سستا ایرانی تیل یا امریکہ سے سفارتی فوائد، کیا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان کو امن معاہدے سے کچھ ملے گا؟

،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN
- مصنف, اسد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کا جہاں عالمی سطح پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے تو وہیں ایک بار پھر اِن دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی بھی ستائش کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امن معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی بھی پاکستان ہی کرے گا۔
شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کا بیان سامنے آنے کے بعد برطانیہ، چین، آسٹریلیا، ترکی، قطر، سعودی عرب، کینیڈا، اٹلی، نیدر لینڈز، ملائیشیا اور کویت کے وزرائے اعظم اور صدرو نے پاکستان کا نام لیتے ہوئے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری بیان میں بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی۔
واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پاکستان کے وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر اور سیکرٹری خارجہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو ہی مرکزی ثالث قرار دیتے رہے ہیں اور مختلف مواقع پر پاکستانی رہنماؤں کی تعریف بھی کرتے رہے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے بھی ماضی میں متعدد مرتبہ پاکستان کے کردار کو سراہا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارچ کے مہینے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کر رہا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی ایکس پر امریکی صدر اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنھیں اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی۔
یہی وہ وقت تھا، جب پاکستان سفارتی سطح پر ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آیا اور پھر اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔
مگر اس سب کے بیچ یہ سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا عالمی سفارتی منظر نامے میں اُبھر کر سامنے آنے والا پاکستان اس امن معاہدے کے بعد اپنی یہ پوزیشن برقرار رکھ سکے گا؟ کیا پاکستان عالمی معاشی اور سفارتی فیصلہ سازی میں اپنی جگہ مضبوط بنا چکا اور کیا پاکستان کی حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر بہتر ہوتی ساکھ ملک کے لیے مختصر مدتی اور طویل مدتی معاشی اور سفارتی فوائد بھی حاصل کر پاِئے گی؟
یہ وہ معاملات ہیں جس پر گفتگو کے لیے بی بی سی نے ماہرین سے بات کی۔
کیا پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت منوا لی؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پیر (15 جون) کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امریکہ، ایران معاہدے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب لگا کہ ابھی معاملہ ختم ہو جائے گا ’مگر فیلڈ مارشل نے ہمت نہیں ہاری جس کے نتیجے میں کل رات ہونے والا اعلان ممکن ہوا۔‘
اس بارے میں مصنف اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کو سفارتی رسائی تو ملی لیکن یہ کہنا کہ اس کی حیثیت ایک مستقل ’پیس میکر‘ کے طور پر ہو گی، تو ایسا ممکن نہیں۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس سفارتی رسائی کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کا اعتماد اور ایران کا بھروسہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ فائدہ بھی ہوا کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کے برعکس اس تنازع میں فریق نہیں تھا جبکہ خطے کے دیگر ممالک کسی نہ کسی طور پر اس تنازع میں فریق تھے۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ ’ایک لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قطر کو عالمی سطح پر ایک مستقل ثالث کی حیثیت حاصل ہے اور وہ ماضی میں کئی ممالک کے درمیان سمجھوتے اور جنگ بندیاں کروا چکا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی جو پوزیشن تھی، اس وجہ سے اس کے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس معاملے میں ایک ثالث کا کردار ادا کرے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اصل معاملہ جوہری مذاکرات کا ہے اور یہ بہت پیچیدہ ہیں، لہذا یہ سمجھنا کہ یہ معاملہ مستقل طور پر حل ہو گیا، قبل از وقت ہے۔ لہذا پاکستان کی یہ پوزیشن نہیں کہ وہ دونوں کو بٹھا کر مجبور کر سکے کہ وہ اپنے معاملات حل کریں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’آج کی دُنیا میں کوئی بھی ملک مستقل پیس میکر نہیں ہو سکتا، ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں ایک ملک اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے، جیسا کے اس صورتحال میں پاکستان ہے۔‘
