8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا اربوں روپے کا منصوبہ کیا ہے اور پاکستان کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, روحان احمد
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا نے دریائے چناب سے تقریباً 19 لاکھ ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ اپنے بیاس کے نہری نظام پر موڑنے کے منصوبے کے لیے کمپنیوں سے بولیاں مانگی ہیں اور اس کے خطے میں ’سنجیدہ نتائج‘ سامنے آئیں گے۔

جمعرات کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ’چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ‘ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ انڈیا پانی کو ’بطور ہتھیار‘ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ ’اس کے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ خطے کے استحکام، بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے بھی خطرناک نتائج ہوں گے۔‘

’پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہیں‘ تاہم پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی ’غیر قانونی قدم‘ اسے ناقابلِ قبول ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ایسے اقدامات جنوبی ایشیا میں مزید عدم استحکام کا باعث بنیں گے، جس کے پورے خطے کے عوام کے لیے ممکنہ طور پر سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔‘

Foreign Office

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ‘ ہے کیا اور اس پر پاکستان کو اعتراضات کیا ہیں؟

چناب۔بیاس لنک ٹنل پراجیکٹ

انڈیا کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس منصوبے کی تشہیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اب پرانے اصولوں کے تحت نہیں کھیلے گا۔‘

22 مئی کو اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر بی جے پی نے لکھا کہ ’سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد اب بلآخر انڈیا اب اپنے مغربی دریاؤں کی صلاحیتوں کا ہائیڈرو پاور، واٹر سکیورٹی اور سٹریٹجک استعمال کرنے جا رہا ہے۔‘

بی جے پی کی اس پوسٹ کے مطابق یہ ٹنل آٹھ اعشاریہ سات کلومیٹر پر محیط ہو گا، جو دریائے چندرا سے اضافی پانی بیاس کی طرف موڑ دے گا۔

انڈیا کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ہماچل پردیش ٹنل بنانے کے لیے گذشتہ مہینے ٹینڈر جاری کیا ہے۔

یہ ٹنل دراصل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گا۔

انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چناب۔بیاس لنک منصوبہ 2620 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے گا۔

کچھ دن قبل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پراجیکٹ انڈیا کے قومی مفاد میں ہے اور اس کے ذریعے ملک کو اس کے آبی وسائل پوری طرح سے استعمال کرنے کا موقع ملے گا۔

Beas River

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اے این آئی کے مطابق شملہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر گپتا کا کہنا تھا کہ ’چناب۔بیاس لنک ٹنل منصوبہ قومی مفاد کے لیے اہم قدم ہے۔ انڈیا کے پانی کو پہلے اس کے لوگوں اور ریاستوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے ’آبی وسائی کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں کی ضرورتیں پوری کرنا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔‘

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کی جانب سے اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے اور انڈیا کیا فوائد حاصل کر سکتا ہے؟

اس منصوبے سے انڈیا کو کیا فائدہ ہو گا؟

جہاں پاکستان کی حکومت اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کہہ رہی ہے، وہیں انڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پراجیکٹ کا مقصد چناب کے زائد پانی کا بھرپور استعمال کرنا ہے جو بغیر استعمال ہوئے چناب میں بہہ جاتا ہے اور پانی کا رُخ موڑنے سے انڈیا میں چار ہزار میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی۔

انڈین کی حکومتی شخصیات کا دعویٰ ہے کہ چناب کا یہ پانی ہریانہ، پنجاب اور راجستھان جیسی ریاستوں کی ضروریات کو بھی پوری کر سکے گا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ انڈیا کو ایسے اقدامات سے روکے۔

یاد رہے انڈیا کی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایک جوابی قدم اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

انڈیا نے اس کے بعد دریائے سندھ ، چناب اور جہلم پر متعدد منصوبوں کی تعمیر کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔

پاکستان ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو متعلقہ ٹریبیونل میں لے گیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں میں سے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ نہیں ہو سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پانی کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے مسئلے کو جنم دے سکتا ہے۔

چند ہفتوں قبل بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نروپما سبرامنین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پانی کا مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا گمبھیر تنازع بن کر ابھر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ ٹکراؤ جس سطح پر پہنچ چکا ہے اگر مودی حکومت چلی جائے تو بھی نئی حکومت اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی۔‘

’اس کا واحد حل یہی ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی سے پاک ماحول میں اس معاہدے پر نظر ثانی کریں اور باہمی طور پر قابلِ قبول اور حقیقت پسندانہ معاہدہ پر اتفاق کریں۔‘

کیا ٹنل منصوبہ پاکستانی معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟

انڈیا اور پاکستان میں آبی وسائل اور دریاؤں پر گہری نظر رکھنے والے ماہر حسن عباس کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے دریائے چناب پر ٹنل بنانا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور پاکستانی حکومت کو اس پر سخت قانونی مؤقف اپنانا چاہیے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس سے کوئی بہت بڑا نقصان نہیں ہو گا۔

انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’انڈیا یہ جو ٹنل بنا رہا ہے وہ ٹریبیوٹری (کسی بڑے دریا میں گِرنے والی آبی گزر گاہ) پر بنا رہا ہے، مرکزی دریائے چناب پر نہیں۔‘

’لیکن اس میں پانی کافی ہوتا ہے، وہ اس ٹنل کے ذریعے اس ٹریبیورٹری سے تقریباً دو ملین ایکڑ فُٹ پانی کا رُخ موڑ کر دریائے بیاس میں ڈال دیں گے۔‘

Chenab River

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ان کے مطابق اس سے پاکستان کو دریائے چناب سے سالانہ تقریباً دو ملین ایکڑ فُٹ پانی کا نقصان ہوگا۔

تاہم ان کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ٹنل بنانے سے اسے خود بھی نقصان اُٹھانا پڑے گا۔

’انڈیا کے جتنے بھی ہائیڈرو پاور سٹیشنز بنے ہوئے ہیں، وہ سارے ڈاؤن سٹریم موجود ہیں۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو چلانے کے لیے انڈیا کو پانی چھوڑنا ہی پڑے گا۔‘

حسن عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دریائے چناب سے تقریباً 24 ملین ایکڑ فٹ پانی ملتا ہے اور ٹنل بننے سے پاکستان کو تقریباً 10 فیصد پانی کا نقصان ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ انڈیا چناب کے اوپر ڈیم بنا سکتا ہے، ہائیڈرو پاور پلانٹ لگا سکتا ہے لیکن سندھ طاس معاہدے کے مطابق اسے یہ پانی واپس چناب میں ہی چھوڑنا ہو گا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

حسن عباس کے مطابق انڈیا کی جانب سے پاکستان کا 10 فیصد پانی کا رُخ موڑ لینے سے پاکستان کو زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ 50 برسوں میں یہاں موسمیاتی تبدیلی کے سبب بارشوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، اور یہ تقریباً 10 فیصد ہی بنتا ہے۔‘

’اگر انڈیا ٹنل بنا کر 10 فیصد پانی لے بھی جاتا ہے تب بھی وہ وہی 10 فیصد پانی لے کر جا رہا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سبب بڑھا ہے۔ حقیقی طور پر ہمیں اس سے زیاد فرق نہیں پڑتا۔‘