کراچی میں تین سالہ کلثوم کا مبینہ ریپ اور قتل: ’کوئی بیٹی کی لاش آٹے کی بوری میں ڈال کر گلی میں چھوڑ گیا‘

،تصویر کا ذریعہKarachi Police
- مصنف, قیصر کامران
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
اس رپورٹ میں تین سالہ بچی کے قتل اور مبینہ جنسی حملے سے متعلق تفصیلات موجود ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔
’محلے کی مسجد میں اعلان کروائے، بھائی کے ساتھ مل کر بچی کو تلاش کرتا رہا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا، جب تھک ہار کر گھر پہنچا تو وہاں محلے دار جمع تھے جنھوں نے بتایا کہ کوئی آپ کی بیٹی کی لاش آٹے کی بوری میں ڈال کر گلی کے سامنے چھوڑ گیا ہے۔‘
یہ کہنا ہے کراچی کے علاقے قائد آباد کے رہائشی والد کا، جن کی تین سالہ بیٹی کلثوم 23 جون (منگل) کی دوپہر گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوئی اور اُسی رات اُس کی لاش ملی۔
کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی پر جنسی حملہ کیا گیا ہے۔
اُن کے مطابق سیرولوجی اور ڈی این اے تجزیے کے لیے تمام ضروری نمونے حاصل کر کے محفوظ کر لیے گئے ہیں جبکہ موت کی حتمی وجہ کے تعین کے لیے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سندھ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں متعدد سینیئر افسران شامل ہیں، جبکہ کلثوم کے والد کی مدعیت میں اغوا، جنسی تشدد اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کراچی میں یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پنجاب کے شہر سرگودھا میں آٹھ سالہ منتہا زہرا کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد والدین اور عام افراد میں کمسن بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے معاملے پر خدشات اور غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
’کلثوم باہر کھیلنے گئی مگر واپس نہیں آئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس واقعے کی ایف آئی آر والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جو محنت مزدوری کرتے ہیں۔
کلثوم کے والد کے مطابق منگل (23 جون) کی شام ساڑھے چار بجے اُن کی اہلیہ نے فون کر کے انھیں بتایا کہ کلثوم گھر کے باہر کھیلنے گئی تھی مگر اب تک واپس نہیں آئی۔
ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد نے بتایا کہ جب وہ گھر پہنچے تو شام ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ انھوں نے ناصرف بچی کی گمشدگی سے متعلق مقامی مساجد میں اعلانات کروائے بلکہ ایک چھوٹا سا سپیکر لے کر محلے میں پشتو زبان میں بھی اپنی بیٹی سے متعلق اعلانات کیے۔ یاد رہے کہ کراچی کے علاقے قائد آباد میں پشتون آبادی کافی زیادہ ہے۔
ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق خاندان اور محلے والوں نے بچی کی تلاش شروع کی لیکن اُس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
والد کے مطابق جب تھک ہار کر وہ رات تقریباً پونے آٹھ بجے واپس گھر پہنچے تو گلی میں لوگوں کا ہجوم جمع تھا، جنھوں نے اُن کی بیٹی کی لاش ملنے کی اطلاع دی۔
بچی کے والد کے مطابق وہ کئی گھنٹوں تک بچی کو تلاش کرتے رہے۔
اُن کے بقول 'محلے داروں نے بتایا کہ آپ کی بیٹی کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش آٹے کی بوری میں ڈال کر گلی کے گیٹ کے اندر پھینک دی ہے۔'
بچی کے والد کے مطابق اُن کی گلی میں آمد سے قبل ہی محلے کے چند نوجوان بچی کی لاش سوشل سکیورٹی ہسپتال منتقل کر چکے تھے۔ والد کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ چھوٹے سپیکر پر اعلان کے لیے اپنی آواز میں کی گئی ریکارڈنگ استعمال کر رہے تھے، اس لیے چند گھنٹوں بعد ان کے موبائل اور سپیکر دونوں کی چارجنگ ختم ہو گئی اور پھر وہ گھر لوٹ آئے جہاں لاش ملنے کا پتہ چلا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچی کو فوت ہوئے بہت وقت گزر گیا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
بچی کے والد کے مطابق 'میں ہسپتال پہنچا تو میری بیٹی کی لاش ایمرجنسی میں پڑی تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ بیٹی کو فوت ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے۔'
والد نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم شخص یا اشخاص نے اُن کی کمسن بیٹی کو اغوا کیا، جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، قتل کیا اور بعد میں جرم چھپانے کے لیے لاش آٹے کی بوری میں ڈال کر گھر کے قریب پھینک دی۔
اس واقعے کی تفتیش پر معمور مقامی پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بچی کے ساتھ مبینہ ریپ اور قتل کا یہ واقعہ اُن کے گھر سے زیادہ فاصلے پر پیش نہیں آیا۔
تحقیقاتی ٹیم نے علاقے کے رہائشیوں، دکانداروں اور ٹھیلے والوں کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ گلی کے متعدد گھروں کی تلاشی بھی لی گئی ہے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیر ماجدہ پروین ہالیپوٹو نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پولیس نے واقعے سے متعلق کچھ اہم شواہد جمع کیے ہیں اور تفتیش میں چند مشتبہ افراد سامنے آئے ہیں تاہم تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
اُن کے مطابق فارنزک تجزیے کے لیے ڈی این اے نمونے ابھی بھیجے جانے ہیں اور محرم کے باعث اس عمل میں کچھ تاخیر ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا رپورٹس موصول ہونے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔
ان نے مزید کہنا تھا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ جرم میں ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔
ان کے بقول ڈاکٹروں سے ملنے والی ابتدائی طبی رائے یہی ہے کہ غالب امکان ہے کہ واقعے میں ایک ہی شخص ملوث ہو، تاہم حتمی نتیجہ فارنزک شواہد اور ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیر ماجدہ ہیلپیوتو نے کہا کہ پولیس اس مرحلے پر مزید تفصیلات شیئر نہیں کر سکتی۔
واقعے کے بعد سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو جدید سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔




















