اشرف مارتھ: جب ریاض بسرا نے گوجرانوالہ پولیس کے سربراہ کے قتل سے ’چند منٹ قبل انھیں فون کر کے دھمکی دی‘

اشرف مارتھ

،تصویر کا ذریعہGujranwala Police

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 19 منٹ

وہ چھ مئی 1997 کی گرم صبح تھی اور صبح کے آٹھ بج کر 23 منٹ کا وقت تھا جب گوجرانوالہ پولیس کے وائرلیس کنٹرول پر ’جہانگیر ہاؤس‘ کے آپریٹر کی طرف سے ایک ہنگامی میسج بھیجا گیا۔

افراتفری کے عالم میں دیا گیا پیغام اگرچہ مختصر تھا مگر وائرلیس آپریٹر کی جانب سے اِسے بار بار دہرایا جا رہا تھا: ’جہانگیر صاحب پر فائرنگ ہو گئی ہے، شہر کے تمام پولیس افسران، جو اِس پیغام کو سُن رہے ہیں، وہ ہنگامی بنیادوں پر جہانگیر ہاؤس پہنچیں۔‘

گوجرانولہ پولیس لائنز میں موجود ایلیٹ فورس کا ریزرو دستہ، جسے وائرلیس پر یہ پیغام چلنے سے محض چار، پانچ منٹ پہلے خود ’جہانگیر ہاؤس‘ کی جانب سے دفتر پہنچنے کے احکامات صادر کیے گئے تھے، یہ پیغام سُن کر دفتر جانے کی بجائے جہانگیر ہاؤس کی طرف مڑ گیا۔

پیغام کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ ضلع بھر کی پولیس فورس میں کھلبلی مچ گئی، اور آگے چل کر یہ معاملہ وہ شکل اختیار کرنے والا تھا جو ملکی تاریخ میں آئندہ کئی برسوں تک زیر بحث رہنے والا تھا۔

دراصل ’جہانگیر‘ صوبہ پنجاب میں ضلعی پولیس افسران کی سربراہ کا کال سائن ہے۔ اور سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد اشرف مارتھ اُس وقت ضلع گوجرانوالہ کی پولیس کے سربراہ تھے۔

سی آئی اے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد سلیم بٹ اُس وقت ایک مقدمے میں پیشی کے لیے گوجرانوالہ سیشنز کورٹ کی عمارت کے اندر داخل ہو رہے تھے جب سرکاری گاڑی میں انھوں نے جہانگیر ہاؤس کے آپریٹر کی یہ کال سُنی۔

وہ بتاتے ہیں کہ وائرلیس پر یہ پیغام سُنتے ہی انھوں نے عدالت جانے کی بجائے فوری طور پر اپنے ڈرائیور کو گاڑی موڑنے اور ایس ایس پی ہاؤس کی طرف جانے کی ہدایت کی۔

سلیم بٹ، جو محکمہ پولیس سے بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ سیشنز کورٹ سے ایس ایس پی ہاؤس کا فاصلہ محض دو سے تین منٹ کا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’لیکن وہ کال سُن کر اُس وقت میری یہ حالت تھی کہ مجھے یہ فاصلہ دو، تین گھنٹوں کا لگ رہا تھا۔ صبح کا وقت تھا اور راستے میں چرچ روڈ پڑتا تھا، جہاں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی وجہ سے طلبا سے بھری گاڑیوں کی آمد و رفت رہتی تھی۔۔۔ ڈرائیور نے گاڑی اس سپیڈ سے بھگائی کہ کچھ پتہ نہ تھا کہ سامنے کون ہے اور کون نہیں۔‘

سلیم بٹ کا دعویٰ ہے کہ چونکہ وہ جائے وقوعہ سے چند ہی منٹ کے فاصلے پر تھے اور گاڑی میں موجود تھے اس لیے اُس مقام پر پہنچنے والے وہ پہلے افسر تھے۔

سلیم بٹ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جب وہ ’جہانگیر ہاؤس‘ پہنچے تو اُس وقت ضلعی پولیس کے سربراہ یعنی ایس ایس پی محمد اشرف مارتھ اور اُن کے ڈرائیور تبسم ضمیر کو سول ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔

’افراتفری اور خوف کا عالم تھا، پولیس کے ضلعی کمانڈر پر حملہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی، میرے سمیت وہاں موجود تمام اہلکاروں کے چہروں سے ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔‘

سلیم بٹ کے مطابق اشرف مارتھ اور ڈرائیور تبسم ضمیر کو ایس ایس پی ہاؤس سے لگ بھگ ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سول ہسپتال پہنچایا گیا، تو وہاں موجود ڈیوٹی میڈیکل آفیسر نے دونوں کی موت کی تصدیق کر دی۔

سلیم بٹ کہتے ہیں کہ اشرف مارتھ پر حملے نے صوبے بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی تھیں۔

بعدازاں سلیم بٹ، اشرف مارتھ کے قتل کیس میں بننے والی تفتیشی ٹیم کا حصہ بھی رہے اور سنہ 2001 میں پنجاب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں پنجاب پولیس کے جن پانچ افسران کو کالعدم لشکر جھنگوی کی ممکنہ ہٹ لسٹ پر موجود ہونے کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا، اُن میں سلیم بٹ بھی شامل تھے۔

ایف آئی آر میں ریاض بسرا، ملک اسحاق اور اعظم طارق نامزد

ریاض بسرا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناشرف مارتھ کے قتل کے پانچ سال بعد (14 مئی 2002) پولیس نے ریاض بسرا کو اُن کے تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا

اس واقعے کی ایف آئی آر (198/97) گوجرانوالہ کے تھانہ سول لائن میں اشرف مارتھ کے سرکاری گن مین کانسٹیبل طارق جاوید کی مدعیت میں درج ہوئی اور اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 109، 120 بی اور 34 لگائی گئی تھیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق صبح 8 بج کر 20 منٹ پر ایس ایس پی اشرف مارتھ سرکاری جیپ نمبر LOG390 پر گھر سے روانہ ہوئے تھے، اِس جیپ کو ڈرائیور کانسٹیبل تبسم ضمیر چلا رہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ دو گن مین طارق جاوید (مدعی مقدمہ) اور شکیل احمد جیپ کی پچھلی نشست پر بیٹھے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ’جونہی جیپ سرکاری رہائش گاہ کے گیٹ سے دفتر جانے کے لیے ڈی سی روڈ کی طرف مڑی، تو اچانک سامنے سے تین نامعلوم افراد نمودار ہوئے، جن میں سے دو ملزمان کے پاس کلاشنکوف رائفلیں تھیں۔ انھوں نے یکدم سامنے اور دائیں طرف سے ایس ایس پی پر برسٹ فائر کیے جس کے نتیجے میں ایس ایس پی اشرف مارتھ اور ڈرائیور تبسم ضمیر کے جسموں کے سامنے کے حصے اور دیگر حصوں پر گولیاں لگیں۔‘

ایف آئی آر کے مطابق حملے کے دوران ’جب ایس ایس پی نے جیپ سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اُن پر فائرنگ جاری رکھی جس کے نتیجے میں وہ سڑک پر ہی گِر پڑے اور موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔‘

ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ ’گن مین شکیل احمد کو بھی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگیں۔ شکیل احمد نے بھی دفاع میں سرکاری رائفل سے فائرنگ کی لیکن نامعلوم ملزمان درختوں کی اوٹ لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق واقعے کے کچھ ہی دیر بعد ’ایس ایچ او سول لائن اور ایس ایچ او سیٹلائٹ ٹاؤن ہمراہ ملازمین سرکاری گاڑیوں میں موقع پر پہنچ گئے، ایس ایس پی کی میت اور زخمی گن مین شکیل احمد اور زخمی ڈرائیور تبسم ضمیر کو سرکاری گاڑیوں میں سول ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پہنچ کر تبسم ضمیر بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔‘

ایف آئی آر میں مدعی کے حوالے سے مزید لکھا گیا کہ ’چودھری محمد اشرف مارتھ جب سے گوجرانوالہ تعینات ہوئے تھے، ہم سب عملہ کو دہشت گردوں کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کا ذکر کیا کرتے تھے، اور مولانا اعظم طارق، ریاض بسرا اور ملک اسحاق وغیرہ کے حوالے سے خدشات ظاہر کیا کرتے تھے، آج اُن کا قتل انہی افراد کی ایما اور سازش کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

اعظم طارق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناعظم طارق چھ اکتوبر 2003 کو کشمیر ہائی وے (اسلام آباد) پر اپنے چار محافظوں سمیت قتل کر دیے گئے تھے

’ریاض بسرا بول رہا ہوں، ایس ایس پی سے بات کرواؤ‘

مقدمے کے اندارج کے بعد اِس ہائی پروفائل کیس میں ایس ایس پی ہاؤس کے تمام ملازمین بھی تفتیش کے عمل سے گزرے اور ملازمین سے مختلف تفتیشی ٹیموں نے الگ الگ تفتیش کی جس کے دوران بہت سی انکشافات بھی ہوئے جو اس مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنے۔

اُس وقت ایس ایس پی ہاؤس میں دو ٹیلی فون آپریٹرز، افضال اور ابراہیم، تعینات تھے جنھوں نے تفتیشی افسران کو اپنے بیانات قلمبند کروائے۔

جس روز یہ واقعہ پیش آیا اُس سے گذشتہ رات آپریٹر ابراہیم کی ڈیوٹی تھی جبکہ افضال ابھی صبح کے اوقات ہی میں ڈیوٹی کرنے کے لیے ایس ایس پی ہاؤس پہنچے تھے۔

مثل مقدمہ کے مطابق آپریٹر افضال نے دعویٰ کیا کہ اشرف مارتھ پر حملے سے چند ہی منٹ قبل ریاض بسرا نے بذات خود اشرف مارتھ کو فون کال کر کے اُن سے بات کی تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق آپریٹر افضال نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ صبح آٹھ بج کر 13 منٹ کا وقت تھا جب ایس ایس پی ہاؤس کے نمبر پر ایک کال موصول ہوئی، اور کال کرنے والے شخص نے اپنا تعارف ریاض بسرا کہہ کر کروایا اور آپریٹر کو کہا کہ وہ ایس ایس پی اشرف مارتھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔

آپریٹر نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ ’میں نے فون کرنے والے کو کہا کہ ابھی صاحب ناشتہ کر رہے ہیں، آپ تھوڑی دیر بعد کال کریں۔ اِس پر کال کرنے والے شخص کا لہجہ تلخ ہو گیا اور اس نے دھمکی دینے والے لہجے میں کہا کہ تم میری بات کرواتے ہو کہ نہیں۔‘

آپریٹر کے مطابق ’یہ سُن کر اُس نے ایس ایس پی ہاؤس کے ڈائننگ ٹیبل کے قریب پڑے ٹیلی فون سیٹ پر رابطہ کیا۔‘

آپریٹر نے وضاحت کی کہ اس نمبر پر عموماً کوئی کال نہیں ملائی جاتی تھی اور ایسا صرف ایمرجنسی کی صورت ہی میں کیا جاتا تھا۔

’دوسری طرف ایس ایس پی اشرف مارتھ نے فورا فون اٹھایا اور آپریٹر سے کہا خیریت ہے ناں؟ تو آپریٹر نے جواب دیا کہ ریاض بسرا کی کال ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے۔ سر (اشرف مارتھ) نے او کے کہا تو میں نے لائن تھرو کر دی۔‘

اس کیس کی تفتیشی ٹیم کے ایک افسر پرویز بٹ، جو اُس وقت ڈی ایس پی رینج کرائم کے طور پر تعینات تھے، نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ آپریٹر کے اِس بیان کے بعد ہونے والی تفتیش میں جب ایس ایس پی ہاؤس کے سرکاری فون کی ریکارڈنگ نکلوائی گئی تو اس واقعے کی تصدیق ہوئی اور یہ سامنے آیا کہ ریاض بسرا نے اس کال کے دوران اشرف مارتھ کو دھمکی دی تھی کہ وہ اُن کے شہر (گوجرانوالہ) پہنچ چکا ہے اور بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

تفتیشی ٹیم کا حصہ رہنے والے پرویز بٹ بعدازاں ایس ایس پی انویسٹیگیشن فیصل آباد کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

