پہلا فیفا ورلڈ کپ: تاریخی گول، طوفان، بحری سفر اور 13 ٹیموں کی شرکت کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, میری ہوزے القازی
- عہدہ, بی بی سی عربی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
جنوبی امریکہ کے ملک یورا گوئے کے دارالحکومت مونٹی ویڈیو میں 13 جولائی سنہ 1930 کا دن فٹبال کی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہا تھا۔
اس روز پہلے فیفا فٹبال ورلڈ کپ کا افتتاحی روز تھا اور فرانس، میکسیکو، امریکہ اور بیلجیئم کی ٹیمیں دو مختلف سیٹیڈیمز میں مدِمقابل تھیں۔
فرانس اور میکسیکو کے میچ میں فرانس کے مڈ فیلڈر لوسیان لوراں جب میدان میں اُترے تو اُنھیں معلوم نہیں تھا کہ اُن کا نام تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو جائے گا۔
پہلے ہاف کے 19 ویں منٹ میں ملنے والے ایک پاس کے ذریعے اُنھوں نے گیند میکسیکو کے جال میں پہنچائی اور تاریخ کی کتاب میں اپنا نام درج کر لیا۔
یہ وہ وقت تھا جب فٹبال اولمپک مقابلوں کا ہی حصہ تھا اور سنہ 1904 میں عمل میں لائی جانے والی فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کو عالمی کپ کا انعقاد کروانے میں 26 برس لگ گئے۔
لوسیان کے گول کے بعد سے لے کر ہر چار برس بعد فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد ہوتا ہے اور اب تک سینکڑوں گول سکور ہو چکے ہیں لیکن لوسیان کا پہلا گول اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہے۔
فیفا ریکارڈ کے مطابق اس تاریخی کارنامے کے باوجود لوسیان نے اپنی انتہائی سادگی کی وجہ سے آنے والے برسوں میں شاذ و نادر ہی اس بارے میں بات کی۔
فرانسیسی کھلاڑی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کا پہلا گول سکور کرنے کے 75 برس بعد اپریل 2005 میں 97 برس کی عمر میں وفات پا گئے لیکن فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلے گول سکورر کے طور پر دنیا اُنھیں اب بھی یاد کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلا فیفا ورلڈ کپ اور کھیل کو اولمپکس سے نکالنے کی کوششیں
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اولمپکس سے فٹبال کو نکالنے کی سوچ 1920 کی دہائی کے آخر میں شروع ہو گئی تھی، جب شوقیہ اور پیشہ ورانہ قوانین پر اختلافات اور امریکہ میں کھیل کی کم مقبولیت کے پس منظر میں لاس اینجلس 1932 اولمپکس کی تیاری جاری تھی۔
یہی وجہ تھی کہ اس وقت فیفا کے صدر جولز رِیمے نے 1930 میں ایک آزاد بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور یوراگوئے کو میزبان منتخب کیا گیا کیونکہ اس کی ٹیم نے پیرس 1924 اور ایمسٹرڈیم 1928 اولمپکس میں لگاتار دو گولڈ میڈل جیتے تھے۔
ٹورنامنٹ 13 سے 30 جولائی 1930 کے درمیان منعقد ہوا اور اس میں 16 مدعو ٹیموں میں سے 13 نے شرکت کی۔
جنوبی امریکہ سے یوراگوئے، ارجنٹائن، بولیویا، برازیل، چلی، پیراگوئے اور پیرو شریک ہوئے۔ شمالی امریکہ سے امریکہ اور میکسیکو جبکہ یورپ سے بیلجیم، فرانس، رومانیہ اور یوگوسلاویا نے حصہ لیا۔
