یوکرین روس جنگ بندی کے لیے زیلنسکی کا پوتن سے ’بالمشافہ‘ ملاقات کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہEPA
یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش کے تحت روسی صدر پوتن کے ساتھ آمنے سامنے ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔
روسی صدر کے نام ایک کھلے خط میں یوکرینی رہنما نے کہا کہ یہ ’محض انتظار کیا جانا اب غلط ہو گا کیونکہ یورپ میں جاری جنگ دوبارہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔‘
یاد رہے کہ یوکرین کے رہنما کی جانب سے کوئی نئی پیشکش نہیں ہے تاہم اس میں جو بات قابلِ توجہ تھی وہ کیئو کی جانب سے یہ عوامی اعتراف تھا کہ امریکہ کی توجہ ’مکمل طور پر ایران کے معاملے پر مرکوز ہے۔‘
زیلنسکی نے مزید کہا کہ امن صرف یوکرین اور روس کے درمیان ’براہِ راست روابط‘ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا جسے پوتن نے جمعرات کو اس سے قبل مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان کے خیال میں ’یہ بہت اچھا ہو گا کہ اگر دونوں رہنما ملاقات کریں۔‘
کریملن نے خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر پوتن کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
تاہم دیکھا جائے تو روسی علاقے پر یوکرین کے حالیہ حملوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس خط کا انداز جارحانہ اور کسی حد تک تمسخر آمیز بھی تھا
زیلنسکی نے کہا کہ ’26 سال اقتدار میں رہنے کے بعد (پوتن پر) عمر اب اثر انداز ہونا شروع ہو گئی ہے‘
اس خط کے متن کے مطابق ’یوکرین تجویز کرتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست روابط کے ذریعے کیا جائے۔ میں ایک ملاقات کی تجویز دے رہا ہوں،‘
سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور بظاہر خط کے مندرجات دیکھے بغیر پوتن نے کہا کہ وہ ’یقیناً یوکرین کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں تاہم اس کے لیے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔‘


