’نیتن یاہو کے لیے ایک ڈراؤنا منظرنامہ‘: امریکہ، ایران معاہدہ ہو گیا تو اسرائیل کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

    • مصنف, سعید جعفری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، فارسی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایک ’مفاہمتی یادداشت‘ تک پہنچنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ اسرائیل میں اس کے امکانات اور ممکنہ نتائج پر بحث ہو رہی ہے۔

اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران کسی معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو اسرائیل کیا کرے گا؟

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی میڈیا، ریسرچ سینٹرز اور سکیورٹی حلقوں میں بحث اب مکمل طور پر معاہدے کو روکنے کی کوشش سے آگے بڑھ چکی ہے اور اس کے بجائے اس بات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے کہ ایک ممکنہ معاہدے سے کیسے نمٹا جائے، جو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ خطے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی آزادی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسرائیل کو کس طرح کے معاہدے سے پریشانی ہو سکتی ہے؟

اسرائیل کی تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ممکنہ جوائنٹ کمپریہینسو ایکشن پلان (2015 کے ایران جوہری معاہدے) کے ترمیم شدہ ورژن سے ملتا جُلتا ہوگا، جس سے ایران کا جوہری پروگرام تو محدود ہو جائے گا مگر یہ تہران کا میزائل نیٹ ورک، ڈرونز اور اس کے پروکسی گروہوں کو برقرار رکھے گا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں بہت سے حلقوں کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدہ جنگ کے آغاز میں طے کیے گئے اہداف کو پورا نہیں کرے گا، جن میں ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا، تہران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

اخبار کے مطابق اس مرحلے پر اسرائیل کا ہدف شاید ’مکمل فتح‘ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ واشنگٹن سے ایران کے جوہری پروگرام اور حزب اللہ کی جانب سے درپیش خطرے کے حوالے سے واضح ضمانتیں حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔

لیکن اسرائیل میں اس صورتحال سے نمٹنے کے طریقے پر کوئی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔

اسرائیل انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے محقق اور اسرائیلی فوج کے ملٹری انٹیلیجنس ریسرچ ڈائریکٹوریٹ کے ایران ڈویژن کے سابق سربراہ ڈینی سیٹرینووچ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابھرتا ہوا معاہدہ ’کئی حوالوں سے نیتن یاہو کے لیے ایک ڈراؤنا منظرنامہ‘ ثابت ہو رہا ہے۔

Trump

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حتمی مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ بتدریج اس میں اپنی دلچسپی کھو دیتی ہے، تو نیتن یاہو خود کو ایسی صورتحال میں پا سکتے ہیں جسے وہ جنگ سے پہلے کی حالت سے بھی زیادہ بدتر سمجھتے ہیں۔

ایک ایسی حالت جسے ڈینی سیٹرینووچ اس طرح بیان کرتے ہیں: ’ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی حقیقی پابندیاں نہ ہوں، امریکہ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی کوئی امید نہ ہو اور تہران کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھتا جائے۔‘

تاہم ڈینی سیٹرینووچ نے مزید کہا کہ ایران کی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کے بعض حصوں کو روکنے کے لیے ایک ’نامکمل اور خامیوں سے بھرپور‘ معاہدہ بھی کسی معاہدے کے نہ ہونے سے بہتر ہو سکتا ہے۔

لیکن اسرائیل میں ہر کوئی اس مؤقف سے متفق نہیں ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ اگر جنگ اسرائیل اور امریکہ کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو کوئی بھی معاہدہ ایک ناقص انتخاب ہو گا۔

یہ اختلافِ رائے اسرائیل کے سکیورٹی اور تجزیاتی ماحول میں موجود خلا کی عکاسی کرتا ہے: بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایک ممکنہ معاہدہ اسرائیل کے لیے ناپسندیدہ ہو سکتا ہے، لیکن مذاکرات کی مکمل ناکامی ایک زیادہ خطرناک صورتحال کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

ایسے ماحول میں اسرائیل کو متعدد آپشنز اور متبادل راستوں کا سامنا ہے۔

پہلا آپشن: معاہدے کو مشکل بنانے کی کوشش

اسرائیل کے پاس دستیاب ابتدائی آپشنز میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاہدے کے حتمی متن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے۔

چھ مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں یروشلم انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجی اینڈ سکیورٹی نے اسرائیل کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یعقوب عمیدرور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کے اہم مطالبات میں یورینیم کی افزودگی کو روکنا، میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنا اور عملدرآمد کا ایک سخت نظام قائم کرنا شامل ہونا چاہیے۔

یہ مؤقف اس امکان کو واضح کرتا ہے، جس سے اسرائیل اب بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کو اس انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے کہ وہ تہران کے لیے زیادہ سخت اور مہنگا ثابت ہو۔

تاہم تمام اسرائیلی تجزیہ کار اس معاہدے کو، حتیٰ کہ اس کی محدود شکل کو بھی، قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔ یروشلم پوسٹ نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابھرتا ہوا معاہدہ ایک ’برا معاہدہ‘ ہے، جو ایران کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ بحران پیدا کر کے اور آبنائے ہرمز سے متعلق دباؤ جیسے حربے استعمال کر کے امریکہ سے مزید مراعات حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے مطالبات اور ٹرمپ انتظامیہ جس چیز کو قبول کر سکتی ہے، ان کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔

امریکن فارن پالیسی کونسل کے سینیئر نائب صدر ایلان برمن نے بی بی سی فارسی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر کوئی نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسرائیل خود کو زیادہ مشکل صورتحال میں پا سکتا ہے، خصوصاً اگر اس معاہدے میں لبنان کے اندر اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی کی آزادی پر پابندیاں شامل ہوں۔

برمن کے مطابق بالآخر اسرائیل کو غالباً واشنگٹن کے فیصلوں کو قبول کرنا پڑے گا، جب تک کہ وہ امریکہ کو اس بات پر قائل نہ کر لے کہ اسے ایک ’فوری اور سنگین خطرہ‘ لاحق ہے۔

2015 کے معاہدے کے بعد کی پالیسی دوبارہ اپنانا

ایک اور آپشن جس کی طرف اسرائیلی حکام غالباً ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے رجوع کریں گے وہ 2015 کے جوہری معاہدے کا تجربہ ہے، جسے جوائنٹ کمپریہینسو ایکشن پلان کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ اسرائیل کو اس بات پر آمادہ کر سکتا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔

سنہ 2015 میں جوہری مذاکرات کے دوران بنیامین نیتن یاہو کی حکومت تقریباً باراک اوباما کی حکومت کے ساتھ ایک کھلے تصادم میں داخل ہو گئی تھی۔

اسی برس مارچ میں نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے مشاورت کے بغیر ریپبلکنز کی دعوت پر امریکی کانگریس سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کو ’اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔ یہ خطاب، جو اوباما اور نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی کے عروج پر کیا گیا، ان نایاب مواقع میں سے ایک بن گیا جب کسی غیر ملکی رہنما نے امریکی داخلی سیاست میں مداخلت کی ہو۔

اسی وقت اسرائیل کے حامی لابنگ گروپس، خصوصاً امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، نے جوہری معاہدے کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کی تھی۔

Obama and Netanyahu

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس وقت امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی نے اس معاہدے کو روکنے کے لیے تشہیر، کانگریس میں لابنگ اور اپنی سیاسی نیٹ ورک کو متحرک کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے۔

تاہم یہ تمام کوششیں سنہ 2015 کے معاہدے کو روکنے میں ناکام رہیں، لیکن اسرائیل اور امریکہ میں اس معاہدے کے مخالفین نے سیاسی اور میڈیا دباؤ جاری رکھا اور بعد کے برسوں میں نیتن یاہو کی حکومت نے جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دینے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں ہی 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔

کچھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کو اب خدشہ ہے کہ نیا معاہدہ ملک کے لیے 2015 کے جوہری معاہدے سے بھی بدتر ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اس وقت مذاکرات کی میز پر اس پوزیشن میں ہے کہ وہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ مذاکرات میں مزید مراعات کا مطالبہ کرے گا۔

تاہم ایسے حالات میں اسرائیل کے لیے موجود موقع یہ ہے کہ تمام مشکل اور پیچیدہ مسائل کو کسی ممکنہ معاہدے تک تک مؤخر کر دیا جائے، جس کا آغاز ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل اور جوہری پروگرام کی تقدیر کے تعین سے لے کر پابندیاں اٹھانے کے معاملے تک ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ مذاکراتی عمل کو پٹری سے اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک ایسا موقع بھی پیدا کر سکتی ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کے دور میں استعمال کیے گئے وہی ذرائع دوبارہ استعمال کرے، یعنی ابتدائی مفاہمت اور حتمی معاہدے کے درمیان موجود خلا میں واشنگٹن پر سیاسی دباؤ ڈالنا، کانگریس کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا، ایران کی علاقائی اور میزائل سرگرمیوں کو اجاگر کرنا اور حتیٰ کہ مذاکراتی عمل کو غیر مستحکم کرنے کے لیے خفیہ اور انٹیلیجنس کارروائیوں کو تیز کرنا۔