ایشیا سے جاپان اور سیام (موجودہ تھائی لینڈ) کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ ٹورنامنٹ سے قبل دستبردار ہو گئے۔ افریقہ سے صرف مصر کو مدعو کیا گیا تاہم بحیرۂ روم میں طوفان کے باعث ان کا سفر تاخیر کا شکار ہوا اور جہاز ان کے بغیر روانہ ہو گیا۔
پہلے گول کی روداد
لوسیان لوراں نے اپنے ملک کی نمائندگی 10 بار کی، پھر انھوں نے بزانسوں کلب میں بیک وقت بطور کھلاڑی اور کوچ اپنا کیریئر ختم کیا، بعدازاں وہ ایک بار کے مالک بن گئے۔
وہاں وہ شاذ و نادر ہی اپنے کارنامے یا اس گول کے بارے میں بات کرتے جو انھیں دنیا کی سب سے مشہور فٹبال چیمپئن شپ کی تاریخ میں زندہ رکھتا ہے۔
یہاں تک کہ جب وہ اس گول کا ذکر کرتے، وہ اس کی اہمیت کم کر دیتے اور کہتے کہ ’ان کے ساتھی ارنیسٹ لیبیراتی نے انھیں گیند پاس کی تھی اور اُنھوں نے اسے گول میں تبدیل کر دیا۔‘
سنہ 1990 میں اٹلی میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران ایک سرکاری عشائیے میں، لوراں کے بیٹے مارک نے بتایا کہ ان کے والد نے انھیں اس کارنامے کے بارے میں تقریباً کچھ نہیں بتایا، سوائے اس کے کہ وہ فرانسیسی ٹیم کے لیے کھیلے اور ورلڈ کپ میں شریک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانسیسی ٹیم اٹلی کے جہاز ’کونتی وردی‘ کے ذریعے یوراگوئے پہنچی۔
اس جہاز پر فرانس، رومانیہ اور بیلجیئم کی ٹیموں کے کھلاڑی موجود تھے، ساتھ ہی فیفا کے صدر اور ورلڈ کپ کے بانی جولز رِیمے بھی سوار تھے۔
سنہ 1930 میں یوراگوئے میں کھیلے گئے پہلے ورلڈ کپ میچ کی گیند دو اکتوبر 2022 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ’ورلڈ فٹبال‘ نمائش میں بھی رکھی گئی۔
سنہ 1998 میں فرانس میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ سے پہلے لوسیان لوراں نے یورا گوئے کے سفر کی تفصیلات یاد کرتے ہوئے کہا کہ یورا گوئے پہنچنے میں 15 دن لگے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اُنھوں نے کہا کہ فرانسیسی فیڈریشن کو ٹیم بنانے میں مشکل پیش آئی کیونکہ چند منتخب کھلاڑیوں کو دستبردار ہونا پڑا۔
اُنھوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر کھلاڑی ملازمت کرتے تھے اور اُن کے آجر نے اُنھیں چھٹی نہیں دی جس کی وجہ سے وہ یورا گوئے کا سفر نہ کر سکے۔
اپنے تاریخی گول کے بارے میں لوراں نے کہا کہ ’جب میں نے اپنا گول کیا، جو ٹورنامنٹ کا بھی پہلا تھا اور فرانس کے لیے بھی، ہم نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی مگر آج کی طرح ایک دوسرے پر اچھل کود نہیں کی۔‘
فرانس اپنا دوسرا میچ ارجنٹائن کے خلاف ایک، صفر سے ہار گیا۔
اس میچ کے دوران لوراں کے ٹخنے میں چوٹ آئی مگر انھیں بائیں ونگ پر کھیل جاری رکھنا پڑا کیونکہ اس وقت متبادل کھلاڑیوں کی اجازت نہیں تھی۔
اس چوٹ نے انھیں چلی کے خلاف تیسرا اور آخری میچ کھیلنے سے بھی محروم رکھا، جو فرانس ایک، صفر سے ہار گیا۔
