یورینیم کی افزودگی کا وہ ’خطرناک لمحہ‘ جب یہ مواد تباہ کُن جوہری ہتھیار میں بدل جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images
- مصنف, نادیہ سلیمان
- عہدہ, ساؤتھ ایشیا جرنلزم ٹیم
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
یورینیم کی افزودگی جدید جوہری توانائی کا بنیادی حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے بارے میں بین الاقوامی تشویش بھی اِسی (افزودگی) کے گرد ہی گھومتی ہے۔
یہی عمل بجلی بنانے والے جوہری ری ایکٹرز میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اگر یورینیم کو ایک حد سے افزودہ کر لیا جائے تو یہی مواد جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسی دوہری نوعیت کے باعث عالمی ادارے اس عمل کی سخت نگرانی کرتے ہیں اور افزودگی کی شرح پر اختلافات اکثر سنگین سیاسی تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔
یہی معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازع کی جڑ بھی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا یورینیم پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے جیسا کہ بجلی پیدا کرنا، طبی تحقیق اور سائنسی ترقی، جس کی بین الاقوامی قوانین میں اجازت بھی موجود ہے اور بہت سے ممالک ایسا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران نے یورینیم کو ایسی سطح تک افزودہ کیا ہے جو پرامن مقاصد میں استعمال کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران یورینیم کو افزودہ کرنے کی خطرناک حد کے قریب پہنچ گیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ جوہری بم بنا ڈالے۔
سِول اور فوجی مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی میں فرق کو سمجھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورینیم کو افزودہ کرنے کا ایک ہی عمل مختلف ملکوں کے لیے مختلف معنی کیسے رکھتا ہے اور یہ معاملہ عالمی سطح پر مسلسل تناؤ کی وجہ کیوں بنا ہوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زمین سے نکالی جانے والا قدرتی یورینیم مختلف اقسام کے ایٹموں یعنی آئسوٹوپس پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں 99 فیصد سے زیادہ ’یورینیم 238‘ ہوتا ہے، جو آسانی سے جوہری ردِعمل جاری نہیں رکھ سکتا۔
صرف 0.7 فیصد ’یورینیم 235‘ ہی آسانی سے ٹوٹ کر توانائی خارج کرتا ہے، اور اِس عمل کو نیوکلیئر فِشن کہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افزودگی ایک ایسا صنعتی عمل ہے جس میں یورینیم-235 کی شرح کو یورینیم-238 کے مقابلے میں بڑھایا جاتا ہے۔
چونکہ دونوں آئسوٹوپس کی کیمیائی خصوصیات ایک جیسی ہوتی ہیں، اس لیے انھیں کیمیائی طریقے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقصد کے لیے عام طور پر گیس سینٹری فیوجز استعمال کیے جاتے ہیں جو ہلکے یورینیم-235 کو بھاری یورینیم-238 سے الگ کرتا ہے۔
آسان الفاظ میں اس کو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ خود افزودگی یہ طے نہیں کرتی کہ یورینیم کس مقصد کے لیے استعمال ہو گا۔ اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ افزودگی کس حد تک کی گئی ہے یعنی یورینیم-235 کی مقدار کتنی بڑھائی گئی ہے۔
سِول ضرورت کے لیے یورینیم کی افزودگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دنیا میں زیادہ تر جوہری بجلی گھر ایسے ایندھن پر چلتے ہیں جسے کم افزودہ یورینیم کہا جاتا ہے۔ امریکی نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کے مطابق کمرشل ری ایکٹرز عام طور پر ایسے ایندھن استعمال کرتے ہیں جس میں یورینیم-235 کی مقدار تین سے پانچ فیصد تک بڑھائی گئی ہوتی ہے۔
یہ مقدار ایک جوہری ردِعمل جاری رکھنے کے لیے تو کافی ہوتی ہے تاہم یہ سطح جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار سطح سے بہت کم ہے۔
جوہری بجلی گھر کے اندر اس کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔
کنٹرول راڈز اضافی نیوٹرونز کو جذب کر کے ردِعمل کی رفتار کم کرتے ہیں جس سے حرارت آہستہ آہستہ مہینوں یا سالوں تک پیدا ہوتی رہتی ہے۔
یہی حرارت بجلی بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے کوئلے یا گیس کے پلانٹس میں ہوتا ہے، مگر یہاں فوسل فیول نہیں جلایا جاتا۔
کچھ نئے یا تجرباتی ری ایکٹر میں ایسا ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جن میں افزودگی کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جسے ہائی اسی لو-انرچڈ یورینیم ( high-assay low-enriched uranium) کہا جاتا ہے۔
تاہم یہ ایندھن بھی 20 فیصد یورینیم-235 سے کم ہی رہتا ہے۔ عالمی سطح پر 20 فیصد سے کم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ یورینیم ہی سمجھا جاتا ہے اور اسے بجلی گھروں اور تحقیقی مراکز میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
یورینیم کا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کہاں سے شروع ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
