٹینا کی والدہ کے مطابق بدھ کے زلزلے زیادہ طویل اور شدید محسوس ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم ایسی کسی چیز کا سامنا کریں گے۔‘
مشرقی کاراکس کی رہائشی کورو مارٹینیز نے بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہی بات بتائی۔
56 سالہ خاتون نے کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔‘
’ایک بہت زور دار دھماکے جیسی آواز آئی۔ گھر میں چیزیں گر گئیں، فریج کے اندر رکھے جگ بھی۔‘
بی بی سی منڈو کی صحافی نیکول کولسٹر نے دیکھا کہ وسطی کاراکس کے اہم علاقے پالوس گراندیس میں واقع ساتویں منزل پر اپارٹمنٹ کی کھڑکیاں لرزنے لگیں اور ان کے پاس پناہ لینے کے لیے صرف چند لمحے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے ذہن میں صرف یہی آیا کہ سامنے والے دروازے اور پتھر کی دیوار کے درمیان کھڑی ہو جاؤں تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکوں۔‘
’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گر جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے بتایا کہ جب وہ سڑک پر نکلیں تو ملبے کے ڈھیروں میں سے آوازیں آ رہی تھیں۔
بچ جانے والے لوگ، جو فرار ہونے کی اتنی جلدی میں تھے کہ جوتے پہننا بھی بھول گئے تھے، ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے اور رو رہے تھے۔
کئی گھنٹے بعد بھی بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے یا بعد کے جھٹکوں کے خوف سے واپس جانے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔
شہر بھر میں سیکڑوں افراد نے چوراہوں اور سڑکوں پر رات گزاری۔ فٹ پاتھوں کے حصے خیموں سے بھر گئے جبکہ کھڑی گاڑیاں عارضی بستروں میں تبدیل ہو گئیں۔
لاس پالوس گراندیس کی ایک خاتون، جو سونے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھیں، نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں۔
جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں انھوں نے کہا کہ ’آپ ایسے حالات میں دوبارہ زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ یہ تو کسی فلم جیسا منظر ہے۔‘
مضافاتی علاقے کے چند لوگ، جو کراچیس کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ نکلنے میں کامیاب رہے۔
ملک کے دیگر حصوں میں استاد ایلن چنگ جیسے کئی افراد بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا ان کے پالتو جانور زندہ بچ سکے ہیں یا نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’میرے پاس دو بلیاں ہیں۔ بدقسمتی سے میں اب تک اپنے اپارٹمنٹ واپس نہیں جا سکا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔ دعا ہے کہ سب خیریت ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
لا گوائرا جیسے علاقوں سے اطلاعات کی ترسیل، جو کاراکس کے شمال میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
تاہم علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں منہدم عمارتیں، بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ اور ریاستی دارالحکومت کے فیلڈ ہسپتالوں میں زخمیوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ شہر میں ’درجنوں‘ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور اسے ’آفت زدہ علاقہ‘ اور ’حقیقی سانحہ‘ قرار دیا۔
صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ حکام ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکے۔
شدید متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں میرانڈا، اراگوا، کارابوبو اور فالکون ریاستیں شامل ہیں۔

























