’والد کی لاش خود نکالو ورنہ ہم نکالیں گے‘: جب یہودی آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان کو قبر کھودنے پر مجبور کیا

- مصنف, وائر ڈیوس
- عہدہ, نامہ نگار برائے مشرقِ وسطی، عصاصہ، غربِ اردن
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
محمد عصاصہ اپنے 80 سالہ والد حسین کو دفنا کر لوٹے ہی تھے کہ کچھ بچے چلاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے: ’آبادکار قبر کو کھود رہے ہیں!‘
گذشتہ ہفتے جمعے کے روز وفات پانے والے حسین کا تعلق غربِ اردن (جسے مغربی کنارہ بھی کہا جاتا ہے) کے علاقے جنین کے ایک چھوٹے سے گاؤں عصاصہ سے تھا۔
وہ مویشیوں کا کاروبار کرتے تھے اور ان کی علاقے میں کافی عزت تھی۔
اسلامی روایات کے مطابق 10 بچوں کے والد حسین عصاصہ کو گاؤں کی دوسری جانب ایک ٹیلے پر واقع قبرستان میں انتہائی سادگی کے ساتھ دفنایا گیا تھا۔
محمد عصاصہ کہتے ہیں کہ کوئی پریشانی نہ ہو اس لیے انھوں نے اپنے والد کی تدفین کے لیے قریبی اسرائیلی فوجی اڈے سے اجازت بھی لی تھی۔
اطلاع ملنے کے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں محمد اور ان کے بھائی تدفین کے مقام پر موجود تھے، جہاں یہودی آبادکاروں کا ایک گروہ اوزاروں کی مدد سے ان کے والد کی تازہ تازہ بنائی گئی قبر کو کھود رہا تھا۔ ان میں سے کچھ افراد مسلح بھی تھے۔
شروع میں محمد نے ان آبادکاروں سے بات کر کے انھیں روکنے کی کوشش کی۔ جب وہ نہیں مانے تو وہ اپنے والد کی قبر کی جانب بھاگے۔ تب تک یہودی آبادکار قبر کو کافی حد تک کھود چکے تھے اور حسین کی لاش اور آبادکاروں کے درمیان صرف ایک سلیب ہی باقی تھی۔
محمد بتاتے ہیں، ’وہ ان کی لاش تک پہنچنے والے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اسے نکالنے والے تھے، اس لیے ہمیں وہیں کھڑے کھڑے فیصلہ لینا پڑا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان آبادکاروں کا تعلق قبرستان کے نزدیکی ٹیلے کے اوپر حال ہی میں دوبارہ قائم کی گئی بستی سانور سے تھا۔
اگرچہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی سرزمین پر بنائی گئی تمام بستیاں غیر قانونی ہیں، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت نے حال ہی میں سانور کو دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ غربِ اردن میں نئی بستیوں کے قیام اور وسعت کے متنازع منصوبے کا حصہ ہے۔
موبائل فون کی مدد سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آٹو میٹک رائفلز سے لیس آبادکاروں نے محمد اور ان کے بحائی کو دھمکی دی کہ ’یا تو لاش خود کھود کر نکالو ورنہ ہم نکالیں گے۔‘
اس کے بعد حسین کے خاندان کے افراد کو ان کی لاش اپنے ہاتھوں سے نکالنی پڑی۔
آبادکاروں کا دعویٰ تھا کہ تدفین کی جگہ ان کی آبادی کے بہت نزدیک ہے۔
دیگر فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے محمد اور ان کے بھائی کفن میں لپٹی اپنے والد کی لاش کو کندھے پر اٹھا کر قبرستان سے دور لے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس معاملے میں مداخلت کر کے آبادکاروں سے کھدائی کے اوزار چھینے اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا۔
تاہم محمد کے گھر والوں کا الزام ہے کہ جب یہودی آبادکار انھیں قبر کھود کر حسین کی لاش نکالنے پر مجبور کر رہے تھے تو اسرائیلی فوجی خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ’کسی بھی ایسے اقدام کی مذمت کرتی ہے جو عوامی نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور زندہ یا مردہ افراد کے وقار کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔‘
’زندہ یا مردہ، کوئی بھی محفوظ نہیں‘

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ’فلسطینیوں کے ساتھ رواں غیر انسانی سلوک کی انتہائی دل دہلا دینے والی مثال‘ قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر کے مقامی سربراہ اجیت سنگھے کا کہنا ہے کہ ’اس سے زندہ یا مردہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔‘
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سانور کی بستی دوبارہ قائم کیے جانے کے بعد سے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کا مظہر ہے۔
حسین عصاصہ کی تعزیت کے لیے آنے والے ایک شخص کا کہنا تھا ’یہ بہت برا ہوا ہے، جب سے وہ (آبادکار) واپس آئے ہیں انھیں لگتا ہے کہ اب پورا علاقہ ان ہی کا ہے۔‘
عصاصہ کے بھائیوں میں سے ایک نے بتایا کہ حال ہی میں ان کے ایک اور عزیز کی زمین پر فوج اور آبادکاروں نے دھاوا بول دیا تھا اور بنا کسی وجہ کے ان کے تمام زیتون کے درخت اکھاڑ دیے تھے۔ یہ یہ باتیں بتاتے وقت اس قبرستان کو محفوظ دوری سے دیکھ رہے تھے، جہاں سے انھیں حسین کی لاش نکالنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جب سے یہودی آبادکاروں کو اپنے موبائل گھر علاقے میں لانے اور اسرائیلی فوج کے ایک اڈے کے قریب واقع سانور میں بستی دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دی گئی ہے تب سے علاقے کے ایک بڑے حصے کو ’بند فوجی علاقہ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ اب گاؤں کے رہنے والے اپنے زیتون کے باغات، کاشت شدہ کھیت اور حتیٰ کہ قبرستان تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج کے ساتھ طویل اور محتاط رابطہ کاری کے بعد رسائی حاصل ہو بھی جائے تو بھی آبادکاروں کا رویہ بہت جارحانہ اور دھمکی آمیز ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سے آبادکار اب کھلے عام اسلحہ اٹھائے نظر آتے ہیں۔
مغربی کنارے میں حالیہ عرصے کے دوران آبادکاروں سے منسوب تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی توجہ دیگر جنگوں اور تنازعات کی جانب مبذول ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے لے کر اپریل کے اختتام تک آبادکاروں کے حملوں میں 13 فلسطینی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو حکومت میں شامل انتہا پسند وزرا کی حمایت کے باعث آبادکاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ تشدد کا کھلے عام استعمال کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
ان تنظیموں کے مطابق یہ آبادکار مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کی جان و مال اور روزگار کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
آخرکار حسین عصاصہ کو اُن کے بیٹوں نے ایک نزدیکی گاؤں کے چھوٹے سے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا اور یوں وہ اس اذیت اور کشیدگی سے آزاد ہو گئے، جس کا سامنا دن بدن اس سرزمین کو اپنا گھر کہنے والے افراد کو کرنا پڑ رہا ہے۔


