اُن کے مطابق ریاض بسرا سے ہونے والی بات چیت کے فوراً بعد اشرف مارتھ نے ناشتہ اُدھورا چھوڑا اور وائرلیس کنٹرول کے ذریعے پولیس لائن میں موجود ایلیٹ فورس کے دستے کو حکم دیا کہ وہ فورا اُن کے دفتر پہنچیں۔ (یہ ایلیٹ فورس کا وہی دستہ ہے جس کا ذکر سٹوری کی ابتدا میں ہوا کہ انھیں اشرف مارتھ پر حملے سے محض چار، پانچ منٹ پہلے ایس ایس پی ہاؤس سے فوراً دفتر پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی)۔

اور پھر جیسے ہی اشرف مارتھ دفتر جانے کے لیے ایس ایس پی ہاؤس سے نکلے تو اُن پر فائرنگ کر دی گئی۔

اس کیس کی تفتیش، جو مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ ہے، ظاہر کرتی ہے کہ یہ حملہ اِس قدر آناً فاناً ہوا تھا کہ اشرف مارتھ کی گاڑی میں موجود کسی شخص کو سنبھلنے یا دفاع کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا۔

تفتیشی ٹیم کے رُکن سابق ڈی ایس پی سلیم بٹ کہتے ہیں کہ ایس ایس پی کے ساتھ ڈیوٹی دینے والے دونوں گن مینوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ حالات کی مناسبت سے الرٹ رہتے، لیکن بظاہر انھوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

سلیم بٹ کے مطابق ’بعدازاں پتا چلا کہ گن مینوں (محافظوں) نے ملزمان کی ڈائریکشن میں فائر کرنے کے بجائے بدحواسی میں سرکاری گاڑی کے اندر ہی ہوائی فائرنگ کی، جس سے گاڑی کی چھت پھٹ گئی تھی۔‘

’شبیر کا دونوں ہاتھ کھڑے کرنا، گاڑی آؤٹ ہونے کا سائن تھا‘

ایس ایس پی ہاؤس
،تصویر کا کیپشنایس ایس پی ہاؤس کے باہر وہ مقام جہاں اشرف مارتھ پر حملہ کیا گیا (حالیہ تصویر)

سابق ڈی ایس پی سلیم بٹ اور سابق ڈی ایس پی کرائم رینج پرویز بٹ اس کیس کی تفتیشی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ کالعدم سپاہ صحابہ اگرچہ کالعدم لشکر جھنگوی کی مدر آرگنائزیشن تھی، مگر لشکر جھنگوی نے جب کوئی بڑی کارروائی کرنا ہوتی تھی تو وہ سپاہ صحابہ کی لوکل آرگنائزیشن سے معاونت نہیں لیتے تھے، تاہم اتنا ضرور ہوتا کہ کالعدم سپاہ صحابہ میں سے جو لڑکے انھیں فعال نظر آتے وہ انھیں اپنے ساتھ ملا لیتے تھے اور اشرف مارتھ کے قتل کے معاملے میں بھی بظاہر ایسا ہی ہوا تھا۔

سلیم بٹ کا دعویٰ ہے کہ تفتیش کے دوران یہ سامنے آیا کہ ’اشرف مارتھ کے قتل سے قبل ریاض بسرا نے گوجرانوالہ کے قریب قصبہ مرالی والا کے ایک مقامی مدرسے میں آ کر چھ، سات روز قیام کیا تھا اور اس دوران وہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔‘

ان کے مطابق ’سیالکوٹ روڈ پر محکمہ ہائی وے کی ایک چھوٹی سی کالونی ہے، جسے ہائی وے کالونی کہا جاتا ہے، وہاں طالب حسین گجر نامی محکمہ ہائی وے کا ایک ڈرائیور رہتا تھا جو کہ مذہبی رحجان رکھتا تھا۔‘

ہائی وے کالونی کی موجودہ تصویر
،تصویر کا کیپشنتفتیش کاروں کے مطابق ’ہائی وے کالونی‘ (موجودہ تصویر) میں واقع ایک گھر اس واردات میں بطور ’آپریشن روم‘ استعمال ہوا