اسرائیل کے سابق قومی سلامتی کے مشیر یعقوب عمیدرور نے فاکس نیوز کو بتایا کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو ایران کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت برقرار رکھنے کی اجازت دے یا اس کے میزائل پروگرام اور اتحادی گروہوں کے نیٹ ورک کو جوں کا توں چھوڑ دے، اسرائیل کے نقطۂ نظر سے ناکافی ہو گا۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر تہران اور واشنگٹن ابتدائی معاہدے تک پہنچ بھی جائیں تب بھی اسرائیل اسے آخری مرحلہ نہیں سمجھے گا بلکہ ممکن ہے کہ وہ اس معاہدے کو تبدیل کرنے، محدود کرنے یا حتیٰ کہ اسے ناکام بنانے کی نئی کوششوں کے آغاز کے طور پر دیکھے۔

دوسرا آپشن: عسکری کارروائیوں کی آزادی برقرار رکھنا

لیکن ایک دوسرا آپشن بھی ہے، جسے اسرائیل کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے اور اسرائیلی سکیورٹی حکام اسے ’آزادیِ عمل‘ قرار دیتے ہیں، یعنی ایران اور خطے میں اپنے اہداف کے خلاف حملے یا فوجی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا۔

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک محقق اور پینٹاگون کے سابق عہدیدار مائیکل روبن نے بی بی سی فارسی کو بتایا: ’اگر اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے تو اس کے پاس تمام آپشنز برقرار رہیں گے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کچھ وقت تک انتظار کر سکتا ہے، لیکن یہ امکان کم ہے کہ وہ طویل مدت کے لیے خود کو ایسے معاہدے کا پابند سمجھے گا، جس پر اس نے دستخط نہیں کیے۔

Israel

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روبن یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اسرائیل کو محسوس ہو کہ ایران اس کے ’وجود کے لیے خطرہ‘ بن گیا ہے تو ’کوئی بھی چیز اسرائیل کو حملہ کرنے سے نہیں روک سکے گی۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’ٹرمپ ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ان کے پاس ایک جادوئی چھڑی ہے، جسے لہرا کر وہ امن حاصل کر سکتے ہیں۔ نیتن یاہو بھی اس خیال کو چیلنج نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ٹرمپ بہت حساس ہیں۔‘

تاہم خود اسرائیل کے اندر بھی ہر کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ فوجی آپشن آسانی سے دُہرایا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے حالیہ جنگ کے اپنے تجزیے میں لکھا کہ براہِ راست امریکی حمایت کے بغیر ایران کے ساتھ وسیع اور طویل تصادم کو جاری رکھنے کی اسرائیل کی صلاحیت محدود ہو گی، خاص طور پر اگر واشنگٹن سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دینے کا فیصلہ کر لے۔

اس تناظر میں کچھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی کارروائی کی آزادی کو برقرار رکھنا چاہے، تب بھی امریکہ پر اس کا فوجی اور سیاسی انحصار اس کی سب سے اہم پابندیوں میں سے ایک رہے گا۔

تیسرا آپشن: خفیہ جنگ کی طرف واپسی

اگر نئے معاہدے کے تحت اسرائیل کو براہ راست فوجی کارروائی سے روکا گیا تو وہ ایک نئی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، یعنی ’لڑائی کے اندر لڑائی‘ کا طریقہ کار جس میں سائبر کارروائیاں، سبوتاژ اور ماضی کی طرح اہداف کا قتل شامل ہو سکتا ہے۔

اسرائیل حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں کرتا رہا ہے تو اس کے پاس پھر یہی آپشن ہو گا کہ وہ انھیں آگے بڑھائے۔

بعض اسرائیلی سکیورٹی حلقوں میں یہ بات چیت بھی ہو رہی ہے کہ بات صرف ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے تک نہ چھوڑی جائے۔ اسرائیلی میڈیا گروپ کی ویب سائٹ وائی نیٹ نے 22 مارچ کو رپورٹ کیا تھا کہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے نیتن یاہو کو جنگ سے پہلے کا اندازہ دیا تھا کہ اسرائیل ایران میں اندرونی بدامنی کو ہوا دینے میں مدد کر سکتا ہے۔

تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حملوں اور خفیہ کارروائیوں کے باوجود بڑے پیمانے پر بدامنی نہیں ہوئی اور بعض امریکی حکام اور اسرائیلی انٹیلی جنس تجزیہ کار شروع سے ہی اس مفروضے پر شکوک و شبہات کا شکار تھے۔

میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عہدیداروں کا خیال ہے کہ بیرونی دباؤ اور اندرونی خلفشار کا امتزاج اسلامی جمہوریہ کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔

لہذا اگر کوئی بھی معاہدہ جو اسرائیل کو پسند نہ آیا تو وہ دوبارہ ایران کے اندر کی صورتحال اور بیرونی دباؤ کو اس کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔

بعض ماہرین بشمول راض زمیت کہتے ہیں اُن ابتدائی اندازوں کے ایران کا اندرونی نظام بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے کے برعکس ایران نے ثابت کیا ہے کہ اُس کا انتظامی ڈھانچہ بڑے دھچکے سہنے اور اندرونی خلفشار کے باوجود برقرار ہے اور مذاکرات کے دوران بھی اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔

اسرائیل انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹیڈیز سے منسلک مبصر زمیت لکھتے ہیں کہ سنہ 2015 کے جوہری مذاکرات کی طرح اس مرتبہ بھی ایران کی سخت گیر قیادت کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

اُن کے بقول ایرانی حکومت کے کچھ رہنما اور حتی کے پاسداران انقلاب کے کچھ لیڈرز بھی امریکہ کے ساتھ کسی سمجھوتے کے حق میں ہیں۔

زمیت کہتے ہیں کہ فریقین اس وقت اپنی مرضی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بہرحال اُنھیں کسی نہ کسی طور پر لچک دکھانا ہو گی۔

امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر میکس ابرامس نے بی بی سی فارسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض دعووں کے برعکس اسرائیل نے حالیہ جنگ میں یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بالآخر ٹرمپ کے فیصلوں کی پاسداری کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ وہ ایران پر حملے بند کر دیں تو ’اسرائیلی جنگجو فوراً واپس لوٹ گئے۔‘

ابرامس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ یہ توقع نہیں رکھتے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کی خواہشات کی نفی کریں گے اور ایران کے اندر مکمل جنگ شروع کریں گے۔

اُن کے بقول لبنان میں کوئی بھی ممکنہ اسرائیلی کارروائی ایران پر حملوں سے کہیں کم مہنگی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں امکان ہے کہ نیتن یاہو معاہدے کو کمزور کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دیں گے۔

یہ تنقید ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل میں بحث صرف معاہدے کے مستقبل تک محدود نہیں رہی بلکہ نیتن یاہو کی ذمہ داری اور جنگ کے نتائج پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

کچھ سکیورٹی حلقوں کے مطابق، چاہے تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدہ ہو جائے، بحران ختم نہیں ہوگا۔

اسرائیل انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق یہ حملے وقتی ردعمل فراہم کر سکتے ہیں مگر ایران سے متعلق تمام خطرات کا جامع حل نہیں ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدہ نگرانی کو بہتر بنا سکتا ہے مگر اسرائیل کی کارروائی کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔

اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امکان ہے کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے طویل مدتی خفیہ مہم پر انحصار کرے گا۔

ایک اور نقطۂ نظر یہ ہے کہ اسرائیل آخرکار معاہدے کو ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کر لے گا اور طویل مدت میں ایران کو قابو میں رکھنے پر توجہ دے گا۔

اس صورت میں اسرائیل واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے، خفیہ کارروائیوں، حزب اللہ پر توجہ اور علاقائی ڈیٹرنس مضبوط بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

تاہم اگر ایسا معاہدہ طے پاتا ہے جیسا کہ رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے تو نیتن یاہو کو ایک بنیادی سوال کا سامنا ہوگا: اس جنگ سے بالآخر اسرائیل کو کیا حاصل ہوا؟

ایران کا نظام نہیں گرا اور طاقت کا ڈھانچہ برقرار رہا۔ اقتدار کی منتقلی میں کسی واضح تقسیم کے آثار بھی سامنے نہیں آئے۔

مزید برآں جنگ نے دکھایا کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی وجہ سے کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ شروع کر کے اسرائیل اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ ایران کی طاقت کے کچھ پہلو اجاگر بھی ہو گئے۔

ان کے مطابق اگر اسرائیل کو بالآخر جوہری معاہدے جیسا کوئی معاہدہ قبول کرنا پڑتا ہے تو یہ سوال دوبارہ اٹھے گا کہ امریکہ اور اسرائیل کو سابقہ معاہدے سے نکلنے کا کیا فائدہ ہوا تھا۔