قاری شیخ محمد صدیق: ’ریاستِ قرآت کا چاند‘ جن کی دلکش آواز میں شامل اُداسی سُننے والوں کو آج بھی مسحور کر لیتی ہے

شیخ محمد صدیق المنشاوی ریکارڈنگ سٹوڈیو میں ہدایتکارہ مجیدہ نجم کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہSheikh Minshawi Library

،تصویر کا کیپشنشیخ محمد صدیق المنشاوی ریکارڈنگ سٹوڈیو میں ہدایت کارہ مجیدہ نجم کے ساتھ
    • مصنف, أميمہ الشاذلی
    • عہدہ, بی بی سی عربی، قاہرہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

مصر سے تعلق رکھنے والے معروف قاریِ قرآن شیخ فتحی الملیجی نے اپنے ہم عصر شیخ محمد صدیق المنشاوی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انسان اُن کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ بہترین درخت کے بہترین پھل ہیں۔‘

اپنی دلکش اور پُرسوز آواز کے باعث عرب اور اسلامی دنیا میں شہرت حاصل کرنے والے شیخ محمد صدیق المنشاوی کی قرآت کی صلاحیت ہی ایک منفرد چیز نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کی بنیادیں نسل در نسل مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی خدمت سے جڑی رہیں۔

خود شیخ محمد صدیق المنشاوی نے مصر کے ریڈیو کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ ’حاملینِ قرآن‘ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

مصر میں اُن کے آبائی گھر کو ’خانۂ قرآن‘ کہا جاتا تھا۔ اُن کے دادا شیخ سید المنشاوی اور پڑدادا شیخ طیّب المنشاوی مصر کے ممتاز قراء میں شمار ہوتے تھے۔ اسی طرح اُن کے چچا شیخ احمد السید المنشاوی بھی قراتِ قرآن کے حوالے سے نمایاں نام رکھتے تھے۔

شیخ المنشاوی کے والد کا ورثہ ہمیں دستیاب ریکارڈنگز کے ذریعے منتقل ہوا۔ انھیں مصر میں ’حارس القرآت‘ (قرآت کے محافظ) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ اُن کے حوالے سے شیخ محمد صدیق المنشاوی کی صاحبزادی فادیہ محمد صدیق المنشاوی نے بتایا کہ اُن کے والد نے بی بی سی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تاکہ وہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی ریڈیو نشریات کا آغاز تلاوتِ قرآن سے کریں۔

اسی طرح بی بی سی پر خود شیخ محمد صدیق المنشاوی کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی نشر ہوتی رہی، جہاں نشریات کا آغاز عموماً جید قراء کی آوازوں سے کیا جاتا تھا۔

مصری ریڈیو پر حالیہ ادوار میں اُن کے چھوٹے بھائی شیخ محمود صدیق کی بھی ریکارڈنگز موجود ہیں، جنھیں شیخ محمد صدیق المنشاوی نے خود تربیت دے کر قرآتِ قرآن میں مہارت دلائی۔ شیخ محمود صدیق آج بھی حیات ہیں۔

شیخ المنشاوی کی بیٹی فادیہ نے اپنے خاندان کو ایک درخت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ شیخ محمد صدیق المنشاوی اس درخت کی ’آسمان تک پہنچ جانے والی شاخ‘ تھے۔ انھوں نے اپنے والد کو ’ریاستِ قرآت کا چاند‘ اور ’انکساری کا پہاڑ‘ قرار دیا۔

ریڈیو سٹیشن جانے سے انکار کر دیا

شيخ محمد صديق المنشاوی قاہرہ کی مسجد امام حسین میں

،تصویر کا ذریعہSheikh Minshawi Library

،تصویر کا کیپشنشيخ محمد صديق المنشاوی قاہرہ کی مسجد امام حسین میں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شیخ محمد صدیق سید ثابت المنشاوی 20 جنوری 1920 کو مصر کے صوبہ سوہاگ کے شہر ’المنشا‘ میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے اپنے والد کے ساتھ سائے کی طرح رہے اور صرف سات سال کی عمر میں انھوں نے اپنے چچا، معروف قاری شیخ احمد السید المنشاوی، کی نگرانی میں قرآنِ مجید کا ایک چوتھائی حصہ حفظ کر لیا۔

شیخ محمد صدیق المنشاوی نے کسی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ اُن کا اصل مدرسہ قرآتِ قرآن ہی تھا۔ اپنے والد اور چچا کے علاوہ انھوں نے کم عمری میں شیخ محمد النمکی، شیخ محمد ابو العلا، اور شیخ رشوان ابو مسلم جیسے اساتذہ سے بھی تربیت حاصل کی۔

وہ قاہرہ کے معروف عالمِ قرآت شیخ محمد السعودی سے تعلیم حاصل کرنے پر خاص فخر کرتے تھے، یہاں تک کہ انھوں نے اپنے ایک بیٹے کا نام بھی ان ہی کے نام پر رکھا۔

نوجوان شیخ محمد صدیق المنشاوی کی پہلی عوامی محفلِ تلاوت ’عُبار المالک‘ نامی گاؤں میں منعقد ہوئی۔ سنہ 1931 میں، جب اُن کی عمر صرف 11 برس تھی، انھیں اپنی پہلی تلاوت پر 10 مصری پیاسٹر معاوضہ ملا۔

ریڈیو کے ساتھ ان کا باقاعدہ سفر اس وقت شروع ہوا جب وہ 30 برس کے تھے اور جب ایک دوست نے مصر کے ریڈیو کے سابق سربراہ امین حماد کو اُن کے بارے میں آگاہ کیا۔

امین حماد نے انھیں قاہرہ آنے کی دعوت دی، تاہم نوجوان شیخ محمد صدیق المنشاوی نے رمضان المبارک کے دوران اپنے علاقے سے باہر کسی اور شہر جانے سے انکار کر دیا۔

اس وقت وہ ماہِ رمضان ضلع لکسور کے شہر اسنا میں گزار رہے تھے۔ چنانچہ مصری ریڈیو نے ایک ٹیم کو تقریباً 700 کلومیٹر طویل سفر پر روانہ کیا گیا تاکہ ان کی ریکارڈنگ کی جا سکے۔ ریڈیو ہدایتکار سعید ابو السعد کی نگرانی میں ریکارڈنگ کا سامان اُن کے گاؤں ’اسنا‘ پہنچایا گیا۔

ریڈیو کی یہ ٹیم واپس آ کر اس تلاوت کو ایک خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب رہی، جس کے بعد سنہ 1953 میں شیخ محمد صدیق المنشاوی کو باضابطہ طور پر مصری ریڈیو کے ممتاز قراء میں شامل کر لیا گیا اور جلد ہی اُن کی تلاوتیں رات نو بجے نشر کی جانے والی اہم نشریات کا حصہ بن گئیں۔

اس کے بعد شیخ محمد صدیق المنشاوی کی پُرسوز آواز نے عالمی سطح پر سفر شروع کیا، جو یہ آواز آج تک دنیا بھر میں گونجتی ہے۔

’مسجد الاقصیٰ اُن کی زندگی تھی‘

شیخ محمد صدیق المنشاوی (دائیں) اور شیخ عبدالباسط عبدالصمد (بائیں) دورہ انڈونیشیا کے دوران

،تصویر کا ذریعہSheikh Minshawi Library

،تصویر کا کیپشنشیخ محمد صدیق المنشاوی (دائیں) اور شیخ عبدالباسط عبدالصمد (بائیں) دورہ انڈونیشیا کے دوران

شیخ محمد صدیق المنشاوی کو ہر بار ریڈیو ریکارڈنگ کے لیے اپنے گاؤں سے قاہرہ کا سفر کرنا دشوار محسوس ہونے لگا، خصوصاً اس لیے کہ عرب سامعین ہر بدھ کی شام اُن کی آواز سُننے کے عادی ہو چکے تھے۔ اسی بنا پر انھوں نے مستقل طور پر قاہرہ میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ابتدائی طور پر شیخ المنشاوی نے قدیم قاہرہ کے علاقے ’قلعہ‘ میں قیام کیا۔ اُن کے اہلِخانہ کے مطابق وہ قلعے سے مسجد امام حسین تک پیدل چلنا پسند کرتے تھے۔ جب وہ گاڑی میں سفر کرتے تو ڈرائیور کو ہدایت دیتے کہ انھیں مسجد سے کافی فاصلے پر اُتار دیا جائے تاکہ وہ باقی راستہ پیدل طے کر سکیں۔

بعد ازاں وہ حدائق القبة کے علاقے میں حفنی ناصف سٹریٹ پر واقع ایک گھر میں منتقل ہو گئے، پھر اسی علاقے میں اپنے ذاتی تعمیر کردہ گھر میں رہائش اختیار کی۔ اسی گھر کے نیچے انھوں نے اپنے ایک مسیحی دوست کے مشورے پر ایک چھوٹی مسجد بھی تعمیر کی، جس کا نام انھوں نے اپنے والد کے نام پر رکھا۔

قاہرہ ہی ان کے عالمی سفر کی بنیاد بنا، جہاں سے انھوں نے 1955 میں انڈونیشیا کے دورے سے اپنے بین الاقوامی دوروں کا آغاز کیا۔ سنہ 1956 میں شام پہلا عرب ملک تھا جس نے انھیں اپنے ریڈیو سٹیشن کی دعوت پر خوش آمدید کہا۔ اس کے بعد وہ عراق، اُردن، سعودی عرب، لیبیا اور الجزائر سمیت کئی ممالک کا سفر کرتے رہے۔

مصری ریڈیو کی ایک نایاب ریکارڈنگ میں، جو اُن کی وفات سے تقریباً دو سال قبل کی ہے، شیخ المنشاوی نے بتایا کہ انھیں اسلام کی تین مقدس ترین مساجد میں تلاوت قرآن کی سعادت حاصل ہوئی: مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور بیت المقدس کی مسجد الاقصیٰ۔

ان کی صاحبزادی فادیہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں مسجد الاقصیٰ سے خاص لگاؤ تھا، جہاں وہ بارہا گئے اور اسے بے حد محبت کرتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ شیخ المنشاوی مسجد الاقصیٰ کے طرز تعمیر اور وہاں موجود روحانیت دونوں سے گہرا متاثر تھے اور جب بھی وہ بیت المقدس کے سفر پر روانہ ہوتے تو انتہائی خوشی کی کیفیت میں ہوتے۔ یہ کیفیت اُن کی تلاوت میں بھی جھلکتی تھی، جو مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں ایک ’ہیبت ناک جلال‘ کی صورت اختیار کر لیتی اور یہاں کی گئی ان کی قرآت دیگر مقامات پر کی جانے والی تلاوت سے مختلف ہوتی تھی۔

فادیہ کے مطابق اُن کے والد کی مسجد الاقصیٰ سے محبت کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فاریہ کے مطابق ’مسجد الاقصیٰ ان کی زندگی تھی‘ تاہم سنہ 1967 کی جنگ کے نتیجے میں مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد انھوں نے وہاں تلاوت کرنا ترک کر دی۔

کمال حاصل کرنے کی جستجو

تصویر

،تصویر کا ذریعہSheikh Minshawi Library

،تصویر کا کیپشنشیخ محمد صدیق کی جوانی کی تصویر

شیخ محمد صدیق المنشاوی اپنی پُراثر، عاجزانہ اور غمگین آواز کے باعث پہچانے جاتے تھے، یہاں تک کہ انھیں ’قاریِ گریہ‘ کا لقب دیا گیا۔

موسیقی کے معروف مؤرخ اور ناقد ڈاکٹر نبیل حنفی نے انھیں ’ریاستِ قرآت کا شہزادہ‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اُن کی آواز ’ایسی دلکش آواز تھی جس میں ایک ہلکی سی اداسی کی کیفیت شامل تھی، جسے سننے والا نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔‘

ڈاکٹر حنفی نے اخبار القاہرہ میں شائع اپنے مضمون میں مزید کہا کہ شیخ المنشاوی کی آواز میں ’طاقت، مٹھاس اور احساس کے عناصر بھرپور انداز میں یکجا تھے، جس نے ان کی آواز کو مصر اور اسلامی دنیا میں گزشتہ صدی کے دوران تلاوتِ قرآن کے میدان میں ایک نادر مثال بنا دیا۔‘