یورینیم کے عدم پھیلاؤ کے نقطۂ نظر کے مطابق یورینیم کی 20 فیصد افزودگی ایک خطرناک حد سمجھی جاتی ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق، 20 فیصد سے کم افزودہ یورینیم کی درجہ بندی کم جبکہ اس سے زیادہ کو زیادہ انتہائی افزودہ یورینیم میں شمار کیا جاتا ہے۔
یورینیم جب ایک خاص سطح سے اُوپر افزودہ ہو جاتا ہے تو اسے ہتھیاروں میں استعمال کے قابل سمجھا جاتا ہے، چاہے اس کی تیاری فوجی مقصد کے لیے نہ بھی کی گئی ہو۔
یہی وجہ یہ ہے کہ 20 فیصد سے آگے کی افزودگی نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتی ہے اور اسے ہتھیاروں کے درجے تک پہنچنے میں کم وقت لگتا ہے۔
ماہرین افزودگی کو عموماً ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کرتے ہیں جہاں سب سے زیادہ محنت طلب کام ابتدا میں ہوتا ہے۔
قدرتی یورینیم میں ’یورینیم 235‘ کی مقدار ایک فیصد سے بھی کم موجود ہوتی ہے اور اسے 20 فیصد تک لانے کے لیے علیحدہ کرنے کے بہت سے مراحل، بہت زیادہ وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے۔
قدرتی یورینیم میں مفید آئیسوٹوپ ’یورینیم-235‘ کا ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے اور اس کو 20 فیصد افزودہ مواد میں تبدیل کرنے کے لیے ہزاروں بار علیحدگی کے مراحل اور کافی وقت اور توانائی درکار ہوتی ہے۔
اس کے مقابلے میں 20 فیصد سے 90 فیصد تک یورینیم کی افزودگی میں بہت کم اضافی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
درحقیقت 20 فیصد کے نشان کو عبور کرنے کا مطلب ہے کہ کوئی ملک ہتھیاروں کے درجے کے مواد کے کافی قریب پہنچ چکا ہے اور عالمی ادارے اس پر خاص نظر رکھتے ہیں۔
ہتھیار بنانے کے درجے والی یورینیم کو عام طور پر تقریباً 90 فیصد ’یورینیم-235‘ یا اس سے زیادہ افزودہ کیا جاتا ہے۔
اس ارتکاز میں جوہری ردعمل کے لیے حالات تقریباً فوری طور پر قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ جب کافی مقدار میں اس مواد کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو ایٹم بہت تیزی سے ٹوٹتے ہیں اور لمحوں کے اندر ہی بے پناہ توانائی خارج ہوتی ہے۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو جوہری ہتھیار کو جوہری بجلی گھر سے الگ کرتا ہے۔
جوہری ری ایکٹر میں استعمال ہونے والا ایندھن کم افزودہ ہوتا ہے اور اس میں ہونے والا ردِعمل جان بوجھ کر آہستہ، قابو میں اور مسلسل نگرانی کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ اس طرح حرارت مہینوں یا سالوں میں بتدریج پیدا ہوتی ہے، جسے بجلی بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس جوہری بم میں ردِعمل کو ایک ہی لمحے میں تیزی سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ جب ایندھن بہت زیادہ افزودہ ہو اور مناسب مقدار میں اکٹھا ہو جائے تو ایٹم انتہائی تیزی سے ٹوٹتے ہیں اور ایک لمحے کے اندر بے پناہ توانائی خارج ہوتی ہے۔
اگرچہ دونوں عمل ایک ہی بنیادی سائنس سے جڑے ہیں، لیکن ری ایکشن کا طریقہ مشکل ہے۔ ایک طرف آہستہ اور قابو میں، دوسری طرف اچانک اور دھماکہ خیز۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
افزودگی کی ٹیکنالوجی سے متعلق تشویش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بجلی گھروں اور فوجی دونوں مقاصد میں یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔
وہی گیس سینٹری فیوجز جو بجلی گھروں کے لیے ایندھن تیار کرتی ہیں اگر انھیں مختلف طریقے سے چلایا جائے یا زیادہ دیر تک استعمال کیا جائے تو وہ زیادہ افزودہ یورینیم بھی بنا سکتی ہیں۔
اسی لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت افزودگی کے کارخانے انتہائی حساس تنصیبات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے پاس بڑی افزودگی کی سہولت ہو اور چاہے اس کا مقصد بھی شہری ضرورت بتایا جائے پھر بھی وہ کم وقت میں ہتھیاروں کے درجے کا مواد تیار کرنے کی تکنیکی اہلیت بھی رکھ سکتا ہے۔
اسی وجہ سے شہری مقاصد کے لیے افزودگی کے پروگرام بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہوتے ہیں جن میں افزودگی کو مقررہ حد میں رکھنے کے لیے اس عمل کو باقاعدہ کیمروں سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔
جب کوئی ملک بجلی کی پیداوار سے زیادہ سطح پر یورینیم کو افزودہ کرتا ہے (خاص طور پر 20 سے 60 فیصد کے درمیان) تو عالمی نگرانی مزید سخت ہو جاتی ہے۔
چونکہ ٹیکنالوجی ایک ہی ہے اس لیے یورینیم کی افزودگی ایک انتہائی حساس معاملہ ہوتا ہے۔ یہ بجلی کی پیداوار کے لیے درکار جوہری توانائی کو بھی سہارا دے سکتی ہے، اور اگر اسے مزید آگے بڑھایا جائے تو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اسی دوہری نوعیت کی وجہ سے افزودگی کی سطحیں دنیا بھر میں جوہری پروگراموں پر ہونے والی سفارتی بات چیت اور بین الاقوامی رپورٹنگ کا مرکزی موضوع ہوتی ہیں۔



