تفتیشی ٹیم سے منسلک افسر کے مطابق ’ڈرائیور کے دو بیٹوں شبیر حسین اور محمد عزیر، جن کو ایک مدرسے کے منتظم عبدالرؤف نے ریاض بسرا سے ملایا تھا، نے اس کارروائی میں بنیادی زمینی مدد فراہم کی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ریاض بسرا خود چھ، سات روز تک اشرف مارتھ کی سرکاری رہائش گاہ کی تفصیلات لیتا رہا یعنی ریکی کرتا رہا اور وہ اُن کے گھر سے نکلنے کے اوقات اور گھر سے دفتر جانے کے روٹ کا جائزہ لیتا رہا۔‘

ان کے مطابق اس واردات کے لیے ڈرائیور طالب حسین کے گھر کو ہی کنٹرول روم بنایا گیا تھا، جس کا ایس ایس پی ہاؤس سے فاصلہ لگ بھگ دو کلومیٹر تھا۔

’جب واردات کا منصوبہ تیار کیا گیا تو طالب حسین کے چھوٹے بیٹے محمد عزیر، جس کی عمر اس وقت تیرہ سے چودہ سال تھی، کی ڈیوٹی جائے وقوعہ پر اسلحہ پہنچانے کی لگائی گئی، جو کہ سائیکل پر سیمنٹ کی ایک خالی بوری میں اسلحہ لے کر جائے وقوعہ پر آیا جبکہ اس کا بڑا بھائی شبیر، ایس ایس پی ہاؤس کی نکڑ کے قریب کھڑا ہو گیا۔‘

تفتیش کرنے والے افسران کے مطابق ’ریاض بسرا ایس ایس پی ہاؤس کے قریب موجود شیشم کے ایک درخت کی اوٹ میں کھڑا ہو گیا جو کہ ایس ایس ہاؤس کے گیٹ کے عین سامنے سڑک کے دوسری طرف تھا۔‘

’پلان یہ تھا کہ چونکہ ریاض بسرا براہ راست گیٹ کو نہیں دیکھ پا رہا ہو گا مگر وہ شبیر کو دیکھ پائے گا، اس لیے جب گاڑی رہائش گاہ سے آؤٹ ہو گی تو شبیر دونوں ہاتھ کھڑے کرے گا، جو اس بات کا اشارہ ہو گا کہ گاڑی باہر آ چکی ہے۔ چنانچہ جونہی گاڑی گھر سے آؤٹ ہوئی تو پلان کے مطابق شبیر نے دونوں ہاتھ کھڑے کر دیے، اور ریاض بسرا نے درخت کی اوٹ سے نکل کر گاڑی کے سامنے آ کر کلاشنکوف کا برسٹ فائر کیا اور پھر مسلسل فائرنگ کی گئی۔‘

افسران کے مطابق اس کے بعد ریاض بسرا اپنے دیگر دو حملہ آور ساتھیوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر موقع سے فرار ہو گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ریاض بسرا تو اس واقعہ کے فوری بعد گوجرانوالہ سے فرار ہو گیا، مگر اس ضمن میں بننے والی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی ناصر خان درانی نے اس علاقے اور گردونواح میں مذہبی رحجان رکھنے والے افراد کی لسٹیں نکلوائیں اور خفیہ چھان بین کی تو طالب حسین پولیس کے ریڈار پر آ گیا، جس کے بعد اُس کے بیٹوں شبیر اور عزیر کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تو کیس کا سراغ مل گیا۔

ایس ایس پی ہاؤس کی موجودہ تصویر
،تصویر کا کیپشنایس ایس پی ہاؤس کی حالیہ تصویر

’ملزمان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر تفتیش‘

چونکہ گوجرانوالہ میں پولیس کے تمام دفاتر، تھانے اور سی آئی اے سٹاف کے بارے میں یہ اطلاعات تھیں کہ یہ ہٹ لسٹ پر ہو سکتے ہیں اس لیے جو مشتبہ ملزمان پکڑے جاتے اُن کو تفتیش کے لیے شہر سے باہر نندی پور ریسٹ ہاؤس اور دریائے چناب کے قریب ہیڈ قادر آباد منتقل کر دیا جاتا تھا۔

ان دونوں مقامات پر پولیس نے ماہر تفتیشی افسران کی دن اور رات کی شفٹوں میں ڈیوٹیاں لگائی جاتیں۔ ان میں کچھ ایسے افسران بھی ہوتے تھے جو کہ روایتی پولیس تشدد کے حوالے سے مشہور تھے۔