ریڈیو القرآن کے ڈائریکٹر اسماعیل دویْدار نے بی بی سی کو بتایا کہ شیخ محمد صدیق المنشاوی نے 1965 میں مکمل قرآنِ مجید کی ریکارڈنگ کی، جو ان کی وفات سے صرف چار سال قبل اور ریڈیو پر باقاعدہ منظوری ملنے کے دس سال سے زائد عرصے بعد مکمل ہوئی۔

قرآنِ کریم کی یہ تلاوت 82 ٹیپس پر مشتمل تھی، جسے ایک خصوصی کمیٹی نے سُنا اور خوب سراہا۔ اس کمیٹی میں جامعہ الازہر کے نائب ڈاکٹر محمد عبداللہ ماضی، مصر کے عمومی قرا کے شیخ عامر عثمان، علمِ قرآت کے پروفیسر شیخ محمود برانق، ممتاز قاری و عالمِ قرآت شیخ ابراہیم شحاتہ اور دیگر ماہرین شامل تھے۔

اس بھرپور پذیرائی کے باوجود شیخ المنشاوی نے ثقافتی پروگراموں کے جنرل سپروائزر کو ایک درخواست پیش کی، جس میں انھوں نے اپنی تمام ریکارڈنگز سننے کے بعد 32 ٹیپس دوبارہ ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاہر کی کیونکہ ان کے نزدیک وہ اس سے بہتر قرآت کر سکتے تھے، اس سے قطع نظر کہ کمیٹی کے اراکین کے مطابق پہلے والی ریکارڈنگ بھی مکمل طور پر بے عیب تھی اور یہ ریکارڈنگز آج تک نشر ہو رہی ہے۔

دویدار کے مطابق، شیخ المنشاوی کی درخواست کے متن میں لکھا تھا کہ ’میں نے اپنی آواز میں ریکارڈ شدہ تلاوت سنی، اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس تلاوت کو ’مطلوبہ کمال‘ تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ میں بعض ٹیپس کی ازسرِ نو ریکارڈنگ کروں۔‘

شیخ المنشاوی نے مزید کہا کہ ’یہ دوبارہ ریکارڈنگ بلا معاوضہ ہو گی اور میں اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی خود برداشت کروں گا۔‘

ڈائریکٹر ریڈیو القرآن کے مطابق کمیٹی نے ان کی ’کمال حاصل کرنے کی جستجو‘ کو سراہتے ہوئے اس درخواست کو منظور کر لیا۔ اس کے بعد شیخ المنشاوی نے سنہ 1966 میں 32 ٹیپس دوبارہ ریکارڈ کیں، جنھیں 1967 میں کمیٹی نے سُن کر منظور کر لیا۔

تاہم حیران کن طور پر یہ بہتر شدہ ریکارڈنگز تقریباً 60 سال تک منظرِ عام پر نہ آ سکیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی ریکارڈنگ پہلے ہی بے نقص سمجھی جا رہی تھی اور عوام میں مقبول تھی، یہاں تک کہ دویدار نے نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اس ’خزانے‘ کو جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

شیخ محمد صدیق المنشاوی کے بیٹوں کے مطابق ان کی آواز میں قرآنِ مجید کی بعض ریکارڈنگز اب تک منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ ان میں سنہ 1963 کی روایتِ دوری عن ابو عمرو البصری، 1965 کی روایتِ ورش عن نافع، اور روایتِ شعبہ عن عاصم کے ساتھ ایک اور ریکارڈنگ شامل ہے۔

ذاتی زندگی

شیخ صدیق نے دو شادیاں کیں اور ان کے 12 بچے تھے

،تصویر کا ذریعہSheikh Minshawi Library

،تصویر کا کیپشنشیخ صدیق نے دو شادیاں کیں اور ان کے 12 بچے تھے

شیخ محمد صدیق المنشاوی نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی انھوں نے تقریباً 16 سال کی عمر میں اپنی کزن (بہیّہ) سے کی کیونکہ اس دور میں، خصوصاً مصر کے بالائی علاقوں میں، کم عمری میں شادی کرنا عام رواج تھا۔

ان کی شادی کی عمر اور ان کے بڑے بیٹے کے درمیان عمر کا فرق کچھ اس طرح تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑے ہوتے تو ’گویا بھائی دکھائی دیتے تھے۔‘