لوراں نے اپنے ملک کے لیے 10 میچوں میں اپنا دوسرا اور آخری بین الاقوامی گول 14 مئی 1931 کو انگلینڈ کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں کیا، جسے پیرس میں 35 ہزار شائقین نے دیکھا۔
فرانس نے اس میچ میں 5-2 کی تاریخی فتح حاصل کی۔
لوراں نے اس کے بارے میں کہا کہ ہم اب بھی شوقیہ کھلاڑی تھے جبکہ انگلش کھلاڑی پروفیشنل تھے۔
آخری گول

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ورلڈ کپ کی تاریخ کے پہلے گول کے 92 سال بعد، جو 1930 میں لوسیان لوراں نے کیا تھا، فرانس ایک بار پھر آخری منظر میں موجود تھا مگر اس بار کہانی کے دوسرے رخ پر۔
فرانس اور ارجنٹائن کی ٹیمیں قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچیں، جو 18 دسمبر کو لوسیل سٹیڈیم میں 89 ہزار تماشائیوں کے سامنے کھیلا گیا جبکہ دنیا بھر میں تقریباً 1.5 ارب افراد نے اسے دیکھا۔
ارجنٹائن نے ایک سنسنی خیز فائنل کے بعد ٹائٹل جیتا، جب مقررہ اور اضافی وقت 3-3 سے برابر رہنے کے بعد فیصلہ پنلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا۔
ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی نے 23 ویں منٹ میں پنلٹی کے ذریعے پہلا گول کیا، پھر اینخل دی ماریا نے 36ویں منٹ میں دوسرا گول کر کے ٹیم کو پہلے ہاف میں دو، صفر کی برتری دلا دی۔
تاہم فرانس کے کیلیان مباپے جن کی عمر اس وقت 23 سال تھی، آخری لمحات میں ٹیم کو واپس مقابلے میں لے آئے۔
اُنھوں نے 80 ویں منٹ میں پنلٹی سکور کی اور ایک منٹ بعد دوسرا گول کر کے مقابلہ 2-2 سے برابر کر دیا۔
اضافی وقت کے دوسرے ہاف میں میسی نے 108ویں منٹ میں ارجنٹائن کو دوبارہ برتری دلائی لیکن مباپے نے 118ویں منٹ میں ایک اور پنلٹی گول کر کے سکور 3-3 کر دیا اور میچ کو شوٹ آؤٹ تک لے گئے۔
شوٹ آؤٹ میں فرانس نے آغاز کیا، مباپے نے پہلا کک سکور کیا پھر میسی نے ارجنٹائن کے لیے پہلا کک کامیاب بنایا۔
دوسری کک میں فرانس ناکام رہا جب ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے کنگسلے کومان کی کوشش روک دی جبکہ پاؤلو دیبالا نے ارجنٹائن کے لیے دوسری کک اسکور کی۔
اورلیاں تشوامینی نے فرانس کی تیسری کک ضائع کی جبکہ لینڈرو پاریڈیس نے ارجنٹائن کی تیسری کک کامیاب بنائی، جس سے سکور 3-1 ہو گیا۔
رینڈل کولو موانی نے فرانس کے لیے چوتھی کک سکور کر کے فرق کم کر کے 3-2 کیا، لیکن ارجنٹائن کو ٹائٹل جیتنے کے لیے صرف ایک کک درکار تھی۔
گونزالو مونتیئل، جو اس وقت 25 سال کے تھے، ارجنٹائن کے لیے چوتھی کک لینے آگے بڑھے۔
اُنھوں نے اسے گول میں تبدیل کیا جس سے ارجنٹائن نے 4-2 سے فتح حاصل کی اور تیسری بار ورلڈ کپ جیت لیا۔
اس طرح ورلڈ کپ کے تازہ ترین ایڈیشن کا آخری فیصلہ کن گول ارجنٹائن کے ایک کھلاڑی نے فرانس کے خلاف سکور کیا، یعنی 92 سال بعد جب ٹورنامنٹ کی تاریخ کا پہلا گول ایک فرانسیسی کھلاڑی نے میکسیکو کے خلاف کیا تھا۔




