تفتیشی ٹیم کے ایک افسر کے مطابق چونکہ اس دور میں کوئی ایسے سائنسی آلات تو موجود نہیں تھے جن کی مدد سے زیرحراست ملزمان کے جھوٹ یا سچ بولنے کا پتہ چل سکے، تو ایسے افسران کے بغیر پولیس تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی تھی اور اُن کی موجودگی ضروری تھی۔

سابق ڈی ایس پی سلیم بٹ کے مطابق پولیس اور دیگر خفیہ اداروں کے افسران روزانہ رات کو نندی پور ریسٹ ہاؤس اور ہیڈ قادرآباد ریسٹ ہاؤس کا وزٹ کرتے اور ملزمان سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں پوچھا جاتا۔

’سینئر افسران خود بھی ملزمان سے تفتیش کرتے لیکن اُن کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ملزمان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جاتی تھیں، اور آپس میں بات چیت کرتے وقت بھی سیینئر افسران خود کو اصل ناموں کی بجائے کوڈ نیم سے پکارتے تھے۔‘

ڈی ایس پی سلیم بٹ بتاتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد ناصر خان درانی کو ایس ایس پی گوجرانوالہ لگا دیا گیا تو جب وہ ملزمان سے خود تفتیش کرتے تو انھوں نے ملزمان کی آنکھوں پرپٹیاں نہ باندھنے کا کہا اور انھوں نے ایک ایک ملزم سے خود تفتیش کی۔

لشکر جھنگوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناشرف مارتھ قتل کیس میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو چالان کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

’میں جانتا ہوں کہ وہ سُنی تھا‘

مہر طارق محمود اس دور میں روزنامہ پاکستان کے کرائم رپورٹر تھے۔ جب اشرف مارتھ کے قتل کا واقعہ پیش آیا انھوں نے اس واقعے اور اس سے متعلقہ تفتیش کی کوریج کی تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کی جانب سے اشرف مارتھ کو مارے جانے سے کئی برس قبل سے اِس کالعدم تنظیم کی جانب بڑے پیمانے پر شدت پسندی پر مبنی کارروائیاں کی جا رہی تھیں اور پاکستان میں اہل تشیع کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور افسران کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

مہر طارق کے مطابق اشرف مارتھ پہلے سُنی آفیسر تھے، جنھیں لشکر جھنگوی کی جانب سے ٹارگٹ کیا گیا تھا۔

’اشرف مارتھ کے قتل سے پہلے اور بعد میں بھی انھوں (لشکر جھنگوی) نے صرف اہل تشیع افسران اور اہم شخصیات کو ہی ٹارگٹ کیا تھا۔ اشرف مارتھ کو ٹارگٹ کرنے کی وجہ صرف یہی تھی کہ لشکر جھنگوی کی قیادت یہ سمجھتی تھی کہ انھوں (اشرف مارتھ) نے اُن کے لوگوں کے خلاف آپریشن کیے ہیں، اور بظاہر اِسی انتقام میں انھوں نے مارتھ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پنجاب پولیس میں اشرف مارتھ کی شہرت ایک دبنگ اور دلیر افسر کی تھی جو کسی بھی طرح کے ڈر، خوف کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔‘

یاد رہے کہ اشرف مارتھ کے قتل کے لگ بھگ ایک سال بعد گوجرانوالہ میں 15 اکتوبر 1998 کو جوڈیشل مجسٹریٹ سید فدا حسین شاہ کو اُن کی بیٹی ثروت بتول اور گن مین سید علمدار حسین شاہ سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔ اِس واقعے کی ذمہ داری بھی لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی اور ریاض بسرا نے اس حوالے سے اخبارات کے نمائندوں کو فون کر کے اپنے بیانات لکھوائے تھے۔

چونکہ یہ سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا، اور اُس وقت میں یہ پریکٹس عام تھی کہ لشکر جھنگوی کسی کو بھی بڑے ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد عمومی طور پر خود ہی اخبارات کے نمائندوں کو فون کر کے ذمہ داری قبول کرتی تھی اور اس نوعیت کے بیانات کو اخبارات میں جگہ بھی ملتی تھی۔