دوسری جانب خود شیخ محمد اور ان کے چھوٹے بھائی شیخ محمود کے درمیان عمر کا فرق 23 سال تھا۔

ابتدائی زندگی میں شیخ محمد صدیق المنشاوی کے بہیّہ سے تین بچے ہوئے، جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل تھیں۔ بعد ازاں انھوں نے نعیمہ نامی خاتون سے دوسری شادی کی، جن سے ان کے ہاں مزید نو بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس طرح مجموعی طور پر اُن کے 12 بچے تھے، جن میں چھ بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔

اگرچہ شیخ محمد صدیق المنشاوی نے رسمی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی تاہم وہ اپنے تمام بچوں کی تعلیم کے حوالے سے نہایت سنجیدہ تھے۔ انھوں نے نہ صرف انھیں سکول کی تعلیم فراہم کی بلکہ خاص ترغیبات کے ذریعے انھیں قرآنِ مجید حفظ کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔

تاہم ان کی کسی اولاد نے بطور پیشہ ور قاری اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس بارے میں اُن کی بیٹی فادیہ نے ایک معنی خیز سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’شیخ محمد کا ہم پلہ کون ہو سکتا ہے؟‘

ڈاکٹروں کے مشورے کے برعکس تلاوت جاری رکھی

اپنی زندگی کے آخری ایام میں شیخ محمد صدیق المنشاوی ایسوفیجیئل ویریکوس (غذائی نالی کی رگوں سے متعلقہ مرض) میں مبتلا ہو گئے تھے اور ڈاکٹروں نے انھیں تلاوت کے دوران آواز پر زور نہ ڈالنے کا مشورہ دیا تھا تاہم اس کے باوجود وہ اپنی وفات سے دو ماہ قبل تک تلاوتِ قرآن جاری رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ انھیں ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل نہ کرنے اور آواز پر زور ڈالنے کے باعث شدید خون بہنے جیسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔

شیخ محمد صدیق المنشاوی 20 جون 1969 کو قاہرہ کے المعادی ہسپتال میں وفات پا گئے اور بعد ازاں انھیں ان کے گاؤں میں دفنایا گیا۔

معروف موسیقی مؤرخ اور ناقد ڈاکٹر نبیل حنفی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس وقت قنا گورنریٹ کے شہر قوص میں اپنے آبائی گھر پر موجود تھے، جب ہفتہ کی شام آٹھ بجے ریڈیو پر شیخ محمد صدیق المنشاوی کی تلاوت نشر ہونے پر لوگ حیران رہ گئے۔

عوام اس وقت ہفتے کی شام حسبِ معمول شیخ عبدالباسط عبدالصمد کی تلاوت سننے کے منتظر تھے جبکہ وہ ہر ہفتے بدھ کی شام شیخ المنشاوی کی آواز سننے کے عادی تھے۔ اسی دوران تلاوت کے بعد شام کے نیوز ریڈر نے شیخ کی وفات کی خبر سنائی، جس نے سننے والوں کو سکتے میں ڈال دیا۔

ڈاکٹر حنفی نے مزید کہا کہ ’میں اپنی زندگی میں اُس رات کے مناظر کبھی نہیں بھول سکتا، جب گھروں کی چھتوں پر خواتین کی چیخ و پکار بلند تھی اور آہ و زاری گونج رہی تھی کیونکہ انھیں معلوم ہو چکا تھا کہ شیخ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ وہ شخصیت جس نے اپنی تلاوت سے لوگوں کے دلوں کو دہائیوں تک مسرور کیا تھا۔‘

آج بھی شیخ محمد صدیق المنشاوی کی آواز میں تلاوت دنیا بھر کی فضاؤں میں گونجتی ہیں اور نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں، جہاں انھیں ایک منفرد آواز، ایک متاثر کن زندگی اور قرآت کے میدان میں ایک اعلیٰ مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اُن کے ایک مداح نے ان کی شان میں کہا کہ ’وہ زمین کے بوجھ سے اٹھ کر فرشتوں کو حاصل بلندیوں کی طرف سفر کرنے والی آواز ہیں، جو تم سے کہتی ہے: رک جاؤ، یہاں ایک ایسا دل ہے جو قرآن بولتا ہے۔‘