زاہد حسین نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی میں جس چیز پر متفق ہوئے ہیں، وہ ایک فریم ورک ہے جس پر اگلے 60 روز میں مزید بات چیت ہو گی، لہذا اسے مکمل امن معاہدہ ابھی نہیں کہا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہFarooq NAEEM / AFP via Getty Images
پاکستان کے لیے قلیل اور طویل مدتی فوائد کیا ہو سکتے ہیں؟
سابق سفارت کار عاقل ندیم بھی زاہد حسین سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی سے پاکستان کے عالمی وقار میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اس سارے معاملے کو پاکستان کے مسائل کا حل قرار دینا بھی مناسب نہیں۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں نہیں لگتا کہ ایران پر سے پابندیوں کا مکمل خاتمہ ہو گا۔ ’لیکن قلیل مدتی فائدے کے طور پر یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے پاکستان کی ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہو۔‘
اُن کے بقول ’یہ توقع رکھنا کہ ایران اس ثالثی کی بدولت ہمیں بلامعاوضہ تیل دے گا تو یہ ممکن نہیں، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو وہ کم نرخوں پر تیل کی سہولت فراہم کر سکتا ہے لیکن یہ بھی اُسی صورت ممکن ہو گا، جب ایران پر سے پابندیاں مکمل طور پر ہٹ جائیں گی۔‘
زاہد حسین کہتے ہیں کہ اس جنگ کے اثرات پوری دُنیا پر پڑے تھے اور لامحالہ پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا اور اگر مستقل امن ہوتا ہے تو اس کے قلیل مدتی مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اگر ایران پر سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو اس کا پاکستان کو لازماً فائدہ ہو گا۔
’پاکستان ایران کے ساتھ کچھ تجارت تو کر رہا تھا لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے گیس پائپ لائن سمیت کچھ اور اہم منصوبوں پر کام رُکا ہوا تھا، تو یہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔‘
یاد رہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایک پرانا منصوبہ ہے جس میں اس وقت ایک نمایاں پیش رفت ہوئی تھی جب سنہ 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے آخری دنوں میں اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایران کے دورے کے دوران اس کا افتتاح کیا تھا تاہم اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیشرفت ممکن نہیں ہو سکی۔
اس منصوبے پر امریکہ کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا، جس کی وجہ ایران پر بین الاقوامی پابندیاں قرار دی گئی تھیں۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ اگر ایران سے پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو پھر اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پاکستان میں گیس کی کمی ہے اور یہ مسلسل مہنگی بھی ہو رہی ہے۔
آسٹریلیا میں مقیم خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار محمد فیصل کہتے ہیں کہ گذشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی اور اس کے فوری نتائج زیادہ تر سیاسی، سفارتی، سکیورٹی اور معاشی نوعیت کے ہوں گے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کی حیثیت ایک ایسی علاقائی طاقت کے طور پر مستحکم ہو گی جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن اس سے پاکستان کے بنیادی معاشی مسائل تو حل نہیں ہوں گے تاہم ایسے موافق حالات ضرور پیدا ہوں گے کہ فعال روابط کے ذریعے معاشی اور توانائی کے کچھ چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی توسیع کے امکانات اب زیادہ روشن ہیں۔ ’امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ جاری رہے گا۔ آئی ایم ایف سے متعلق کسی بھی مسئلے کو واشنگٹن کی حمایت سے حل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان مغربی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ خلیج میں سکیورٹی کے معاملات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہم آہنگی میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے گا۔‘
محمد فیصل کہتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت اور حکام کی اس صلاحیت پر انھیں زیادہ اعتماد نہیں کہ وہ اس موقع کو ملک کے لیے طویل مدتی فائدے میں تبدیل کر سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کا نظام عارضی طور پر ’خوش کن‘ ماحول پیدا کرنے میں تو مہارت رکھتا ہے لیکن اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں ناکام رہتا ہے۔‘
محمد فیصل کا ماننا ہے کہ اندرونی سیاست کو درست کیے بغیر، معاشی اور انتظامی اصلاحات کیے بغیر، صوبوں اور وفاق کے تعلقات کا از سرِ نو تعین کیے بغیر اور مقامی حکومتوں کے قیام کے بغیر، طویل مدتی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ابراہم اکارڈ پاکستان کی ریڈ لائن ہو گا‘