سید فدا حسین شاہ، اُن کی بیٹی اور اُن کے گن مین کے قتل کے بعد ریاض بسرا نے خود اخبارات کے نمائندوں کو کالز کر کے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

سابق ایس ایس پی گجرانوالہ احسن محبوب اس امر کی تصدیق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ’نوے کی دہائی میں اس کالعدم گروہ کا سٹائل تھا کہ وہ جس ضلع میں واردات کرتے تھے، تو اُس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے اُسی ضلع کے اخباری نمائندوں کو کال کرتے تھے، اور عموماً اُن کی بات چیت کئی کئی منٹوں پر محیط ہوتی تھی۔‘

اس دور میں چونکہ ٹیکنالوجی اتنی جدید نہیں تھی اس لیے اگر کسی فون پر ریکارڈنگ کی سہولت لگائی گئی ہوتی تو محض اتنا پتا چل سکتا تھا کہ فون کرنے والا کس شہر اور کس ایکسچینج سے بات کر رہا ہے، اس سے زیادہ کی تفصیلات پولیس کو دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔

میں (احتشام شامی) اُس دور میں روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ بطور کرائم رپورٹر کام کرتا تھا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ فدا حسین شاہ کے قتل کے بعد ریاض بسرا نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے فون کیا تو میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ اشرف مارتھ کو کیوں قتل کیا جبکہ وہ سنی افسر تھے؟ ریاض بسرا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ وہ سنی مسلمان ہے لیکن ملتان میں خانہ فرہنگ ایران پر حملے کے بعد اشرف مارتھ نے ملتان میں ہمارے لوگوں کے خلاف آپریشن کیا تھا۔ مین نے اسے منع کیا کہ ایسا نہ کرو لیکن وہ باز نہ آیا، جس پر میں نے اسے کہہ دیا تھا کہ اب تم میرے ٹارگٹ پر ہو۔‘

یاد رہے کہ ملتان میں ایرانی کلچرل سینٹر (خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران) پر حملے کا واقعہ 20 فروری 1997 کو پیش آیا تھا، جس میں ایرانی ڈائریکٹر محمد علی رحیمی سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری کالعدم لشکر جھنگوی نے قبول کی تھی اور سنہ 1998 میں ایک خصوصی عدالت نے اس کیس میں ملوث کئی ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔

ایران میں خانہ فرہنگ میں جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اشرف مارتھ اُن دنوں ملتان پولیس کے سربراہ تھے، تاہم اس واقعے کے ایک ماہ بعد پنجاب حکومت نے ان کا تبادلہ ملتان سے گوجرانوالہ کر دیا تھا۔

ملزمان کا کیا انجام ہوا؟

ملک اسحاق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناشرف مارتھ قتل کیس میں بری ہونے والے ملک اسحاق 2015 میں ضلع مظفر گڑھ میں اپنے دو بیٹوں اور 11 دیگر ملزمان کے ہمراہ مارے گئے تھے

پولیس ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں 11 ملزمان کو چالان کیا گیا تھا۔

سنہ 2000 میں انسداد دہشت گردی کے ایک عدالت نے اشرف مارتھ اور ان کے سرکاری ڈرائیور کے قتل کے الزام میں غلام رسول اور ابوبکر نامی ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی جبکہ عبدالرؤف (مدرسہ مہتمم) اور شبیر حسین (ڈرائیور کا بیٹا) کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

ملک محمد اسحاق اور قاری محمد اسحاق کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا جبکہ چار دیگر ملزمان بشمول ریاض بسرا کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا۔

بعدازاں ریاض بسرا سمیت مفرور اشتہاری ملزمان بشمول شکیل انور اور ثنا اللہ پولیس مقابلوں میں مارے گئے جبکہ عمر قید اور سزائے موت پانے والوں نے اپنی سزاؤں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کر دیا۔

اعلیٰ عدالتوں سے ملزمان بشمول غلام رسول اور ابوبکر (جنھیں انسداد دہشت گردی عدالت سے موت کی سزا سنائی گئی تھی) کو بری کر دیا گیا، تاہم عبدالرؤف اور شبیر حسین کی عمر قید کی سزا برقرار رہی۔

کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اور اُس وقت کے رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کو بھی ایس ایس پی اشرف مارتھ کے قتل کے الزام میں (زیر دفعہ 109 کے تحت) ایما کا ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، تاہم کچھ عرصہ بعد وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔

اعظم طارق چھ اکتوبر 2003 کو کشمیر ہائی وے (اسلام آباد) پر اپنے چار محافظوں سمیت اس وقت قتل کر دیے گئے تھے جب وہ اسمبلی کے سیشن میں حصہ لینے وفاقی دارالحکومت آئے تھے۔

اس کیس میں نامزد اور بعدازاں شک کی بنیاد پر بری ہونے والے لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق بھی سنہ 2015 میں ضلع مظفر گڑھ میں اپنے دو بیٹوں اور 11 دیگر ملزمان کے ہمراہ اس وقت مارے گئے ’جب اُن کے ساتھیوں نے انھیں پولیس سے آزاد کروانے کے لیے پولیس کانوائے پر فائرنگ کر دی۔‘

ضلع سرگودھا کی تحصیل جھاوریاں سے تعلق رکھنے والے ریاض بسرا اس قتل کیس کی تفتیش کے لیے کبھی گرفتار نہ ہو سکے اور مفرور اشتہاری رہے۔

اشرف مارتھ کے قتل کے لگ بھگ پانچ سال بعد یعنی 14 مئی 2002 کو پولیس نے انھیں ایک مقابلے میں اُن کے تین دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اُن کی موجودگی کی اطلاع پر انھیں گرفتار کرنے پہنچی مگر اس موقع پر مزاحمت ہوئی۔

سنہ 2002 میں شائع ہونے والی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ریاض بسرا اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاڑی میں ایک سرگردہ شیعہ رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مقام پر موجود تھے، جس پر کارروائی کی گئی۔

ڈان اخبار کی سنہ 2002 کی ایک رپورٹ کے مطابق جھاوریاں (سرگودھا) میں ریاض بسرا کی نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی جانب سے انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے تھے، اور اس موقع پر اُن کے کزن نصیر بسرا نے الزام عائد کیا تھا کہ ریاض بسرا گذشتہ چار ماہ سے پولیس کی تحویل میں تھے اور یہ کہ انھیں مبینہ جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔

اُن کی تدفین کے موقع پر موجود پانچ ہزار افراد کی جانب سے فرقہ وارانہ نعرہ بازی بھی ہوئی اور بدلے لینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔

ریاض بسرا کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد بی بی سی سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس خبر کی خصوصی کوریج کی تھی اور بعض رپورٹس میں انھیں ’پاکستان کا انتہائی مطلوب دہشت گرد‘ قرار دیا گیا تھا۔

’دھمکیوں کے بارے کسی کو نہ بتایا‘

اشرف مارتھ کی قبر

،تصویر کا ذریعہScreen Grab

،تصویر کا کیپشناشرف مارتھ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے سُسر تھے۔ نومبر 2023 میں محسن نقوی اشرف مارتھ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے پہنچے تھے

ایس ایس پی اشرف مارتھ کے ساتھ گوجرانوالہ میں کام کرنے والے ایک سابق سیینئر پولیس آفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں بتایا تھا کہ انھیں شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔

’وہ معمول کے مطابق دفتر آتے تھے اور دیر تک کام کرتے رہتے، رات کو بھی شہر میں ذاتی طور پر گشت کرنا، تھانے چیک کرنا، عوام سے گھلنا ملنا ان کا معمول تھا۔‘

’اشرف مارتھ نے کوئی اضافی سکواڈ اپنے ساتھ نہیں رکھا تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے اگر وہ چاہتے تو چار، پانچ گاڑیاں اپنے ساتھ رکھ سکتے تھے۔ انھوں نے اگر دھمکیوں کے بارے میں ہمیں بتایا ہوتا تو ہم انھیں یوں آزادانہ آنے جانے سے روکنے کی کوشش کرتے، لیکن وہ اس حوالے سے بہادر تھے۔‘

ایس ایس پی اشرف مارتھ کو ان کی بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ شجاعت سے نوازا گیا تھا اور گوجرانوالہ پولیس لائنز کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا۔

اشرف مارتھ سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے بہنوئی تھے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایس ایس پی اشرف مارتھ کے داماد ہیں۔