عاقل ندیم کہتے ہیں کہ امن معاہدے کے بعد امریکی صدر ایک مرتبہ پھر ابراہم اکارڈ میں ممالک کو شامل ہونے کا کہہ سکتے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے ایک طرح سے ’ریڈ لائن‘ ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے خلیجی مُمالک، ترکی، مصر اور پاکستان کے رہنماؤں سے ایران کے حوالے سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا تھا کہ اس ’پیچیدہ معاملے‘ کے حل کے بعد ’تمام مُمالک کو کم از کم مشترکہ طور پر ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے چاہییں۔‘
لیکن پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ’مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور فلسطینی عوام کے لیے قابل قبول حل تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔‘
سعودی عرب اور قطر سمیت کچھ دیگر مسلم ممالک کا بھی یہی موقف ہے۔
عاقل ندیم کہتے ہیں کہ ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے پر پاکستان کو مراعات کی پیشکش کی جا سکتی ہے لیکن اس کے علاوہ اگر یہ جنگ ختم بھی ہو جاتی ہے تو سوائے پاکستان کی سفارتی کامیابی کے اسے بہت زیادہ معاشی فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔
سفارتی سطح پر پاکستان کی یہ خواہش رہی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں پاکستان کے موقف کا ساتھ دیں تو کیا اب اس تنازع کے بعد یہ ممالک پاکستان کی جانب جھکاؤ کر سکتے ہیں؟
اس پر سفارت کار عاقل ندیم کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے انڈیا کے ساتھ معاشی مفادات وابستہ ہیں، حالانکہ اس وقت امریکہ اور انڈیا کے تعلقات نچلی سطح پر ہیں لیکن پھر بھی وہ کشمیر تنازع پر اپنی پرانی پوزیشنز برقرار ہی رکھیں گے۔
عاقل ندیم کہتے ہیں کہ اگر رپبلکن پارٹی مڈ ٹرم الیکشن ہار گئی تو صدر ٹرمپ کمزور ہوں گے اور اس کے بعد شاید پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی نوعیت وہ نہ ہو جو اِس وقت ہے۔
’بھائی چارے پر ملک نہیں چلتے‘
بی بی سی نے اس معاملے پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بات کی اور سوال کیا کہ کیا پاکستانی کی موجودہ قیادت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کو ملنے والی پذیرائی کو ملک کے لیے قلیل یا طویل مدتی معاشی اور سفارتی فائدے کے لیے استعمال کر سکے؟
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان اس سب کو اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کرے گا؟
وہ کہتے ہیں کہ ’دنیا اس معاملے کو اور پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے کردار کو ایک دن یاد رکھے گی اور اس کے بعد دنیا آگے بڑھ جائے گی۔ ہم اس پر کچھ زیادہ ہی توجہ دے رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس فائدے کی بات کی جا رہی ہے وہ کون فراہم کرے گا؟ کیا وہ امریکہ ہو گا، یورپ ہو گا، عرب ممالک ہوں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ پابندیاں ہٹنے کی صورت میں ’ایران آپ کو مارکیٹ ریٹ سے ایک پیسہ بھی کم پر تیل فراہم نہیں کرے گا۔ اور وہ کیوں ایسا کریں گے؟ جو گیس (پائپ لائن) کا مسئلہ ہے تو وہ بُری شرائط پر طے کیا گیا معاہدہ ہے، اس کی قیمت آپ کی ایل این جی باسکٹ سے مہنگی ہے، اور اُس معاہدے کے تحت جب یہ گیس سپلائی شروع ہو گی تو یہ اگلے 30 سال کے لیے ہو گی جبکہ دوسری طرف پاکستان میں اتنا استعمال ہے ہی نہیں، تو پاکستان کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ ایران پر پابندیاں تھیں کہ اس معاہدے کا بوجھ پاکستان پر نہیں پڑا، آپ اتنی گیس کا کیا کریں گے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’ملک بھائی چارے پر نہیں چلتے ہیں، وہ ایسے چلتے ہیں کہ آپ مجھ سے کیا خریدو گے اور مجھے کیا بیچو گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس بحث کا لب لباب یہ ہے کہ ’اس معاملے میں کوئی ایسا گیم چینجر نہیں ہے کہ کل سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا اور ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اپنی صلاحیت اور حیثیت سے بڑھ کر کام نہ کریں، اپنی معیشت درست کریں، ملک درست کریں اور یہی اصل صلاحیت ہو گی۔ ہماری طاقت دنیا کا پیس میکر بننے میں نہیں ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان سفارتی سطح پر کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ اس پر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر جو اضافی ٹیکس (ٹیرف) عائد کیا گیا تھا وہ ابھی تک لگا ہوا ہے جبکہ انڈیا سے اسے ہٹا دیا گیا ہے۔
’انڈیا ایک بڑی معیشت ہے اور اُن کے امریکہ سے تعلقات ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ امریکہ آپ کو کشمیر دلوا دے گا؟ آپ کوشش کر سکتے ہیں کہ (انڈیا کے ساتھ) تناؤ کم کریں، تاکہ آپ کی تجارت کُھلے، اور یہ کام پاکستان آج بھی کر سکتا ہے۔‘




























